مستقل کالم ۔ ارداس
الحمدللہ ، بفضل خدا ہم دیکھ سکتے ہیں اور سن سکتے ہیں ، کیا ہوا اگر بول نہیں سکتے ۔ کیونکہ خاموشی عبادت ہے اور ہم صدیوں سے سے مصروف عبادت ہیں جس کے عظیم الشان اجر و ثواب ہمیں آخرت میں ملیں گے ، دنیا کا کیا ہے یہ تو عارضی ہے اس عارضی جہان کے لیے خود کو کیوں ہلکان کر یں،،،
تاریخ خود کو دہرا،دہرا کر ہلکان ہو رہی کہ دنیا کی پہلی دہشتگردی بھی مسجد میں ہوئی تھی جب مولا علی علیہ السلام کو حالت سجدہ میں ابن ملجم ملعون نے وار کر کے شہید کیا اور آج بھی اس کی نسل کے لوگ یہ کام کر رہے ہیں ، یہ شیطانی فریضہ ، شوق ابلیسی مدتوں سے جاری ہے اور تاقیامت جاری رہےگا ۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم شیطان مردود سے ڈر کر سجدہ ریز ی چھوڑ دیں
لیکن
یہ تو فرض ہے کہ ایسے شیطانوں سے باقاعدہ خبردار رہیں اور ان کے حملہ کرنے سے پہلے ہی انہیں نیست و نابود کر دیں ،،
یہ شیطانیت دراصل بھوک ہے اقتدار کی ، زر کی ، بے انصافی کی اور لاقانونیت کی ، مولا علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ بھوک سب سے زیادہ وزنی ہوتی ہے اس کے نیچے حسن ، علم، حکمت، عقل،فکر، دانائی اور دانش سب کچھ دب کر رہ جاتا ہے بلکہ مر جاتا ہے ،،، تاریخ نے یہ سبق بار بار دھرایا ، سنایا مگر ہم نے نہیں سنا،،، کہیں ہم تو ان لوگوں میں شامل نہیں جن کے بارے میں قرآن پاک کہتا ہے کہ ،، ہم نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے ، یہ سن نہیں سکتے دیکھ نہیں سکتے ،،، اللہ اکبر ، استغفرُللہ ،،، اللہ کی پناہ ،
کہتے ہیں کہ برصغیر میں ہندو مسلمانوں کو مارتے تھے پھر مسلمانوں نے سوچا کہ اپنا ملک بنائیں جہاں صرف مسلمان ہی مسلمانوں کو ماریں اور یوں ہم کامیاب ہو گئے ،، اب ہمیں کافر کے ہاتھوں مرنے کا اندیشہ نہیں رہا ہم نے اسباب انجام میں خود کفالت حاصل کر لی ہے ،
بین کرتے تو زمانے میں تماشہ بنتے،
ہم نے ہنستی ہوئی آنکھوں سے خسارے دیکھے،
فکر فردا سے بے نیاز اور سود و زیان سے بے خبر زندگی کے اپنے ٹھاٹھ ہیں جو کسی اور کو میسر نہیں ، ایسے ٹھاٹھ باٹھ ،ایسی شہنشاہیت کو گنوانا تو بے وقوفی ہوگی۔ اب تو ہمیں یہ بھی پرواہ نہیں کہ زمانہ کہے
کتنے عجیب لوگ ہیں دور جدید کے
دل میں حسین جیب میں سکے یزید کے ،
شاعر نے کہا تھا کہ زندگی تماشا بنی ، دنیا دا ہاسا بنی ، بس ایسا ہی ہے کہ اس زندگی کو ہاسے، مخول اور اتھرو ، آنسوؤں کی نزر کر دیا جائے۔
ہم یہی تو کیے جا رہے ہیں اور اسی طرح جیے جا رہےہیں ،،،

ریاض الحق بھٹی










