ای کامرس ود احد انسٹی ٹیوٹ سکینڈل سے سرخرو ہو نے والے شیخ یوسف ہارون کی مدعیت میں محکمہ اینٹی کرپشن لاہور میں درج ایف آئی آرمیں عرفان افتخار، نادیہ ، محسن عدیل، ظہور درانی ki، اقرا جاوید، عائشہ خان، عروج ضمیر، محمد عبداللہ، رانا محمد حسین، محمد عنصر، محمد عبید اور ایک وکیل کو نامزد کیا گیا ہے، جبکہ ان میں ایک سابق ایس ایچ او اور ایک لیڈی سب انسپکٹر بھی شامل ہیں۔ مدعی کی جانب سے تمام افراد پر مجموعی طور پر 5 کروڑ 15 لاکھ روپے رشوت لینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ الزامات کی تفصیلات کے مطابق شیخ یوسف ہارون نے اقرا جاوید پر 28 لاکھ، عائشہ خان پر 18 لاکھ، علی رضا شاہ پر 3 لاکھ 50 ہزار، سابق ایس ایچ او عرفان باجوہ پر 5 لاکھ، نادیہ پر 1 لاکھ، عبداللہ نامی شخص کو بذریعہ بینک 2 کروڑ 50 لاکھ اور محسن عدیل و وکیل کے ذریعے 2 کروڑ 10 لاکھ روپے رشوت دینے کا دعویٰ کیا ہے۔
اس سے قبل سی سی ڈی لاہور میں ہونے والی انکوائری میں سابق ایس ایچ او تھانہ سٹی عرفان افتخار باجوہ اور لیڈی سب انسپکٹر نادیہ کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا، جس کے بعد عدالت نے عرفان باجوہ کو 3 روزہ ریمانڈ پر اینٹی کرپشن کے حوالے کیا جبکہ نادیہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ مبینہ ملزمان نے پولیس اور دیگر ملزمان سے گٹھ جوڑ کر کے مدعی درخواست کو جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر کروڑوں روپے رشوت کے نام پر وصول کیے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ مختلف افراد نے نقد رقوم بھی وصول کیں جبکہ ایک نامزد ملزم نے بینک ٹرانزیکشن سے دو کروڑ سے زیادہ رقم رشوت کی مد میں وصول کی۔
محسن عدیل اور ظہور درانی نے عبوری ضمانت کراتے ہوئے اینٹی کرپشن میں شاملِ تفتیش ہونے کا اعلان کیا ہے۔۔ محسن عدیل نے اپنے حالیہ ایک ویلاگ میں کہا کہ ہم لاہور میں ہونے والی سی سی ڈی انکوائری میں بھی پیش ہوئے جہاں ہم سرخرو ہوئے، ان کا کہنا تھا کہ ہم اینٹی کرپشن انکوائری میں بھی شاملِ تفتیش ہوں گے اور اللہ ہمیں سرخرو کرے گا چونکہ ہم بے گناہ ہیں۔محسن عدیل کی طرف انٹی کرپشن ایف ائی آر میں شامل تفشیش ہونے اور لگاے گئے الزمات کا سامنا کرنے کا اعلان خوش آئیند ہے ,اسی طرح ہی جھوٹ سچ سامنے آ سکے گا , مجوزہ ایف آئی آر صرف صحافیوں کے خلاف نہیں بلکہ اس ایف آئی آر میں وکیل , پولیس ملزمان اور دیگر افراد بھی ہیں جن پر مدعی درخواست کی جانب سے کروڑوں روپے بٹورنے کے الزمات لگاے گئے ہیں ان الزامات کی شفاف تفتیش ہونا چاہیے اور ملزمان کے قانون کے مطابق معاملہ ہونا چاہے ..
عوامل کچھ بھی ہوں وجوہات و اسباب جو بھی ہوں ان سے قطع نظر اس میگا کرپشن کیس میں صحافیوں کا نام آنا کسی طور بھی مناسب نہیں ، لیہ کی صحافتی برادری دکھی بھی ہے اور ۔ کاش ایسا نہ ہوتا ۔ آج کا کڑوا سچ یہی ہے کہ صحافت، جو کبھی معاشرے کا ضمیر اور سچائی کا اولین حوالہ سمجھی جاتی تھی، ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں اس کی بنیادی اقدار داؤ پر لگی ہوئی ہیں . بنیادی المیہ یہ ہے کہ آج کا صحافی "خبر” اور "رائے” کے درمیان فرق بھول چکا ہے۔
صحافت کا مطلب صرف اپنی انا کی تسکین اور مخالف کو نیچا دکھانا نہیں یا کسی بھی فریق کی وکالت کرنا ہر گز نہیں میرا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ کسی بھی خبر کی تکرار صحافی کے موقف کو کمزور اور مشتبہ بناتی ہے۔صحافی ہوں یا ولاگر سب کو تکرار سے گریز کرنا چا ہیے
ایک اور بات جس کی طرف توجہ دلانا چا ہوں گا وہ یہ ہے کہ آج کے سوشل میڈیا کے دور میں صحافت مشکل ترین ہو تی جا رہی ہے ،ای کامرس ود احد کیس میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کے پس منظر میں اپنے پرائے سبھی صحافت اور صحافیوں کے لتے لینے پر تلے ہیں کو ئی ان سے ڈگریاں دکھا نے کی مانگ رہا ہے اور کوئی ان قلم مزدوروں کو نوک قلم پر رکھے بے بھاءو کی سنا رہا ہے ۔ اس مرحلہ پر جان کی امان پاءوں تو عرض کروں اگر آپ کی مقننہ میں ان پڑھ پڑھے لکھے عوام کی نماءندگی کر سکتے ہیں ریاست کا آءین کسی انگوٹھہ ٹیک کو انتخاب میں حصہ لینے سے نہیں روکتا تو بھاءی اگر کسی ان پڑھ کو قدرت نے لکھنے بولنے کی صلاحیت دی ہے اس کے میڈیا ہاءوس کو اس کے انتخاب پر کوئی اعتراض نہیں ادارہ ان کی سر وسز سے مطمئن ہے تو کسی اور کا اعتراض تو بنتا ہی نہیں ۔ ہاں اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میڈیا ورکرز بننے کے لئے بھی تعلیم کی شرط ہو تو آئین میں کوئی قانون لے آئیں ۔
باہمی اختلاف رائے میں لفظوں کا استعمال لکھنے اور بولنے والے کی شخصیت کا تعارف کراتا ہے ۔ایک لکھنے والے کی طاقت اس کے الفاظ کی شائستگی اور اس کے پاس موجود ٹھوس حقائق میں ہوتی ہے۔ جو لکھاری گالی لکھتا ہے، وہ دراصل یہ تسلیم کر رہا ہوتا ہے کہ اس کے پاس اب کوئی دلیل باقی نہیں رہی۔ قلم کے سچے وارثوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی تحریروں سے شعور کی شمع روشن رکھیں۔ ظلم کو ظلم اور جھوٹ کو جھوٹ ضرور کہیں مگر ہمیں یہ بھی باور کروانا ہوگا کہ صحافت کا کام معاشرے میں آگ لگانا نہیں، بلکہ حقائق کی روشنی میں مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔
صحافت کے وقار کی بحالی کے لیے اب بھی وقت ہے کہ ہم "فریق” بننے کے بجائے "حقیقت” کے ساتھ کھڑے ہونے کا عہد کریں۔ ورنہ یاد رکھیے، جس پیشے کا وقار گر جائے، اس کے پیچھے چلنے والے معاشرے کا مستقبل کبھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔









