تحریر = ریاض قیصر قیصرانی
بانی تھل دمان اپروچ روڈ تحریک
کئی دہائیوں پہلے کی بات ہے کہ لیہ کے وسیبی دمان کے سپوت محترم نیاز شاہد مرحوم، افیسر یو بی ایل نے وسیب کے پلیٹ فارم کے نام سے تھل دمان کے لوگوں کے مشترکہ اور اہم مسئلہ لیہ تونسہ پل کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ جس میں بحث و تمہیص اور تائید و تنقید کے لیے چیدہ چیدہ چند لوگوں کو اظہار خیال اور ہمنوا بنانے کی تحریک شروع کی گئی۔ ان میں صحافی، سوشل ورکر، ادیب، انجمن تاجران کے ممبران، دانشور اور شعراء کو سر فہرست رکھا گیا۔ ابتدائی ایام میں سینئر صحافی انجم صحرائی صبح پاکستان لیہ، ریاض قیصر قیصرانی، صدر تھل دمان سرائیکی سنگت لیہ، امین سہیل ملغانی، رفیق ہمراز سنجرانی، پروفیسر مزمل حسین، نواز صدیقی صاحب مرحوم، امجد کلاچی، ڈاکٹر حمید الفت ملغانی، پروفیسر شفقت بزدار، سید الطاف حسین شاہ مرحوم، سید اختر حسین شاہ ایڈوکیٹ مرحوم سابق چیئرمین کمیٹی لیہ، راول بلوچ، ملک محمد حسین سامٹیہ ایڈوکیٹ، ڈاکٹر جاوید اقبال کنجال، ماسٹر منظور بھٹہ اور کچھ اور احباب اس تحریک میں شامل ہوئے۔
جس میں لیہ سے متعلقہ پروجیکٹ
نمبر ایک مجوزہ پل مور جھنگی لیہ دریائے سندھ( زیر غور)،
نمبر دو سوئ گیس سپلائی لیہ( زیر غور)
، نمبر تین ہائی وے گڑ مہاراجہ تا لیہ (منظور شدہ،)
نمبر چار گریٹر تھل کینال( باقاعدہ افتتاح صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف۔)
ان پروجیکٹس پر تحریک شروع کی گئی، درج بالا مطالبات و منصوبہ جات کی گاہے بگاہے مقتدر افراد کو یادہانی کرائی جاتی رہی۔ ان مطالبات کو منوانے اور عملی جامہ پہنانے میں وسیب پلیٹ فارم اور تھل دمان سرائیکی سنگت لیہ پیش پیش رہے۔ جس کی بدولت تھل میں تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہو گئیں اور آن گراونڈ کچھ پروجیکٹس نظر آنا شروع ہو گئے۔ مگر هنوز لیہ تؤنسہ پل کا منصوبہ معلق ہی رہا۔ وقت نے کروٹ لی، تؤنسہ لیہ پل کی نوید کم و بیش پانچ بار سنائی گئ اور بالآخر 2019 میں کنکریٹ اور سریا سے ایک دیوہیکل پل دریائے سندھ کے خشک پیٹ پر نمودار ہوا مگر بے فائدہ۔
بقول شاکر شجاع آبادی
"میں قیمتی ہاں پر بے فائدہ کہیں سُک دریا دے پُل وانگوں۔ ”
یوں یہ خطیر رقم سے تیار شدہ قیمتی پل دریائے سندھ کے خشک پیٹ پر بے فائدہ ہی کھڑا رہا۔ حکومتیں آتی رہیں، جاتی رہیں، دریا میں کشتیاں ڈوبتی رہیں، آبادیاں زیر آب آتی رہیں، خاندان اجڑتے رہے، بچے یتیم ہوتے رہے، مالدار دریائی نقصان کے سبب کوڑی کوڑی کو محتاج ہوتے رہے، مگر وسیب کی آواز حکومتی ایوانوں تک نہ پہنچی۔ پل بن کر بھی بے فائدہ رہا اور لیہ تؤنسہ کے لوگوں کا منہ چڑاتا رہا۔ اور وسیبیوں کی ارداس اور کوک "پانی دا پڈ” ثابت ہوئی۔
بھلا ہو ان بھلے لوگوں کا جن کے سینے میں وسیب کے لوگوں کا درد جاگا کہ کیوں نہ اپنی مدد آپ کے تحت شیر دریا کے رخ کو موڑ کر پل کے نیچے لے جایا جائے اور دونوں طرف بند باندھ کر لوگوں کی سہولت کے لیے آمد و رفت کا سلسلہ کیا جائے۔ گو یہ ایک دیوانے کا خواب تھا مگر جنون ایک تیشہ کے ساتھ ہی پہاڑ سے ندی نکال لیتا ہے۔ ایسا ہی ہوا۔ تھل اور دمان کے جری، بہادر، اور مخلص لوگ یکجا ہو گئے اور ہیوی مشینری، ٹریکٹر، پھاوڑے، کلہاڑیاں اور تیشے لے کر میدان عمل میں کود پڑے۔ جن میں سر فہرست دمان کے سپوت جروار برادران جناب غلام شبیر خان جروار، شفیق خان جروار، رفیق خان جروار شامل ہیں۔ ان کے کندھے سے کندھا ملانے کو قیصرانی برادران، سردار شاہنواز خان قیصرانی، ریاض قیصر قیصرانی، یونس خان قیصرانی، الیاس خان قیصرانی، حمزہ خان قیصرانی، اور دوستو ریاض قیصرانی کود پڑے۔ یہ بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوئے۔ اس کے بعد مقامی آبادی کے معتبران و اقوام جن میں ملانا برادری، ہوت برادری، کلاچی برادری، وہوچا برادری، لاشاری برادری، مراثی برادری، چنال برادری، میرانی برادری، کھتران برادری، ددوانی برادری، لغاری برادری، میانہ برادری، سید برادری، جکھڑ برادری، ملکانی برادری، جروار برادری، قیصرانی برادری، نتکانی برادری، موہانہ برادری، موچی برادری، درکھان برادری، گرمانی برادری، دستی برادری، واہگہ برادری، علیانی برادری، بلچانی برادری، جسکانی برادری، تھوری برادری، چانڈیہ برادری، ڈلّو برادری، کمہار برادری، کنجال برادری، کھر برادری، لکھانی برادری، ادمانی برادری، راجپوت برادری، اقلیتی برادری، کچھیلا برادری، چنڑ برادری، سانگی برادری، ہمجوانی برادری، بزدار برادری، منجوٹہ برادری، زور برادری، مٹھوانی برادری، ملغانی برادری، چھجڑا برادری، سولہڑ برادری، اوکھر وند برادری، ماہلہ برادری، چھانگا برادری، چھتری برادری، لشکرانی برادری، تنگوانی برادری، نون برادری، لعلوانی برادری، قریشی برادری، بھٹی برادری، اور گشکوری برادری ایک سیل بے کراں کی طرح شیر دریا کے سامنے سینہ سپر ہو گئے۔ دن رات کی محنت شاقہ کے بعد لوگوں کا آنا جانا شروع ہو گیا روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں گاڑیاں اور ہزاروں لوگ تین ماہ تک اس سہولت سے فیض یاب ہوۓ ۔ دلوں سے دل مل گئے اور لیہ شہر کے تجارتی چہرے پر رونقیں اور تازگی نمودار ہونے لگی۔
تب لیہ تونسہ کے سیاستدانوں نے کروٹ لی اور نہایت اخلاص اور درد دل کے ساتھ اپنی سیاسی جدوجہد شروع کی جس سے اس کام میں نئی توانائ بھر گئ۔ ان میں سابق ایم پی اے مہر اعجاز احمد اچلانہ، سابق ایم پی اے سید رفاقت حسین شاہ گیلانی، موجودہ ایم این اے انجینئر اویس جھکڑ، موجودہ ایم این اے سرادر عبدالقادر خان کھوسہ ، موجودہ ایم پی اے اسامہ اصغر گجر، موجودہ ایم پی اے کرنل شعیب امیر اعوان اور سماجی کارکن عزیز اللہ قیصرانی، استاد رانا سلطان محمود ، واحد بخش باروی ، سوشل میڈیا کے ایکٹیویسٹ محترمہ سائرہ حسن تؤنسہ، شہباز بھرا ریتڑہ ، سانجھ سلوک ،ڈاکٹر رفیق وہوچا ، حاجی مکھن زور، سیاسی راہنما عابد انور علوی، راۓغلام عباس بھٹی، سردار اعظم خان ملغانی، فرحان بھٹہ، محترمہ راشدہ فرحان بھٹہ رب نواز ڈاگی ؛ماسٹر امیر محمد جروار، ضیاء اللہ ملکانی، محمد حنیف ملکانی، صفدر ملغانی، آصف خان لعلوانی، سید نواز شاہ، سید صفدر شاہ، زاہد قیصرانی، اور حقیقی تھل دمان بیٹ اپروچ روڈ کے تمام گروپ ممبران قمر خان، چاچا عاشق خان قیصرانی، فاروق ملکانی ان کے علاوہ عبدالحفیظ میرانی، منیر میرانی، منیر منڈیرہ ،منیر جروار ، ظفر منڈیرہ، جمیل گشکوری، شاہنواز لاشاری، اظہر قیصرانی ، دلشاد چنال، رفیق چنال شامل ہیں۔ تاہم مہر اعجاز احمد اچلانہ صاحب کی شب و روز دامے ،درمے ، سخنے پیش پیش رہے ان کی محنت اور دلچسپی کی بنیاد پر لیہ کی ضلعی انتظامیہ، ڈپٹی کمشنر صاحب اور این ایچ اے کی سینئر افسران کی ٹیم نے بارہا موقعہ کا وزٹ کیا اور کام کو مجوزہ انتظامی اور سرکاری بنیادوں پر کروانے کی تگ و دو میں تیزی لانے کی کوشش کی۔
اس پراجیکٹ کی اہمیت اور ضرورت کا اجاگر کرنے میں ڈیجیٹل اور پرنٹ میڈیا کے صحافی بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے ان میں سینئر صحافی انجم صحرائ ، چوہدری محسن عدیل، عبدالرحمان فریدی ، ملک منصور تونسہ، ملک ظفر اقبال تونسہ ، دوستو ریاض قیصرانی، عبدالشکور لاشاری ، عرفان ڈومرہ عامر اکبر دوانی، اکبردوانی ، غفار خان لاشاری،اور صغیر شاہ، پیش پیش رہے ۔۔
مگر قدرت کے ساتھ کسی کا مقابلہ نہیں۔ موسمی حالات کے تغیر و تبدل کی وجہ سے شبانہ روز محنت کے باوجود آخر ایک دن کام کو روکنا پڑا۔ منہ زور پانی کے سامنے ٹھہرنا مشکل ہو گیا۔ مگر عزم و ہمت کی یہ داستان ختم ہونے والی نہیں تھی۔ اس دوران غلام شبیر جروار نے اسلام آباد میں ڈیرے ڈال دیے اور متعلقہ افسران و سیاستدانوں کے درِ دولت کے دیوانہ وار چکر لگانے لگے۔ یوں مذکورہ بالا سیاستدانوں نے وسیب دوستی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر علاقے کے لوگوں کے درد کو اپنا درد سمجھتے ہوئے شبیر خان کو مایوس نہیں کیا۔ یوں بجٹ 2025-2026 میں اس سکیم کے پی سی ون کو ریوائیزڈ کرنے کے بعد جلد از جلد سرکاری اور انتظامی بنیادوں پر پر کام شروع کرنے کی خوشخبری دی جس کے لیۓ ہنگامی طور پر فی الوقت روڈز کی مینٹینینس اینڈ رپیئر کی مد سےفنڈز کے اجراء کی منظوری دی گئ ۔جو تھل دمان کے عوام کے لیۓ تازہ ہوا کا جھونکا ہے
یوں اس بڑے پراجیکٹ کا کریڈٹ نہ صرف مذکورہ بالا سیاستدانوں ، سول سوسائیٹی کے نمائندوں ، انجمن صحافیان؛ انجمن تاجران، سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس اور وسیب کے ایک ایک واسی کو جاتا ہے وہاں غلام شبیر خان جروار کا کردار روز روشن کی طرح عیاں ہے ۔ قصہ مختصر ہمارے نزدیک اس صدقہ جاریہ منصوبہ کا کریڈٹ ہر اس فرد کے نام ہے جس نے اپنی جیب سے دس روپے بھی چندہ دیا یا محض مٹی کی ایک کسی بھر کر جاۓ وقوعہ پر ڈالی ۔
نوٹ ۔۔
صاحب مضمون محترم ریاض قیصرانی سراءیکی وسیب کے معروف شاءر ۔ مصنف اور دانشور ہیں ۔ لیہ تونسہ پل بارے ان کی مذکورہ تحریر ان کے اپنے خیالات و احساسات اور نقطہ نظر پر مبنی ہے ، ادارہ کا متفق ہو نا ضروری نہیں ۔ اگر کوئی اور دوست لیہ تو نسہ پل میگا پراجیکٹ بارے اپنا نقطہ نظر پیش کرنا چا ہے ۔ ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے ۔
ادارہ صبح پا کستان








