بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات حقیقت سے زیادہ تاثر طاقتور ہو جاتا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر یہ بات بڑے اعتماد سے کہی جا رہی ہے کہ Iran نے ایٹم بم بنا لیا ہے۔ مگر اگر جذباتی بیانیوں سے ہٹ کر دیکھا جائے تو معاملہ اس قدر سادہ نہیں۔ ایٹمی ٹیکنالوجی، یورینیم کی افزودگی اور ایٹمی ہتھیار — یہ تین الگ الگ مراحل ہیں۔ کسی ملک کا ایٹمی پروگرام مضبوط ہونا اس بات کی قطعی دلیل نہیں کہ اس نے عملی طور پر ایٹم بم تیار بھی کر لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی نگرانی کا ادارہ International Atomic Energy Agency اب تک کوئی ایسا حتمی اعلان نہیں کر سکا جس سے یہ ثابت ہو کہ ایران کے پاس فعال ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔
درحقیقت ایران کا ایٹمی پروگرام کئی دہائیوں سے عالمی سیاست کا مرکز رہا ہے۔ کبھی پابندیوں کا دباؤ بڑھتا ہے، کبھی مذاکرات کی میز سجتی ہے اور کبھی سفارتی کشیدگی نئی شدت اختیار کر لیتی ہے۔ اسی تناظر میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والا معاہدہ Joint Comprehensive Plan of Action بھی ایک اہم مرحلہ تھا، جس کا مقصد یہی تھا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو شفاف اور محدود رکھا جائے۔ لیکن جب عالمی طاقتوں کے مفادات ٹکراتے ہیں تو معاہدے بھی اکثر سیاسی طوفانوں میں کمزور پڑ جاتے ہیں۔
اس تمام بحث میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر فرض کر لیا جائے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت موجود ہے، تو کیا موجودہ حالات میں اس کا عملی مظاہرہ کرنا اس کے لیے فائدہ مند ہوگا؟ بظاہر بعض حلقے اسے طاقت کا اظہار سمجھتے ہیں، مگر سفارتی اور اخلاقی تناظر میں یہ قدم انتہائی پیچیدہ اور خطرناک نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
میرے خیال میں اگر موجودہ کشیدہ حالات میں ایران ایٹمی تجربہ یا اس نوعیت کا کوئی واضح قدم اٹھاتا ہے تو یہ اس کے لیے سفارتی طور پر فائدہ مند کے بجائے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس وقت ایران کو عالمی سطح پر جو محدود مگر قابلِ ذکر اخلاقی اور سیاسی ہمدردی حاصل ہے، وہ بڑی حد تک اس بیانیے پر قائم ہے کہ ایران اپنے دفاع اور خودمختاری کے لیے کھڑا ہے۔ اگر اسی مرحلے پر ایران ایٹمی تجربے کا اعلان کر دے تو اس کے مخالفین فوراً یہ کہنے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ دیکھیں، ہمارا مؤقف درست تھا اور ایران واقعی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ یوں ایران کے لیے اخلاقی جواز کمزور پڑ جائے گا۔ وہ ممالک جو خفیہ یا اعلانیہ طور پر ایران کے ساتھ کھڑے ہیں، ان کے لیے بھی اس حمایت کو برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا، کیونکہ عالمی سفارت کاری میں اخلاقی بنیادیں اکثر عملی مفادات جتنی اہم ہوتی ہیں۔ مزید یہ کہ دنیا کے مختلف شہروں میں جو عوامی سطح پر ایران کے حق میں ہمدردی، احتجاج اور مظاہرے دیکھنے میں آتے ہیں، وہ بھی ممکن ہے اسی لمحے سرد پڑ جائیں، کیونکہ ایٹمی تجربہ عالمی ضمیر میں خوف اور عدم اعتماد کو جنم دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جدید عالمی سیاست میں طاقت کا مظاہرہ ہمیشہ ہتھیاروں کے ذریعے نہیں کیا جاتا بلکہ بعض اوقات تحمل، حکمت اور سفارت زیادہ مؤثر ہتھیار ثابت ہوتے ہیں۔ اگر ایران واقعی ایک بڑی علاقائی قوت کے طور پر ابھرنا چاہتا ہے تو اسے صرف عسکری طاقت نہیں بلکہ اخلاقی اور سفارتی برتری کو بھی برقرار رکھنا ہوگا۔ کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ جنگیں میدانوں میں جیتی جاتی ہیں، مگر جواز اور بیانیہ ہمیشہ عالمی رائے عامہ کے دلوں میں جیتا جاتا ہے۔
بندہ ناچیز کے خیال کے مطابق آخر میں یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جذبات اور حقیقت کے درمیان ایک باریک مگر نہایت اہم لکیر موجود ہوتی ہے۔ یہ درست ہے کہ دنیا کے بعض ممالک اور ان کی عوام کو Iran کے ساتھ ایک جذباتی اور نظریاتی وابستگی حاصل ہے، اور وہ اس کا اظہار سوشل میڈیا پر مختلف انداز سے کرتے ہیں۔ مگر حالیہ دنوں میں جس طرح یہ دعوے گردش کر رہے ہیں کہ ایران میں آنے والا زلزلہ دراصل زیرِ زمین ایٹمی دھماکے کا نتیجہ تھا، یا بعض ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں جن میں سڑکوں پر کھڑے ڈمپر اور ٹریلر ہلتے دکھائی دیتے ہیں اور انہیں اس بات کی “دلیل” کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے کہ ایک اور مسلم ملک ایٹمی طاقت بن چکا ہے، یہ طرزِ عمل حقیقت سے زیادہ جذبات کی پیداوار محسوس ہوتا ہے۔ ایسی غیر مصدقہ باتیں نہ صرف علمی اور منطقی معیار پر پورا نہیں اترتیں بلکہ سفارتی اعتبار سے بھی ایران کے مفاد میں نہیں ہیں۔ اس طرح کے دعوے دراصل عالمی رائے عامہ میں شکوک و شبہات کو بڑھاتے ہیں اور ایران کے مخالف بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایران کے حامی حلقے بھی ذمہ دارانہ طرزِ اظہار اختیار کریں، کیونکہ بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات ایک غیر محتاط جملہ یا غیر مصدقہ دعویٰ بھی وہ نقصان پہنچا دیتا ہے جو دشمن کی سخت ترین تنقید بھی نہیں پہنچا پاتی
وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا قوم سے خطاب ، معیشت کے استحکام کے لئے 14 نکاتی فیصلوں کا اعلان
اسلام آباد ۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ایران ، مشرق وسطٰی اور خلیج سمیت پورے خطے میں جنگی صورتحال...
Read moreDetails









