• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
SB2425
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

شوہر حق مہر کے ساتھ معاہدے میں درج چیزیں بھی دینے کا پابند ہے ، جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی

webmaster by webmaster
مئی 30, 2026
in قومی/ بین الاقوامی خبریں
0
لاہورہائیکورٹ نے وزیراعظم کے مشیروں کیخلاف درخواست سماعت کیلئے منظور کرلی

لاہور۔ لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ شوہر نکاح نامے میں درج حق مہر کے علاوہ علیحدہ معاہدے میں درج وعدوں کی تکمیل کا بھی پابند ہوتا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے محمد خان کی درخواست پر 11 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، عدالت نے قرار دیا کہ خاتون نے حق مہر میں 5 مرلہ گھر اور عدت خرچے کی وصولی کیلئے دعویٰ دائر کیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ شوہر نے شادی کے روز ایک علیحدہ معاہدے کے ذریعے اسے 5 مرلہ گھر دینے کا وعدہ کیا تھا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حق مہر بیوی کا قانونی اور شرعی حق ہے، یہ شوہر کی مرضی یا احسان نہیں بلکہ اس پر واجب الادا قرض کی حیثیت رکھتا ہے، عدالت نے واضح کیا کہ شادی کے دوران حق مہر کا مطالبہ نہ کرنا خاتون کے اس حق سے دستبرداری تصور نہیں کیا جا سکتا کیونکہ معاشرتی اور گھریلو دباؤ کے باعث اکثر خواتین اپنے حقوق کا مطالبہ نہیں کرتیں۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ حق مہر زبانی، تحریری یا بعد میں بھی طے کیا جا سکتا ہے اور مسلم عائلی قوانین شوہر کو شادی کے بعد حق مہر میں اضافہ کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

فیصلے کے مطابق شوہر نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ 5 مرلہ گھر سے متعلق معاہدہ جعلی اور بعد میں تیار کیا گیا، تاہم ریکارڈ پر موجود دونوں گواہوں نے عدالت میں پیش ہو کر دستاویز کی تصدیق کی، عدالت نے کہا کہ جعلی دستاویز کا الزام لگانے والے شخص پر اس دعوے کو ثابت کرنا لازم ہوتا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی نوٹ کیا کہ شوہر نے دستخطوں اور انگوٹھوں کے نشانات کی فرانزک جانچ کی مخالفت کی، جو اس کے مؤقف کو کمزور کرتی ہے، سچ بولنے والا شخص سائنسی جانچ سے نہیں گھبراتا۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ نکاح نامے میں صرف 5 ہزار روپے حق مہر درج ہونا علیحدہ معاہدے کو غیر مؤثر نہیں بناتا، عدالت کے مطابق خاندانی معاملات میں عدالتیں صرف تکنیکی نکات نہیں بلکہ سماجی حقائق کو بھی مدنظر رکھتی ہیں اور فیملی کورٹس کا بنیادی مقصد خاندانی تنازعات کو انصاف اور توازن کے ساتھ حل کرنا ہے۔

https://lahorenews.tv/index.php/news/127454/

Post Views: 72
Tags: lahore news
Previous Post

پرزن ہیلتھ کونسل لیہ کا اجلاس ،اسیرانِ جیل کی صحت سے متعلق درپیش مسائل اور دیگر انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا

Next Post

ڈیرہ غازی خان ۔ دریاؤں اور بڑی نہروں میں نہانے پر دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد

Next Post
ڈیرہ غازی خان ۔ دریاؤں اور بڑی نہروں میں نہانے پر دفعہ 144 کے تحت پابندی  عائد

ڈیرہ غازی خان ۔ دریاؤں اور بڑی نہروں میں نہانے پر دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک
قومی/ بین الاقوامی خبریں

آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

by webmaster
جولائی 11, 2026
0

کوئٹہ: پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف مشترکہ "آپریشن شعبان" بھرپور انداز میں...

Read moreDetails
سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم  ?

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم ?

جولائی 8, 2026
حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے،  سلمان اکرم راجا

حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے، سلمان اکرم راجا

جولائی 3, 2026
مریم نواز کا سڑکوں کی تعمیرو مرمت مالی سال کے آخر تک مکمل کرنے کا حکم

"شاباش ٹیم پنجاب”، "الحمدللہ امسال بھی محرم الحرام پرامن، باوقار اورمنظم رہا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

جون 27, 2026
نوجوان  سب سے پہلے پاکستان کو اہمیت دیں:وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا پرواز کارڈ کے کامیاب امیدواروں سے خطاب

نوجوان سب سے پہلے پاکستان کو اہمیت دیں:وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا پرواز کارڈ کے کامیاب امیدواروں سے خطاب

جون 25, 2026
لاہور۔ لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ شوہر نکاح نامے میں درج حق مہر کے علاوہ علیحدہ معاہدے میں درج وعدوں کی تکمیل کا بھی پابند ہوتا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے محمد خان کی درخواست پر 11 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، عدالت نے قرار دیا کہ خاتون نے حق مہر میں 5 مرلہ گھر اور عدت خرچے کی وصولی کیلئے دعویٰ دائر کیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ شوہر نے شادی کے روز ایک علیحدہ معاہدے کے ذریعے اسے 5 مرلہ گھر دینے کا وعدہ کیا تھا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حق مہر بیوی کا قانونی اور شرعی حق ہے، یہ شوہر کی مرضی یا احسان نہیں بلکہ اس پر واجب الادا قرض کی حیثیت رکھتا ہے، عدالت نے واضح کیا کہ شادی کے دوران حق مہر کا مطالبہ نہ کرنا خاتون کے اس حق سے دستبرداری تصور نہیں کیا جا سکتا کیونکہ معاشرتی اور گھریلو دباؤ کے باعث اکثر خواتین اپنے حقوق کا مطالبہ نہیں کرتیں۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ حق مہر زبانی، تحریری یا بعد میں بھی طے کیا جا سکتا ہے اور مسلم عائلی قوانین شوہر کو شادی کے بعد حق مہر میں اضافہ کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ فیصلے کے مطابق شوہر نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ 5 مرلہ گھر سے متعلق معاہدہ جعلی اور بعد میں تیار کیا گیا، تاہم ریکارڈ پر موجود دونوں گواہوں نے عدالت میں پیش ہو کر دستاویز کی تصدیق کی، عدالت نے کہا کہ جعلی دستاویز کا الزام لگانے والے شخص پر اس دعوے کو ثابت کرنا لازم ہوتا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی نوٹ کیا کہ شوہر نے دستخطوں اور انگوٹھوں کے نشانات کی فرانزک جانچ کی مخالفت کی، جو اس کے مؤقف کو کمزور کرتی ہے، سچ بولنے والا شخص سائنسی جانچ سے نہیں گھبراتا۔ لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ نکاح نامے میں صرف 5 ہزار روپے حق مہر درج ہونا علیحدہ معاہدے کو غیر مؤثر نہیں بناتا، عدالت کے مطابق خاندانی معاملات میں عدالتیں صرف تکنیکی نکات نہیں بلکہ سماجی حقائق کو بھی مدنظر رکھتی ہیں اور فیملی کورٹس کا بنیادی مقصد خاندانی تنازعات کو انصاف اور توازن کے ساتھ حل کرنا ہے۔ https://lahorenews.tv/index.php/news/127454/
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.