لیّہ تونسہ پل کی اپروچ روڈ کا کریڈٹ کوئی بھی لے، کوئی مسئلہ نہیں—کریڈٹ خواہ پیر ثقلین لیں یا رفاقت گیلانی، مہر اعجاز اچلانہ لیں یا بشیر جروار،اہالیانِ لیہ کے لیے تویہ بھی حوصلہ افزا ہے کہ ہمارے نوجوان ایم این اے ملک اویس جکھڑ نے بھی اپنی بجٹ تقریر میں لیہ تونسہ پل کی اپروچ روڈ کے مطالبے پر بڑی جاندار گفتگو کی۔ انہوں نے اپنے سوال اور متعلقہ وزارت کی طرف سے فنڈز مختص کیے جانے کی یقین دہانی کا ذکر بھی کیا۔
ہماری ترجیح تو بس اتنی ہے کہ عوام کا مطالبہ پورا ہونا چاہیے۔ اب یہ ادھورا منصوبہ مکمل ہو تاکہ اربوں روپے کے بجٹ سے بننے والے اس پل سے عوام استفادہ کر سکیں۔
رواں ہفتے میں بہت ہی اچھی خبر جو سننے کو ملی وہ یہی تھی کہ این ایچ اے (NHA) کے ایگزیکٹو بورڈ نے اپروچ روڈ کے لیے فنڈز کی منظوری دے دی ہے اور بہت جلد رابطہ سڑکوں کی تعمیر کے کام کا آغاز ہو جائے گا
لیکن یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لیّہ تونسہ پل کے مشرقی گائیڈ بند کا کیا ہو گا جو پچھلے دنوں پانی میں بہہ گیا تھا ..کیا اس ٹوٹے ہوے بند کی بھی دوبارہ تعمیر ہو گی ..ایگزیکٹو بورڈ کے فیصلے میں رابطہ سڑکوں کا تو ذکر ہے اس بہہ جانے والے گائیڈ بند کا کوئی ذکرنہیں حا لا نکہ رابطہ سڑکوں کی تعمیر سے قبل یہ گائیڈ بند بننا ضروری ہے .
لیہ تو نسہ پل کے "مشرقی گائیڈ بند” کا پانی میں بہہ جانا کوئی معمولی حادثہ نہیں ہے، بلکہ یہ ہمارے نظامِ تعمیرات، مانیٹرنگ اور احتساب کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔ کروڑوں روپے کا عوامی سرمایہ سیکنڈوں میں دریا کی نذر ہو گیا، اخباری رپورٹس کے مطابق لیّہ تونسہ پل کے مشرقی گائیڈ بند ٹوٹنے سے 34 کروڑ سے زائد کا نقصان ہوا ..اگر سرکار اس بند کو دوبارہ تعمیر کرتی ہے جو ظاہر ہے تکنیکی لحاظ سے کرنا ضروری ہے نقصان کا تخمینہ پون ارب تک جا پہنچے گا , سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سنگین نقصان کا ذمہ دار کون ہے؟عین ممکن ہے مروجہ سرکاری طریقوں کے مطابق اب تک اسے "قدرتی آفت” یا "پانی کا غیر متوقع دباؤ” کہہ کر فائلوں میں دبانے کی کوششیں شروع ہو چکی ہو۔ لیکن اگر اس کا تیکنیکی اور انجینئرنگ کے اصولوں کے تحت جائزہ لیا جائے تو سچائی کچھ اور ہی کہانی بیان کرتی ہے۔ کسی بھی گائیڈ بند کا بنیادی مقصد ہی دریا کے بپھرے ہوئے پانی کے دباؤ کو برداشت کرنا اور پل کے ڈھانچے کو تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے۔ اگر یہ بند پانی کا پہلا بڑا دباؤ بھی برداشت نہیں کر سکا، تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یا تو نیسپاک اور متعلقہ کنسلٹنٹس نے اس کی ہائیڈرولوجیکل ڈیزائننگ میں فاش غلطیاں کیں، یا پھر تعمیراتی کمپنی اور ٹھیکیدار نے مٹیریل کے معیار میں سمجھوتہ کیا ۔ مٹی کے کٹاؤ کو روکنے والے پتھروں کا سائز اور وزن اگر طے شدہ معیار کے مطابق ہوتا، تو یہ حفاظتی بند یوں ریت کی دیوار ثابت نہ ہوتا۔
اس پورے منظرنامے میں ایک اور تیکنیکی پہلو تونسہ کے شہریوں کی "اپنی مدد آپ” کے تحت کی جانے والی مہم جوئی ہے۔ پل کی بندش اور طویل سفری کرب سے تنگ آکر مقامی آبادی نے دریا کے پاٹ میں مٹی ڈال کر ایک عارضی رابطہ راستہ بنا ڈالا اور اس پر ٹریفک چلا دی۔ بظاہر یہ اقدام عوامی جذبے اور مجبوری کا عکاس تھا،ہم اپنی مدد آپ کے تحت عارضی مٹی کا راستہ بنا کر پل کو فعال کرنے والے سماجی رہنماؤں کے خلوص جدوجہد کو سراہتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے لیکن قانوناً اور تیکنیکاً یہ ایک انتہائی خطرناک مہم جوئی تھی۔ ہائیڈرولک انجینئرنگ کا اصول ہے کہ جب ایسا عارضی مٹی کا بند پانی کے دباؤ سے اچانک ٹوٹتا ہے، تو پیچھے جمع شدہ پانی کا ایک شدید ریلا (Surge) انتہائی تیز رفتاری سے خارج ہوتا ہے , ہو سکتا ہے کہ دریا کے بیڈ پر بغیر کسی سائنسی سروے اور این او سی کے مٹی ڈالنے سے پانی کا قدرتی رخ تبدیل ہو گیا اور پانی کا سارا دباؤ سیدھا مشرقی گائیڈ بند کی طرف مڑ گیا ہو اوراس مٹی کے راستے کے اچانک بیٹھ جانے , ٹوٹ جانے یا عارضی راستہ توڑے دینے سے پیدا ہونے والے پانی کے خوفناک جھٹکے نے گائیڈ بند کی بنیادوں کو مزید کھوکھلا کیا اور وہ بہہ گیا۔کہا جاتا ہے کہ مبینہ طور پر گائیڈ بند بنانے والا ٹھیکیدار کام ادھوارا چھوڑ کر غائب ہو گیا تھا جس کی وجہ سے کروڑوں روپے کے بجٹ سے بننے والا یہ گائیڈ بند پانی میں بہہ گیا ۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ لیّہ تونسہ پل کا یہ مشرقی گائیڈ بند اس سے پہلے بھی ٹوٹ چکا ہے .علاقہ کی عوام کی طرف سے اس کمزور بند بارے تحریری درخواستیں بھی حکام بالا کو ارسال کی گئیں , اس ضمن میں عوامی حلقوں میں پیدا ہو نے والا یہ سوال بہت اہم ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور این ایچ اے کے انجینئرز کیوں خوابِ خرگوش میں سوئے رہے؟ انہوں نے اس تیکنیکی خطرے کو کیوں نہیں بھانپا؟حا لانکہ سو شل میڈ یا کے معروف ولاگر نیشنل اور لوکل پرنٹ میڈیا تسلسل کے ساتھ اس کمزور گائیڈ بند بارے خبریں دے رہے تھے اور اپنے خدشات کا اظہار کر رہے تھَے ۔
اب ایسے میں جب نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) نے لیّہ تونسہ پل کی رابطہ سڑکوں کی تعمیر کے لءے خطیر رقم مختص کی ہے اور بہت جلد اس منصوبے پر کام کے آغاز ہو نے کی خوشخبریاں بھی ہیں مگر کڑوا سچ یہ ہے کہ منصوبے کا مرکزی حفاظتی ڈھانچہ ہی غائب ہے۔ اگر مشرقی گائیڈ بند کی نئے سرے سے، تیکنیکی اصولوں کے مطابق اور مضبوط تعمیرِ نو نہ کی گئی، تو خد شہ ہے کہ اگلا سیلابی ریلا NHA کی ان نئی بننے والی رابطہ سڑکوں کو بھی اپنے ساتھ بہا لے جائے گا اور پورا بجٹ دوبارہ پانی میں ڈوب جائے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی انسپکشن ٹیم یا وفاقی سطح پر NHA کے غیر جانبدار ماہرین پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی تیکنیکی کمیٹی بنائی جائے جو اس پورے واقعے کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرے۔ ٹھیکیدار کی بدعنوانی، افسران کی لاپروائی اور عوامی مداخلت کے تیکنیکی اثرات کا کٹھا چٹھا سامنے لایا جائے۔ جب تک لیہ تو نسہ پل کے مشرقی گائیڈ بند کے ٹوٹنے اور کروڑوں روپے کے عوامی سرمائے کے دریا برد ہو نے پر سخت احتساب نہیں ہوگا اور ذمہ داروں کو نشانِ عبرت نہیں بنایا جائے گا، تب تک ہمارے قومی منصوبے یوں ہی کرپشن اور نااہلی کے سیلاب میں بہتے رہیں گے۔







