ضلع لیّہ کی سیاست کا ایک طویل اور شاندار باب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہے۔ سینئر پارلیمنٹرین اور سابق ضلع ناظم لیّہ، ملک غلام حیدر تھند بھی بالآخر داعیِ اجل کو لبیک کہتے ہوئے اللہ کے حضور پیش ہو گئے۔ ابھی کچھ ہی ماہ قبل، سابق ایم این اے ملک نیاز احمد جکھڑ بھی طویل علالت کے بعد اس فانی دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔ چند ہی مہینوں کے وقفے سے لیّہ کی مٹی نے اپنے دو ایسے جلیل القدر بیٹوں کو الوداع کہا ہے جن کی کمی مدتوں محسوس کی جائے گی۔
یہ دونوں مرحومین روایتی طور پر ایک دوسرے کے سخت سیاسی حریف تھے، لیکن دونوں ہی وضع دار شخصیت کے مالک تھے۔ ایک سیاسی اور صحافتی کارکن کے طور پر میں ہمیشہ ان کا زبردست نقاد رہا۔ میں نے ان کی سیاست پر لکھا بھی بہت اور بولا بھی بہت، لیکن سچائی کا اعتراف کرنا ہماری پیشہ ورانہ اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ یہ ماننا پڑے گا کہ دونوں مرحومین رواداری، برداشت، احترام اور وضع داری میں اپنا ایک منفرد اسلوب اور معیار رکھتے تھے۔ انہوں نے تنقید کو ہمیشہ خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور ذاتی تعلقات پر کبھی آنچ نہیں آنے دی۔
سیاست کی دنیا میں جہاں آج کل اخلاقیات ناپید ہوتی جا رہی ہیں، وہاں ان دونوں رہنماؤں نے ہمیشہ اعلیٰ ظرفی کا ثبوت دیا۔ دونوں نے اپنے اپنے حلقوں میں بھرپور اور جاندار سیاسی اننگز کھیلی۔ حریف ہونے کے باوجود دونوں کا اندازِ سیاست اور عوامی رابطہ تقریباً ایک جیسا ہی تھا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ دونوں نے لیّہ کی علاقائی تعمیر و ترقی میں ایک بھرپور اور تاریخی کردار ادا کیا، جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
لیّہ کی سیاسی تاریخ میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب یہ دونوں روایتی اور متحارب فریق تمام سیاسی اختلافات , علاقائی ترجیحات اور مقامی متحارب گروپ بندی کے باوجود ایک ہی پولیٹیکل پارٹی کی چھتری تلے اکٹھے ہوئے؛ میرا اشارہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے دوران مسلم لیگ (ق) کے دور کی طرف ہے،
ان دونوں رہنماؤں کی مقبولیت کا اندازہ ان کے آخری سفر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ دونوں مرحومین کے جنازے ضلع لیّہ کی تاریخ کے سب سے بڑے اور تاریخی جنازے ثابت ہوئے، جن میں ہزاروں کی تعداد میں اشکبار اور سوگوار مداحوں، ووٹروں اور شہریوں نے شرکت کی۔
ان دونوں جنازوں میں ایک اور انتہائی خوبصورت، جذباتی اور یادگار قدرِ مشترک دیکھنے کو ملی، جس نے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا۔ دونوں عظیم باپوں کی نمازِ جنازہ ان کے بیٹوں نے پڑھائی۔ جس طرح ملک نیاز احمد جکھڑ کی نمازِ جنازہ ان کے صاحبزادے اور موجودہ ایم این اے ملک اویس حیدر جکھڑ نے پڑھائی، بالکل اسی طرح ملک غلام حیدر تھند کی نمازِ جنازہ کی امامت بھی ان کے فرزند ملک اجلال حیدر تھند نے کی۔یہ منظر اس بات کا ثبوت تھا کہ ان بزرگوں نے نہ صرف سیاست کی بلکہ اپنی اولاد کی ایسی بہترین فکری اور مذہبی تربیت بھی کی کہ وہ آخری وقت میں ان کے لیے توشہ آخرت بنے۔
ملک نیاز احمد جکھڑ اور ملک غلام حیدر تھند ہم سے جدا ہو چکے ہیں، لیکن لیّہ کی تاریخ، سیاست اور عوامی خدمات کے نقشِ قدم پر ان کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اللہ تعالیٰ دونوں مرحومین کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔ (آمین)







