سفید کوٹ صرف یونیفارم نہیں ہوتا، یہ ایک عہد ہوتا ہے—دکھوں کے سامنے ڈھال، بیماریوں کے خلاف مورچہ، اور بےبسوں کے لیے امید کا ایک چراغ
سر زمین لیہ جو تھل اور صحرا کا حسین امتزاج ہے کچھ ایسے چراغوں سے بھی روشن ہے جن کی روشنی جسموں سے زیادہ روحوں کو منور کرتی ہے۔ انہی چراغوں میں ایک نام فزیشن ڈاکٹر ظفر ملغانی کا ہے—ایک ایسا مسیحا جس کے مطب میں صرف دوائیں نہیں ملتیں، مسکراہٹ، گفتگو، ہمدردی، اور وہ مہک بھی ملتی ہے جو بڑے شہروں کے ایئر کنڈیشنڈ کلینکس سے کب کی رخصت ہو چکی ہے۔
ڈاکٹر صاحب ایک مکمل انسان ہیں۔ طب ان کا پیشہ ہے، لیکن ان کی فطرت، مزاج اور طرزِ زندگی خدمت، شائستگی اور تہذیب کا آئینہ ہے۔ وہ ان معدودے چند ڈاکٹروں میں سے ہیں جن کی پریکٹس ایک مقدس فریضہ معلوم ہوتی ہے۔ وہ نسلِ نو کو بھی سکھاتے ہیں کہ دوائی سے پہلے دعا، اور علاج سے پہلے دل کا حال پوچھنا لازم ہے۔
ایک شب کا ذکر ہے۔ رات دیر تک مریضوں کا تانتا بندھا رہا۔ جب آخری مریض اٹھا تو رک کر کہنے لگا:
ڈاکٹر، تمہیں ایک مفت کا مشورہ دینا ہے، سنو گے؟”
ڈاکٹر صاحب نے مسکرا کر کہا، “ضرور، ضرور!”
مریض نے کہا: “بڑے شہروں میں اب یہ رواج ہو گیا ہے کہ اگر اپوائنٹمنٹ نہ ہو تو ڈبل فیس دو، اور لائن چھوڑ کر اندر گھس جاؤ۔ وقت کی بچت، عزت کی حفاظت، سب کچھ ایک پیسے کی چابی سے ممکن ہے!”
ڈاکٹر صاحب نے ہنس کر جواب دیا:
“میرے محلے کا نائی بھی باری باری حجامت کرتا ہے۔ اگر میں نے بھی یہ ‘ملتان والا سلسلہ’ یہاں لیہ میں شروع کر دیا تو میری سماجی حیثیت تو باربر سے بھی نیچے چلی جائے گی!”
یہ بات سن کر مریض مسکرایا، ڈاکٹر مسکرایا، اور شاید دیوار پر لٹکی ہڈیوں کی تصویر بھی مسکرا دی ہو گی۔
یہ فقط ایک واقعہ نہیں، یہ ڈاکٹر صاحب کے کردار کی ایک جھلک ہے۔ وہ اپنے مریض کو صرف اس کی بیماری کی نظر سے نہیں دیکھتے، بلکہ اس کے سماجی، معاشی اور نفسیاتی وجود کا بھی احترام کرتے ہیں۔ ان کے کلینک میں کوئی خاص اور عام نہیں ہوتا، نہ کوئی بریف کیس والا زیادہ معتبر، نہ کوئی سائیکل والا کم تر۔ سب کے لیے ایک سی نشست، ایک سا وقت، اور ایک جیسا خلوص۔
ڈاکٹر ظفر ملغانی کی زندگی کا ایک ایسا پہلو جو شاید بہت سے لوگ نہیں جانتے ان کا مطالعہ بڑا گہرا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو انگلش لٹریچر اور اردو ادب سے شغف ہے ان کی گفتگو اور باتوں میں غالب کی سادگی، فیض کی نرمی اور منٹو کی تلخی بھی جھلکتی ہے، لیکن ایک عجیب توازن کے ساتھ۔ وہ بات کرتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے دوا بھی دے رہے ہوں اور دعا بھی، مشورہ بھی کر رہے ہوں اور کسی پرانی کتاب کا حوالہ بھی۔
آج جب طب کا شعبہ سرمایہ داری کے پنجے میں سسک رہا ہے، جہاں علاج سے زیادہ تجارتی پیکجز بیچے جا رہے ہیں، وہاں ڈاکٹر ظفر جیسے لوگ نایاب خزانے کی مانند ہیں۔ ان کے کلینک میں وقت تو لگتا ہے، لیکن اس انتظار کے بعد جو تسلی، توجہ اور خلوص ملتا ہے، وہ بڑے شہروں کے مہنگے اسپتالوں میں بھی میسر نہیں۔
ڈاکٹر ظفر ملغانی محض ایک معالج نہیں، وہ ایک طرزِ فکر کا نام ہیں۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اصل مسیحائی وہ ہے جو کسی کی نبض تھامنے سے پہلے اس کی آنکھوں میں جھانکے، اور دوا دینے سے پہلے درد کو محسوس کرے۔ ان کی موجودگی اس بات کی دلیل ہے کہ ابھی بھی کچھ لوگ ہیں جو پیسے کی دوڑ سے نکل کر انسانیت کی راہوں پر گامزن ہیں۔
ایسے لوگ نہ صرف شہر کی پہچان ہوتے ہیں بلکہ قوموں کی روح بھی۔ اگر ہم اپنے سماج میں ایسے کرداروں کو سراہنا اور نمایاں کرنا شروع کر دیں تو شاید بہت سی بیماریاں لفظوں، باتوں اور رویوں سے ہی ٹھیک ہو جائیں۔
تحریک تحفظ آئین کی کال پر 8فروری کو سارا پاکستان بند ہو گا ۔علیمہ خانم
علیمہ خانم کا کہنا ہے کہ پاکستان بند کرنے کی شروعات 8فروری کو ہوگی، تحریک تحفظ آئین نے کال دے...
Read moreDetails










