• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
SB2425
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

جی ٹی ایس سے گرین بس تک … تحریر: انجم صحرائی

webmaster by webmaster
جون 28, 2026
in کالم
0
جی ٹی ایس سے گرین بس تک … تحریر: انجم صحرائی

کل بعد دوپہر جب میں اپنے آفس صبح پاکستان جا رہا تھا، تو میں نے دیکھا کہ گجر ہوٹل کے سامنے کھلے میدان میں لاہور سے آنے والی گرین بسوں کو آف لوڈ کیا جا رہا تھا۔ پتا چلا کہ 10 بسیں ضلعی انتظامیہ نے وصول کر لی ہیں اور بقیہ 5 مزید بسیں بہت جلد پہنچ جائیں گی۔ اب بہت جلد گرین بسوں کے زیرِ تکمیل ٹرمینل کا افتتاح ہو گا اور رعایتی کرائے پر لوگ لوکل روٹس پر سفر کا لطف اٹھا سکیں گے۔
ہماری نسلِ نو نے نہ تو کبھی جی ٹی ایس (GTS) کی بس دیکھا ہو گی، نہ نام سنا ہو گا اور نہ ہی اس میں کبھی سفر کیا ہو گا۔ بہت کم نوجوانوں کو پتا ہو گا کہ جب لیّہ میں جنرل بس اسٹینڈ نام کی کوئی جگہ نہیں تھی، تو بلوچ، نیو خان، صفدر نذیر اور بندیال سمیت ہر ٹرانسپورٹ کمپنی کے اندرونِ شہر چوبارہ روڈ پر اپنے اپنے پرائیویٹ اڈے تھے۔ اس دور میں گلبرگ ہوٹل کے ساتھ والے پلاٹ پر، جہاں آج کل پلازا بنا ہوا ہے، سرکاری ٹرانسپورٹ کمپنی جی ٹی ایس کا اپنا مستقل اڈا تھا۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے، ہمارے ایک مرحوم بزرگ جی ٹی ایس میں ہی ڈرائیور تھے، جن کا تعلق "جام پور” سے تھا۔ وہ ہر روز رات ایک بجے کے قریب ڈی جی خان سے لاہور جانے والا جی ٹی ایس کا ٹائم لے کر لیہ پہنچا کرتے تھے۔ مجھے کئی بار ان سے ملنے اور اس منظر کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ خاکی وردی پہنے اور سر پر مخصوص کیپ سجائے، وہ جب تک گاڑی اسٹینڈ پر کھڑی رہتی، اپنی ڈرائیونگ سیٹ پر ہی موجود رہتے تھے۔ ان جیسے فرض شناس لوگوں کی وجہ سے ہی اس دور میں سرکاری ٹرانسپورٹ کا ایک رعب اور دبدبہ تھا۔ ڈی جی خان سے آنے والے ٹائم کا یہ مستقل اسٹاپ تھا، جہاں مسافر چائے پانی پیتے اور لاہور کے طویل سفر پر روانہ ہوتے تھے۔ 1970ء میں جب مغربی پاکستان (ون یونٹ) ختم ہوا اور پنجاب بحال ہوا، تو یہ جی ٹی ایس بسیں پورے صوبے میں پبلک ٹرانسپورٹ کا واحد بھروسہ مند ذریعہ تھیں، جہاں کرائے سستے اور وقت کی سخت پابندی ہوتی تھی۔
پھر 1998ء میں حکومت نے ناقص انتظام اور نقصان کا بہانہ بنا کر جی ٹی ایس کا محکمہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔ اس بربادی سے حکومت کو اربوں کا نقصان ہوا؛ قیمتی بسیں ڈپوز میں کھڑی کھڑی کباڑ بن کر لوہے کے بھاؤ نیلام ہو گئیں اور اڈوں کی قیمتی زمینیں ضائع ہو گئیں۔ لیہ کے ریلوے پھاٹک والے اس پرانے اڈے کی جگہ پر اب مارکیٹیں اور دکانیں بن چکی ہیں۔
ہمارے ہاں حکومتیں مستقل پالیسی بنانے کے بجائے صرف وقتی سیاسی فائدے اور تشہیر کے لیے "ڈنگ ٹپاؤ” منصوبے بناتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال ہر شہر میں لگائے گئے وہ صاف پانی کے فلٹریشن پلانٹس ہیں جو دیکھ بھال نہ ہونے، بجلی کے بل نہ دینے اور چوریوں کی وجہ سے آج بالکل "بھوت بنگلے” بن چکے ہیں اور عوام کا پیسہ مٹی میں مل گیا۔
آج کل حکومت دوبارہ اربوں روپے کی لاگت سے ہر ضلع اور تحصیل کو جدید گرین بسیں فراہم کر رہی ہے۔ منصوبہ یقیناً اچھا ہے، لیکن ماضی کو دیکھتے ہوئے اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ یہ بسیں بھی چند سال بعد کباڑ کا ڈھیر نہیں بنیں گی؟
اگر حکومت واقعی مخلص ہے تو اسے یہ بسیں خود چلانے کے بجائے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (ٹھیکے) پر دینی چاہئیں، کرایہ نقد کے بجائے ڈیجیٹل کارڈ سے لیا جائے تاکہ چوری نہ ہو، کمائی کا ایک حصہ بسوں کی مرمت اور بیٹریاں بدلنے کے لیے الگ فنڈ میں رکھا جائے، اور سب سے بڑھ کر ایسا قانون ہو کہ حکومت بدلنے سے پچھلا پروجیکٹ بند نہ ہو۔ اگر یہ سخت فیصلے نہ کیے گئے، تو اس گرین بس پروجیکٹ کا انجام بھی جی ٹی ایس اور واٹر پلانٹس جیسا ہی ہو گا۔

Post Views: 246
Tags: column by anjum sehrai
Previous Post

"شاباش ٹیم پنجاب”، "الحمدللہ امسال بھی محرم الحرام پرامن، باوقار اورمنظم رہا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

Next Post

وسیب کے عزم، اتحاد اور جدوجہد کی ایک روشن داستان تھل دمان بیٹ اپروچ روڈ تحریر = ریاض قیصر قیصرانی

Next Post
وسیب کے عزم، اتحاد اور جدوجہد کی ایک روشن داستان تھل دمان بیٹ اپروچ روڈ  تحریر =    ریاض قیصر قیصرانی

وسیب کے عزم، اتحاد اور جدوجہد کی ایک روشن داستان تھل دمان بیٹ اپروچ روڈ تحریر = ریاض قیصر قیصرانی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب
قومی/ بین الاقوامی خبریں

دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب

by webmaster
اگست 2, 2026
0

لاہور: پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق...

Read moreDetails
نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

جولائی 19, 2026
آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

جولائی 11, 2026
سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم  ?

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم ?

جولائی 8, 2026
حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے،  سلمان اکرم راجا

حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے، سلمان اکرم راجا

جولائی 3, 2026
کل بعد دوپہر جب میں اپنے آفس صبح پاکستان جا رہا تھا، تو میں نے دیکھا کہ گجر ہوٹل کے سامنے کھلے میدان میں لاہور سے آنے والی گرین بسوں کو آف لوڈ کیا جا رہا تھا۔ پتا چلا کہ 10 بسیں ضلعی انتظامیہ نے وصول کر لی ہیں اور بقیہ 5 مزید بسیں بہت جلد پہنچ جائیں گی۔ اب بہت جلد گرین بسوں کے زیرِ تکمیل ٹرمینل کا افتتاح ہو گا اور رعایتی کرائے پر لوگ لوکل روٹس پر سفر کا لطف اٹھا سکیں گے۔ ہماری نسلِ نو نے نہ تو کبھی جی ٹی ایس (GTS) کی بس دیکھا ہو گی، نہ نام سنا ہو گا اور نہ ہی اس میں کبھی سفر کیا ہو گا۔ بہت کم نوجوانوں کو پتا ہو گا کہ جب لیّہ میں جنرل بس اسٹینڈ نام کی کوئی جگہ نہیں تھی، تو بلوچ، نیو خان، صفدر نذیر اور بندیال سمیت ہر ٹرانسپورٹ کمپنی کے اندرونِ شہر چوبارہ روڈ پر اپنے اپنے پرائیویٹ اڈے تھے۔ اس دور میں گلبرگ ہوٹل کے ساتھ والے پلاٹ پر، جہاں آج کل پلازا بنا ہوا ہے، سرکاری ٹرانسپورٹ کمپنی جی ٹی ایس کا اپنا مستقل اڈا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے، ہمارے ایک مرحوم بزرگ جی ٹی ایس میں ہی ڈرائیور تھے، جن کا تعلق "جام پور" سے تھا۔ وہ ہر روز رات ایک بجے کے قریب ڈی جی خان سے لاہور جانے والا جی ٹی ایس کا ٹائم لے کر لیہ پہنچا کرتے تھے۔ مجھے کئی بار ان سے ملنے اور اس منظر کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ خاکی وردی پہنے اور سر پر مخصوص کیپ سجائے، وہ جب تک گاڑی اسٹینڈ پر کھڑی رہتی، اپنی ڈرائیونگ سیٹ پر ہی موجود رہتے تھے۔ ان جیسے فرض شناس لوگوں کی وجہ سے ہی اس دور میں سرکاری ٹرانسپورٹ کا ایک رعب اور دبدبہ تھا۔ ڈی جی خان سے آنے والے ٹائم کا یہ مستقل اسٹاپ تھا، جہاں مسافر چائے پانی پیتے اور لاہور کے طویل سفر پر روانہ ہوتے تھے۔ 1970ء میں جب مغربی پاکستان (ون یونٹ) ختم ہوا اور پنجاب بحال ہوا، تو یہ جی ٹی ایس بسیں پورے صوبے میں پبلک ٹرانسپورٹ کا واحد بھروسہ مند ذریعہ تھیں، جہاں کرائے سستے اور وقت کی سخت پابندی ہوتی تھی۔ پھر 1998ء میں حکومت نے ناقص انتظام اور نقصان کا بہانہ بنا کر جی ٹی ایس کا محکمہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔ اس بربادی سے حکومت کو اربوں کا نقصان ہوا؛ قیمتی بسیں ڈپوز میں کھڑی کھڑی کباڑ بن کر لوہے کے بھاؤ نیلام ہو گئیں اور اڈوں کی قیمتی زمینیں ضائع ہو گئیں۔ لیہ کے ریلوے پھاٹک والے اس پرانے اڈے کی جگہ پر اب مارکیٹیں اور دکانیں بن چکی ہیں۔ ہمارے ہاں حکومتیں مستقل پالیسی بنانے کے بجائے صرف وقتی سیاسی فائدے اور تشہیر کے لیے "ڈنگ ٹپاؤ" منصوبے بناتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال ہر شہر میں لگائے گئے وہ صاف پانی کے فلٹریشن پلانٹس ہیں جو دیکھ بھال نہ ہونے، بجلی کے بل نہ دینے اور چوریوں کی وجہ سے آج بالکل "بھوت بنگلے" بن چکے ہیں اور عوام کا پیسہ مٹی میں مل گیا۔ آج کل حکومت دوبارہ اربوں روپے کی لاگت سے ہر ضلع اور تحصیل کو جدید گرین بسیں فراہم کر رہی ہے۔ منصوبہ یقیناً اچھا ہے، لیکن ماضی کو دیکھتے ہوئے اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ یہ بسیں بھی چند سال بعد کباڑ کا ڈھیر نہیں بنیں گی؟ اگر حکومت واقعی مخلص ہے تو اسے یہ بسیں خود چلانے کے بجائے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (ٹھیکے) پر دینی چاہئیں، کرایہ نقد کے بجائے ڈیجیٹل کارڈ سے لیا جائے تاکہ چوری نہ ہو، کمائی کا ایک حصہ بسوں کی مرمت اور بیٹریاں بدلنے کے لیے الگ فنڈ میں رکھا جائے، اور سب سے بڑھ کر ایسا قانون ہو کہ حکومت بدلنے سے پچھلا پروجیکٹ بند نہ ہو۔ اگر یہ سخت فیصلے نہ کیے گئے، تو اس گرین بس پروجیکٹ کا انجام بھی جی ٹی ایس اور واٹر پلانٹس جیسا ہی ہو گا۔
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.