• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
SB2425
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

ای کامرس ود احد کیس, پیش رفت اور صحافت پر اٹھتے سوال ! تحریر ..انجم صحرائی

webmaster by webmaster
جولائی 5, 2026
in کالم
0
ای کامرس ود احد کیس, پیش رفت اور صحافت پر اٹھتے سوال !  تحریر ..انجم صحرائی

ای کامرس ود احد انسٹی ٹیوٹ سکینڈل سے سرخرو ہو نے والے شیخ یوسف ہارون کی مدعیت میں محکمہ اینٹی کرپشن لاہور میں درج ایف آئی آرمیں عرفان افتخار، نادیہ ، محسن عدیل، ظہور درانی ki، اقرا جاوید، عائشہ خان، عروج ضمیر، محمد عبداللہ، رانا محمد حسین، محمد عنصر، محمد عبید اور ایک وکیل کو نامزد کیا گیا ہے، جبکہ ان میں ایک سابق ایس ایچ او اور ایک لیڈی سب انسپکٹر بھی شامل ہیں۔ مدعی کی جانب سے تمام افراد پر مجموعی طور پر 5 کروڑ 15 لاکھ روپے رشوت لینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ الزامات کی تفصیلات کے مطابق شیخ یوسف ہارون نے اقرا جاوید پر 28 لاکھ، عائشہ خان پر 18 لاکھ، علی رضا شاہ پر 3 لاکھ 50 ہزار، سابق ایس ایچ او عرفان باجوہ پر 5 لاکھ، نادیہ پر 1 لاکھ، عبداللہ نامی شخص کو بذریعہ بینک 2 کروڑ 50 لاکھ اور محسن عدیل و وکیل کے ذریعے 2 کروڑ 10 لاکھ روپے رشوت دینے کا دعویٰ کیا ہے۔
اس سے قبل سی سی ڈی لاہور میں ہونے والی انکوائری میں سابق ایس ایچ او تھانہ سٹی عرفان افتخار باجوہ اور لیڈی سب انسپکٹر نادیہ کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا، جس کے بعد عدالت نے عرفان باجوہ کو 3 روزہ ریمانڈ پر اینٹی کرپشن کے حوالے کیا جبکہ نادیہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ مبینہ ملزمان نے پولیس اور دیگر ملزمان سے گٹھ جوڑ کر کے مدعی درخواست کو جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر کروڑوں روپے رشوت کے نام پر وصول کیے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ مختلف افراد نے نقد رقوم بھی وصول کیں جبکہ ایک نامزد ملزم نے بینک ٹرانزیکشن سے دو کروڑ سے زیادہ رقم رشوت کی مد میں وصول کی۔
محسن عدیل اور ظہور درانی نے عبوری ضمانت کراتے ہوئے اینٹی کرپشن میں شاملِ تفتیش ہونے کا اعلان کیا ہے۔۔ محسن عدیل نے اپنے حالیہ ایک ویلاگ میں کہا کہ ہم لاہور میں ہونے والی سی سی ڈی انکوائری میں بھی پیش ہوئے جہاں ہم سرخرو ہوئے، ان کا کہنا تھا کہ ہم اینٹی کرپشن انکوائری میں بھی شاملِ تفتیش ہوں گے اور اللہ ہمیں سرخرو کرے گا چونکہ ہم بے گناہ ہیں۔محسن عدیل کی طرف انٹی کرپشن ایف ائی آر میں شامل تفشیش ہونے اور لگاے گئے الزمات کا سامنا کرنے کا اعلان خوش آئیند ہے ,اسی طرح ہی جھوٹ سچ سامنے آ سکے گا , مجوزہ ایف آئی آر صرف صحافیوں کے خلاف نہیں بلکہ اس ایف آئی آر میں وکیل , پولیس ملزمان اور دیگر افراد بھی ہیں جن پر مدعی درخواست کی جانب سے کروڑوں روپے بٹورنے کے الزمات لگاے گئے ہیں ان الزامات کی شفاف تفتیش ہونا چاہیے اور ملزمان کے قانون کے مطابق معاملہ ہونا چاہے ..
عوامل کچھ بھی ہوں وجوہات و اسباب جو بھی ہوں ان سے قطع نظر اس میگا کرپشن کیس میں صحافیوں کا نام آنا کسی طور بھی مناسب نہیں ، لیہ کی صحافتی برادری دکھی بھی ہے اور ۔ کاش ایسا نہ ہوتا ۔ آج کا کڑوا سچ یہی ہے کہ صحافت، جو کبھی معاشرے کا ضمیر اور سچائی کا اولین حوالہ سمجھی جاتی تھی، ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں اس کی بنیادی اقدار داؤ پر لگی ہوئی ہیں . بنیادی المیہ یہ ہے کہ آج کا صحافی "خبر” اور "رائے” کے درمیان فرق بھول چکا ہے۔
صحافت کا مطلب صرف اپنی انا کی تسکین اور مخالف کو نیچا دکھانا نہیں یا کسی بھی فریق کی وکالت کرنا ہر گز نہیں میرا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ کسی بھی خبر کی تکرار صحافی کے موقف کو کمزور اور مشتبہ بناتی ہے۔صحافی ہوں یا ولاگر سب کو تکرار سے گریز کرنا چا ہیے
ایک اور بات جس کی طرف توجہ دلانا چا ہوں گا وہ یہ ہے کہ آج کے سوشل میڈیا کے دور میں صحافت مشکل ترین ہو تی جا رہی ہے ،ای کامرس ود احد کیس میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کے پس منظر میں اپنے پرائے سبھی صحافت اور صحافیوں کے لتے لینے پر تلے ہیں کو ئی ان سے ڈگریاں دکھا نے کی مانگ رہا ہے اور کوئی ان قلم مزدوروں کو نوک قلم پر رکھے بے بھاءو کی سنا رہا ہے ۔ اس مرحلہ پر جان کی امان پاءوں تو عرض کروں اگر آپ کی مقننہ میں ان پڑھ پڑھے لکھے عوام کی نماءندگی کر سکتے ہیں ریاست کا آءین کسی انگوٹھہ ٹیک کو انتخاب میں حصہ لینے سے نہیں روکتا تو بھاءی اگر کسی ان پڑھ کو قدرت نے لکھنے بولنے کی صلاحیت دی ہے اس کے میڈیا ہاءوس کو اس کے انتخاب پر کوئی اعتراض نہیں ادارہ ان کی سر وسز سے مطمئن ہے تو کسی اور کا اعتراض تو بنتا ہی نہیں ۔ ہاں اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میڈیا ورکرز بننے کے لئے بھی تعلیم کی شرط ہو تو آئین میں کوئی قانون لے آئیں ۔
باہمی اختلاف رائے میں لفظوں کا استعمال لکھنے اور بولنے والے کی شخصیت کا تعارف کراتا ہے ۔ایک لکھنے والے کی طاقت اس کے الفاظ کی شائستگی اور اس کے پاس موجود ٹھوس حقائق میں ہوتی ہے۔ جو لکھاری گالی لکھتا ہے، وہ دراصل یہ تسلیم کر رہا ہوتا ہے کہ اس کے پاس اب کوئی دلیل باقی نہیں رہی۔ قلم کے سچے وارثوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی تحریروں سے شعور کی شمع روشن رکھیں۔ ظلم کو ظلم اور جھوٹ کو جھوٹ ضرور کہیں مگر ہمیں یہ بھی باور کروانا ہوگا کہ صحافت کا کام معاشرے میں آگ لگانا نہیں، بلکہ حقائق کی روشنی میں مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔
صحافت کے وقار کی بحالی کے لیے اب بھی وقت ہے کہ ہم "فریق” بننے کے بجائے "حقیقت” کے ساتھ کھڑے ہونے کا عہد کریں۔ ورنہ یاد رکھیے، جس پیشے کا وقار گر جائے، اس کے پیچھے چلنے والے معاشرے کا مستقبل کبھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔

Post Views: 28
Tags: column by anjum sehrai
Previous Post

شب و روز زندگی {حصہ دوم، قسط اول }۔۔ انجم صحرائی

Next Post

صبح پا کستان ۔ انجم صحرائی کا مستقل کالم ۔ بلا مبالغہ

Next Post
صبح پا کستان ۔ انجم صحرائی کا مستقل   کالم ۔ بلا مبالغہ

صبح پا کستان ۔ انجم صحرائی کا مستقل کالم ۔ بلا مبالغہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے،  سلمان اکرم راجا
قومی/ بین الاقوامی خبریں

حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے، سلمان اکرم راجا

by webmaster
جولائی 3, 2026
0

لاہور . پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماء سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ حکومت کا معیشت کا رخ...

Read moreDetails
مریم نواز کا سڑکوں کی تعمیرو مرمت مالی سال کے آخر تک مکمل کرنے کا حکم

"شاباش ٹیم پنجاب”، "الحمدللہ امسال بھی محرم الحرام پرامن، باوقار اورمنظم رہا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

جون 27, 2026
نوجوان  سب سے پہلے پاکستان کو اہمیت دیں:وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا پرواز کارڈ کے کامیاب امیدواروں سے خطاب

نوجوان سب سے پہلے پاکستان کو اہمیت دیں:وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا پرواز کارڈ کے کامیاب امیدواروں سے خطاب

جون 25, 2026
یکم جولائی  سے جائیداد کی خرید و فروخت اور انتقالات  فرد کی بجا ئےگرین سرٹیفیکیٹ کی بنیاد پر ہو گی

یکم جولائی سے جائیداد کی خرید و فروخت اور انتقالات فرد کی بجا ئےگرین سرٹیفیکیٹ کی بنیاد پر ہو گی

جون 23, 2026
وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کا  مسلم لیگ (ن) کے رہنماء ملک غلام حیدرتھندکے انتقال پر اظہارافسوس

وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کا مسلم لیگ (ن) کے رہنماء ملک غلام حیدرتھندکے انتقال پر اظہارافسوس

جون 22, 2026
ای کامرس ود احد انسٹی ٹیوٹ سکینڈل سے سرخرو ہو نے والے شیخ یوسف ہارون کی مدعیت میں محکمہ اینٹی کرپشن لاہور میں درج ایف آئی آرمیں عرفان افتخار، نادیہ ، محسن عدیل، ظہور درانی ki، اقرا جاوید، عائشہ خان، عروج ضمیر، محمد عبداللہ، رانا محمد حسین، محمد عنصر، محمد عبید اور ایک وکیل کو نامزد کیا گیا ہے، جبکہ ان میں ایک سابق ایس ایچ او اور ایک لیڈی سب انسپکٹر بھی شامل ہیں۔ مدعی کی جانب سے تمام افراد پر مجموعی طور پر 5 کروڑ 15 لاکھ روپے رشوت لینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ الزامات کی تفصیلات کے مطابق شیخ یوسف ہارون نے اقرا جاوید پر 28 لاکھ، عائشہ خان پر 18 لاکھ، علی رضا شاہ پر 3 لاکھ 50 ہزار، سابق ایس ایچ او عرفان باجوہ پر 5 لاکھ، نادیہ پر 1 لاکھ، عبداللہ نامی شخص کو بذریعہ بینک 2 کروڑ 50 لاکھ اور محسن عدیل و وکیل کے ذریعے 2 کروڑ 10 لاکھ روپے رشوت دینے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس سے قبل سی سی ڈی لاہور میں ہونے والی انکوائری میں سابق ایس ایچ او تھانہ سٹی عرفان افتخار باجوہ اور لیڈی سب انسپکٹر نادیہ کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا، جس کے بعد عدالت نے عرفان باجوہ کو 3 روزہ ریمانڈ پر اینٹی کرپشن کے حوالے کیا جبکہ نادیہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ مبینہ ملزمان نے پولیس اور دیگر ملزمان سے گٹھ جوڑ کر کے مدعی درخواست کو جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر کروڑوں روپے رشوت کے نام پر وصول کیے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ مختلف افراد نے نقد رقوم بھی وصول کیں جبکہ ایک نامزد ملزم نے بینک ٹرانزیکشن سے دو کروڑ سے زیادہ رقم رشوت کی مد میں وصول کی۔ محسن عدیل اور ظہور درانی نے عبوری ضمانت کراتے ہوئے اینٹی کرپشن میں شاملِ تفتیش ہونے کا اعلان کیا ہے۔۔ محسن عدیل نے اپنے حالیہ ایک ویلاگ میں کہا کہ ہم لاہور میں ہونے والی سی سی ڈی انکوائری میں بھی پیش ہوئے جہاں ہم سرخرو ہوئے، ان کا کہنا تھا کہ ہم اینٹی کرپشن انکوائری میں بھی شاملِ تفتیش ہوں گے اور اللہ ہمیں سرخرو کرے گا چونکہ ہم بے گناہ ہیں۔محسن عدیل کی طرف انٹی کرپشن ایف ائی آر میں شامل تفشیش ہونے اور لگاے گئے الزمات کا سامنا کرنے کا اعلان خوش آئیند ہے ,اسی طرح ہی جھوٹ سچ سامنے آ سکے گا , مجوزہ ایف آئی آر صرف صحافیوں کے خلاف نہیں بلکہ اس ایف آئی آر میں وکیل , پولیس ملزمان اور دیگر افراد بھی ہیں جن پر مدعی درخواست کی جانب سے کروڑوں روپے بٹورنے کے الزمات لگاے گئے ہیں ان الزامات کی شفاف تفتیش ہونا چاہیے اور ملزمان کے قانون کے مطابق معاملہ ہونا چاہے .. عوامل کچھ بھی ہوں وجوہات و اسباب جو بھی ہوں ان سے قطع نظر اس میگا کرپشن کیس میں صحافیوں کا نام آنا کسی طور بھی مناسب نہیں ، لیہ کی صحافتی برادری دکھی بھی ہے اور ۔ کاش ایسا نہ ہوتا ۔ آج کا کڑوا سچ یہی ہے کہ صحافت، جو کبھی معاشرے کا ضمیر اور سچائی کا اولین حوالہ سمجھی جاتی تھی، ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں اس کی بنیادی اقدار داؤ پر لگی ہوئی ہیں . بنیادی المیہ یہ ہے کہ آج کا صحافی "خبر" اور "رائے" کے درمیان فرق بھول چکا ہے۔ صحافت کا مطلب صرف اپنی انا کی تسکین اور مخالف کو نیچا دکھانا نہیں یا کسی بھی فریق کی وکالت کرنا ہر گز نہیں میرا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ کسی بھی خبر کی تکرار صحافی کے موقف کو کمزور اور مشتبہ بناتی ہے۔صحافی ہوں یا ولاگر سب کو تکرار سے گریز کرنا چا ہیے ایک اور بات جس کی طرف توجہ دلانا چا ہوں گا وہ یہ ہے کہ آج کے سوشل میڈیا کے دور میں صحافت مشکل ترین ہو تی جا رہی ہے ،ای کامرس ود احد کیس میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کے پس منظر میں اپنے پرائے سبھی صحافت اور صحافیوں کے لتے لینے پر تلے ہیں کو ئی ان سے ڈگریاں دکھا نے کی مانگ رہا ہے اور کوئی ان قلم مزدوروں کو نوک قلم پر رکھے بے بھاءو کی سنا رہا ہے ۔ اس مرحلہ پر جان کی امان پاءوں تو عرض کروں اگر آپ کی مقننہ میں ان پڑھ پڑھے لکھے عوام کی نماءندگی کر سکتے ہیں ریاست کا آءین کسی انگوٹھہ ٹیک کو انتخاب میں حصہ لینے سے نہیں روکتا تو بھاءی اگر کسی ان پڑھ کو قدرت نے لکھنے بولنے کی صلاحیت دی ہے اس کے میڈیا ہاءوس کو اس کے انتخاب پر کوئی اعتراض نہیں ادارہ ان کی سر وسز سے مطمئن ہے تو کسی اور کا اعتراض تو بنتا ہی نہیں ۔ ہاں اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میڈیا ورکرز بننے کے لئے بھی تعلیم کی شرط ہو تو آئین میں کوئی قانون لے آئیں ۔ باہمی اختلاف رائے میں لفظوں کا استعمال لکھنے اور بولنے والے کی شخصیت کا تعارف کراتا ہے ۔ایک لکھنے والے کی طاقت اس کے الفاظ کی شائستگی اور اس کے پاس موجود ٹھوس حقائق میں ہوتی ہے۔ جو لکھاری گالی لکھتا ہے، وہ دراصل یہ تسلیم کر رہا ہوتا ہے کہ اس کے پاس اب کوئی دلیل باقی نہیں رہی۔ قلم کے سچے وارثوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی تحریروں سے شعور کی شمع روشن رکھیں۔ ظلم کو ظلم اور جھوٹ کو جھوٹ ضرور کہیں مگر ہمیں یہ بھی باور کروانا ہوگا کہ صحافت کا کام معاشرے میں آگ لگانا نہیں، بلکہ حقائق کی روشنی میں مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔ صحافت کے وقار کی بحالی کے لیے اب بھی وقت ہے کہ ہم "فریق" بننے کے بجائے "حقیقت" کے ساتھ کھڑے ہونے کا عہد کریں۔ ورنہ یاد رکھیے، جس پیشے کا وقار گر جائے، اس کے پیچھے چلنے والے معاشرے کا مستقبل کبھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.