سوا 3 ارب کا فراڈ، ملزم کی 100 روپے کے مچلکے پر ضمانت منظور
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے 3 ارب 20 کروڑ روپے کے سیلز ٹیکس فراڈ کیس میں کراچی...
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے 3 ارب 20 کروڑ روپے کے سیلز ٹیکس فراڈ کیس میں کراچی...
لیہ {صبح پا کستان } معروف ادیب مصنف ماہر تعلیم ڈاکٹر ظفر عالم ظفری کو ڈسٹرکٹ پریس کلب کی اعزازی...
اسلام آباد . وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اڑان پاکستان منصوبہ نئے سال میں نیک شگون ثابت ہوگا،...
ڈیرہ غازیخان ( صبح پا کستان): کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن ڈاکٹر ناصر محمود بشیر نے کوٹ ادو کی غریب...
گلگت ۔ گلگت کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان (جی بی) خالد خورشید کو 34 سال...
پروفیسر شفقت بزدار سرائیکی زبان کے عمدہ شاعر ہیں۔وہ سرائیکی وسیب کے ترجمان بھی ہیں اور اس کی پہچان بھی۔وہ...
شہباز نقوی کے منتخب اشعار ...۔۔۔۔مجھ سے اس عہد کی تہذیب نے سر گو شی کیبٹ گئی عزت و افلاس...
رات کے دو ڈھائی کا ٹائم ہو گا جب میں نے آ نکھیں کھو لیں یعنی جب مجھے ہو ش...
زیرِنظر شعری مجموعہ زندگی کے متنوع پہلو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔اس میں حسن و عشق کے موضوعات بھی ہیں...
یو اےای ۔ راس الخیمہ کے ساحل کے قریب گر کرطیارہ تباہ ہوگیا، حادثے میں پاکستانی خاتون پائلٹ اور مسافر...
لاہور: پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق...
Read moreDetailsاسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے 3 ارب 20 کروڑ روپے کے سیلز ٹیکس فراڈ کیس میں کراچی کے نجی بینک کے برانچ منیجر شاہد حسین خواجہ کی ایک سو روپے کے مچلکوں پر ضمانت منظور کر لی۔
عدالت نے ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی کرمنل کارروائی کو اختیار سے تجاوز قرار دیتے ہوئے فیصلے کی کاپی چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو بھجوانے کا حکم دیا جبکہ مجسٹریٹ کا ملزم کے ریمانڈ اور ماتحت عدالت سے ضمانت مسترد کرنے کے فیصلہ کو باعث شرم قرار دیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئندہ قانون کی خلاف ورزی میں کارروائی پر ایف بی آر اور ٹیکس آفیشلز کیخلاف کارروائی کا بھی عندیہ دیا، جسٹس بابر ستار نے کراچی کے نجی بینک کے منیجر شاہد حسین خواجہ کی ضمانت منظور کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ بینک منیجر کو پاور کمپنی کا اکاؤنٹ کھولنے میں اعانت پر گرفتار کیا گیا۔
ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نے قانون کے مطابق ٹیکس پیئر پر واجب الادا ٹیکس کا تعین ہی نہیں کیا اور درخواست گزار کو لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی میں گرفتار کیا اور لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کا علم ہونے کے باوجود کرمنل کارروائی شروع کرکے اختیارات سے تجاوز کیا۔
اسٹیٹ نے درخواست گزار کے ٹیکس فراڈ کے جرم میں ملوث ہونے کا کوئی مواد پیش نہیں کیا۔ ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے درخواست گزار کے آزاری، وقار اور برابری کے آئینی حقوق مجروح کیے گئے، شرم کی بات ہے کہ ریمانڈ دینے والے مجسٹریٹ اور ضمانت مسترد کرنے والی عدالت نے سیلز ٹیکس ایکٹ کی شقوں کا خیال نہیں رکھا، عدالت توقع کرتی ہے کہ ٹرائل کورٹ اس کارروائی کی قانونی حیثیت کو مدنظر رکھے گی۔