• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
SB2425
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

کیا ایران ایٹمی دہلیز پار کر چکا ہے ؟؟ تحریر: ۔۔۔ ارشاد رائے

webmaster by webmaster
مارچ 10, 2026
in کالم
0
پارلیمنٹ کا تقدس اور اخلاقی انحطاط  .. تحریر – ارشاد راۓ

بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات حقیقت سے زیادہ تاثر طاقتور ہو جاتا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر یہ بات بڑے اعتماد سے کہی جا رہی ہے کہ Iran نے ایٹم بم بنا لیا ہے۔ مگر اگر جذباتی بیانیوں سے ہٹ کر دیکھا جائے تو معاملہ اس قدر سادہ نہیں۔ ایٹمی ٹیکنالوجی، یورینیم کی افزودگی اور ایٹمی ہتھیار — یہ تین الگ الگ مراحل ہیں۔ کسی ملک کا ایٹمی پروگرام مضبوط ہونا اس بات کی قطعی دلیل نہیں کہ اس نے عملی طور پر ایٹم بم تیار بھی کر لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی نگرانی کا ادارہ International Atomic Energy Agency اب تک کوئی ایسا حتمی اعلان نہیں کر سکا جس سے یہ ثابت ہو کہ ایران کے پاس فعال ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔
درحقیقت ایران کا ایٹمی پروگرام کئی دہائیوں سے عالمی سیاست کا مرکز رہا ہے۔ کبھی پابندیوں کا دباؤ بڑھتا ہے، کبھی مذاکرات کی میز سجتی ہے اور کبھی سفارتی کشیدگی نئی شدت اختیار کر لیتی ہے۔ اسی تناظر میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والا معاہدہ Joint Comprehensive Plan of Action بھی ایک اہم مرحلہ تھا، جس کا مقصد یہی تھا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو شفاف اور محدود رکھا جائے۔ لیکن جب عالمی طاقتوں کے مفادات ٹکراتے ہیں تو معاہدے بھی اکثر سیاسی طوفانوں میں کمزور پڑ جاتے ہیں۔
اس تمام بحث میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر فرض کر لیا جائے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت موجود ہے، تو کیا موجودہ حالات میں اس کا عملی مظاہرہ کرنا اس کے لیے فائدہ مند ہوگا؟ بظاہر بعض حلقے اسے طاقت کا اظہار سمجھتے ہیں، مگر سفارتی اور اخلاقی تناظر میں یہ قدم انتہائی پیچیدہ اور خطرناک نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
میرے خیال میں اگر موجودہ کشیدہ حالات میں ایران ایٹمی تجربہ یا اس نوعیت کا کوئی واضح قدم اٹھاتا ہے تو یہ اس کے لیے سفارتی طور پر فائدہ مند کے بجائے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس وقت ایران کو عالمی سطح پر جو محدود مگر قابلِ ذکر اخلاقی اور سیاسی ہمدردی حاصل ہے، وہ بڑی حد تک اس بیانیے پر قائم ہے کہ ایران اپنے دفاع اور خودمختاری کے لیے کھڑا ہے۔ اگر اسی مرحلے پر ایران ایٹمی تجربے کا اعلان کر دے تو اس کے مخالفین فوراً یہ کہنے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ دیکھیں، ہمارا مؤقف درست تھا اور ایران واقعی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ یوں ایران کے لیے اخلاقی جواز کمزور پڑ جائے گا۔ وہ ممالک جو خفیہ یا اعلانیہ طور پر ایران کے ساتھ کھڑے ہیں، ان کے لیے بھی اس حمایت کو برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا، کیونکہ عالمی سفارت کاری میں اخلاقی بنیادیں اکثر عملی مفادات جتنی اہم ہوتی ہیں۔ مزید یہ کہ دنیا کے مختلف شہروں میں جو عوامی سطح پر ایران کے حق میں ہمدردی، احتجاج اور مظاہرے دیکھنے میں آتے ہیں، وہ بھی ممکن ہے اسی لمحے سرد پڑ جائیں، کیونکہ ایٹمی تجربہ عالمی ضمیر میں خوف اور عدم اعتماد کو جنم دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جدید عالمی سیاست میں طاقت کا مظاہرہ ہمیشہ ہتھیاروں کے ذریعے نہیں کیا جاتا بلکہ بعض اوقات تحمل، حکمت اور سفارت زیادہ مؤثر ہتھیار ثابت ہوتے ہیں۔ اگر ایران واقعی ایک بڑی علاقائی قوت کے طور پر ابھرنا چاہتا ہے تو اسے صرف عسکری طاقت نہیں بلکہ اخلاقی اور سفارتی برتری کو بھی برقرار رکھنا ہوگا۔ کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ جنگیں میدانوں میں جیتی جاتی ہیں، مگر جواز اور بیانیہ ہمیشہ عالمی رائے عامہ کے دلوں میں جیتا جاتا ہے۔
بندہ ناچیز کے خیال کے مطابق آخر میں یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جذبات اور حقیقت کے درمیان ایک باریک مگر نہایت اہم لکیر موجود ہوتی ہے۔ یہ درست ہے کہ دنیا کے بعض ممالک اور ان کی عوام کو Iran کے ساتھ ایک جذباتی اور نظریاتی وابستگی حاصل ہے، اور وہ اس کا اظہار سوشل میڈیا پر مختلف انداز سے کرتے ہیں۔ مگر حالیہ دنوں میں جس طرح یہ دعوے گردش کر رہے ہیں کہ ایران میں آنے والا زلزلہ دراصل زیرِ زمین ایٹمی دھماکے کا نتیجہ تھا، یا بعض ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں جن میں سڑکوں پر کھڑے ڈمپر اور ٹریلر ہلتے دکھائی دیتے ہیں اور انہیں اس بات کی “دلیل” کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے کہ ایک اور مسلم ملک ایٹمی طاقت بن چکا ہے، یہ طرزِ عمل حقیقت سے زیادہ جذبات کی پیداوار محسوس ہوتا ہے۔ ایسی غیر مصدقہ باتیں نہ صرف علمی اور منطقی معیار پر پورا نہیں اترتیں بلکہ سفارتی اعتبار سے بھی ایران کے مفاد میں نہیں ہیں۔ اس طرح کے دعوے دراصل عالمی رائے عامہ میں شکوک و شبہات کو بڑھاتے ہیں اور ایران کے مخالف بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایران کے حامی حلقے بھی ذمہ دارانہ طرزِ اظہار اختیار کریں، کیونکہ بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات ایک غیر محتاط جملہ یا غیر مصدقہ دعویٰ بھی وہ نقصان پہنچا دیتا ہے جو دشمن کی سخت ترین تنقید بھی نہیں پہنچا پاتی

Post Views: 42
Tags: column by irshad raay
Previous Post

ضلع لیہ میں ضلعی انتظامیہ اور سول سوسائٹی کی جانب سے پاک فوج سے گرینڈ اظہارِ یکجہتی ریلیاں

Next Post

لیہ ، سینئر سیاستدان سابق ایم این اے ملک نیاز احمد جکھڑ وفات پا گئے ۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَٰجِعُونَ ،

Next Post
لیہ ،  سینئر   سیاستدان سابق ایم این اے ملک نیاز احمد جکھڑ   وفات پا گئے ۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَٰجِعُونَ  ،

لیہ ، سینئر سیاستدان سابق ایم این اے ملک نیاز احمد جکھڑ وفات پا گئے ۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَٰجِعُونَ ،

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف
قومی/ بین الاقوامی خبریں

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

by webmaster
جولائی 19, 2026
0

لاہور {صبح پا کستان }وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نیلسن منڈیلا کے عالمی دن پراپنے پیغام میں کہاہے کہ...

Read moreDetails
آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

جولائی 11, 2026
سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم  ?

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم ?

جولائی 8, 2026
حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے،  سلمان اکرم راجا

حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے، سلمان اکرم راجا

جولائی 3, 2026
مریم نواز کا سڑکوں کی تعمیرو مرمت مالی سال کے آخر تک مکمل کرنے کا حکم

"شاباش ٹیم پنجاب”، "الحمدللہ امسال بھی محرم الحرام پرامن، باوقار اورمنظم رہا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

جون 27, 2026
بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات حقیقت سے زیادہ تاثر طاقتور ہو جاتا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر یہ بات بڑے اعتماد سے کہی جا رہی ہے کہ Iran نے ایٹم بم بنا لیا ہے۔ مگر اگر جذباتی بیانیوں سے ہٹ کر دیکھا جائے تو معاملہ اس قدر سادہ نہیں۔ ایٹمی ٹیکنالوجی، یورینیم کی افزودگی اور ایٹمی ہتھیار — یہ تین الگ الگ مراحل ہیں۔ کسی ملک کا ایٹمی پروگرام مضبوط ہونا اس بات کی قطعی دلیل نہیں کہ اس نے عملی طور پر ایٹم بم تیار بھی کر لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی نگرانی کا ادارہ International Atomic Energy Agency اب تک کوئی ایسا حتمی اعلان نہیں کر سکا جس سے یہ ثابت ہو کہ ایران کے پاس فعال ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔ درحقیقت ایران کا ایٹمی پروگرام کئی دہائیوں سے عالمی سیاست کا مرکز رہا ہے۔ کبھی پابندیوں کا دباؤ بڑھتا ہے، کبھی مذاکرات کی میز سجتی ہے اور کبھی سفارتی کشیدگی نئی شدت اختیار کر لیتی ہے۔ اسی تناظر میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والا معاہدہ Joint Comprehensive Plan of Action بھی ایک اہم مرحلہ تھا، جس کا مقصد یہی تھا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو شفاف اور محدود رکھا جائے۔ لیکن جب عالمی طاقتوں کے مفادات ٹکراتے ہیں تو معاہدے بھی اکثر سیاسی طوفانوں میں کمزور پڑ جاتے ہیں۔ اس تمام بحث میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر فرض کر لیا جائے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت موجود ہے، تو کیا موجودہ حالات میں اس کا عملی مظاہرہ کرنا اس کے لیے فائدہ مند ہوگا؟ بظاہر بعض حلقے اسے طاقت کا اظہار سمجھتے ہیں، مگر سفارتی اور اخلاقی تناظر میں یہ قدم انتہائی پیچیدہ اور خطرناک نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ میرے خیال میں اگر موجودہ کشیدہ حالات میں ایران ایٹمی تجربہ یا اس نوعیت کا کوئی واضح قدم اٹھاتا ہے تو یہ اس کے لیے سفارتی طور پر فائدہ مند کے بجائے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس وقت ایران کو عالمی سطح پر جو محدود مگر قابلِ ذکر اخلاقی اور سیاسی ہمدردی حاصل ہے، وہ بڑی حد تک اس بیانیے پر قائم ہے کہ ایران اپنے دفاع اور خودمختاری کے لیے کھڑا ہے۔ اگر اسی مرحلے پر ایران ایٹمی تجربے کا اعلان کر دے تو اس کے مخالفین فوراً یہ کہنے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ دیکھیں، ہمارا مؤقف درست تھا اور ایران واقعی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ یوں ایران کے لیے اخلاقی جواز کمزور پڑ جائے گا۔ وہ ممالک جو خفیہ یا اعلانیہ طور پر ایران کے ساتھ کھڑے ہیں، ان کے لیے بھی اس حمایت کو برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا، کیونکہ عالمی سفارت کاری میں اخلاقی بنیادیں اکثر عملی مفادات جتنی اہم ہوتی ہیں۔ مزید یہ کہ دنیا کے مختلف شہروں میں جو عوامی سطح پر ایران کے حق میں ہمدردی، احتجاج اور مظاہرے دیکھنے میں آتے ہیں، وہ بھی ممکن ہے اسی لمحے سرد پڑ جائیں، کیونکہ ایٹمی تجربہ عالمی ضمیر میں خوف اور عدم اعتماد کو جنم دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید عالمی سیاست میں طاقت کا مظاہرہ ہمیشہ ہتھیاروں کے ذریعے نہیں کیا جاتا بلکہ بعض اوقات تحمل، حکمت اور سفارت زیادہ مؤثر ہتھیار ثابت ہوتے ہیں۔ اگر ایران واقعی ایک بڑی علاقائی قوت کے طور پر ابھرنا چاہتا ہے تو اسے صرف عسکری طاقت نہیں بلکہ اخلاقی اور سفارتی برتری کو بھی برقرار رکھنا ہوگا۔ کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ جنگیں میدانوں میں جیتی جاتی ہیں، مگر جواز اور بیانیہ ہمیشہ عالمی رائے عامہ کے دلوں میں جیتا جاتا ہے۔ بندہ ناچیز کے خیال کے مطابق آخر میں یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جذبات اور حقیقت کے درمیان ایک باریک مگر نہایت اہم لکیر موجود ہوتی ہے۔ یہ درست ہے کہ دنیا کے بعض ممالک اور ان کی عوام کو Iran کے ساتھ ایک جذباتی اور نظریاتی وابستگی حاصل ہے، اور وہ اس کا اظہار سوشل میڈیا پر مختلف انداز سے کرتے ہیں۔ مگر حالیہ دنوں میں جس طرح یہ دعوے گردش کر رہے ہیں کہ ایران میں آنے والا زلزلہ دراصل زیرِ زمین ایٹمی دھماکے کا نتیجہ تھا، یا بعض ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں جن میں سڑکوں پر کھڑے ڈمپر اور ٹریلر ہلتے دکھائی دیتے ہیں اور انہیں اس بات کی “دلیل” کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے کہ ایک اور مسلم ملک ایٹمی طاقت بن چکا ہے، یہ طرزِ عمل حقیقت سے زیادہ جذبات کی پیداوار محسوس ہوتا ہے۔ ایسی غیر مصدقہ باتیں نہ صرف علمی اور منطقی معیار پر پورا نہیں اترتیں بلکہ سفارتی اعتبار سے بھی ایران کے مفاد میں نہیں ہیں۔ اس طرح کے دعوے دراصل عالمی رائے عامہ میں شکوک و شبہات کو بڑھاتے ہیں اور ایران کے مخالف بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایران کے حامی حلقے بھی ذمہ دارانہ طرزِ اظہار اختیار کریں، کیونکہ بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات ایک غیر محتاط جملہ یا غیر مصدقہ دعویٰ بھی وہ نقصان پہنچا دیتا ہے جو دشمن کی سخت ترین تنقید بھی نہیں پہنچا پاتی
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.