کائنات کی وسعتوں پر نظر دوڑائیں تو ایک عجیب اور کڑوا سچ سامنے آتا ہے کہ انسان کے سوا کوئی دوسری مخلوق کسی دوسری مخلوق کو دل کی خوشی یا ظرف سے برداشت نہیں کرتی۔ چرند، پرند اور جنگل کی دنیا کو اگر ہم بہت قریب سے دیکھیں، تو وہاں بظاہر امن کا جو تاثر ملتا ہے، اس کے پیچھے کوئی اخلاقی شعور یا محبت نہیں، بلکہ صرف بقا کی جنگ، مفادات کا اشتراک اور جبلت کام کر رہی ہوتی ہے۔ پرندے اگر ایک ساتھ دانہ چگتے ہیں تو اس لیے کہ زیادہ آنکھیں شکاری کو جلدی دیکھ سکیں، اور اگر وہ آپس میں کم لڑتے ہیں تو اس لیے نہیں کہ وہ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ لڑائی میں توانائی ضائع ہوتی ہے اور زخمی ہونے کا مطلب موت ہے۔ جنگل میں بھی جبلت کا یہی اصول کارفرما ہے۔ وہاں آپس کی لڑائی کے بجائے طاقتور کا کمزور پر غلبہ اور ظلم ہی سب سے بڑی حقیقت ہے، جہاں کمزور جانور صرف اپنی جان بچانے کی مجبوری کے تحت غول بنا کر اکٹھے رہتے ہیں۔
لیکن المیہ یہ ہے کہ جب ہم چرند، پرند اور جنگل کے اس نظام کا موازنہ آج کے انسانی معاشرے سے کرتے ہیں، تو انسان اور جنگل کی بستیوں کا فرق مٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ آج کا انسان اپنے سے کمزور سے جینے کا حق، اس کی روٹی, اس کا سکون اور اس کی آزادی چھیننے میں مصروف ہے۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ انسان کا یہ روپ جنگل کے درندوں سے بھی زیادہ خوفناک ہو چکا ہے۔ جنگل کا شیر پیٹ بھرنے کے بعد شکار نہیں کرتا، وہاں ظلم کی ایک حد ہے، لیکن انسان کے مادی لالچ اور ہوس کی کوئی حد نہیں۔ جنگل کا درندہ منافقت نہیں کرتا، وہ حقوق اور انصاف کے جھوٹے دعوے نہیں کرتا، جبکہ انسان زبان سے ہمدردی کے نعرے لگاتا ہے اور عمل میں کمزور کو کچلنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ جب انسانی بستیاں ہی جنگل بن جائیں اور ‘طاقتور کا حق’ (مائٹ از رائٹ) معاشرے کا غیر مکتوب قانون بن جائے، تو پھر اخلاقیات دم توڑ دیتی ہیں۔
اس مادی اندھیرے اور معاشرتی بگاڑ میں انسان کو دوبارہ "انسان” بنانے، اسے تہذیب سکھانے اور کمزور کو جینے کا حق دلانے کے لیے تاریخِ انسانی میں ہمیشہ "مذہب” نے سب سے کلیدی اور انقلابی کردار ادا کیا ہے۔ انسان جب اپنے اندر کے درندے کے ہاتھوں مجبور ہو کر بستیوں کو جنگل بنانے نکلا، تو الہامی مذاہب نے آ کر اس کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکا۔
اگر ہم یہودیت, مسیحیت اور اسلام سمیت دنیا کے بڑے الہامی مذاہب کی اصل روح کو دیکھیں، تو ان کے اندر انسانیت اور امن کا ایک ہی مشترکہ سرچشمہ نظر آتا ہے۔ ان تمام مذاہب نے انسان کو ایک قادرِ مطلق کے سامنے جوابدہی اور آخرت کا تصور دیا، جس نے انسان کے اندر ایک روحانی چوکیدار یعنی "ضمیر” بیدار کیا کہ کوئی دیکھے نہ دیکھے، خالق دیکھ رہا ہے۔ ان تمام مذاہب نے انسانی جان کی حرمت کو مقدم جانا؛ جہاں یہودیت کی بنیادی احکامات میں "قتل نہ کرنے” کا حکم ہے، مسیحیت میں محبت و درگزر کی تعلیم ہے، وہیں اسلام نے واضح کیا کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔
ان تمام مذاہب نے کمزوروں، یتیموں اور مسکینوں کا ہاتھ تھامنے کو فرض قرار دیا اور تاریخ کو وہ سنہری اصول دیا کہ: "دوسروں کے لیے بھی وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو”۔ جھوٹ، چوری، بدکاری اور ناانصافی کو ہر شریعت نے گناہِ کبیرہ قرار دیا۔ ان تمام الہامی تعلیمات کا نچوڑ صرف ایک ہی جملہ ہے
"خالق کی بندگی اور مخلوق پر رحم”
آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے مذہب کو صرف چند بے روح رسومات تک محدود کر دیا ہے اور اس کی اصل روح—یعنی اخلاقیات، عدل اور حقوق العباد—کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ ہم نے کتابیں تو الماریوں میں سجا لیں، لیکن ان کے قوانین کو اپنے رویوں سے خارج کر دیا۔ اگر انسان آج بھی دنیا کی بستیوں سے جنگل کا قانون ختم کرنا چاہتا ہے، تو اسے انہی مشترکہ اخلاقی اور الہامی اقدار کی طرف لوٹنا ہوگا، کیونکہ جب تک فرد کا ضمیر بیدار نہیں ہوگا، معاشرتی انقلاب محض ایک خواب رہے گا۔








