عرب امارات کے دروازے پر .. (قسط 9) انجم صحرائی
اوہ سر !آپ یہاں؟ ایک شادی میں دیار مہر کے منیجر مہر فضل الہی نے مجھ سے بغلگیر ہوتے ہو ...
اوہ سر !آپ یہاں؟ ایک شادی میں دیار مہر کے منیجر مہر فضل الہی نے مجھ سے بغلگیر ہوتے ہو ...
وہ میری تصویر بنا رہا تھا اور میں سامنے بیٹھا اسے دیکھے جا رہا تھا ، میرے انہماک نے شائد ...
میڈیا ، بزنس مین اور ایجنٹ ہمیشہ جھوٹ بو لتے ہیں . نذیر سرداری نے ایک ایک لفظ چبا کے ...
دو دن آرام کے بعد جب طبیعت قدرے بہتر ہو ئی تو سب گھر والوں نے ایک بار پھر سیر ...
دوبئی میں سکول جانے کے لئے بچوں کو صبح پانچ بجے جا گنا پڑتا ہے ، عبد اللہ، علشبہ اور ...
بلا شبہ دنیا کی اونچی ترین عمارت برج خلیفہ اپنے دامن میں ایک سحر انگیز انوائر منٹ لئے ہو ئے ...
آج کل ہم دور حریمی میں جی رہے ہیں پا کستان کی طرح دو بئی میں بھی تحریم شاہ کے ...
ارے یار تم شکل سے تو کہیں سے نیپالی نہیں لگتے میں نے اس کے کھلتے قدرے سفید رنگ کی ...
گھر سے چلے تو شام کے پانچ بجنے کو تھے ۔ابھی چوک اعظم کراس نہیں کیا تھا کہ دھندراستہ کھوٹا ...
گذشتہ کل ڈی جی خان انفارمیشن آ فس سے جاری ہو نے والی ایک تصویر نے مجھے بڑا حیران کر ...
اسلام آباد ۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ایران ، مشرق وسطٰی اور خلیج سمیت پورے خطے میں جنگی صورتحال...
Read moreDetailsجسے چا ہا در پہ بلا لیا جسے چاہا اپنا بنا لیا یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے
کچھ ایسا ہی واقعہ دو بئی گوگل ویلج میں بھی پیش آ یا جھیل کنارے ہم بیٹھے پا نی میں تیرتی، بکھرتی اور اٹھکیلیاں کرتیں رنگ برنگی منعکس رو شنیوں میں گم تھے کہ ا چا نک شلوار قمیض میں ملبوس ایک نو جوان عین ہمارے سا منے آ کر جھیل کنارے کھڑا ہو کر تصویریں بنا نے لگا ۔ چند لمحوں بعد اس نے مڑ کر میری طرف دیکھا اور پھر اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ کام کام کرتے کرتے اچانک پھر اس نے مجھے مڑ کر دیکھا۔ مجھے اس کی آنکھوں میں سناشائی کی جھلک دکھائی دی۔۔ وہ دھیرے دھیرے میرے پاس آ یا اور قدرے جھجھک کے پو چھا۔۔ سر ! آپ پا کستان سے ہیں ؟ ہاں جی میں پا کستان سے ہوں ۔۔ میں نے اسے دلچسپی سے دیکھتے ہو ئے جواب دیا ،، جی میں اشفاق ہوں ۔۔ اشفاق شاہ ، پنڈی گھیپ سے ۔۔ میں یہیں دو بئی میں ہو تا ہوں ۔۔ اور مجھے انجم صحرائی کہتے ہیں ،میں لیہ پنجاب سے ہوں ۔۔ میں نے اپنا تعارف کرایا ۔۔ سر آپ لکھتے ہیں نا۔۔ مطلب کالم وغیرہ جی میں لکھ لیتا ہوں کبھی کبھی ۔۔ میں آپ کی تحریریں پڑھتا رہتا ہوں سر ۔آپ کی خود نوشت تھی شا ئد ہاں جی ۔۔" شب و روز زند گی "۔۔ لیکن آپ نے کیسے پڑھی ؟۔۔ سر۔۔ فیس بک پر ۔۔سر میں آپ کی کیا خد مت کر سکتا ؟ میرے شکریہ ادا کر نے کے سبب پنڈی گھیپ کے اشفاق شاہ سے ملاقات خاصی مختصر رہی۔۔ چند سال قبل لا ہور سے ایک محترمہ نے ٹیلیفونک رابطہ کیا، ا نہوں نے بتایا کہ وہ ایک معروف میڈیا گروپ سے وابستہ ہیں اور اپنے زیر تکمیل کسی پرا جیکٹ کے لئے میری کتاب "پا کستا نی اقلیتیں " سے استفادہ کرنے کی خوا ہشمند ہیں ۔۔ مجھے ان کی بات سن کر بڑی حیرانی ہو ئی "پا کستانی اقلتیں " سال1984 میں شا ئع ہو ئی تھی ۔۔ میں نے پو چھا کہ انہیں میرے اور میری کتاب بارے کیسے پتہ چلا۔ تو جواب ملا۔۔ فیس بک سے ۔۔ گذشتہ دنوں ڈاکٹر حمید الفت ملغانی کی نگرانی میں سعید یو سف نے گورٹمنٹ کالج لا ہور یو نیورسٹی سے اپنا ایم فل تھیسزمکمل کیا ۔تھیسز کا عنوان تھا " انجم صحرائی کی ادبی و صحافتی خدمات " بلا شبہ یہ مکتب صحافت کے مجھ جیسے طفل مکتب کے لئے یہ ایک اعزاز ہے ۔ سینئر صحافی فرید اللہ چو ہدری کا کہنا تھا کہ استاد جی۔ آپ پر ایم فل تھیسز کئے جانے پر ہمارے لئے اہم بات یہ ہے کہ ارباب علم و دانش کی گراس روٹ لیول پر کام کرنے والے صحافیوں پر بھی نظر پڑی اور انہیں بھی یہ یقین آیا کہ یہ طبقہ بھی ادب اور صحافت کے میدان میں ایک موثر کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سے قبل عنا ئت اللہ بلوچ جنہوں نے بی زیڈ یو سے جرنلزم میں ماسٹر کیا تھا ان کے ایم فل تھیسز میں بھی صبح پا کستان اور میری صحافتی کار کردگی بارے خاصی سیر حاصل بحث مو جود تھی ۔۔یہ غالبا ذکر ہے 2003 کا اور تھیسسز کا عنوان تھا " ضلع لیہ کی صحافتی تاریخ کا تقا بلی جا ئزہ " دو ستو۔۔ زند گی میں لکھنے اور بو لنے کے سوا کچھ کام نہیں کیا۔ اگر کبھی کیا بھی تو کا میاب نہیں ہوا۔۔ شا ئع ہو نے والی تین کتب کے علاوہ سال 1996 سے" بلا مبا؛لغہ" کے عنوان سے شا ئع ہو نے والے کالمز اور" بات بتنگر "کے عنوان سے شا ئع ہو نے والے مضامین کے سا تھ" شب و روز زند گی" میرے گذرے دنوں کا تفصیلی حساب کتاب ہے ، روز نامہ داور لیہ اور جیواردو ڈاٹ کام۔ فرانس پر شا ئع ہو نے والے اس سلسلہ مضا مین کی اب تک ستر کے قریب اقساط شا ئع ہو چکی ہیں ۔ شب و روز زندگی کی ساری اقساط صبح پا کستان کے فیس بک پیج اور صبح پا کستان کی ویب سا ئٹ (صبح پاک ڈاٹ کام ۔پی کےsubhepak.com.pk ) پر بھی دستیاب ہیں ۔ ڈاکٹر ظفر ملغانی ، سعید سو ہیہ اور سید نعیم شاہ ایڈوو کیٹ اور آسٹریلیا سے اظہر اقبال سمیت بہت سے دوستوں کا اصرار ہے کہ "شب و روز زندگی "کو کتابی شکل میں شا ئع کیا جائے۔۔ میری بھی خواہش ہے کہ "شب وروز زندگی "کتاب کی صورت قارئین کے ہاتھوں میں ہو۔ سچی بات نعمان بیٹے نے نے مجھے شب وروز زندگی کی اشاعت کے لئے بجٹ مہیا بھی کر دیا تھا۔۔ کہ ابو یہ لیں اور شوق پورا کریں ۔۔ مگر۔۔ اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا ۔۔ میں تا حال "شب و روز زند گی "مکمل نہیں کر سکا۔۔ قارئین کرام ! معذرت آج لکھنے تو بیٹھا تھا ابو ظہبی میں گذارے یاد گار لمحات کو۔۔ مگر بات کچھ اور چل نکلی ۔۔ انشاء اللہ اگلی ملاقات میں ہم آپ کو لے چلیں گے یو اے ای اور سیر کرائیں گے ابو ظہبی کے لوو میوزیم (louvre museum) اور شیخ زائد مسجد (Sheik Zayed Mosque,) کی ۔۔ یار زندہ صحبت باقی باقی احوال اگلی قسط میں ۔۔
انجم صحرائی