• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
ad
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2024-12-20 at 4.47.55 PM
WhatsApp Image 2024-12-20 at 11.08.33 PM
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

گمشدہ جگنو … عفت بھٹی

webmaster by webmaster
ستمبر 13, 2019
in کالم
0
گمشدہ جگنو … عفت بھٹی

صبح سے ہی اس کی طبیعت بوجھل تھی ۔ناشتے کے ٹیبل پر سلائس پر جیم لگا کر بابا نے اسے تھمایا ۔”کھا لو بیٹا جلدی سے اور سکول سے واپسی پہ آنی کے گھر چلے جانا ۔میں وہاں سے آپ کو لےلوں گا ۔شام کو مما کو دیکھنے ہاسپٹل چلیں گے“۔بابا ماما کب أٸیں گی اور بھیا بھی آئے گا ناں ؟ چھ سالہ مانیہ نے اشتیاق سے پوچھا ۔بالکل جانی اللہ میاں نے آپ کے لیے تو بھیا بھیجنا ۔بابا نے مسکرا کر اس کا گال چوما ۔بابا فیری لے کے آئے۔گی ناں ؟ ہمم  اچھا چلو جلدی سے بیگ اٹھاؤ آپ کو سکول چھوڑوں ۔اور یاد سے واپسی پر آنی گھر جانا ہے۔  بابا نے اس کا ہاتھ تھاما ۔بابا آج لاسٹ ڈے ہے کل سے سمر وکیشن ہیں ۔ اس کی آنکھوں کے جگنو چمکے ۔

اسمبلی ختم ہوئی اور وہ کلاس میں آگئی ۔وع شدت سے ننھے سے بھیا کی منتظر تھی آج اس کا دل پڑھائی میں نہیں لگ رہا تھا کچھ بے چینی اس درد کی بھی تھی جو وقفے وقفے سے پیٹ میں اٹھ رہا تھا رات اس نے برگر کھایا تھا ۔شاید وہ باسی تھا ۔چھٹی سے کچھ دیر پہلے اسے متلی محسوس ہو رہی تھی ۔میم نے بیگ کلوز کروائے اور بچوں کو کلاس سے باہر کوریڈور میں لائن میں جانے کو کہا ۔مانیہ تھوڑی دیر تو چپکی بیٹھی برداشت کرتی رہی پھر واش روم کی طرف بڑھ گئی ۔ابکائیوں نے اس کی حالت بری کردی دو دفعہ اسے الٹی آئی اور وہ نڈھال ہو گئی ۔وہ واش روم کے دروازے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی پشت پر ٹنگے بیگ سے رومال نکالا اسے بے انتہا چکر آرہے تھے ۔اس کی آنکھیں غنودگی سے بند ہو رہی تھیں ۔
اسے ہوش آیا تو ہر طرف گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔وہ ہڑبڑا گئی ہمت کر کے اٹھی اور دروازے تک پہنچی بڑا دروازہ لاک تھا ۔اس نے زور سے دروازہ بجایا ۔کھولو  دروازہ کھولو وہ چلائی ۔خاموشی نے اسے خوفزدہ کر دیا ۔وہ رونے لگی ماما بابا ۔ ۔ سسکیاں ۔ ۔ جواب خاموشی ۔ ۔روتے روتے اس کا حلق خشک ہو چکا تھا ۔آنسوؤں کے نشان گالوں کے مرجھائے گلابوں پر گہرے ہو گئے ۔اب تو اندھیرا ہو رہا تھا ۔اسکا ننھا سا دل ڈولنے لگا ۔ماما بابا مجھے نکالو ۔ وہ پھر سسکیاں بھرنے لگی ۔جسم کی توانائی گویا قطرہ قطرہ نچڑ رہی تھی .اس نے بستے سے پینسل نکالی اور دیوار پر لکھنے لگی بابا ماما آجاؤ  ۔بھائی میرا بھائی ۔مانیہ رو رہی ۔بابا آجاؤ مانی کو لے جاؤ ۔اسکی ہچکیاں بندھ گئیں پھر دروازہ دھڑ دھڑانے لگی کھولو ما ما ۔ٹیچر مجھے ڈر لگ رہا ۔بابا پلیز آجاؤ میں نے بھیا دیکھنا ۔ مجھے بھوک لگی ہے ماما ۔وہ پھر نڈھال ہو چکی تھی۔ گھپ اندھیرا اور ننھی سی جان خوف رگ وپے میں سرائیت کر رہا تھا اور لمحہ بہ لمحہ وہ موت کی آغوش میں جا رہی تھی ۔آٹھ پہر کی بھوکی بیمار معصوم جان اپنی ماما اور بابا کو پکارتی ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی ۔

دیکھیے میری بچی گھر نہیں پہنچی آپ سکول چیک تو کریں ۔احمد رضا حواس باختہ ہو کر پرنسپل کے گھر بیٹھے تھے۔دیکھیں سر چوکیدار نے چیک کر کے لاک لگایا تھا ۔بحر حال میں پھر آپ کی تسلی کے۔لیے اسے کہتا ہوں ۔انہوں نے ماجد خان کو کال کی ۔ہیلو ہاں ون کلاس کی بچی مانیہ احمد والا معاملہ ہے ایک دفعہ پھر کلاس روم چیک کریں اور مجھے ابھی بتائیں۔اوکے ۔دس منٹ بعد کال بیل بچی ہیلو اچھی طرح دیکھا ہے ناں؟ اوکے ۔دیکھیں سر چوکیدار نے دوبارہ چیک کیا ہے ۔آپ رشتہ داروں سے پتہ کریں بچی کسی کے گھر چلی گئی ہو گی۔
آہ میری مانی آج دو ماہ بیت گئے کہاں گئی میری بچی ۔کاش میں خود اسے اسکول لینے چلا جاتا ۔احمد پشیمان اور افسردہ راحیلہ غم سے نڈھال کوئی پتہ نہیں کہیں پتہ نہیں ۔

چھٹیاں ختم ہو گئیں  اماں سبھاگی کل سے اسکول کھا جانا جاؤ آج ساری صفائی کر دو اسکول کی ۔پرنسپل نے ملازمہ کو چابیاں پکڑاتے ہوئے کہا۔
اماں سبھاگی کلاس روم صاف کرکے واش روم دھونے لگی لاک کھولا افف بدبو کا بھپکا آیا اس نے بے ساختہ منھ پر دوپٹہ رکھ لیا ۔سامنے ایک ننھا سا ڈھانچہ حس کے پاس ہی اس کا بستہ اور پینسل پڑی تھی ۔ ۔ اور دیوار پر تحریر تھا ۔ماما بابا  آجاؤ  ۔ ۔

Tags: column by iffat bhati
Previous Post

ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب شہباز گل مستعفی، مشیر عون چوہدری برطرف

Next Post

مودی! ایمان والا آدمی ڈرتا نہیں، کشمیریوں پر جتنا مرضی ظلم کر لو، کامیابی نہیں ملے گی، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیریوں کو مایوس نہیں کروں گا: وزیراعظم عمران خان

Next Post
مودی! ایمان والا آدمی ڈرتا نہیں، کشمیریوں پر جتنا مرضی ظلم کر لو، کامیابی نہیں ملے گی، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیریوں کو مایوس نہیں کروں گا: وزیراعظم عمران خان

مودی! ایمان والا آدمی ڈرتا نہیں، کشمیریوں پر جتنا مرضی ظلم کر لو، کامیابی نہیں ملے گی، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیریوں کو مایوس نہیں کروں گا: وزیراعظم عمران خان

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

تحریک تحفظ آئین  کی  کال پر 8فروری کو سارا پاکستان بند  ہو گا ۔علیمہ خانم
قومی/ بین الاقوامی خبریں

تحریک تحفظ آئین کی کال پر 8فروری کو سارا پاکستان بند ہو گا ۔علیمہ خانم

by webmaster
جنوری 28, 2026
0

علیمہ خانم کا کہنا ہے کہ پاکستان بند کرنے کی شروعات 8فروری کو ہوگی، تحریک تحفظ آئین نے کال دے...

Read moreDetails
پنجاب ڈویلپمنٹ پلان جون 2026 تک مکمل کیا جاءے۔وزیر اعلی مریم نواز

پنجاب ڈویلپمنٹ پلان جون 2026 تک مکمل کیا جاءے۔وزیر اعلی مریم نواز

جنوری 26, 2026
پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری ۔ڈیرہ غازیخان سمیت متعدد اضلاع میں بارشوں کی پیشین گوئئ

پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری ۔ڈیرہ غازیخان سمیت متعدد اضلاع میں بارشوں کی پیشین گوئئ

جنوری 24, 2026
ملک میں بدقسمتی سے بجلی بہت مہنگی ہے، وزیراعظم

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کا کیس؛ پی ٹی اے کا جواب غیر تسلی بخش قرار

جنوری 21, 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کی طرف سے وزیراعظم شہباز شریف کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے وزیراعظم شہباز شریف کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت

جنوری 18, 2026
صبح سے ہی اس کی طبیعت بوجھل تھی ۔ناشتے کے ٹیبل پر سلائس پر جیم لگا کر بابا نے اسے تھمایا ۔”کھا لو بیٹا جلدی سے اور سکول سے واپسی پہ آنی کے گھر چلے جانا ۔میں وہاں سے آپ کو لےلوں گا ۔شام کو مما کو دیکھنے ہاسپٹل چلیں گے“۔بابا ماما کب أٸیں گی اور بھیا بھی آئے گا ناں ؟ چھ سالہ مانیہ نے اشتیاق سے پوچھا ۔بالکل جانی اللہ میاں نے آپ کے لیے تو بھیا بھیجنا ۔بابا نے مسکرا کر اس کا گال چوما ۔بابا فیری لے کے آئے۔گی ناں ؟ ہمم  اچھا چلو جلدی سے بیگ اٹھاؤ آپ کو سکول چھوڑوں ۔اور یاد سے واپسی پر آنی گھر جانا ہے۔  بابا نے اس کا ہاتھ تھاما ۔بابا آج لاسٹ ڈے ہے کل سے سمر وکیشن ہیں ۔ اس کی آنکھوں کے جگنو چمکے ۔ اسمبلی ختم ہوئی اور وہ کلاس میں آگئی ۔وع شدت سے ننھے سے بھیا کی منتظر تھی آج اس کا دل پڑھائی میں نہیں لگ رہا تھا کچھ بے چینی اس درد کی بھی تھی جو وقفے وقفے سے پیٹ میں اٹھ رہا تھا رات اس نے برگر کھایا تھا ۔شاید وہ باسی تھا ۔چھٹی سے کچھ دیر پہلے اسے متلی محسوس ہو رہی تھی ۔میم نے بیگ کلوز کروائے اور بچوں کو کلاس سے باہر کوریڈور میں لائن میں جانے کو کہا ۔مانیہ تھوڑی دیر تو چپکی بیٹھی برداشت کرتی رہی پھر واش روم کی طرف بڑھ گئی ۔ابکائیوں نے اس کی حالت بری کردی دو دفعہ اسے الٹی آئی اور وہ نڈھال ہو گئی ۔وہ واش روم کے دروازے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی پشت پر ٹنگے بیگ سے رومال نکالا اسے بے انتہا چکر آرہے تھے ۔اس کی آنکھیں غنودگی سے بند ہو رہی تھیں ۔ اسے ہوش آیا تو ہر طرف گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔وہ ہڑبڑا گئی ہمت کر کے اٹھی اور دروازے تک پہنچی بڑا دروازہ لاک تھا ۔اس نے زور سے دروازہ بجایا ۔کھولو  دروازہ کھولو وہ چلائی ۔خاموشی نے اسے خوفزدہ کر دیا ۔وہ رونے لگی ماما بابا ۔ ۔ سسکیاں ۔ ۔ جواب خاموشی ۔ ۔روتے روتے اس کا حلق خشک ہو چکا تھا ۔آنسوؤں کے نشان گالوں کے مرجھائے گلابوں پر گہرے ہو گئے ۔اب تو اندھیرا ہو رہا تھا ۔اسکا ننھا سا دل ڈولنے لگا ۔ماما بابا مجھے نکالو ۔ وہ پھر سسکیاں بھرنے لگی ۔جسم کی توانائی گویا قطرہ قطرہ نچڑ رہی تھی .اس نے بستے سے پینسل نکالی اور دیوار پر لکھنے لگی بابا ماما آجاؤ  ۔بھائی میرا بھائی ۔مانیہ رو رہی ۔بابا آجاؤ مانی کو لے جاؤ ۔اسکی ہچکیاں بندھ گئیں پھر دروازہ دھڑ دھڑانے لگی کھولو ما ما ۔ٹیچر مجھے ڈر لگ رہا ۔بابا پلیز آجاؤ میں نے بھیا دیکھنا ۔ مجھے بھوک لگی ہے ماما ۔وہ پھر نڈھال ہو چکی تھی۔ گھپ اندھیرا اور ننھی سی جان خوف رگ وپے میں سرائیت کر رہا تھا اور لمحہ بہ لمحہ وہ موت کی آغوش میں جا رہی تھی ۔آٹھ پہر کی بھوکی بیمار معصوم جان اپنی ماما اور بابا کو پکارتی ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی ۔ دیکھیے میری بچی گھر نہیں پہنچی آپ سکول چیک تو کریں ۔احمد رضا حواس باختہ ہو کر پرنسپل کے گھر بیٹھے تھے۔دیکھیں سر چوکیدار نے چیک کر کے لاک لگایا تھا ۔بحر حال میں پھر آپ کی تسلی کے۔لیے اسے کہتا ہوں ۔انہوں نے ماجد خان کو کال کی ۔ہیلو ہاں ون کلاس کی بچی مانیہ احمد والا معاملہ ہے ایک دفعہ پھر کلاس روم چیک کریں اور مجھے ابھی بتائیں۔اوکے ۔دس منٹ بعد کال بیل بچی ہیلو اچھی طرح دیکھا ہے ناں؟ اوکے ۔دیکھیں سر چوکیدار نے دوبارہ چیک کیا ہے ۔آپ رشتہ داروں سے پتہ کریں بچی کسی کے گھر چلی گئی ہو گی۔ آہ میری مانی آج دو ماہ بیت گئے کہاں گئی میری بچی ۔کاش میں خود اسے اسکول لینے چلا جاتا ۔احمد پشیمان اور افسردہ راحیلہ غم سے نڈھال کوئی پتہ نہیں کہیں پتہ نہیں ۔ چھٹیاں ختم ہو گئیں  اماں سبھاگی کل سے اسکول کھا جانا جاؤ آج ساری صفائی کر دو اسکول کی ۔پرنسپل نے ملازمہ کو چابیاں پکڑاتے ہوئے کہا۔ اماں سبھاگی کلاس روم صاف کرکے واش روم دھونے لگی لاک کھولا افف بدبو کا بھپکا آیا اس نے بے ساختہ منھ پر دوپٹہ رکھ لیا ۔سامنے ایک ننھا سا ڈھانچہ حس کے پاس ہی اس کا بستہ اور پینسل پڑی تھی ۔ ۔ اور دیوار پر تحریر تھا ۔ماما بابا  آجاؤ  ۔ ۔
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.