• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
SB2425
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

شب و روزِ زندگی ۔۔۔۔۔ذاتی بیانیے سے اجتماعی شعور تک کا سفر , تحریر: ڈاکٹر محمد افضل صفی

webmaster by webmaster
فروری 20, 2026
in کالم
0
شب و روزِ زندگی ۔۔۔۔۔ذاتی بیانیے سے اجتماعی شعور تک کا سفر ,  تحریر: ڈاکٹر محمد افضل صفی

آپ بیتی کی صنف اس وقت زیادہ بامعنی ہو جاتی ہے جب فرد کی ذات اپنے عہد کے اجتماعی تجربے میں تحلیل ہو جائے۔ انجم صحرائی کی آپ بیتی شب و روزِ زندگی اسی ادبی روایت کی توسیع ہے، جہاں مصنف اپنی ذات کو مرکز بنانے کے بجائے اسے وسیب، صحافت اور سیاسی و سماجی حالات کے آئینے میں رکھ کر دیکھتا ہے۔
اس کتاب کی سب سے نمایاں خوبی اس کی بیانیہ سادگی ہے۔ مصنف کسی لسانی تصنع یا شعوری ادبیت کے مظاہرے میں مبتلا نہیں ہوتا، بلکہ واقعات کو اس طرح بیان کرتا ہےجیسے زندگی خود بول رہی ہو۔ یہی غیر آرائشی اسلوب تحریر کو صداقت اور تاثیر عطا کرتا ہے۔ اس کی نثر میں کہیں کہیں رپورٹنگ کی جھلک بھی ملتی ہے، مگر یہی صحافتی انداز اس آپ بیتی کو دستاویزی حیثیت دیتا ہے۔
کتاب کے عنوان شب و روزِ زندگی میں ہی ایک علامتی معنویت پوشیدہ ہے۔ ‘”شب” محض اندھیرا نہیں بلکہ جدوجہد، خوف، جبر اور مایوسی کی علامت بن کر سامنے آتی ہے، جبکہ” روز” امید، مزاحمت اور شعور کی کرن ہے۔ یہ علامتی تقسیم پوری کتاب کے بیانیے میں غیر محسوس طور پر جاری رہتی ہے۔
"لیہ میں شعرو ادب کی رنگینیاں "جیسے موضوعات مصنف کے ادبی شعور کو واضح کرتے ہیں۔ یہاں ادب محض مشغلہ نہیں بلکہ وسیبی شناخت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ مضافاتی شہروں میں ادب کی موجودگی دراصل ثقافتی بقا کی جدوجہد ہے، جسے مصنف نے نہایت لطیف انداز میں پیش کیا ہے ۔
ایک لحاظ شب و روزِ زندگی طاقت، سیاست اور صحافت کے باہمی تعلق پر ایک خاموش مگر گہرا سوالیہ نشان ہے۔ "پریس کلب لاہور کا احتجاجی کیمپ” اور "جرنلسٹ تربیتی ورکشاپ” جیسے عنوانات صحافت کے رومانوی تصور کو توڑتے ہیں اور اسے ایک مسلسل جدوجہد اور اجتماعی مزاحمت کے عمل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
"کوٹ سلطان جلسہ، لاٹھی چارج اور گرفتاری "اور” یومِ سیاہ جیسے تحریریں” محض ذاتی تجربات نہیں بلکہ ریاست اور اس کے شہریوں کے باہمی تعلق کی ترجمان بھی ہیں۔ یہاں انجم صحرائی نے احتجاج کو ہیرو ازم میں بدلنے کے بجائے ایک تلخ حقیقت کے طور پر پیش کیا ہے، یہ بات ان تحریروں کو جذباتی نعروں سے بچا لیتی ہے۔
علاقائی سیاست پر مشتمل عنوانات ۔۔۔۔۔۔۔جیسے "وسیب کی علاقائی سیاست” اور "نہ لغاری رہے نہ مزاری”۔۔۔۔۔۔صحافتی اعتبار سے اس لیے اہم ہیں کہ یہاں تاریخ، یادداشت اور مشاہدہ ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں۔ سیاسی زوال محض افراد کی شکست کے طور پر سامنے نہیں آتا بلکہ ایک پورے سماجی ڈھانچے کی تبدیلی کے طور پر وقوع پزیر ہوتا ہے۔
"لالچی تو ہم سب ہیں” ایک ایسا عنوان ہے جو طنز، خود احتسابی اور اجتماعی اعتراف کا استعارہ بن جاتا ہے۔ یہاں مصنف خود کو سماج سے الگ کرتے ہوے محنت سے اپنی ضروریات پوری کرنے کی بات کرتا ہے، یہ احساس اس آپ بیتی کو اخلاقی برتری کی طرف راغب کرتا ہے۔
کتاب میں "ذکر لائبریریوں کا” جیسے حصے تہذیبی زوال اور فکری خلا کا نوحہ بن جاتے ہیں۔ایسے موضوعات محض یادوں کا بیان نہیں بلکہ علم دشمن رویّوں پر ایک خاموش تنقید کا درجہ بھی رکھتے ہیں۔
اس آپ بیتی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انجم صحرائی نے اپنے تجربات کو کسی ایک نظریاتی خانے میں مقید نہیں کیا۔ وہ نہ تو خود کو مکمل مظلوم کے طور پر پیش کرتا ہے اور نہ ہی حالات سے بالاتر کوئی اخلاقی ہیرو بننے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی اعتدال انجم صحرائی کے بیانیے کو قابلِ اعتماد بناتا ہے۔ قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی بنے بنائے کردار کی کہانی نہیں پڑھ رہا بلکہ ایک ایسے شخص کے شب و روز سے گزر رہا ہے جو اپنی کمزوریوں، غلطیوں کو تسلیم کرتے ہوے سیکھنے عمل سے بھی دیانت داری سے گزرتا نظر آتا ہے۔
مزید یہ کہ "شب و روزِ زندگی” میں وقت کا شعور خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ ماضی، حال اور مستقبل ایک خطی ترتیب کے بجائے یادداشت اور تجربے کے بہاؤ میں سامنے آتے ہیں۔ بعض مقامات پر یادیں اچانک ابھرتی ہیں اور قاری کو یہ احساس دلاتی ہیں کہ فرد کی زندگی دراصل مسلسل ٹوٹتے اور جڑتے لمحوں کا مجموعہ ہے۔ یہ اسلوب اس آپ بیتی کو محض زمانی روداد کے بجائے ایک فکری متن میں تبدیل کر دیتا ہے، جہاں وقت تاریخ بھی ہے، سوال بھی اور احتساب بھی۔
مجموعی طور پر "شب و روزِ زندگی” ایک غیر نمائشی مگر بامعنی آپ بیتی ہے، جو صحافت کو ادب، اور ذات کو سماج میں بدل دیتی ہے۔ انجم صحرائی کی یہ تصنیف ہمیں یہ باور کراتی ہے کہ اصل ادب وہی ہے جو فرد کے تجربے سے جنم لے کر اجتماعی شعور میں سوال بن کر زندہ رہے

ڈاکٹر محمد افضل صفی

Post Views: 54
Tags: column by afzal safi
Previous Post

عمران خان کو اسلام آباد جیل منتقل کیا جائے گا، محسن نقوی

Next Post

لیہ نگہبان دسترخوان ، ماہ مقدس رمضان المبارک میں مستحق افراد کو باعزت انداز میں افطاری فراہم کی جا سکے گی۔ڈپٹی کمشنر

Next Post
لیہ نگہبان دسترخوان ،  ماہ مقدس رمضان المبارک میں مستحق افراد کو باعزت انداز میں افطاری فراہم کی جا سکے گی۔ڈپٹی کمشنر

لیہ نگہبان دسترخوان ، ماہ مقدس رمضان المبارک میں مستحق افراد کو باعزت انداز میں افطاری فراہم کی جا سکے گی۔ڈپٹی کمشنر

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف
قومی/ بین الاقوامی خبریں

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

by webmaster
جولائی 19, 2026
0

لاہور {صبح پا کستان }وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نیلسن منڈیلا کے عالمی دن پراپنے پیغام میں کہاہے کہ...

Read moreDetails
آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

جولائی 11, 2026
سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم  ?

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم ?

جولائی 8, 2026
حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے،  سلمان اکرم راجا

حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے، سلمان اکرم راجا

جولائی 3, 2026
مریم نواز کا سڑکوں کی تعمیرو مرمت مالی سال کے آخر تک مکمل کرنے کا حکم

"شاباش ٹیم پنجاب”، "الحمدللہ امسال بھی محرم الحرام پرامن، باوقار اورمنظم رہا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

جون 27, 2026
آپ بیتی کی صنف اس وقت زیادہ بامعنی ہو جاتی ہے جب فرد کی ذات اپنے عہد کے اجتماعی تجربے میں تحلیل ہو جائے۔ انجم صحرائی کی آپ بیتی شب و روزِ زندگی اسی ادبی روایت کی توسیع ہے، جہاں مصنف اپنی ذات کو مرکز بنانے کے بجائے اسے وسیب، صحافت اور سیاسی و سماجی حالات کے آئینے میں رکھ کر دیکھتا ہے۔ اس کتاب کی سب سے نمایاں خوبی اس کی بیانیہ سادگی ہے۔ مصنف کسی لسانی تصنع یا شعوری ادبیت کے مظاہرے میں مبتلا نہیں ہوتا، بلکہ واقعات کو اس طرح بیان کرتا ہےجیسے زندگی خود بول رہی ہو۔ یہی غیر آرائشی اسلوب تحریر کو صداقت اور تاثیر عطا کرتا ہے۔ اس کی نثر میں کہیں کہیں رپورٹنگ کی جھلک بھی ملتی ہے، مگر یہی صحافتی انداز اس آپ بیتی کو دستاویزی حیثیت دیتا ہے۔ کتاب کے عنوان شب و روزِ زندگی میں ہی ایک علامتی معنویت پوشیدہ ہے۔ '"شب" محض اندھیرا نہیں بلکہ جدوجہد، خوف، جبر اور مایوسی کی علامت بن کر سامنے آتی ہے، جبکہ" روز" امید، مزاحمت اور شعور کی کرن ہے۔ یہ علامتی تقسیم پوری کتاب کے بیانیے میں غیر محسوس طور پر جاری رہتی ہے۔ "لیہ میں شعرو ادب کی رنگینیاں "جیسے موضوعات مصنف کے ادبی شعور کو واضح کرتے ہیں۔ یہاں ادب محض مشغلہ نہیں بلکہ وسیبی شناخت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ مضافاتی شہروں میں ادب کی موجودگی دراصل ثقافتی بقا کی جدوجہد ہے، جسے مصنف نے نہایت لطیف انداز میں پیش کیا ہے ۔ ایک لحاظ شب و روزِ زندگی طاقت، سیاست اور صحافت کے باہمی تعلق پر ایک خاموش مگر گہرا سوالیہ نشان ہے۔ "پریس کلب لاہور کا احتجاجی کیمپ" اور "جرنلسٹ تربیتی ورکشاپ" جیسے عنوانات صحافت کے رومانوی تصور کو توڑتے ہیں اور اسے ایک مسلسل جدوجہد اور اجتماعی مزاحمت کے عمل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ "کوٹ سلطان جلسہ، لاٹھی چارج اور گرفتاری "اور" یومِ سیاہ جیسے تحریریں" محض ذاتی تجربات نہیں بلکہ ریاست اور اس کے شہریوں کے باہمی تعلق کی ترجمان بھی ہیں۔ یہاں انجم صحرائی نے احتجاج کو ہیرو ازم میں بدلنے کے بجائے ایک تلخ حقیقت کے طور پر پیش کیا ہے، یہ بات ان تحریروں کو جذباتی نعروں سے بچا لیتی ہے۔ علاقائی سیاست پر مشتمل عنوانات ۔۔۔۔۔۔۔جیسے "وسیب کی علاقائی سیاست" اور "نہ لغاری رہے نہ مزاری"۔۔۔۔۔۔صحافتی اعتبار سے اس لیے اہم ہیں کہ یہاں تاریخ، یادداشت اور مشاہدہ ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں۔ سیاسی زوال محض افراد کی شکست کے طور پر سامنے نہیں آتا بلکہ ایک پورے سماجی ڈھانچے کی تبدیلی کے طور پر وقوع پزیر ہوتا ہے۔ "لالچی تو ہم سب ہیں" ایک ایسا عنوان ہے جو طنز، خود احتسابی اور اجتماعی اعتراف کا استعارہ بن جاتا ہے۔ یہاں مصنف خود کو سماج سے الگ کرتے ہوے محنت سے اپنی ضروریات پوری کرنے کی بات کرتا ہے، یہ احساس اس آپ بیتی کو اخلاقی برتری کی طرف راغب کرتا ہے۔ کتاب میں "ذکر لائبریریوں کا" جیسے حصے تہذیبی زوال اور فکری خلا کا نوحہ بن جاتے ہیں۔ایسے موضوعات محض یادوں کا بیان نہیں بلکہ علم دشمن رویّوں پر ایک خاموش تنقید کا درجہ بھی رکھتے ہیں۔ اس آپ بیتی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انجم صحرائی نے اپنے تجربات کو کسی ایک نظریاتی خانے میں مقید نہیں کیا۔ وہ نہ تو خود کو مکمل مظلوم کے طور پر پیش کرتا ہے اور نہ ہی حالات سے بالاتر کوئی اخلاقی ہیرو بننے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی اعتدال انجم صحرائی کے بیانیے کو قابلِ اعتماد بناتا ہے۔ قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی بنے بنائے کردار کی کہانی نہیں پڑھ رہا بلکہ ایک ایسے شخص کے شب و روز سے گزر رہا ہے جو اپنی کمزوریوں، غلطیوں کو تسلیم کرتے ہوے سیکھنے عمل سے بھی دیانت داری سے گزرتا نظر آتا ہے۔ مزید یہ کہ "شب و روزِ زندگی" میں وقت کا شعور خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ ماضی، حال اور مستقبل ایک خطی ترتیب کے بجائے یادداشت اور تجربے کے بہاؤ میں سامنے آتے ہیں۔ بعض مقامات پر یادیں اچانک ابھرتی ہیں اور قاری کو یہ احساس دلاتی ہیں کہ فرد کی زندگی دراصل مسلسل ٹوٹتے اور جڑتے لمحوں کا مجموعہ ہے۔ یہ اسلوب اس آپ بیتی کو محض زمانی روداد کے بجائے ایک فکری متن میں تبدیل کر دیتا ہے، جہاں وقت تاریخ بھی ہے، سوال بھی اور احتساب بھی۔ مجموعی طور پر "شب و روزِ زندگی" ایک غیر نمائشی مگر بامعنی آپ بیتی ہے، جو صحافت کو ادب، اور ذات کو سماج میں بدل دیتی ہے۔ انجم صحرائی کی یہ تصنیف ہمیں یہ باور کراتی ہے کہ اصل ادب وہی ہے جو فرد کے تجربے سے جنم لے کر اجتماعی شعور میں سوال بن کر زندہ رہے

ڈاکٹر محمد افضل صفی

No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.