آج کی عورت اور اس کے مسائل .. عفت بھٹی
عورت اور مرد زندگی کی گاڑی کے دو پہیے ہیں ۔ایک بھی پہیے میں نقص پیدا ہو جائے تو گاڑی...
عورت اور مرد زندگی کی گاڑی کے دو پہیے ہیں ۔ایک بھی پہیے میں نقص پیدا ہو جائے تو گاڑی...
پیرس.ایشیا پیسیفک گروپ نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف)کی سفارشات سے متعلق پاکستان کے حوالے سے رپورٹ...
لاہور . امیرجماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ قوم انتظار کررہی ہے، وزیراعظم کوئی عملی قدم اٹھائیں، تقریروں...
اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان...
لاہور ۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے پارٹی قائد نواز شریف سے مولانا فضل الرحمان کے مارچ...
لیہ ( صبح پا کستان ) تمام پولیس افسران ملکر اپنے اچھے اخلاق اور عوامی خدمت کے ذریعہ محکمہ کے...
ڈیرہ غازی خان ( صبح پا کستان) پاکستان تحریک انصاف کی سینئر رہنما اور ایم پی اے ڈاکٹر شاہینہ کھوسہ...
اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 27 اکتوبر کو آزادی مارچ شروع کرنے کا...
لاہور . چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ نیب کا حکومت سے کوئی گٹھ جوڑ نہیں، جنہیں...
لیہ( صبح پا کستان)سینئر نائب صدر پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب خواجہ رضوان عالم نے ڈسٹرکٹ پریس کلب لیہ میں...
لاہور (صبح پا کستان) میڈیا ورکرز آرگنائزیشن پنجاب کے زیر اہتمام میڈیا ورکرز کے حقوق کے لیے احتجاجی مظاہرہ کیا...
Read moreDetails
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عام لوگوں میں برداشت کی کمی اور اپنی خواہشات کو سب سے مقدم سمجھنے کی وجہ سے طلاق کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اولاد کا نہ ہونا۔ جہیز کا نہ ہونا۔شوہر کو غربت کے طعنے دینا۔بیوی کو بدصورتی کے طعنے دینا اور نامردی اہم وجوہات میں سے ہیں۔
پہلے سماج کی روایات کے مطابق عورتوں کو بات کرنے کی آزادی ہی نہی تھی۔ لیکن تعلیم اور سماجی شعور میں اضافے کی وجہ سے آجکل کی عورت باشعور ہو گئی ہے۔ اب وہ اپنے ساتھ ہونے والی ذیادتیوں پر خاموش نہی رہ سکتی۔ دوسرا معاشی طور پر خود مختار عورتیں کیونکہ معاشی عدم تحفظ کا شکار نہی ہوتیں تو اس لئے بھی وہ اپنے ان چاہے یا ذبردستی کے زشتوں سے جان چھڑانے والے فیصلے آسانی سے کرنے کی پوزیشن میں آ چکی ہیں ۔یعنی جو قطر ائیرویز کا ٹکٹ خریدنے کی سکت رکھتی ہیں ،وہ سمجھوتہ ایکسپریس پر سوار کیوں ہونگی ؟ اگر ان پڑھ عورت ہمیں مظلوم دکھائی دیتی تو پڑھی لکھی عورت ہمیں مستحکم بھی نظر آتی ہے ۔گویا چپ رہنے والی کو بولنا آگیا۔تب مختلف تنظیموں نے جنم لیا اور حقوق نسواں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔معاشرے میں پسی مظلوم عورت کو تحفظ دیا ۔آج بھی ان اداروں میں تیزاب سے جھلسی اور آگ سے جلے چہرے خود کر کپڑے سے ڈھانپے سوال کرتے ہیں کہ تم تو کہتے تھے وجود زن سے ہے کائنات میں رنگ ۔تو ان رنگوں کو بد رنگی میں کیوں بدل دیا کہ کائنات کے رنگ پھیکے پڑ گئے ۔ عورت کسی طرح بھی مرد سے کم نہیں ہے سوائے جسمانی طاقت کے ۔ورنہ عقل وشعور وہ برابری کی سطح پر ہی رکھتی ہے ۔ہم جب بھی عورت کے مسائل کا تذکرہ کرتے ہیں تو صرف معاشرے کی ستائی ہوئی عورت کے مسائل پر ہی بات کی جاتی ہے مگر اس کا ایک دوسرا رخ بھی ہے پڑھی لکھی عورت بھی مظلوم ہے ۔دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کو بھی مرد کی چیرہ دستیاں برداشت کرنی پڑتیں بس فرق یہ کہ وہ ظلم ذرا تہذیب یافتہ قسم کے ہوتے ہیں ۔اور جسمانی کے علاوہ ذہنی اذیت کا باعث ہوتے ہیں ۔کیا عور ت وہاں محفوظ ہے ؟ اب پھر یہ تان یہیں آکر ٹوٹتی کہ عورت صرف گھر کی چار دیواری میں ہی محفوظ ہے باہر گویا مرد ایک بھیڑیے کی شکل میں پھر رہا ہے جو اس کے وجود پر دانت نکوس رہا ہے ۔اگر یہ درست ہے تو بخدا ہم کسی طرح بھی مہذب قوم کہلانے کے مستحق نہیں ۔۔