ہمارے قلم میں سلیقہء اظہار کہاں کہ خانوادہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، جگر گوشہء بتول س ع فرزند حیدر کرار ع س کی ذات باکمال و بے مثال پر کچھ لکھا جائے یہ وہ عظیم الشان ہستی ہیں جن کے بارے میں خود سرور کونین، ہادی مذنبین، شافعی روز محشر، امام الانبیاء، خاتم النبیین، رحمت العالمین نے فرمایا کہ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اس اعلان حق کے بعد کون بدنصیب اپنا ایمان ادھورا چھوڑ ے گا، بجز یقین کامل ہماری بخششِ اسی میں ہے، الحمدللہ رب العالمین ۔
یہ فرمان نبوی سننے کے بعد ہم بار بار اعادہ کرتے رہتے ہیں کہ
ہم سے رقم نہ ہوں گے قصیدے یزید کے
ہم لوگ تو حسین کے سیرت نگار ہیں،
یہ دل افروز شعر ہمارے پیارے دوست پروفیسر تنویر الحسن مرزا بھی پڑھا کرتے تھے، مرحوم کے علم، ادب اور انسانیت کا زمانہ معترف ہے اللہ تعالیٰ انہیں جنت کے اعلیٰ ترین اعزاز عطا فرمائے،
تاریخ عالم نے دیکھا کہ جنت کے سردار نے اپنے معصوم بچوں سمیت بہتر جانثاروں کی معیت میں دین اسلام کے لیے ایسی بےمثال قربانی پیش کی جو رہتی دنیا تک بے نظیر ہے، امام عالی مقام کی شہادت
قتل حسین،اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد،،
یزیدیت کا تسلسل گرچہ آج بھی موجود ہے اور تاقیامت جاری رہےگا لیکن سنت حسین ع س کو دھرانے کے لیے ضروری ہے کہ
گھٹنے نہ ٹیک دے کوئی باطل کے سامنے
بچوں کو سناتے رہو قصہ حسین کا ۔
بیشک زندگی کا تو کوئی اعتبار نہیں لیکن موت کا ہمیں پکا یقین ہے، دوران حیات،وقت نزاع، قبر میں اور حشر میں ہماری متاع تو بس محبت مصطفیٰ ص اور محبت اہل مصطفیٰ ہے ،
یوں تو دنیا بھر میں یزیدیت کا عملی پرچار کیا جا رہا ہے لیکن اس عالم ابتلاء میں بھی
ہراک ذہن میں ہے کچھ نہ کچھ تصور حق
ہم اس تصور حق کو حسین ع س کہتے ہیں ۔
شہادت امام حسین و جانثاران اہل بیت کی کہانی گرچہ چودہ سو سال پہلے کی بات ہے لیکن خالق حقیقی نے اس کی جاودانی کا خود اہتمام و انتظام کر دیا ہے کہ یہ محبت، عقیدت میں ڈھل کر ایمان بن چکی ہے ۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں
حسین تم نہیں رہے تمہارا گھر نہیں رہا
مگر تمہارے بعد ظالموں کا ڈر نہیں رہا
مدینہ و نجف سے کربلا تک اک سلسلہ
ادھر جو آ گیا وہ پھر ادھر اُدھر نہیں رہا،
صداءاستغاثہ حسین کے جواب میں
جو حرف بھی رقم ہواوہ ہے اثر نہیں رہا
صفیں جمیں تو کربلا میں بات کھل کے آ گئی
کوئی بھی حیلہء نفاق کارگر نہیں رہا۔
بس ایک نام ان کا نام اور ان کی نسبتیں
جز ان کے پھر کسی کا دھیان عمر بھر نہیں رہا
کوئی بھی ہوکسی طرف کا ہو کسی نسب کا ہو
جو تم سے منحرف ہو ا وہ معتبر نہیں رہا
جناب افتخار عارف کے اشعار کے بعد خالق کائنات و مالک دو جہاں سے ارداس ہے کہ وہ ہم کمزور و نادان لوگوں کو اپنے خاص کرم سے وہ شعور و آگہی عطا فرمائے جو ہر لحاظ سے دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر نے کا ذریعہ بنے،،، آمین یارب العالمین








