تمام اہل وطن کو عید الاضحی مبارک ہو اللہ تعالیٰ اپنے پیارے نبی حضرت ابراہیم ع س کے جذبہ ء قربانی اور حضرت اسمعیل ع س کی کمال فرمابرداری کی وجہ تسمیہ کے امت مسلمہ پر ہر سال قربانی واجب قرار دی گئی گرچہ یہ سنت صاحب نصاب پر لازم ہے لیکن اس کا اجر وثواب قربانی کرنے والوں کے ساتھ ساتھ قربانی کا گوشت کھانے والوں کو بھی ملتا ہے ،،،،
الحمدللہ رب العالمین ہم امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اجداد اور اولاد کی قربانیوں کے نتیجہ میں سانس لے رہے ہیں یہ زندگی ان کی بے مثال و لازوال قربانیوں کا ثمر ہے ،،، ہماری سادگی کی انتہا تو یہ ہے کہ ہم جہاں خالق ومالک کائنات کے حضور حلال جانوروں کی قربانی کرتے ہیں وہاں حاکمین وقت کے لیے بھی ہر گھڑی قربان ہو رہے ہیں ،
بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے
ماضی قریب میں سرائیکی زبان کے پہلے ماہر ڈاکٹر کرسٹوفر شیگل نے سرائیکی زبان کو عربی کے بعد دنیا کی سب سے زیادہ شائستہ اور میٹھی زبان قرار دیا ،اندازہ کریں کہ ہم سرائیکی زبان بولنے والے اپنے محبوب کو کس طرح کی تشبیہ دیتے ہیں کہ
ماہی ماکھی کولوں مٹھا
سوہنڑے چن کولوں چٹا
جیویں پھل ہے غلاب دا
چنبیلی والے باغ دا،،،
اس کا اُردو ترجمہ کر نے کی چنداں ضرورت نہیں ہے کہ یہ زبان اور اس کا بیان دلوں کو جو راحت دیتا ہے وہ لفظوں کی محتاجی سے ماورا ہے ،
اس زبان کا لفظ ،، جھورا ،،، بھی انتہائی گہرے معنی رکھتا ہے ، جھورا ایسا غم جو انسان کو اندر ہی اندر کھا جائے اور کسی کو خبر نہ ہو جیسے تناور درخت کو دیمک لگے وہ طاہری طور پر تو ٹھیک لگے لیکن کچھ ہی عرصے میں زمین بوس ہو جائے ،،،
ہم میں سے ایک بڑی اکثریت اسی جھورے کی شکار ہے حالات و واقعات اس درجہ کے الجھاؤ کاشکار ہیں کہ
ہمیں خود اپنی سمجھ نہیں آتی
ہمیں کیا خاک سمجھائے گا کوئی، والا معاملہ ہو چلا ہے
امیر وقت نے مشیر خاص سے پوچھا ، بتاؤ اگر کوئی شخص چوری کرے تو اسے کیا سزا دی جائے ، مشیر نے کہا کہ اگر چور عادی مجرم ہے تو اس کے ہاتھ کاٹ دئیے جائیں اور اگر اس نے حالات سے مجبور ہو کر چوری کی ہے تو امیر وقت سزا کا مستحق ہے ۔
حالات و معاملات کو سلجھانے کی ذمہ داری امیر وقت کی ہے ، سب سے پہلے قربانی امیر وقت کو دینا ہو گی وہ اپنے کردار و عمل سے ثابت کرے وہ حاکم نہیں بلکہ خادم ہے اگر قربانی صرف عوام نے ہی دی اور برابر دیتے چلے آئے تو حالات کبھی بھی بہتر نہیں ہوں گے بلکہ ترقئ معکوس کا عمل تیز تر ہو تا چلا جائے گا ، یہ سادہ سی بات ہمیں کب سمجھ آئے گی ،
سرائیکی زبان میں ایسے نادان کو بھونرا کہتے ہیں ، املا کی مجبوری کے پیش نظر ،،، بھوں را،،، لکھا ہے تاکہ ہماری کم مائیگی کا قدرے تدارک ہوسکے ۔
جس دن اور جیسے جیسے ہم بھوں روں کو یہ بات سمجھ آگئی ہمارا قومی جھورا کم ہوتے ہوتے ختم ہو جائے گا ،،،
اللہ تعالیٰ ہمیں سوچنے سمجھنے اور سمجھانے کی تمام صلاحیتیں عطا فرما چکا ہے بس
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ،
ریاض الحق بھٹی






