موت اک ماندگی کا وقفہ …انجم صحرائی
آج کل ذہن تھکا تھکا سا ہے لگتا ہے زندگی کے سفر کی منزل قریب ہے ..منزل قریب ہو تو ...
آج کل ذہن تھکا تھکا سا ہے لگتا ہے زندگی کے سفر کی منزل قریب ہے ..منزل قریب ہو تو ...
"میں" کی کہانیانجم صحرائیپچاس پچپن سالہ صحافی کیرئیر کے با وجود میں ابھی بھی طفل مکتب ہوں کبھی سینیر ,استاد ...
{گزشتہ سے پیوستہ } ہمارے ایک دوست ہیں ہو میو ڈاکٹر ، گزشتہ دنوں ان کے ہومیو کلینک پر ملاقات ...
سال 2012/13کی بات ہے ، اچانک ایک دن بلاوے کا حکم ملا ۔ نعمان ان دنوں بسلسلہ ملازمت کویت سے ...
یہ ساٹھ سال پہلے کی بات ہے بجلی نام کی کوئی شے گاؤں میں نہیں تھی اس زمانے میں ، ...
یہ سو چتے سو چتے مجھے ایک بار پھر نیند نے آ دبو چا اور میں گھوڑے بیچ کر سو ...
وہ دروازے سے ٹیک لگائے کھڑا تھا اس کے چہرے پر تھکن اور پر یشانی نمایاں تھی میں اسے دیکھ ...
رات کے دو ڈھائی کا ٹائم ہو گا جب میں نے آ نکھیں کھو لیں یعنی جب مجھے ہو ش ...
اس وقت میری حالت دیدنی تھی مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ ...
واہ کیا بے شرمی ہے ، ڈھٹائی کی بھی کوئی حد ہو تی ہے ۔۔ بابے نے میری سوچ پڑھتے ...
لاہور{ صبح پا کستان} وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پروزیراعلی شکایات سیل کی ٹیم نے ضلع ملتان...
Read moreDetailsآج کل ذہن تھکا تھکا سا ہے لگتا ہے زندگی کے سفر کی منزل قریب ہے ..منزل قریب ہو تو رفتار آہستہ ہو جاتی ہے جیسے جوں جوں منزل قریب آتی ہے گاڑی کی بریک پر ڈرائیور کے پاؤں کا دباو بڑھنا شروع ہو جاتا ہے اور آخرکبھی پیہوں کی چرچراہٹ کے بعد اور کبھی جھٹکوں کے ساتھ گاڑی سٹیشن پر جا رکتی ہے ..
یہی حال حضرت انسان کا ہوتا ہے منزل کے قریب پہنچتے ہی کبھی سانس اکھڑتی ہے اور کبھی گٹے گوڈے کھڑ کھڑ ا تے ہیں ..
اورجیسے کبھی منزل پر پہنچ کر گاڑی پلیٹ فارم کے خالی ہونے کے انتظار میں جیسے سگنل سے باہر کھڑی ہو جاتی ہے ویسے ہی بندہ اپنے مقررہ وقت کے انتظار میں لمبی نیند (کومے) میں چلا جاتا ہے ..منزل سامنے مگر منزل سے دور , دنیا میں مگر دنیا سے بے خبر .. شایدبندہ عالم برزخ بھی ایسا ہی ہو گا .زندگی اور موت میں معلق .. بے خبری ہی بے خبری ..بندے کا کومے میں چلا جانا بھی تو زندگی اور موت میں معلق ہو جانا ہے سانس چلتی ہے مگر زبان نہیں چلتی آنکھیں نہیں دیکھتیں دماغ سن ہو جاتا ہے سوچتا ہی نہیں بندہ اپنی ذات سے ہی بے خبر ہو جاتا ہے بے بس ہو جاتا ہے
اس گزرتے سال میں بہت سے دوست بچھڑ گئے , طارق اعوان , ذولفقار نیازی , میاں نواز اور نسیم آرٹسٹ جیسے بہت سے .اے روز کسی نہ کسی دوست کے چلے جانے کی خبر سننے کو ملتی ہے .ان سب کی موت نے بہت دکھی کر دیا ہے ..غم موت کا نہیں ان دوستوں کو کھو دینے کا ہے .پون صدی کی زندگی میں بس چند نام اعتبار کے .یہ تھا زندگی کا بونس .وہ بھی برف نکلا .
گزشتہ دنوں سعودیہ کے ایک نوجوان بارے خبر پڑھنے کو ملی جو ایک ایکسیڈنٹ میں سر میں چوٹ لگنے کے سبب 23/24 سال کومے میں رہا اور اسی حالت میں انتقال کر گیا ..ظاہر ہے خاندان امیر کبیر ہو گا لیکن اگر صاحب اسطاعت نہ بھی ہوتے اس کے والدین اسے تنہا تو نہ چھوڑتے ..نوجوان تھا..والدین کے لئے ہر صبح ایک نئی امید لے کر آتی ہو گی ..مگر موت تو بہت ظالم ہے جب انا ہو جبھی آتی ہے بس زندگی سے امید و نا امیدی اور بے بسی کا تماشا بناے رکھتی ہے ..
جب آنا ہو حلق میں آ کر بیٹھ جاتی ہے ..کچھ نہیں ہوا… اچھے بھلے تھے.. آ تھو چڑھا… سانس رکا اور انتقال ہو گیا ..
یہی ایک رنگ تو نھیں موت کا ..موت کو تو زندگی کی ہر سانس ہر لمحے پر دسترس ہے ..کھا جا سکتا زندگی میں جینے کا حاصل ہی موت ہے ..مگر موت ایک حاصل تو ہو سکتی زندگی کی مگر منزل نہیں ..
میر نے کہا ہے نا ..
موت اک ماندگی کا وقفہ ہے
یعنی آگے چلیں گے دم لے کے