• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
ad
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2024-12-20 at 4.47.55 PM
WhatsApp Image 2024-12-20 at 11.08.33 PM
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

عقل ہے محو تماشائے لب ِبام ابھی . عفت بھٹی

webmaster by webmaster
جولائی 23, 2018
in کالم
0
عقل ہے محو تماشائے لب ِبام ابھی . عفت بھٹی

الیکشن سے عوام کا فاصلہ دو دن کی مسافت پہ ہے ۔ملک اور سیاست دانوں کی تقدیر کا فاصلہ بھی لگ بھگ اتنا ہی ہے۔حالات و واقعات پل پل رنگ بدلتی صورتحال سے دو چار ہیں۔افسوسناک واقعات تین امیدواروں کی اموات اور مستونگ میں کئی قیمتی جانوں کےضیاع نے فضا کو بوجھل کر دیا ہے ۔عوام کنفیوژن کا شکار ہے ۔فی الوقت تین بڑی جماعتوں کا ٹکراؤ ہے ۔پی پی پی اور مسلم لیگ ن تو اپنی باری لگا چکی ۔عمومی طور پہ اب عوام کا خیال ہے کہ سیاست کرپشن سے پاک ہے ہی نہیں نہ کوئی سیاست دان تو بس یہ ہے کہ کم کرپٹ پارٹی کو چنا جائے ۔خاص طور پہ یوتھ یہ موقع پی ٹی آئی کو دینا چاہتی ۔اس لحاظ سے پی ٹی آئی کے کندھوں پہ ایک بھاری ذمہ داری آ گئی اگر بالفرض ان کی حکومت بنتی تو کیا وہ عوام کی توقعات پہ پورے اتریں گے یہ کہنا قبل از وقت ہے ۔مخلوط حکومت کی صورت میں کیا مختلف پارٹیوں کا الحاق ہو پائے گا جو اب ایک دوسرے کو برداشت نہیں کر سکتیں حتی کہ الیکشن کمپین میں نفرت کا اظہار تلخ الفاظ گالی گلوچ اور ہرزہ سرائی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا ۔زندہ اور مہذب قوموں کا یہ شعار ہر گزنہیں ہوتا۔مگر کرسی کی دوڑ میں سب جائز کی حکمت عملی اپنائی جارہی۔ مسلم لیگ ن ابھی عدم توازن کا شکار ہے شہباز شریف اپنی پوزیشن خصوصا لاہر میں کی حد تک برقرار رکھ پائیں گے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔بلاول محترمہ بے نظیر بھٹو کادرجہ اور عوام میں وہ مقبولیت نہیں پا رہے کیونکہ وہ عوامی نہیں ہیں ۔ابھی انہیں پختگی کی ضرورت ہے ۔پی پی پی کی ساکھ اب ویسی نہیں رہی جو محترمہ کی قیادت میں تھی ۔زرداری صاحب نے تو صدر ممنون کا سا رویہ رکھا یہی وجہ کہ آج لیاری کی عوام ان کے ساتھ نہیں ۔ ۔عوام کا ایک رجحان اور سامنے آیا وہ ہے آزاد امیدوار ۔میری ناقص رائے کے مطابق اس دفعہ آزاد امیدوار بھی بڑی تعداد میں حکومتی حصہ بنیں گے ۔اس کی ایک وجہ ہے ۔پی ٹی آئی نے موسٹلی ان افراد کو ٹکٹ دیے ہیں جن کی جیت یقینی ہو اور اس میں یہ بھی بھول گئی کہ اکثر پارٹی بدل یعنی لوٹے امیدوار ہیں۔اور عوام ان سے مایوس ہے جن کی کارکردگی صفر ۔سو عوام دوبارہ ان کو چننے سے بے زار اور بے یقینی کی کیفیت سے دوچار ہے ۔اس بات کے اثرات بھی سامنے آئیں گے اور الیکشن پہ اثر انداز ہونگے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ عوام کا شعور 25 جولائی کو کیا رنگ دکھاتا ہے سو فی الحال تو عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی۔
خدا کرے کہ میری ارض پاک پہ اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
عوام کے صبر کا آخری امتحان اگر اب ہماری سیاست فیل ہوتی ہے تو شاید بہت برا ہو کیونکہ بار بار موقع دینا احمقانہ پن ہے ۔واثق امید کہ یہ مرحلہ امن امان اور آشتی سے طے ہو جائے ۔

Tags: column by iffat bhati
Previous Post

لیہ ۔امیر تحریک لبیک یا رسول اللہ پاکستان23جولائی برو ز سوموار بعد نماز مغرب میلاد گراؤنڈ میں تاجدار ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کریں گے

Next Post

لیہ ۔ سماجی تنظیم کی جانب سے عوام اور امیدواران کے درمیان تعلیمی پالیسی بارے مکالمہ ، ملک نیاز جکھڑ ، مہر اعجاز اچلانہ ، غلام فرید مرانی ، مہر طفیل ،داکٹر جاوید کنجال اور ہاشم سہو سمیت امیدواروں نے اپنی تعلیمی تر جیحات پیش کیں

Next Post
لیہ ۔ سماجی تنظیم کی جانب سے عوام اور امیدواران کے درمیان تعلیمی پالیسی بارے مکالمہ ، ملک نیاز جکھڑ ، مہر اعجاز اچلانہ ، غلام فرید مرانی ، مہر طفیل ،داکٹر جاوید کنجال اور ہاشم سہو سمیت امیدواروں نے اپنی تعلیمی تر جیحات پیش کیں

لیہ ۔ سماجی تنظیم کی جانب سے عوام اور امیدواران کے درمیان تعلیمی پالیسی بارے مکالمہ ، ملک نیاز جکھڑ ، مہر اعجاز اچلانہ ، غلام فرید مرانی ، مہر طفیل ،داکٹر جاوید کنجال اور ہاشم سہو سمیت امیدواروں نے اپنی تعلیمی تر جیحات پیش کیں

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

تحریک تحفظ آئین  کی  کال پر 8فروری کو سارا پاکستان بند  ہو گا ۔علیمہ خانم
قومی/ بین الاقوامی خبریں

تحریک تحفظ آئین کی کال پر 8فروری کو سارا پاکستان بند ہو گا ۔علیمہ خانم

by webmaster
جنوری 28, 2026
0

علیمہ خانم کا کہنا ہے کہ پاکستان بند کرنے کی شروعات 8فروری کو ہوگی، تحریک تحفظ آئین نے کال دے...

Read moreDetails
پنجاب ڈویلپمنٹ پلان جون 2026 تک مکمل کیا جاءے۔وزیر اعلی مریم نواز

پنجاب ڈویلپمنٹ پلان جون 2026 تک مکمل کیا جاءے۔وزیر اعلی مریم نواز

جنوری 26, 2026
پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری ۔ڈیرہ غازیخان سمیت متعدد اضلاع میں بارشوں کی پیشین گوئئ

پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری ۔ڈیرہ غازیخان سمیت متعدد اضلاع میں بارشوں کی پیشین گوئئ

جنوری 24, 2026
ملک میں بدقسمتی سے بجلی بہت مہنگی ہے، وزیراعظم

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کا کیس؛ پی ٹی اے کا جواب غیر تسلی بخش قرار

جنوری 21, 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کی طرف سے وزیراعظم شہباز شریف کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے وزیراعظم شہباز شریف کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت

جنوری 18, 2026
الیکشن سے عوام کا فاصلہ دو دن کی مسافت پہ ہے ۔ملک اور سیاست دانوں کی تقدیر کا فاصلہ بھی لگ بھگ اتنا ہی ہے۔حالات و واقعات پل پل رنگ بدلتی صورتحال سے دو چار ہیں۔افسوسناک واقعات تین امیدواروں کی اموات اور مستونگ میں کئی قیمتی جانوں کےضیاع نے فضا کو بوجھل کر دیا ہے ۔عوام کنفیوژن کا شکار ہے ۔فی الوقت تین بڑی جماعتوں کا ٹکراؤ ہے ۔پی پی پی اور مسلم لیگ ن تو اپنی باری لگا چکی ۔عمومی طور پہ اب عوام کا خیال ہے کہ سیاست کرپشن سے پاک ہے ہی نہیں نہ کوئی سیاست دان تو بس یہ ہے کہ کم کرپٹ پارٹی کو چنا جائے ۔خاص طور پہ یوتھ یہ موقع پی ٹی آئی کو دینا چاہتی ۔اس لحاظ سے پی ٹی آئی کے کندھوں پہ ایک بھاری ذمہ داری آ گئی اگر بالفرض ان کی حکومت بنتی تو کیا وہ عوام کی توقعات پہ پورے اتریں گے یہ کہنا قبل از وقت ہے ۔مخلوط حکومت کی صورت میں کیا مختلف پارٹیوں کا الحاق ہو پائے گا جو اب ایک دوسرے کو برداشت نہیں کر سکتیں حتی کہ الیکشن کمپین میں نفرت کا اظہار تلخ الفاظ گالی گلوچ اور ہرزہ سرائی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا ۔زندہ اور مہذب قوموں کا یہ شعار ہر گزنہیں ہوتا۔مگر کرسی کی دوڑ میں سب جائز کی حکمت عملی اپنائی جارہی۔ مسلم لیگ ن ابھی عدم توازن کا شکار ہے شہباز شریف اپنی پوزیشن خصوصا لاہر میں کی حد تک برقرار رکھ پائیں گے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔بلاول محترمہ بے نظیر بھٹو کادرجہ اور عوام میں وہ مقبولیت نہیں پا رہے کیونکہ وہ عوامی نہیں ہیں ۔ابھی انہیں پختگی کی ضرورت ہے ۔پی پی پی کی ساکھ اب ویسی نہیں رہی جو محترمہ کی قیادت میں تھی ۔زرداری صاحب نے تو صدر ممنون کا سا رویہ رکھا یہی وجہ کہ آج لیاری کی عوام ان کے ساتھ نہیں ۔ ۔عوام کا ایک رجحان اور سامنے آیا وہ ہے آزاد امیدوار ۔میری ناقص رائے کے مطابق اس دفعہ آزاد امیدوار بھی بڑی تعداد میں حکومتی حصہ بنیں گے ۔اس کی ایک وجہ ہے ۔پی ٹی آئی نے موسٹلی ان افراد کو ٹکٹ دیے ہیں جن کی جیت یقینی ہو اور اس میں یہ بھی بھول گئی کہ اکثر پارٹی بدل یعنی لوٹے امیدوار ہیں۔اور عوام ان سے مایوس ہے جن کی کارکردگی صفر ۔سو عوام دوبارہ ان کو چننے سے بے زار اور بے یقینی کی کیفیت سے دوچار ہے ۔اس بات کے اثرات بھی سامنے آئیں گے اور الیکشن پہ اثر انداز ہونگے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ عوام کا شعور 25 جولائی کو کیا رنگ دکھاتا ہے سو فی الحال تو عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی۔ خدا کرے کہ میری ارض پاک پہ اترے وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو عوام کے صبر کا آخری امتحان اگر اب ہماری سیاست فیل ہوتی ہے تو شاید بہت برا ہو کیونکہ بار بار موقع دینا احمقانہ پن ہے ۔واثق امید کہ یہ مرحلہ امن امان اور آشتی سے طے ہو جائے ۔
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.