• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
SB2425
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

نواز شریف، تین نسلیں، ایک پل … تحریر: انجم صحرائی

webmaster by webmaster
جون 7, 2026
in کالم
0
نواز شریف، تین نسلیں، ایک پل  … تحریر: انجم صحرائی

دریائے سندھ کی بپھری ہوئی لہریں جب مٹی کے پشتے کاٹتی ہیں، تو صرف زمین کا کٹاؤ نہیں ہوتا، بلکہ اس خطے کے غریب عوام کی امیدوں، خوابوں اور حکمرانوں پر اعتماد کا خون ہوتا ہے۔ویسے تو دریائی کٹاءو ایک عرصے سے لیہ نشیب کا مقدر بنا ہوا ہے ، بیسیوں بستیاں دریا برد ہو چکی ہیں کہہ سکتے ہیں کہ لیہ نشیب میں درائی کٹاء و کوئی انہونی خبر نہیں ؛لیکن آج سوشل میڈیا اور مقامی اخبارات سے ملنے والی یہ اطلاع کہ لیہ تونسہ پل کا سرکاری گائیڈ بند ٹوٹ چکا ہے، لیہ تونسہ پل کے ٹوٹنے والے اس شرقی گائیڈ کےاس بند کی دوبار مرمت کی گئی سرکار کے لگ بھگ 35 کروڑ کی خطیر رقم خرچ ہو ئی ، بند پھر بھی ٹوٹ گیا ،یہ المیہ دراصل ہمارے نظام کی نااہلی اور بیو روکریسی کی مجرمانہ سستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ گو یہ خبر غیر متوقع نہیں تھی لیکن مجھے کروڑوں روپے کے اس نئے نقصان سے زیادہ دکھ اس خطے کے ساتھ ہونے والے اس مذاق پر ہوا جو پچھلی چار دہائیوں سے جاری ہے۔
میری صحافتی زندگی کی یادداشتیں مجھے ساڑھے تین دہائیاں پیچھے لے جاتی ہیں۔ سال 1988ء تھا، جب میاں نواز شریف صاحب بطور وزیر اعلیٰ پنجاب لیہ کے دورے پر آئے تھے۔ اس تاریخی دن، "صبحِ پاکستان” کے لیے اس پورے دورے کی کوریج کی ذمہ داری میرے کندھوں پر تھی۔ مجھے یاد ہے، جب میاں صاحب نے لیہ اور تونسہ کے عوام کو آپس میں ملانے والے اس عظیم الشان پل کا پہلا تاریخی اعلان کیا تھا، تو کوٹلہ حاجی شاہ کے میلہ گراؤنڈ میں موجود ہزاروں لوگوں کی آنکھوں میں اپنے پسماندہ خطے کی تقدیر بدلنے کی چمک تھی۔ ان پرجوش چہروں میں میرا اپنا بڑا بیٹا بھی شامل تھا، جس کی عمر اس وقت محض 14 یا 15 سال تھی اور وہ گراؤنڈ میں میاں صاحب کو سلامی دینے والے لیہ پبلک سکول کے معصوم بچوں کے اس گروپ کا حصہ تھا۔
آج سن 2026ء آ چکا ہے۔ وقت کا پہیہ گھوما اور پورے 38 سال بیت گئے۔ میرا وہ 14 سال کا بچہ آج خود ایک بیٹے کا باپ ہے جس کی عمر 14/15 سال ہے ، یعنی میرا پوتا جو ہمارے خاندان کی تیسری جنریشن ہے جو لیہ تونسہ پل کے خواب سے جڑی ہے ۔۔
میاں صاحب! ذرا سوچیے، ایک پوری نسل جوان سے بوڑھی ہو گئی، دوسری نسل جوان ہو گئی، لیکن آپ کا وہ وعدہ آج بھی ادھورا ہے۔ کیا دنیا کی تاریخ میں کسی پل کے انتظار کی اس سے بڑی اور دردناک مثال مل سکتی ہے جہاں دادا، باپ اور پوتا تین نسلیں ایک ہی پل کے مکمل ہونے کی منتظر ہوں؟
ایسا لگتا ہے کہ حکمران شاید اس منصوبے کی تزویراتی اور معاشی اہمیت سے بالکل ناواقف ہیں۔ یہ پل محض دو اضلاع کا ملاپ نہیں، بلکہ یہ انڈس ہائی وے (N-55) کو سی پیک موٹروے نیٹ ورک سے جوڑنے والا سب سے بڑا اور تیز ترین لنک ہے۔ یہی انڈس ہائی وے آگے جا کر ڈیرہ اسماعیل خان (یارک) موٹروے سے جڑتی ہے جو کہ CPEC کی مغربی الائنمنٹ ہے۔ اس پل کے فعال ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بلوچستان، کراچی اور کے پی کے سے آنے والی بھاری تجارتی ٹریفک انڈس ہائی وے کے راستے اس پل کو پار کرے گی اور سیدھی پنڈی بھٹیاں-ملتان موٹروے (M-4) پر پہنچ جائے گی۔ یہ پورا وسیب اور ملک کی معیشت کے لیے ایک عظیم گیم چینجر منصوبہ ہے۔
لیکن افسوس، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) نے اربوں روپے کی خطیر لاگت سے دریا کے بیچوں بیچ مرکزی پل کا ڈھانچہ تو کھڑا کر دیا، لیکن دونوں اطراف کی رابطہ سڑکیں بنانا بھول اور ادھورے حفاظتی پشتے (Guide Banks) مکمل کرنا بھول گءی ۔ کہا جاتا کہ ٹھیکیدار کروڑوں خرچ کر کے کام چھوڑ کر بھاگ گیا ۔ کیوں ؟ اس سوال کا جواب تو متعلقہ ادارے ہی بتا سکتے لیکن یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کروڑوں کا محل بنا کر اس کا دروازہ لگانا بھول جائے .
اسی مجرمانہ غفلت سے تنگ آ کر، جنوری 2026ء میں تونسہ کے معروف سماجی کارکن بشیر جروار نے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر اپنی مدد آپ کے تحت بھاری مشینری کا بندوبست کر کے مٹی کا ایک عارضی رابطہ راستہ بھی بنایا تاکہ عوام کو آسان سفری سہولت مہیا ہو ۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اپنی مدد آپ کے تحت بناءے جانے والے اس کچےراستہ کی تعمیر میں لیہ سے سابق صوبائی وزیر مہر اعجاز احمد اچلانہ اور دیگر عوامی حلقوں نے بھی بھرپور کردار ادا کیا لیکن عوام کا جذبہ اپنی جگہ، دریا کے سرکش مزاج کے آگے مٹی کی دیوار بھلا کب تک ٹکتی؟ وہ کچا راستہ بھی بہہ گیا اور آج سرکاری گائیڈ بند بھی ٹوٹ کر دریا برد ہو گیا، جس سے قریبی ساحلی بستیاں ایک بار پھر سیلاب کے خطرے سے دوچار ہیں
یہ بھی کڑوا سچ ہے کہ لیہ تونسہ پل کے نام پرسیاسیوں نے لیہ وسیب کی عوام کو ہمیشہ لالی پاپ ہی دیا سیاسی وعدہ خلافیوں کی یہ داستان بہت ظویل ہے ۔ ابھی چند ماہ قبل وفاقی وزیرِ مواصلات اور نجکاری عبدالعلیم خان صاحب نے بھی لیہ کا دورہ فرمایا۔ انہوں نے اپنے پارٹی جلسہ میں بڑے بلند و بانگ دعوے کیے، NHA کے اس منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کا مژدہ سنایا، لیکن افسوس کہ ان کا یہ وعدہ بھی سابقہ حکمرانوں کی طرح محض ایک سراب ثابت ہوا ۔
جون کا مہینہ ہے، اسلام آباد اور لاہور کے ٹھنڈے ایوانوں میں وفاقی اور صوبائی بجٹ (2026-27) کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے کی ریوڑیاں بانٹی جا رہی ہیں۔ قائد مسلم لیگ میاں محمد نواز شریف کا وعدہ لیہ تونسہ پل میگا پراجیکٹ کا وعدہ تاہنوز سرخ فیتے کا شکار ہے ۔۔ کیوں ؟
میں بصد ادب و احترام وزیر اعظم میاں شہباز شریف، میاں نواز شریف اور وفاقی وزیر علیم خان سے یہ سوال کرتا ہوں: کیا لیہ اور تونسہ کے غریب عوام اس ملک کے شہری نہیں؟ کیا ہمارے ٹیکسوں کا پیسہ صرف بڑی بڑی موٹرویز اور میٹرو بسوں کے لیے ہے؟
لیّہ تونسہ کی عوام مطالبہ کرتے ہیں کہ آنے والے اس بجٹ میں لیہ تونسہ پل کی اپروچ روڈز اور گائیڈ بندز کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فنڈز مختص کیے جائیں۔ لیہ تونسہ پل کو مکمل کیا جاے ۔
میں اس سے قبل بھی سوشل میڈیا پر تسلسل کے ساتھ اس عوامی مطالبہ کو اجاگر کر تارہا ہوں ، لیہ اور تونسہ کے عوام آج بھی سمجھتے ہیں کہ یہ میگا پراجیکٹ صرف اور صرف میاں نواز شریف صاحب کی ذاتی دلچسپی سے ہی مکمل ہو سکتا ہے۔
میاں نواز شریف صاحب! تاریخ کا انصاف اور حسنِ کرشمہ بھی یہی کہتا ہے کہ جس عظیم منصوبے کا سنگِ بنیاد اور اعلان 38 سال پہلے آپ کے ہاتھوں ہوا تھا، اس کی تکمیل کا فائنل افتتاح بھی آپ ہی کے ہاتھوں ہو۔ یہ آپ کا اپنی سیاسی تاریخ اور اس مٹی کے ساتھ ایک قرض ہے جو اب چکانے کا وقت آ گیا ہے۔ تاکہ لیہ تونسہ کے لوگوں کا دیرینہ خواب پورا ہو، وسیب کی ترقی ہو اور عوام کو بہترین سفری سہولتیں ملیں!خدارا، اب ہمیں مزید کسی چوتھی نسل کا انتظار مت دیجیے

انجم صحرائی

Post Views: 252
Tags: column by anjum sehrai
Previous Post

ملتان ۔ پنجاب لیگل ایڈ ایجنسی کے پلیٹ فارم سے مستحق افراد کو مکمل قانونی معاونت کی فراہمی یقینی بنائی جاءے ۔ سیکرٹری پراسیکیوشن پنجاب سلمان غنی

Next Post

کوئٹہ ،تیزاب گردی، سول اسپتال میں خاتون ڈاکٹرپر تیزاب پھینکنے والاملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ، خاتون ڈاکٹر شدید زخمی

Next Post
کوئٹہ  ،تیزاب گردی، سول اسپتال میں خاتون ڈاکٹرپر تیزاب پھینکنے والاملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ، خاتون ڈاکٹر شدید زخمی

کوئٹہ ،تیزاب گردی، سول اسپتال میں خاتون ڈاکٹرپر تیزاب پھینکنے والاملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ، خاتون ڈاکٹر شدید زخمی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف
قومی/ بین الاقوامی خبریں

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

by webmaster
جولائی 19, 2026
0

لاہور {صبح پا کستان }وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نیلسن منڈیلا کے عالمی دن پراپنے پیغام میں کہاہے کہ...

Read moreDetails
آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

جولائی 11, 2026
سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم  ?

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم ?

جولائی 8, 2026
حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے،  سلمان اکرم راجا

حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے، سلمان اکرم راجا

جولائی 3, 2026
مریم نواز کا سڑکوں کی تعمیرو مرمت مالی سال کے آخر تک مکمل کرنے کا حکم

"شاباش ٹیم پنجاب”، "الحمدللہ امسال بھی محرم الحرام پرامن، باوقار اورمنظم رہا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

جون 27, 2026
دریائے سندھ کی بپھری ہوئی لہریں جب مٹی کے پشتے کاٹتی ہیں، تو صرف زمین کا کٹاؤ نہیں ہوتا، بلکہ اس خطے کے غریب عوام کی امیدوں، خوابوں اور حکمرانوں پر اعتماد کا خون ہوتا ہے۔ویسے تو دریائی کٹاءو ایک عرصے سے لیہ نشیب کا مقدر بنا ہوا ہے ، بیسیوں بستیاں دریا برد ہو چکی ہیں کہہ سکتے ہیں کہ لیہ نشیب میں درائی کٹاء و کوئی انہونی خبر نہیں ؛لیکن آج سوشل میڈیا اور مقامی اخبارات سے ملنے والی یہ اطلاع کہ لیہ تونسہ پل کا سرکاری گائیڈ بند ٹوٹ چکا ہے، لیہ تونسہ پل کے ٹوٹنے والے اس شرقی گائیڈ کےاس بند کی دوبار مرمت کی گئی سرکار کے لگ بھگ 35 کروڑ کی خطیر رقم خرچ ہو ئی ، بند پھر بھی ٹوٹ گیا ،یہ المیہ دراصل ہمارے نظام کی نااہلی اور بیو روکریسی کی مجرمانہ سستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ گو یہ خبر غیر متوقع نہیں تھی لیکن مجھے کروڑوں روپے کے اس نئے نقصان سے زیادہ دکھ اس خطے کے ساتھ ہونے والے اس مذاق پر ہوا جو پچھلی چار دہائیوں سے جاری ہے۔ میری صحافتی زندگی کی یادداشتیں مجھے ساڑھے تین دہائیاں پیچھے لے جاتی ہیں۔ سال 1988ء تھا، جب میاں نواز شریف صاحب بطور وزیر اعلیٰ پنجاب لیہ کے دورے پر آئے تھے۔ اس تاریخی دن، "صبحِ پاکستان" کے لیے اس پورے دورے کی کوریج کی ذمہ داری میرے کندھوں پر تھی۔ مجھے یاد ہے، جب میاں صاحب نے لیہ اور تونسہ کے عوام کو آپس میں ملانے والے اس عظیم الشان پل کا پہلا تاریخی اعلان کیا تھا، تو کوٹلہ حاجی شاہ کے میلہ گراؤنڈ میں موجود ہزاروں لوگوں کی آنکھوں میں اپنے پسماندہ خطے کی تقدیر بدلنے کی چمک تھی۔ ان پرجوش چہروں میں میرا اپنا بڑا بیٹا بھی شامل تھا، جس کی عمر اس وقت محض 14 یا 15 سال تھی اور وہ گراؤنڈ میں میاں صاحب کو سلامی دینے والے لیہ پبلک سکول کے معصوم بچوں کے اس گروپ کا حصہ تھا۔ آج سن 2026ء آ چکا ہے۔ وقت کا پہیہ گھوما اور پورے 38 سال بیت گئے۔ میرا وہ 14 سال کا بچہ آج خود ایک بیٹے کا باپ ہے جس کی عمر 14/15 سال ہے ، یعنی میرا پوتا جو ہمارے خاندان کی تیسری جنریشن ہے جو لیہ تونسہ پل کے خواب سے جڑی ہے ۔۔ میاں صاحب! ذرا سوچیے، ایک پوری نسل جوان سے بوڑھی ہو گئی، دوسری نسل جوان ہو گئی، لیکن آپ کا وہ وعدہ آج بھی ادھورا ہے۔ کیا دنیا کی تاریخ میں کسی پل کے انتظار کی اس سے بڑی اور دردناک مثال مل سکتی ہے جہاں دادا، باپ اور پوتا تین نسلیں ایک ہی پل کے مکمل ہونے کی منتظر ہوں؟ ایسا لگتا ہے کہ حکمران شاید اس منصوبے کی تزویراتی اور معاشی اہمیت سے بالکل ناواقف ہیں۔ یہ پل محض دو اضلاع کا ملاپ نہیں، بلکہ یہ انڈس ہائی وے (N-55) کو سی پیک موٹروے نیٹ ورک سے جوڑنے والا سب سے بڑا اور تیز ترین لنک ہے۔ یہی انڈس ہائی وے آگے جا کر ڈیرہ اسماعیل خان (یارک) موٹروے سے جڑتی ہے جو کہ CPEC کی مغربی الائنمنٹ ہے۔ اس پل کے فعال ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بلوچستان، کراچی اور کے پی کے سے آنے والی بھاری تجارتی ٹریفک انڈس ہائی وے کے راستے اس پل کو پار کرے گی اور سیدھی پنڈی بھٹیاں-ملتان موٹروے (M-4) پر پہنچ جائے گی۔ یہ پورا وسیب اور ملک کی معیشت کے لیے ایک عظیم گیم چینجر منصوبہ ہے۔ لیکن افسوس، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) نے اربوں روپے کی خطیر لاگت سے دریا کے بیچوں بیچ مرکزی پل کا ڈھانچہ تو کھڑا کر دیا، لیکن دونوں اطراف کی رابطہ سڑکیں بنانا بھول اور ادھورے حفاظتی پشتے (Guide Banks) مکمل کرنا بھول گءی ۔ کہا جاتا کہ ٹھیکیدار کروڑوں خرچ کر کے کام چھوڑ کر بھاگ گیا ۔ کیوں ؟ اس سوال کا جواب تو متعلقہ ادارے ہی بتا سکتے لیکن یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کروڑوں کا محل بنا کر اس کا دروازہ لگانا بھول جائے . اسی مجرمانہ غفلت سے تنگ آ کر، جنوری 2026ء میں تونسہ کے معروف سماجی کارکن بشیر جروار نے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر اپنی مدد آپ کے تحت بھاری مشینری کا بندوبست کر کے مٹی کا ایک عارضی رابطہ راستہ بھی بنایا تاکہ عوام کو آسان سفری سہولت مہیا ہو ۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اپنی مدد آپ کے تحت بناءے جانے والے اس کچےراستہ کی تعمیر میں لیہ سے سابق صوبائی وزیر مہر اعجاز احمد اچلانہ اور دیگر عوامی حلقوں نے بھی بھرپور کردار ادا کیا لیکن عوام کا جذبہ اپنی جگہ، دریا کے سرکش مزاج کے آگے مٹی کی دیوار بھلا کب تک ٹکتی؟ وہ کچا راستہ بھی بہہ گیا اور آج سرکاری گائیڈ بند بھی ٹوٹ کر دریا برد ہو گیا، جس سے قریبی ساحلی بستیاں ایک بار پھر سیلاب کے خطرے سے دوچار ہیں یہ بھی کڑوا سچ ہے کہ لیہ تونسہ پل کے نام پرسیاسیوں نے لیہ وسیب کی عوام کو ہمیشہ لالی پاپ ہی دیا سیاسی وعدہ خلافیوں کی یہ داستان بہت ظویل ہے ۔ ابھی چند ماہ قبل وفاقی وزیرِ مواصلات اور نجکاری عبدالعلیم خان صاحب نے بھی لیہ کا دورہ فرمایا۔ انہوں نے اپنے پارٹی جلسہ میں بڑے بلند و بانگ دعوے کیے، NHA کے اس منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کا مژدہ سنایا، لیکن افسوس کہ ان کا یہ وعدہ بھی سابقہ حکمرانوں کی طرح محض ایک سراب ثابت ہوا ۔ جون کا مہینہ ہے، اسلام آباد اور لاہور کے ٹھنڈے ایوانوں میں وفاقی اور صوبائی بجٹ (2026-27) کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے کی ریوڑیاں بانٹی جا رہی ہیں۔ قائد مسلم لیگ میاں محمد نواز شریف کا وعدہ لیہ تونسہ پل میگا پراجیکٹ کا وعدہ تاہنوز سرخ فیتے کا شکار ہے ۔۔ کیوں ؟ میں بصد ادب و احترام وزیر اعظم میاں شہباز شریف، میاں نواز شریف اور وفاقی وزیر علیم خان سے یہ سوال کرتا ہوں: کیا لیہ اور تونسہ کے غریب عوام اس ملک کے شہری نہیں؟ کیا ہمارے ٹیکسوں کا پیسہ صرف بڑی بڑی موٹرویز اور میٹرو بسوں کے لیے ہے؟ لیّہ تونسہ کی عوام مطالبہ کرتے ہیں کہ آنے والے اس بجٹ میں لیہ تونسہ پل کی اپروچ روڈز اور گائیڈ بندز کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فنڈز مختص کیے جائیں۔ لیہ تونسہ پل کو مکمل کیا جاے ۔ میں اس سے قبل بھی سوشل میڈیا پر تسلسل کے ساتھ اس عوامی مطالبہ کو اجاگر کر تارہا ہوں ، لیہ اور تونسہ کے عوام آج بھی سمجھتے ہیں کہ یہ میگا پراجیکٹ صرف اور صرف میاں نواز شریف صاحب کی ذاتی دلچسپی سے ہی مکمل ہو سکتا ہے۔ میاں نواز شریف صاحب! تاریخ کا انصاف اور حسنِ کرشمہ بھی یہی کہتا ہے کہ جس عظیم منصوبے کا سنگِ بنیاد اور اعلان 38 سال پہلے آپ کے ہاتھوں ہوا تھا، اس کی تکمیل کا فائنل افتتاح بھی آپ ہی کے ہاتھوں ہو۔ یہ آپ کا اپنی سیاسی تاریخ اور اس مٹی کے ساتھ ایک قرض ہے جو اب چکانے کا وقت آ گیا ہے۔ تاکہ لیہ تونسہ کے لوگوں کا دیرینہ خواب پورا ہو، وسیب کی ترقی ہو اور عوام کو بہترین سفری سہولتیں ملیں!خدارا، اب ہمیں مزید کسی چوتھی نسل کا انتظار مت دیجیے

انجم صحرائی

No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.