رانا اعجاز محمود , تحریر ۔ ۔ محمد عمر شاکر
اک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا آنکھ حیران ہے کہ کیا شخص زمانے سے اٹھا یوں تو...
اک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا آنکھ حیران ہے کہ کیا شخص زمانے سے اٹھا یوں تو...
کیا کورونا وائرس ایک حقیقت ہے یا حکومت عوام کو بیوقوف بنا رہی ہے ؟ کیا ملک میں کورونا ہے...
اسلام آباد۔ مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں کوئی طالبان موجود نہیں ہے وہاں...
ڈیرہ غازی خان ( صبح پا کستان )پاکستان تحریک انصاف کی ایم پی اے ڈاکٹر شاہینہ کھوسہ نے کہا کہ...
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر اور خاص طور پر ہمارے خطے میں کورونا کی...
لیہ(صبح پا کستان)ڈی ایچ کیو ہسپتال سے ریفر کی گئی مریضہ کی نشتر ہسپتال پہنچنے سے پہلے بغیرلیڈی ڈاکٹر کے...
لاہور ۔ بلدیاتی نظام بحال ہونے کے بعد میئر لاہور متحرک، کرنل ریٹائرڈ مبشر جاوید نے پہلا مراسلہ جاری کر...
ملتان ۔ ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) نے صارفین کی سہولت کے پیش نظرنئے کنکشنز کی درخواستوں کی آن لائن...
اسلام آباد: این سی اوسی اجلاس میں ملک کے مختلف علاقوں میں کورونا کیسزمیں اضافے پرتشویش کا اظہاراورمختلف سیکٹرزمیں ایس...
اسلام آباد: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ہم بھارت کی ٹیرر فنانسنگ کا معاملہ عالمی سطح پر...
لاہور۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے معروف بزرگ صحافی و’’ اردو ڈائجسٹ‘‘ کے مدیرالطاف حسن قریشی کے انتقال پر...
Read moreDetailsاک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا
آنکھ حیران ہے کہ کیا شخص زمانے سے اٹھا
یوں تو ایک سال گزر گیا مگر لگتا ہے کہ کئی دہائیاں گزر گئی جب بھی لکھنے کی کوشش کریں تو طرح طرح کے اندیشے وسوسے ذہن میں آتے ہیں اور ایسے جیسے کسی مکان کی چھت کو ئی طوفان آندھی اٹھا کر لے جائیں اور وہ مفلوک الحال شخص کو جہاں بارش کا خطرہ ہوتا ہے وہیں سورج کی تپش کا خطرہ بھی ہوتا ہے ایسا ہی کچھ حال ہم ان قلم کاروں کا ہے جو کسی بھی جب قلم اٹھاتے تھے تو چند لفظ اور بے ہنگم سوچ دماغ میں ہوتی مگر جب وہ رانا اعجاز کو کال کرتے اور جس عنوان وہ کوئی عام مسئلہ ہوتا یا قومی مسئلہ کے بارے رانا اعجاز سے بات کرتے تو وہ اس موضوع پر سیر حاصل مواد مدلل مگر مختصر بتا دیتے اور اس پر کالم تحریر کر دیتا یوں تو مملکت پاکستان کے کئی نامور صحافی رانا اعجاز کی شاگردگی یا انکے ساتھ تعلق پر زمین آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں نامور صحافی یا وفاقی صوبائی دارلحکومتوں میں رہنے والے صحافی جب کوئی خبر بریک کرتے یا آرٹیکل لکھتے ہیں تو انکی پشت پر ادارہ اور نامور ملکی سیاسی مذہبی شخصیات بھی کھڑی ہوتی ہیں مگر علاقائی صحافی جو بلا تنخواہ دن رات کے ملازم ہوئے ہیں اخبار یا ٹی وی چینل کی نمائندگی لیتے وقت سیکورٹی یا مبارکبادی کے اشتہار کے عوض ہزاروں روپے دینے پڑتے ہیں دوسری طرف کسی بھی منشیات فروش قبضہ گروپ رشوت خور آفیسران چٹی دلالی کرنے والے خود ساختہ چوھدری ملک اور خان صاحبان جہاں کسی بھی علاقائی صحافی کے مخالف ہوتے ہیں وہیں اسے خاندن عزیزو اقارب دوست احباب اور منافق نما دوستوں کی بھی مخالفت نا راضگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہنے والے کسی کرپٹ آفیسر قبضہ کرنے والے منشیات فروشی کرنے والوں جسم فروشی کرنے والے جعلی عاملیت کر کے سادہ لوح کو لوٹنے والوں لوگوں کیساتھ فراڈ کرنے والوں کو تو نہیں روکتے انہیں تو برا بھلا نہیں کہتے مگر خبر لگانے والے کو ہی روکتے ہیں جرم یا جرم کے ساتھ نفرت کرنے کی بجائے نشاندہی کرنے والے پر ہی غصہ دکھاتے اور نفرت کرتے ہیں
ان حالات میں میرے جیسے کئی صحافیوں کی چھت رانا اعجاز محمود ہی ہوتے ایک طویل عرصہ انہوں نے لیہ جیسے پسماندہ ترین خطہ میں قلم کاغذ سے منسلک قلم کاروں کی آبیاری کرتے ہوئے گزار دی ایک طرف وہ سرکاری ملازم تھے تو دوسری طرف وہ جہاں قلم کاروں کی تربیت کرتے وہیں کسی بھی سرکاری آفیسر جاگیردار چوھدری سرمایہ دار سمیت مختلف مافیاز کی شازشوں کے سامنے ڈھال ہوتے محکمانہ ترقی کے بعد بھی مٹی کی محبت میں کسی بڑے شہر کی بجائے لیہ سے بہاولپور ٹرانسفر کرکے دھرتی ماں کیساتھ ڈیرہ ڈالا حالانکہ وہ کسی بڑے شہر کے آفس میں جاتے تو انکی شخصیت کے مطابق انکا حلقہ احباب اور بڑھ جاتا مگر بہاولپور میں رہتے ہوئے بھی وہ لیہ کے قلم کاروں دوستوں کے ساتھ رابطہ میں رہتے اور ضلع لیہ کے باسیوں کی اکثر محفلیں بہاولپور میں سجتی سچی بات تو ہے کہ لیہ اور بہاولپور کا سفرمحبان رانا اعجاز محمود کے لئے کوئی سفر نہ رہتا بلا شبہ رانا اعجاز زمین کے مٹے ہوئے شخص تھے جن کے سینے میں علم معلومات کا ذخیرہ تھا گزشتہ سال رانا اعجاز محمود کی وفات کے بعد علاقائی صحافیوں سمیت نامور صحافیوں نے رانا اعجاز کی یاد میں تعزیتی آرٹیکلز لکھے مگر میرے اعصاب نے اس وقت ساتھ ہی نہیں کہ اپنے مرشد قلمی پیشوا کے بارے لکھوں تو کیا لکھوں رانا اعجاز اور میرا ہی تعلق نہیں بلکہ وہ میر محلہ دار بھی ہیں میرے والد محترم اوررانا صاحب کے والد محترم کے درمیان بھی دوستانہ تعلقات تھے اور اب بھی رانا صاحب کے گھرانے اور ہمارے گھرانے کے درمیان تعلقات ہیں جو کہ روز قیامت تک ہر گزرتے دن کیساتھ مظبوط سے مظبوط ہوتے جائیں گئے رانا اعجاز محمود کی وفات کے بعدانکے بڑے بھائی پروفیسر رانا خالد محمود کی وفات نے جلتی پر تیل کا کام کیا کہ اہلیان چوک اعظم ابھی رانا اعجاز محمود کی وفات کا غم بھولے بھی نہیں تھے کہ پروفیسر رانا خالد محمود داعی اجل کو کہہ کر خالق حقیقی سے جا ملے رانا اعجاز محمود ایک شخص نہیں ایک نظریہ کا نام تھا اور یہ نظریہ تا قیامت رہے گا انکی وفات پر منعقدہ تعزیتی ریفرنس میں ڈپٹی کمشنر لیہ اظفر ضیاء نے ایم ایم روڈ بائی پاس کو انکے نام کیساتھ منصوب کرنے کا اعلان کیا جس پر تا حال کوئی انتظامیہ کی جانب سے عملی قدم نہیں اٹھایا گیا قبل ازیں بھی چوک اعظم کے نوجوان صحافی طارق ملک جو کہ لاہور میں جام شھادت نوش کر گئے تھے کہ نام ایم ایم روڈ لیہ روڈ بائی پاس منصوب کرنے کا اعلان کیا گیا تھا اس پر بھی کوئی عملی کام نہیں ہوا ملتان لیہ روڈ بائی پاس کو طارق ملک اور فتح پور لیہ روڈ بائی پاس کو رانا اعجاز محمود کے نام منصوب کرنے کے ڈپٹی کمشنر لیہ اظفر ضیاء ترجیحی بنیاد پر اقدامات کرتے ہوئے سرکاری پراسس مکمل کرائیں اللہ رب العزت رانا اعجاز محمود پروفیسر رانا خالد محمود کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرماتے ہوئے ہم قلم کاروں کو انکی تربیت کے مطابق صحافتی امور احسن انداز میں سر انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے ۔ ۔ ۔ ۔ آمینخاک میں لوگ ڈھونڈتے ہیں سونا لوگ
ہم نے سونا سپرد خاک کیا