حسرت ان غنچوں پہ جو بن کھلے مرجھا گئے ……. تحریر ۔۔عفت بھٹی
حسرت ان غنچوں پہ جو بن کھلے مرجھا گئے تحریر ۔۔عفت بھٹی سورج طلوع ہوا اور کاروبار زندگی رواں دواں ...
حسرت ان غنچوں پہ جو بن کھلے مرجھا گئے تحریر ۔۔عفت بھٹی سورج طلوع ہوا اور کاروبار زندگی رواں دواں ...
ڈیرہ غازیخان۔ 5فروری کو یوم یکجہتی کشمیر بھر پور طریقے سے منایا جائے گا۔ریلیاں ، سیمینار اور پروگرامز منعقد کیے ...
لیہ (صبح پا کستان ) حادثہ فتح پور کے موقع پر محکمہ نے ریسکیو آپریشن کے لئے تمام دستیا ب ...
دن چڑھتے ہی والدین اپنے بچے کو محبت شفقت سے ناشتہ کراکے یونیفارم پہنا کر دوپہر کے لئے لنچ بکس ...
لیہ (صبح پا کستان) ضلع لیہ میں یو م یکجہتی کشمیر کے موقع پر 5فروری کوکشمیر ی بھا ئیو ں ...
چوک اعظم( صبح پا کستان) علاقائی محرومیوں کا خاتمہ اولین ترجیح ہے ،سیوریج سسٹم کے منصوبے میں توسیع کر دی ...
لیہ (صبح پا کستان ) منظور خان چا نڈیہ اے ڈی سی جی فنانس اینڈ پلا ننگ تعینات ۔ وہ ...
ڈیرہ غازی خان ( صبح پا کستان) سیمینار گھروں اور چینلوں پر بھارتی فلموں کی نمائش پر مکمل پابندی لگائی ...
چوک اعظم(صبح پا کستان) غیر سرکاری تنظیم ’’پلیڈیم ‘‘کے پراجیکٹ ’’ایوا بی ایچ این‘‘ کے تحت ضلع بھر کے بنیادی ...
ڈیرہ غازیخان.۔پٹرولنگ پولیس ٹیموں کے مابین بین الاضلاعی والی بال فائینل ٹورنامنٹ ڈیرہ غازیخان(صبح پا کستان ).ایڈیشنل آئی جی پٹرولنگ ...
لاہور۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے کہا ہے کہ انصاف کی فراہمی ایک مقدس ذمہ داری ہے اور...
Read moreDetailsحسرت ان غنچوں پہ جو بن کھلے مرجھا گئے
تحریر ۔۔عفت بھٹی
سورج طلوع ہوا اور کاروبار زندگی رواں دواں ہو گئے۔ سڑکیں ٹریفک سے آباد ہو گئیں کام پہ جانے والے مرد و زن۔سکول کالج یونیورسٹیز کے طالبعلم ۔رکشوں۔ موٹر سائیکلوں۔سائیکلوں کا رش ۔ہر شخص کو جلدی ہے ۔اس جلدی کے چکر میں تیزرفتاری اور اوور ٹیکنگ کی جا رہی ہے ۔اتنے رش میں پیدل چلنے والے بھی شامل ہیں ٹریفک کے اس اژدحام میں خاص طور پہ منگل کے۔دن جب منڈی مویشیاں لگتی ہے۔تو مویشیوں سے۔بھرے ٹرالے۔ لوڈر رکشوں۔کی بھرمار ہو جاتی ہے رہی سہی کسر مسافر کوچیں پوری کر دیتی یں ۔چوک اعظم اس سال کےآغاز سے ہی حادثات سے متاثر چلا آرہا جانے یہ سال آگے کیا گل کھلائے گا۔؟ گذشتہ دو ہفتے۔قبل سلنڈر سےآگ لگنےکا واقعہ پیش آیا مگر بروقت اقدام سے مارکیٹ اور شھر تباہی اور نقصان سےبچ گیا گذشتہ ہفتے آکسفورڈ سکول کا دہم جماعت کاطالبعلم آٹھ بجے کے قریب ٹرالےتلےآکے جاں بحق ہو گیا۔۔بوڑھا باپ لاچاری سے اپنے امیدوں کےبجھے چراغ کے پاس بیٹھا نوحہ کناں ہے۔کہ کچھ دیر پہلےہی تو وہ گھر سے زندہ سلامت نکلا تھا اور پل بھر میں وہ ہمیشہ کے لیے چلا گیا۔۔اور آج صبح ایک اور دل خراش خبر ملی کہ لیہ ملتان میانوالی روڈ پہ سکول وین منی ٹرک سے ٹکرا گئی اور ڈرائیور سمیت سات افراد جاں بحق ہو گئے تین بچوں کی حالت نازک اور کئی زخمی ہوئے۔وہ ننھے پھول جو ابھی کھلنا چاہتے تھے بن کھلے مرجھا گئے۔حادثے کا سبب تیزرفتاری.اوور لوڈننگ اور دھند بتایا گیا۔کتنی ماؤں کی گود اجڑ گئی۔ان کے وہم وگمان میں بھی نہ ہو گا کہ وہ اپنےبچوں کےلاشےاپنے کاندھوں پہ لادے آئیں گے۔۔ہماری بےاحتیاطیوں نےزندگی کو ارزاں کردیا ہے۔اور ہم اسی کا خمیازہ بھگت رہے۔روزانہ چوک سے گذرتے ہوئے یہ تماشا نظر سے گذرتا کہ رش کی وجہ سے ٹریفک جام ہوتا ٹریفک اہلکار اول تو وہاں موجود نہیں ہوتے ہوں تو اپنی باتوں میں محو ہوتے۔ ان کو اس بات سے غرض نہیں ہوتی کہ ان کی لاپرواہی کیا گل کھلائے گی۔ چوک اعظم یوں تو چھوٹا سا شہر ہے مگر مینار پاکستان چوک( جو اس سے قبل خونی چوک مشہور تھا) پہ انتہا کا رش ہوتا ۔اکثر ٹریفک جام رہتا۔حالانکہ ٹریفک پولیس اچھی طرح جانتی کہ شہر کا وسط ہونے کی وجہ ہر قسمی ٹریفک کی آمدورفت سارا دن ہوتی مگر بالخصوص صبح ۔دوپہر اور شام کے اوقات میں اس میں اضافہ ہو جاتا اس وقت ذرا سی بے احتیاطی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی۔اس مسئلے پہ غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم قیمتی انسانی جانیں بچا سکیں۔
