"دوستو ، یقیناآپ نے ہماری سوانح عمری پڑھی ہو گی ، "شب روز زند گی "ہما ری سوانح عمری ہے جو دو سال قبل شائع ہو
چکی ہے ۔ کتاب کی اشاعت سے قبل ” شب روز زندگی "لیہ کے معروف اخبار روزنامہ داور ویب ساءٹ جیو نیوز{ اصل میڈیا} اور فیس بک پر بھی بلا قساط شا ئع ہوتی رہی ہے ۔”شب وروز زندگی” میں صبح پا کستان سے جڑی یادیں بہت کم ہیں اور سچی بات” صبح پا کستان "کے بغیر ہماری سوانح حیات مکمل ہو ہی نہیں سکتی ۔۔۔تو آغازکرتے ہیں شب وروز زندگی حصہ دوم کے لئے ان کہی یادوں کے سفر کا "۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضلع لیہ ہماری شادی کے دوسال بعد معرض وجود میں آیا ، ہماری شادی سال 1980 میں ہو ءی اور لیہ سال 1982 میں تحصیل سےضلعی ہیڈ کوارٹر اپ گریڈ ہوا ۔اسی سال ہمارے گھر میں ایک ننھے منے فرد کا بھی اضافہ ہو چکا تھا میرا بڑا بیٹا نعمان اس وقت 2/3ماہ کا تھا ۔
وقت کے سفر میں کچھ سال، کچھ تاریخیں اور کچھ لمحات زندگی کے ماتھے کا جھومر بن جاتے ہیں۔ سفرِ حیات میں جہاں انسان اپنی ذاتی خوشیوں کی منزلیں طے کر رہا ہوتا ہے، وہاں بعض اوقات قومی اور علاقائی تاریخ کے بڑے فیصلے بھی اس کی زندگی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہے ہوتے ہیں۔
1982 میں ضیاء الحق کے دور حکومت میں پنجاب میں پانچ نئے اضلاع بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ جن میں لیّہ اور بھکر کی دو اہم تحصیلوں کو بھی اضلاع کا درجہ دے دیا گیا۔مجھے آج بھی وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب بلدیہ کے جناح ہال میں ضلع لیّہ کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی ۔ اس تاریخی تقریب میں شرکت کے لئے اس وقت کے وفاقی وزیر راجہ ظفر الحق خصوصی طور پر اسلام آباد سے لیّہ تشریف لائے۔ ان کے ہمراہ ملتان سے تعلق رکھنے والے مجلسِ شوریٰ کے نوجوان اور متحرک رکن سید یوسف رضا گیلانی بھی تھے جو آگے چل کر قومی اسمبلی کے سپیکر ، سینٹ کے چیئرمین اور ملک کے وزیرِ اعظم بنے۔
میں اس زمانے میں روزنامہ وفاق لا ہور اور ہفت روزہ نواءے تھل لیہ سے وابستہ صحافتی ذمہ داریاں ادا کرہا تھا ۔ایک کارکن صحافی ہو نے کے سبب میں بھی ضلع لیہ کی اس یادگار افتتاحی تقریب میں موجود تھا ۔مجھے یاد ہے تقریب کے اختتام پر دیگر صحافی دوستوں کے ساتھ مجھے بھی راجہ ظفر الحق سے ملنے اور سوال پو چھنے کا موقع ملا۔
اس دور میں الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا نہیں تھا اور پرنٹ میڈیا میں مقامی سطح پر ہم بھی خاصے متحرک صحافی کارکن تھے پنجاب میں بننے والے ان نئے اضلاع نے ہم جیسے کارکن صحافیوں کے لیے مہم جوئی اور لکھنے کے نئے در وا کر دیے تھے، اور ہمیں نئے موضوعات سے روشناس کرایا تھا۔ میرے کئی قریبی دوست لیّہ کے ضلع بننے کی خوشی میں اخبارات کی خصوصی اشاعت (سپیشل سپلیمنٹ) تیار کرنے میں دن رات ایک کر رہے تھے۔ میں نے فیصلہ کیا کہ میں ‘بھکر سپلیمنٹ’ پر کام کروں گا۔ اس فیصلے کے پیچھے جہاں ایک صحافتی جذبہ تھا، وہاں میری ایک بہت بڑی ذاتی اور گھریلو ضرورت بھی چھپی ہوئی تھی۔ ننھے منے مہمان کی آمد کے بعد، اب گھر کے اخراجات کافی بڑھ چکے تھے۔بڑھتے ہوءے ان اخراجات کے لءے میں نے نواءے تھل ‘بھکر سپلیمنٹ’ پر کام کرنے کا پروگرام ترتیب دیا۔ مجھے پورا یقین تھا کہ اس خصوصی اشاعت کے لیے ملنے والے اشتہارات کے کمیشن سے مجھے جو رقم حاصل ہوگی، اس سے میرے مالی مسائل کا حل نکل آئے گا ۔
ہمارے ایک دوست ہوا کرتے تھے شمشاد نظر (الله مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے آمین)۔ وہ نوائے تھل میں شعبہ کتابت سے وابستہ تھے فن کتابت کی باریکیوں سے آشنا باصلاحیت کاتب تھے ۔ان کا گھر بھکر میں تھا ہفتے میں دو دن لیہ آتے نوائے تھل کا میٹر تیار کرتے کاپیاں تیار کراتے اور چلے جاتے ۔ استاد عبد الحکیم شوق کی اجازت اور شمشاد نظر کی معاونت سے ہم نے بھکر سپلیمنٹ کے لئے کام کا آغاز کیا ،ہم نے بھکر سپلیمنٹ کو محض ایک اسائنمنٹ نہیں سمجھا، بلکہ اسے اپنی زندگی کا مشن بنا لیا۔ میں نے دن رات ایک کر دیے۔ بھکر اور بھکر کے نواحی علاقوں منکیرہ , حیدرآباد سمیت تقریبا سبھی شہروں کے گلی کوچوں، بازاروں اور ایوانوں کے چکر کاٹے۔ شہر کے معزز شہریوں، تاجروں، صنعت کاروں اور نامور سیاستدانوں کے انٹرویوز کیے۔ بزنس اور اشتہارات کے حصول کے لیے بھر پور تگ و دو کی ، بزنس ٹارگٹ مکمل کیا۔ لیکن اشتہارات اور مواد وقت پر جمع کروانے کے باوجود، انتظامی یا تکنیکی خرابیوں کے باعث وہ سپلیمنٹ وقت پر نہ چھپ سکا۔ جب وہ اخبار کی زینت بنا، تو بہت دیر ہو چکی تھی۔ ۔۔۔ ….باقی اگلی قسط میں

✍️ ۔۔ انجم صحرائی







