• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

کالم "بلا مبالغہ ".. "بستیاں , جنگل اور انسان”, تحریر .. انجم صحرائی

webmaster by webmaster
جون 13, 2026
in کالم
0
کالم "بلا مبالغہ "..   "بستیاں , جنگل اور انسان”,  تحریر .. انجم صحرائی

کائنات کی وسعتوں پر نظر دوڑائیں تو ایک عجیب اور کڑوا سچ سامنے آتا ہے کہ انسان کے سوا کوئی دوسری مخلوق کسی دوسری مخلوق کو دل کی خوشی یا ظرف سے برداشت نہیں کرتی۔ چرند، پرند اور جنگل کی دنیا کو اگر ہم بہت قریب سے دیکھیں، تو وہاں بظاہر امن کا جو تاثر ملتا ہے، اس کے پیچھے کوئی اخلاقی شعور یا محبت نہیں، بلکہ صرف بقا کی جنگ، مفادات کا اشتراک اور جبلت کام کر رہی ہوتی ہے۔ پرندے اگر ایک ساتھ دانہ چگتے ہیں تو اس لیے کہ زیادہ آنکھیں شکاری کو جلدی دیکھ سکیں، اور اگر وہ آپس میں کم لڑتے ہیں تو اس لیے نہیں کہ وہ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ لڑائی میں توانائی ضائع ہوتی ہے اور زخمی ہونے کا مطلب موت ہے۔ جنگل میں بھی جبلت کا یہی اصول کارفرما ہے۔ وہاں آپس کی لڑائی کے بجائے طاقتور کا کمزور پر غلبہ اور ظلم ہی سب سے بڑی حقیقت ہے، جہاں کمزور جانور صرف اپنی جان بچانے کی مجبوری کے تحت غول بنا کر اکٹھے رہتے ہیں۔

لیکن المیہ یہ ہے کہ جب ہم چرند، پرند اور جنگل کے اس نظام کا موازنہ آج کے انسانی معاشرے سے کرتے ہیں، تو انسان اور جنگل کی بستیوں کا فرق مٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ آج کا انسان اپنے سے کمزور سے جینے کا حق، اس کی روٹی, اس کا سکون اور اس کی آزادی چھیننے میں مصروف ہے۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ انسان کا یہ روپ جنگل کے درندوں سے بھی زیادہ خوفناک ہو چکا ہے۔ جنگل کا شیر پیٹ بھرنے کے بعد شکار نہیں کرتا، وہاں ظلم کی ایک حد ہے، لیکن انسان کے مادی لالچ اور ہوس کی کوئی حد نہیں۔ جنگل کا درندہ منافقت نہیں کرتا، وہ حقوق اور انصاف کے جھوٹے دعوے نہیں کرتا، جبکہ انسان زبان سے ہمدردی کے نعرے لگاتا ہے اور عمل میں کمزور کو کچلنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ جب انسانی بستیاں ہی جنگل بن جائیں اور ‘طاقتور کا حق’ (مائٹ از رائٹ) معاشرے کا غیر مکتوب قانون بن جائے، تو پھر اخلاقیات دم توڑ دیتی ہیں۔

اس مادی اندھیرے اور معاشرتی بگاڑ میں انسان کو دوبارہ "انسان” بنانے، اسے تہذیب سکھانے اور کمزور کو جینے کا حق دلانے کے لیے تاریخِ انسانی میں ہمیشہ "مذہب” نے سب سے کلیدی اور انقلابی کردار ادا کیا ہے۔ انسان جب اپنے اندر کے درندے کے ہاتھوں مجبور ہو کر بستیوں کو جنگل بنانے نکلا، تو الہامی مذاہب نے آ کر اس کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکا۔

اگر ہم یہودیت, مسیحیت اور اسلام سمیت دنیا کے بڑے الہامی مذاہب کی اصل روح کو دیکھیں، تو ان کے اندر انسانیت اور امن کا ایک ہی مشترکہ سرچشمہ نظر آتا ہے۔ ان تمام مذاہب نے انسان کو ایک قادرِ مطلق کے سامنے جوابدہی اور آخرت کا تصور دیا، جس نے انسان کے اندر ایک روحانی چوکیدار یعنی "ضمیر” بیدار کیا کہ کوئی دیکھے نہ دیکھے، خالق دیکھ رہا ہے۔ ان تمام مذاہب نے انسانی جان کی حرمت کو مقدم جانا؛ جہاں یہودیت کی بنیادی احکامات میں "قتل نہ کرنے” کا حکم ہے، مسیحیت میں محبت و درگزر کی تعلیم ہے، وہیں اسلام نے واضح کیا کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔

ان تمام مذاہب نے کمزوروں، یتیموں اور مسکینوں کا ہاتھ تھامنے کو فرض قرار دیا اور تاریخ کو وہ سنہری اصول دیا کہ: "دوسروں کے لیے بھی وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو”۔ جھوٹ، چوری، بدکاری اور ناانصافی کو ہر شریعت نے گناہِ کبیرہ قرار دیا۔ ان تمام الہامی تعلیمات کا نچوڑ صرف ایک ہی جملہ ہے
"خالق کی بندگی اور مخلوق پر رحم”

آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے مذہب کو صرف چند بے روح رسومات تک محدود کر دیا ہے اور اس کی اصل روح—یعنی اخلاقیات، عدل اور حقوق العباد—کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ ہم نے کتابیں تو الماریوں میں سجا لیں، لیکن ان کے قوانین کو اپنے رویوں سے خارج کر دیا۔ اگر انسان آج بھی دنیا کی بستیوں سے جنگل کا قانون ختم کرنا چاہتا ہے، تو اسے انہی مشترکہ اخلاقی اور الہامی اقدار کی طرف لوٹنا ہوگا، کیونکہ جب تک فرد کا ضمیر بیدار نہیں ہوگا، معاشرتی انقلاب محض ایک خواب رہے گا۔

Post Views: 41
Tags: column by anjum sehrai
Previous Post

صبح پا کستان ، مستقل کالم ،بلا مبا لغہ ۔ کشمیر شہ رگ , پاکستان لہو لہو . تحریر ۔۔انجم صحرائی

Next Post

ڈیرہ غازی خان ۔محکمہ جنگلات پنجاب میں فارسٹ رینجرز اور انسپکٹر فارسٹ کی بھرتی کا عمل مکمل ، 102 امیدوار منتخب

Next Post
ڈیرہ غازی خان ۔محکمہ جنگلات پنجاب میں فارسٹ رینجرز اور انسپکٹر فارسٹ کی بھرتی کا عمل مکمل ،   102 امیدوار منتخب

ڈیرہ غازی خان ۔محکمہ جنگلات پنجاب میں فارسٹ رینجرز اور انسپکٹر فارسٹ کی بھرتی کا عمل مکمل ، 102 امیدوار منتخب

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر  ملتان میں کھلی کچہری،چیئرپرسن وزیر اعلیٰ شکایات سیل صائمہ فاروق  نے شہریوں کی شکایات سنیں
قومی/ بین الاقوامی خبریں

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر ملتان میں کھلی کچہری،چیئرپرسن وزیر اعلیٰ شکایات سیل صائمہ فاروق نے شہریوں کی شکایات سنیں

by webmaster
جون 14, 2026
0

لاہور{ صبح پا کستان} وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پروزیراعلی شکایات سیل کی ٹیم نے ضلع ملتان...

Read moreDetails
اس بجٹ میں غریب کے لیے کچھ بھی نہیں: بیرسٹر گوہر

اس بجٹ میں غریب کے لیے کچھ بھی نہیں: بیرسٹر گوہر

جون 13, 2026
قومی اسمبلی کا اجلاس 10 جون بروز بدھ شام 5 بجے اسلام آباد میں ہوگا

قومی اسمبلی کا اجلاس 10 جون بروز بدھ شام 5 بجے اسلام آباد میں ہوگا

جون 10, 2026
کوئٹہ  ،تیزاب گردی، سول اسپتال میں خاتون ڈاکٹرپر تیزاب پھینکنے والاملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ، خاتون ڈاکٹر شدید زخمی

کوئٹہ ،تیزاب گردی، سول اسپتال میں خاتون ڈاکٹرپر تیزاب پھینکنے والاملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ، خاتون ڈاکٹر شدید زخمی

جون 7, 2026
ڈیرہ غازی خان ۔اتحاد بین المسلمین استحکام پاکستان کی ضمانت ہے۔ علماء کرام محراب و منبر سے امن، محبت، رواداری اور اخوت کا پیغام  دیں ۔مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد

ڈیرہ غازی خان ۔اتحاد بین المسلمین استحکام پاکستان کی ضمانت ہے۔ علماء کرام محراب و منبر سے امن، محبت، رواداری اور اخوت کا پیغام دیں ۔مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد

جون 4, 2026
کائنات کی وسعتوں پر نظر دوڑائیں تو ایک عجیب اور کڑوا سچ سامنے آتا ہے کہ انسان کے سوا کوئی دوسری مخلوق کسی دوسری مخلوق کو دل کی خوشی یا ظرف سے برداشت نہیں کرتی۔ چرند، پرند اور جنگل کی دنیا کو اگر ہم بہت قریب سے دیکھیں، تو وہاں بظاہر امن کا جو تاثر ملتا ہے، اس کے پیچھے کوئی اخلاقی شعور یا محبت نہیں، بلکہ صرف بقا کی جنگ، مفادات کا اشتراک اور جبلت کام کر رہی ہوتی ہے۔ پرندے اگر ایک ساتھ دانہ چگتے ہیں تو اس لیے کہ زیادہ آنکھیں شکاری کو جلدی دیکھ سکیں، اور اگر وہ آپس میں کم لڑتے ہیں تو اس لیے نہیں کہ وہ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ لڑائی میں توانائی ضائع ہوتی ہے اور زخمی ہونے کا مطلب موت ہے۔ جنگل میں بھی جبلت کا یہی اصول کارفرما ہے۔ وہاں آپس کی لڑائی کے بجائے طاقتور کا کمزور پر غلبہ اور ظلم ہی سب سے بڑی حقیقت ہے، جہاں کمزور جانور صرف اپنی جان بچانے کی مجبوری کے تحت غول بنا کر اکٹھے رہتے ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جب ہم چرند، پرند اور جنگل کے اس نظام کا موازنہ آج کے انسانی معاشرے سے کرتے ہیں، تو انسان اور جنگل کی بستیوں کا فرق مٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ آج کا انسان اپنے سے کمزور سے جینے کا حق، اس کی روٹی, اس کا سکون اور اس کی آزادی چھیننے میں مصروف ہے۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ انسان کا یہ روپ جنگل کے درندوں سے بھی زیادہ خوفناک ہو چکا ہے۔ جنگل کا شیر پیٹ بھرنے کے بعد شکار نہیں کرتا، وہاں ظلم کی ایک حد ہے، لیکن انسان کے مادی لالچ اور ہوس کی کوئی حد نہیں۔ جنگل کا درندہ منافقت نہیں کرتا، وہ حقوق اور انصاف کے جھوٹے دعوے نہیں کرتا، جبکہ انسان زبان سے ہمدردی کے نعرے لگاتا ہے اور عمل میں کمزور کو کچلنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ جب انسانی بستیاں ہی جنگل بن جائیں اور 'طاقتور کا حق' (مائٹ از رائٹ) معاشرے کا غیر مکتوب قانون بن جائے، تو پھر اخلاقیات دم توڑ دیتی ہیں۔ اس مادی اندھیرے اور معاشرتی بگاڑ میں انسان کو دوبارہ "انسان" بنانے، اسے تہذیب سکھانے اور کمزور کو جینے کا حق دلانے کے لیے تاریخِ انسانی میں ہمیشہ "مذہب" نے سب سے کلیدی اور انقلابی کردار ادا کیا ہے۔ انسان جب اپنے اندر کے درندے کے ہاتھوں مجبور ہو کر بستیوں کو جنگل بنانے نکلا، تو الہامی مذاہب نے آ کر اس کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکا۔ اگر ہم یہودیت, مسیحیت اور اسلام سمیت دنیا کے بڑے الہامی مذاہب کی اصل روح کو دیکھیں، تو ان کے اندر انسانیت اور امن کا ایک ہی مشترکہ سرچشمہ نظر آتا ہے۔ ان تمام مذاہب نے انسان کو ایک قادرِ مطلق کے سامنے جوابدہی اور آخرت کا تصور دیا، جس نے انسان کے اندر ایک روحانی چوکیدار یعنی "ضمیر" بیدار کیا کہ کوئی دیکھے نہ دیکھے، خالق دیکھ رہا ہے۔ ان تمام مذاہب نے انسانی جان کی حرمت کو مقدم جانا؛ جہاں یہودیت کی بنیادی احکامات میں "قتل نہ کرنے" کا حکم ہے، مسیحیت میں محبت و درگزر کی تعلیم ہے، وہیں اسلام نے واضح کیا کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ ان تمام مذاہب نے کمزوروں، یتیموں اور مسکینوں کا ہاتھ تھامنے کو فرض قرار دیا اور تاریخ کو وہ سنہری اصول دیا کہ: "دوسروں کے لیے بھی وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو"۔ جھوٹ، چوری، بدکاری اور ناانصافی کو ہر شریعت نے گناہِ کبیرہ قرار دیا۔ ان تمام الہامی تعلیمات کا نچوڑ صرف ایک ہی جملہ ہے "خالق کی بندگی اور مخلوق پر رحم" آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے مذہب کو صرف چند بے روح رسومات تک محدود کر دیا ہے اور اس کی اصل روح—یعنی اخلاقیات، عدل اور حقوق العباد—کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ ہم نے کتابیں تو الماریوں میں سجا لیں، لیکن ان کے قوانین کو اپنے رویوں سے خارج کر دیا۔ اگر انسان آج بھی دنیا کی بستیوں سے جنگل کا قانون ختم کرنا چاہتا ہے، تو اسے انہی مشترکہ اخلاقی اور الہامی اقدار کی طرف لوٹنا ہوگا، کیونکہ جب تک فرد کا ضمیر بیدار نہیں ہوگا، معاشرتی انقلاب محض ایک خواب رہے گا۔
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.