کل بعد دوپہر جب میں اپنے آفس صبح پاکستان جا رہا تھا، تو میں نے دیکھا کہ گجر ہوٹل کے سامنے کھلے میدان میں لاہور سے آنے والی گرین بسوں کو آف لوڈ کیا جا رہا تھا۔ پتا چلا کہ 10 بسیں ضلعی انتظامیہ نے وصول کر لی ہیں اور بقیہ 5 مزید بسیں بہت جلد پہنچ جائیں گی۔ اب بہت جلد گرین بسوں کے زیرِ تکمیل ٹرمینل کا افتتاح ہو گا اور رعایتی کرائے پر لوگ لوکل روٹس پر سفر کا لطف اٹھا سکیں گے۔
ہماری نسلِ نو نے نہ تو کبھی جی ٹی ایس (GTS) کی بس دیکھا ہو گی، نہ نام سنا ہو گا اور نہ ہی اس میں کبھی سفر کیا ہو گا۔ بہت کم نوجوانوں کو پتا ہو گا کہ جب لیّہ میں جنرل بس اسٹینڈ نام کی کوئی جگہ نہیں تھی، تو بلوچ، نیو خان، صفدر نذیر اور بندیال سمیت ہر ٹرانسپورٹ کمپنی کے اندرونِ شہر چوبارہ روڈ پر اپنے اپنے پرائیویٹ اڈے تھے۔ اس دور میں گلبرگ ہوٹل کے ساتھ والے پلاٹ پر، جہاں آج کل پلازا بنا ہوا ہے، سرکاری ٹرانسپورٹ کمپنی جی ٹی ایس کا اپنا مستقل اڈا تھا۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے، ہمارے ایک مرحوم بزرگ جی ٹی ایس میں ہی ڈرائیور تھے، جن کا تعلق "جام پور” سے تھا۔ وہ ہر روز رات ایک بجے کے قریب ڈی جی خان سے لاہور جانے والا جی ٹی ایس کا ٹائم لے کر لیہ پہنچا کرتے تھے۔ مجھے کئی بار ان سے ملنے اور اس منظر کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ خاکی وردی پہنے اور سر پر مخصوص کیپ سجائے، وہ جب تک گاڑی اسٹینڈ پر کھڑی رہتی، اپنی ڈرائیونگ سیٹ پر ہی موجود رہتے تھے۔ ان جیسے فرض شناس لوگوں کی وجہ سے ہی اس دور میں سرکاری ٹرانسپورٹ کا ایک رعب اور دبدبہ تھا۔ ڈی جی خان سے آنے والے ٹائم کا یہ مستقل اسٹاپ تھا، جہاں مسافر چائے پانی پیتے اور لاہور کے طویل سفر پر روانہ ہوتے تھے۔ 1970ء میں جب مغربی پاکستان (ون یونٹ) ختم ہوا اور پنجاب بحال ہوا، تو یہ جی ٹی ایس بسیں پورے صوبے میں پبلک ٹرانسپورٹ کا واحد بھروسہ مند ذریعہ تھیں، جہاں کرائے سستے اور وقت کی سخت پابندی ہوتی تھی۔
پھر 1998ء میں حکومت نے ناقص انتظام اور نقصان کا بہانہ بنا کر جی ٹی ایس کا محکمہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔ اس بربادی سے حکومت کو اربوں کا نقصان ہوا؛ قیمتی بسیں ڈپوز میں کھڑی کھڑی کباڑ بن کر لوہے کے بھاؤ نیلام ہو گئیں اور اڈوں کی قیمتی زمینیں ضائع ہو گئیں۔ لیہ کے ریلوے پھاٹک والے اس پرانے اڈے کی جگہ پر اب مارکیٹیں اور دکانیں بن چکی ہیں۔
ہمارے ہاں حکومتیں مستقل پالیسی بنانے کے بجائے صرف وقتی سیاسی فائدے اور تشہیر کے لیے "ڈنگ ٹپاؤ” منصوبے بناتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال ہر شہر میں لگائے گئے وہ صاف پانی کے فلٹریشن پلانٹس ہیں جو دیکھ بھال نہ ہونے، بجلی کے بل نہ دینے اور چوریوں کی وجہ سے آج بالکل "بھوت بنگلے” بن چکے ہیں اور عوام کا پیسہ مٹی میں مل گیا۔
آج کل حکومت دوبارہ اربوں روپے کی لاگت سے ہر ضلع اور تحصیل کو جدید گرین بسیں فراہم کر رہی ہے۔ منصوبہ یقیناً اچھا ہے، لیکن ماضی کو دیکھتے ہوئے اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ یہ بسیں بھی چند سال بعد کباڑ کا ڈھیر نہیں بنیں گی؟
اگر حکومت واقعی مخلص ہے تو اسے یہ بسیں خود چلانے کے بجائے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (ٹھیکے) پر دینی چاہئیں، کرایہ نقد کے بجائے ڈیجیٹل کارڈ سے لیا جائے تاکہ چوری نہ ہو، کمائی کا ایک حصہ بسوں کی مرمت اور بیٹریاں بدلنے کے لیے الگ فنڈ میں رکھا جائے، اور سب سے بڑھ کر ایسا قانون ہو کہ حکومت بدلنے سے پچھلا پروجیکٹ بند نہ ہو۔ اگر یہ سخت فیصلے نہ کیے گئے، تو اس گرین بس پروجیکٹ کا انجام بھی جی ٹی ایس اور واٹر پلانٹس جیسا ہی ہو گا۔








