• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
SB2425
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

لیہ تونسہ پل علاقائی و عوامی ترقی کے میگا پراجیکٹ پرکریڈٹ لینے کی سستی سیاست افسوسناک ہے ۔ ثقلین شاہ بخاری

webmaster by webmaster
جولائی 8, 2026
in جنوبی پنجاب, کالم, لیہ نیوز
0
لیہ  تونسہ پل  علاقائی و عوامی ترقی کے میگا پراجیکٹ پرکریڈٹ لینے کی سستی سیاست  افسوسناک ہے  ۔ ثقلین شاہ بخاری

 

لیہ {صبح پا کستان} مسلم لیگ ن کے سابق رکن اسمبلی سید محمد ثقلین شاہ بخاری نے سو شل میڈیا پر وائرل اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ  لیہ تونسہ پل صرف کنکریٹ کا ایک ڈھانچہ نہیں ہے، یہ لیہ اور تونسہ کے لاکھوں عوام کے روزگار، معیشت اور مستقبل کا ضامن ہے۔ بطور عوامی نمائندہ، میرا موقف پہلے دن سے واضح ہے:
لیہ کی ترقی کے لیے جو بھی قدم اٹھائے گا، میں اس کا خیرمقدم کروں گا۔ سیاست اپنی جگہ، لیکن عوامی منصوبوں پر ہم سب کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ ہمیں کریڈٹ لینے کی سستی سیاست نہیں، بلکہ منصوبوں کو پائے تکمیل تک پہنچانے کی سنجیدہ کوششیں چاہئیں۔
یہ وفاقی حکومت (NHA) کا منصوبہ ہے جس کا اصل سنگِ بنیاد 2017 میں میاں نواز شریف صاحب کے دور میں رکھا گیا تھا، اور اس کا اصل بجٹ (PC-I) تقریباً 11 ارب روپے سے زائد تھا۔ یہاں یہ حقیقت ریکارڈ پر لانا انتہائی ضروری ہے کہ اس منصوبے کا مرکزی پُل 2018 میں ہی مکمل ہو چکا تھا، لیکن بدقسمتی سے 2018 سے 2024 تک کے چھ سالہ دورِ حکومت میں اس اہم ترین عوامی منصوبے کو یکسر نظرانداز کیا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جو قوتیں آج سوشل میڈیا پر اس پراجیکٹ کا کریڈٹ لینے کے لیے جلد بازی کا مظاہرہ کر رہی ہیں، وہ اس طویل عرصے میں بطور ایم این اے اور ایم پی اے مقتدر حلقوں کا حصہ ہونے کے باوجود اپروچ روڈز کی تعمیر میں مکمل طور پر ناکام رہیں نہ صرف یہ منصوبہ سرد خانے کی نذر رہا، بلکہ اس دوران ‘سٹڈ بند’ کی تعمیرات کے نام پر ضلع لیہ کے ترقیاتی فنڈز سے 28 کروڑ روپے سے زائد کی خطیر عوامی رقم کی مبینہ برد برد اور سنگین مالی بے ضابطگیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں سٹڈ بند میں ناقص میٹیریل اور فرضی کام کی وجہ سے خطیر رقم ہتھیا لی گئی اب بند ٹوٹنے سے میرے لیہ کے مکین دریا کی زد میں ہیں بستی کنجال سمیت دیگر بستیاں دریا برد ہوچکی ہیں دریا کی بے رحم موجوں سے لوگوں کی قیمتی اراضی اور آشیانے تباہ ہوچکے ہیں اور آج وہاں ایک خظرناک انسانی المیہ جنم لے چکا ہے میں یہ سوال اٹھانے پر مجبور ہوں کہ عوامی فلاح کا یہ خطیر فنڈ کس کی نذر ہوا؟ اس قومی نقصان اور مبینہ بدعنوانی پر ایک اعلیٰ سطحی اور شفاف تحقیقاتی کمیٹی کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ پبلک منی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے ماضی کی ان انتظامی ناکامیوں اور فنڈز کے ضیاع پر پردہ ڈالنے کے لیے آج محض سطحی فوٹو سیشنز اور سیاسی بیانات کا سہارا لیا جا رہا ہے، جو کہ عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔ اب جب مرکز میں ہماری مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہوئی، وفاقی سطح پر باقاعدہ دفتری خط و کتابت کا آغاز ہوا اور وزیرِ اعظم نے خود اس پراجیکٹ کو ٹیک اپ کیا، تو اس حقیقت پسندانہ پیش رفت کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی نذر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
یہ منصوبہ کسی مقامی سیاست دان کی وجہ سے نہیں، بلکہ ایک خالصتاً تکنیکی اور قانونی وجہ سے رکا ہوا تھا۔ ملک میں مہنگائی اور ڈالر کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے ٹھیکیدار نے Escalation Cost (اضافی لاگت) کا کلیم کیا اور معاملہ عدالت میں چلا گیا۔ اب سب سے بڑی خوشخبری یہ ہے کہ NHA اور ٹھیکیدار کے درمیان آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کا معاملہ کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے۔ بجٹ ریوائز ہو رہا ہے اور یہ کام اب اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ وفاقی سطح پر ہونے والی پیش رفت ہے۔
یہ خالصتاً پاکستان مسلم لیگ (ن) کا منصوبہ ہے اور اب یہ پورا معاملہ خود وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف صاحب کے پاس موجود ہے، وہ خود اس منصوبے کی نگرانی (Look after) کر رہے ہیں اور بہت جلد عوام کو بڑی خوشخبری ملے گی۔ یہاں یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ انجینئرنگ اور پراجیکٹ ڈیزائن کے کچھ لازمی قواعد ہوتے ہیں؛ ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ آپ دریا پر ‘سٹڈ بند’ (Stud Bund) اور ‘سپر بند’ (Spur Bund) نہ باندھیں اور براہِ راست روڈ بنا دیں۔ پہلے باقاعدہ سٹڈ بند باندھے جائیں گے، پروٹیکشن دی جائے گی اور اس کے بعد ہی روڈز بنائی جائیں گی۔ یہ وہ ٹیکنیکل چیزیں ہیں جن پر اس وقت وفاق میں کام چل رہا ہے۔ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان صاحب یقیناً قابلِ عزت ہیں ان کے باس خود وزیرِ اعظم شہباز شریف ہیں، اور یہ پراجیکٹ وزیرِ اعظم کی براہِ راست دلچسپی اور مسلم لیگ (ن) کے وژن کے تحت آگے بڑھ رہا ہے۔
گزشتہ دنوں کچھ دوستوں کی طرف سے ملتان سے این ایچ اے کی ٹیم لا کر اس روڈ کا دوبارہ ‘افتتاح’ یا وزٹ کرنے کی کوشش کی گئی، ہم اس جذبے کو سراہتے ہیں، لیکن ریاست کے کچھ قواعد و ضوابط ہوتے ہیں۔ یہ ایک وفاقی پراجیکٹ ہے جس کا باقاعدہ پروٹوکول ہوتا ہے۔ جب چیئرمین NHA کو معلوم ہوا کہ کچھ مقامی افسران نے بغیر آفیشل آرڈرز اور بغیر وزارت کی باقاعدہ اجازت کے ایک ‘ان آفیشل وزٹ’ کیا ہے، تو ادارے نے اپنے ڈسپلن اور ضابطے کی خلاف ورزی پر ان افسران کا تبادلہ کیا۔ کچھ حلقے اس تبادلے کا ملبہ مقامی ایم این ایز پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو سراسر بے بنیاد ہے۔ ہم اداروں کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔ یہ چیئرمین NHA کا اپنا ادارہ جاتی ایکشن تھا کیونکہ بیوروکریسی کسی بھی سیاسی جماعت کے ان آفیشل پروٹوکول کی پابند نہیں ہوتی۔
وفاقی پراجیکٹس کو وفاقی نمائندے (MNA) ہی ٹیک اپ (Take up) کرتے ہیں۔ اگر کوئی سابقہ ایم پی اے یا کسی اور جماعت کا رہنما اس پر کام کروانا چاہتا ہے، تو یہ خوش آئند ہے، لیکن اس کا ایک طریقہ کار ہے۔ لوگوں کو اعتماد میں لینے اور کام کو شفاف رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ مقامی وفاقی نمائندوں (MNAs) کو اعتماد میں لیا جائے۔ جب آپ اداروں کو بائی پاس کر کے، وفاقی نمائندوں کو اندھیرے میں رکھ کر سستی واہ واہ سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں، تو پھر ایسے ہی انتظامی مسائل جنم لیتے ہیں جیسے افسران کے تبادلے کی صورت میں سامنے آئے۔
میں لیہ کے عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ تونسہ-لیہ پل کا معاملہ اب حل ہو چکا ہے۔ عدالت سے باہر معاملات طے پا جانے کے بعد اب اس پر کام تیزی سے شروع ہوگا ہمیں فوٹو سیشنز اور فیکٹری بائی پاسز پر تختیاں لگانے کی سیاست سے نکل کر کام کی کوالٹی پر نظر رکھنی چاہیے۔ میرا مقصد لیہ کے عوام کو ریلیف دینا ہے، اور اس مقصد کے لیے جو بھی قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرے گا، ہم اس کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں لیہ تونسہ پل ہر حال میں فعال ہوگی افواہوں اور غلط بیانات سے گریز کریں میں لیہ اور تونسہ کے باسیوں کو یقین دلاتا ہوں کہ اس پراجیکٹ کو مکمل کروانے کیلئے ہم ہر حد تک جائیں گے محض فوٹو سیشن اور سوشل میڈیا پر واہ واہ سمیٹنے کیلئے جلد بازیاں نہ کی جائیں۔

Post Views: 134
Tags: layyah news
Previous Post

صبح پا کستان ۔ انجم صحرائی کا مستقل کالم ۔ بلا مبالغہ

Next Post

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم ?

Next Post
سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم  ?

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم ?

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

آئین کے  آرٹیکل 245 کے تحت راولپنڈی میں 6 ماہ کےلیے فوج تعینات
قومی/ بین الاقوامی خبریں

آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت راولپنڈی میں 6 ماہ کےلیے فوج تعینات

by webmaster
اگست 22, 2026
0

وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے فوج تعینات کرنے کی منظوری دیدی۔ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق راولپنڈی میں...

Read moreDetails
دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب

دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب

اگست 2, 2026
نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

جولائی 19, 2026
آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

جولائی 11, 2026
سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم  ?

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم ?

جولائی 8, 2026
  لیہ {صبح پا کستان} مسلم لیگ ن کے سابق رکن اسمبلی سید محمد ثقلین شاہ بخاری نے سو شل میڈیا پر وائرل اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ  لیہ تونسہ پل صرف کنکریٹ کا ایک ڈھانچہ نہیں ہے، یہ لیہ اور تونسہ کے لاکھوں عوام کے روزگار، معیشت اور مستقبل کا ضامن ہے۔ بطور عوامی نمائندہ، میرا موقف پہلے دن سے واضح ہے: لیہ کی ترقی کے لیے جو بھی قدم اٹھائے گا، میں اس کا خیرمقدم کروں گا۔ سیاست اپنی جگہ، لیکن عوامی منصوبوں پر ہم سب کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ ہمیں کریڈٹ لینے کی سستی سیاست نہیں، بلکہ منصوبوں کو پائے تکمیل تک پہنچانے کی سنجیدہ کوششیں چاہئیں۔ یہ وفاقی حکومت (NHA) کا منصوبہ ہے جس کا اصل سنگِ بنیاد 2017 میں میاں نواز شریف صاحب کے دور میں رکھا گیا تھا، اور اس کا اصل بجٹ (PC-I) تقریباً 11 ارب روپے سے زائد تھا۔ یہاں یہ حقیقت ریکارڈ پر لانا انتہائی ضروری ہے کہ اس منصوبے کا مرکزی پُل 2018 میں ہی مکمل ہو چکا تھا، لیکن بدقسمتی سے 2018 سے 2024 تک کے چھ سالہ دورِ حکومت میں اس اہم ترین عوامی منصوبے کو یکسر نظرانداز کیا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جو قوتیں آج سوشل میڈیا پر اس پراجیکٹ کا کریڈٹ لینے کے لیے جلد بازی کا مظاہرہ کر رہی ہیں، وہ اس طویل عرصے میں بطور ایم این اے اور ایم پی اے مقتدر حلقوں کا حصہ ہونے کے باوجود اپروچ روڈز کی تعمیر میں مکمل طور پر ناکام رہیں نہ صرف یہ منصوبہ سرد خانے کی نذر رہا، بلکہ اس دوران 'سٹڈ بند' کی تعمیرات کے نام پر ضلع لیہ کے ترقیاتی فنڈز سے 28 کروڑ روپے سے زائد کی خطیر عوامی رقم کی مبینہ برد برد اور سنگین مالی بے ضابطگیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں سٹڈ بند میں ناقص میٹیریل اور فرضی کام کی وجہ سے خطیر رقم ہتھیا لی گئی اب بند ٹوٹنے سے میرے لیہ کے مکین دریا کی زد میں ہیں بستی کنجال سمیت دیگر بستیاں دریا برد ہوچکی ہیں دریا کی بے رحم موجوں سے لوگوں کی قیمتی اراضی اور آشیانے تباہ ہوچکے ہیں اور آج وہاں ایک خظرناک انسانی المیہ جنم لے چکا ہے میں یہ سوال اٹھانے پر مجبور ہوں کہ عوامی فلاح کا یہ خطیر فنڈ کس کی نذر ہوا؟ اس قومی نقصان اور مبینہ بدعنوانی پر ایک اعلیٰ سطحی اور شفاف تحقیقاتی کمیٹی کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ پبلک منی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے ماضی کی ان انتظامی ناکامیوں اور فنڈز کے ضیاع پر پردہ ڈالنے کے لیے آج محض سطحی فوٹو سیشنز اور سیاسی بیانات کا سہارا لیا جا رہا ہے، جو کہ عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔ اب جب مرکز میں ہماری مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہوئی، وفاقی سطح پر باقاعدہ دفتری خط و کتابت کا آغاز ہوا اور وزیرِ اعظم نے خود اس پراجیکٹ کو ٹیک اپ کیا، تو اس حقیقت پسندانہ پیش رفت کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی نذر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ یہ منصوبہ کسی مقامی سیاست دان کی وجہ سے نہیں، بلکہ ایک خالصتاً تکنیکی اور قانونی وجہ سے رکا ہوا تھا۔ ملک میں مہنگائی اور ڈالر کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے ٹھیکیدار نے Escalation Cost (اضافی لاگت) کا کلیم کیا اور معاملہ عدالت میں چلا گیا۔ اب سب سے بڑی خوشخبری یہ ہے کہ NHA اور ٹھیکیدار کے درمیان آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کا معاملہ کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے۔ بجٹ ریوائز ہو رہا ہے اور یہ کام اب اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ وفاقی سطح پر ہونے والی پیش رفت ہے۔ یہ خالصتاً پاکستان مسلم لیگ (ن) کا منصوبہ ہے اور اب یہ پورا معاملہ خود وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف صاحب کے پاس موجود ہے، وہ خود اس منصوبے کی نگرانی (Look after) کر رہے ہیں اور بہت جلد عوام کو بڑی خوشخبری ملے گی۔ یہاں یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ انجینئرنگ اور پراجیکٹ ڈیزائن کے کچھ لازمی قواعد ہوتے ہیں؛ ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ آپ دریا پر 'سٹڈ بند' (Stud Bund) اور 'سپر بند' (Spur Bund) نہ باندھیں اور براہِ راست روڈ بنا دیں۔ پہلے باقاعدہ سٹڈ بند باندھے جائیں گے، پروٹیکشن دی جائے گی اور اس کے بعد ہی روڈز بنائی جائیں گی۔ یہ وہ ٹیکنیکل چیزیں ہیں جن پر اس وقت وفاق میں کام چل رہا ہے۔ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان صاحب یقیناً قابلِ عزت ہیں ان کے باس خود وزیرِ اعظم شہباز شریف ہیں، اور یہ پراجیکٹ وزیرِ اعظم کی براہِ راست دلچسپی اور مسلم لیگ (ن) کے وژن کے تحت آگے بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ دنوں کچھ دوستوں کی طرف سے ملتان سے این ایچ اے کی ٹیم لا کر اس روڈ کا دوبارہ 'افتتاح' یا وزٹ کرنے کی کوشش کی گئی، ہم اس جذبے کو سراہتے ہیں، لیکن ریاست کے کچھ قواعد و ضوابط ہوتے ہیں۔ یہ ایک وفاقی پراجیکٹ ہے جس کا باقاعدہ پروٹوکول ہوتا ہے۔ جب چیئرمین NHA کو معلوم ہوا کہ کچھ مقامی افسران نے بغیر آفیشل آرڈرز اور بغیر وزارت کی باقاعدہ اجازت کے ایک 'ان آفیشل وزٹ' کیا ہے، تو ادارے نے اپنے ڈسپلن اور ضابطے کی خلاف ورزی پر ان افسران کا تبادلہ کیا۔ کچھ حلقے اس تبادلے کا ملبہ مقامی ایم این ایز پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو سراسر بے بنیاد ہے۔ ہم اداروں کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔ یہ چیئرمین NHA کا اپنا ادارہ جاتی ایکشن تھا کیونکہ بیوروکریسی کسی بھی سیاسی جماعت کے ان آفیشل پروٹوکول کی پابند نہیں ہوتی۔ وفاقی پراجیکٹس کو وفاقی نمائندے (MNA) ہی ٹیک اپ (Take up) کرتے ہیں۔ اگر کوئی سابقہ ایم پی اے یا کسی اور جماعت کا رہنما اس پر کام کروانا چاہتا ہے، تو یہ خوش آئند ہے، لیکن اس کا ایک طریقہ کار ہے۔ لوگوں کو اعتماد میں لینے اور کام کو شفاف رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ مقامی وفاقی نمائندوں (MNAs) کو اعتماد میں لیا جائے۔ جب آپ اداروں کو بائی پاس کر کے، وفاقی نمائندوں کو اندھیرے میں رکھ کر سستی واہ واہ سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں، تو پھر ایسے ہی انتظامی مسائل جنم لیتے ہیں جیسے افسران کے تبادلے کی صورت میں سامنے آئے۔ میں لیہ کے عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ تونسہ-لیہ پل کا معاملہ اب حل ہو چکا ہے۔ عدالت سے باہر معاملات طے پا جانے کے بعد اب اس پر کام تیزی سے شروع ہوگا ہمیں فوٹو سیشنز اور فیکٹری بائی پاسز پر تختیاں لگانے کی سیاست سے نکل کر کام کی کوالٹی پر نظر رکھنی چاہیے۔ میرا مقصد لیہ کے عوام کو ریلیف دینا ہے، اور اس مقصد کے لیے جو بھی قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرے گا، ہم اس کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں لیہ تونسہ پل ہر حال میں فعال ہوگی افواہوں اور غلط بیانات سے گریز کریں میں لیہ اور تونسہ کے باسیوں کو یقین دلاتا ہوں کہ اس پراجیکٹ کو مکمل کروانے کیلئے ہم ہر حد تک جائیں گے محض فوٹو سیشن اور سوشل میڈیا پر واہ واہ سمیٹنے کیلئے جلد بازیاں نہ کی جائیں۔
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.