• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

دِلوں کا مسیحا ۔۔ ڈاکٹر ظفر ملغانی ، تحریر۔۔۔ ارشاد راۓ

webmaster by webmaster
اگست 9, 2025
in کالم
0
دِلوں کا مسیحا ۔۔ ڈاکٹر ظفر ملغانی ، تحریر۔۔۔ ارشاد راۓ

سفید کوٹ صرف یونیفارم نہیں ہوتا، یہ ایک عہد ہوتا ہے—دکھوں کے سامنے ڈھال، بیماریوں کے خلاف مورچہ، اور بےبسوں کے لیے امید کا ایک چراغ
سر زمین لیہ جو تھل اور صحرا کا حسین امتزاج ہے کچھ ایسے چراغوں سے بھی روشن ہے جن کی روشنی جسموں سے زیادہ روحوں کو منور کرتی ہے۔ انہی چراغوں میں ایک نام فزیشن ڈاکٹر ظفر ملغانی کا ہے—ایک ایسا مسیحا جس کے مطب میں صرف دوائیں نہیں ملتیں، مسکراہٹ، گفتگو، ہمدردی، اور وہ مہک بھی ملتی ہے جو بڑے شہروں کے ایئر کنڈیشنڈ کلینکس سے کب کی رخصت ہو چکی ہے۔
ڈاکٹر صاحب ایک مکمل انسان ہیں۔ طب ان کا پیشہ ہے، لیکن ان کی فطرت، مزاج اور طرزِ زندگی خدمت، شائستگی اور تہذیب کا آئینہ ہے۔ وہ ان معدودے چند ڈاکٹروں میں سے ہیں جن کی پریکٹس ایک مقدس فریضہ معلوم ہوتی ہے۔ وہ نسلِ نو کو بھی سکھاتے ہیں کہ دوائی سے پہلے دعا، اور علاج سے پہلے دل کا حال پوچھنا لازم ہے۔
ایک شب کا ذکر ہے۔ رات دیر تک مریضوں کا تانتا بندھا رہا۔ جب آخری مریض اٹھا تو رک کر کہنے لگا:
ڈاکٹر، تمہیں ایک مفت کا مشورہ دینا ہے، سنو گے؟”
ڈاکٹر صاحب نے مسکرا کر کہا، “ضرور، ضرور!”
مریض نے کہا: “بڑے شہروں میں اب یہ رواج ہو گیا ہے کہ اگر اپوائنٹمنٹ نہ ہو تو ڈبل فیس دو، اور لائن چھوڑ کر اندر گھس جاؤ۔ وقت کی بچت، عزت کی حفاظت، سب کچھ ایک پیسے کی چابی سے ممکن ہے!”
ڈاکٹر صاحب نے ہنس کر جواب دیا:
“میرے محلے کا نائی بھی باری باری حجامت کرتا ہے۔ اگر میں نے بھی یہ ‘ملتان والا سلسلہ’ یہاں لیہ میں شروع کر دیا تو میری سماجی حیثیت تو باربر سے بھی نیچے چلی جائے گی!”
یہ بات سن کر مریض مسکرایا، ڈاکٹر مسکرایا، اور شاید دیوار پر لٹکی ہڈیوں کی تصویر بھی مسکرا دی ہو گی۔
یہ فقط ایک واقعہ نہیں، یہ ڈاکٹر صاحب کے کردار کی ایک جھلک ہے۔ وہ اپنے مریض کو صرف اس کی بیماری کی نظر سے نہیں دیکھتے، بلکہ اس کے سماجی، معاشی اور نفسیاتی وجود کا بھی احترام کرتے ہیں۔ ان کے کلینک میں کوئی خاص اور عام نہیں ہوتا، نہ کوئی بریف کیس والا زیادہ معتبر، نہ کوئی سائیکل والا کم تر۔ سب کے لیے ایک سی نشست، ایک سا وقت، اور ایک جیسا خلوص۔
ڈاکٹر ظفر ملغانی کی زندگی کا ایک ایسا پہلو جو شاید بہت سے لوگ نہیں جانتے ان کا مطالعہ بڑا گہرا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو انگلش لٹریچر اور اردو ادب سے شغف ہے ان کی گفتگو اور باتوں میں غالب کی سادگی، فیض کی نرمی اور منٹو کی تلخی بھی جھلکتی ہے، لیکن ایک عجیب توازن کے ساتھ۔ وہ بات کرتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے دوا بھی دے رہے ہوں اور دعا بھی، مشورہ بھی کر رہے ہوں اور کسی پرانی کتاب کا حوالہ بھی۔
آج جب طب کا شعبہ سرمایہ داری کے پنجے میں سسک رہا ہے، جہاں علاج سے زیادہ تجارتی پیکجز بیچے جا رہے ہیں، وہاں ڈاکٹر ظفر جیسے لوگ نایاب خزانے کی مانند ہیں۔ ان کے کلینک میں وقت تو لگتا ہے، لیکن اس انتظار کے بعد جو تسلی، توجہ اور خلوص ملتا ہے، وہ بڑے شہروں کے مہنگے اسپتالوں میں بھی میسر نہیں۔
ڈاکٹر ظفر ملغانی محض ایک معالج نہیں، وہ ایک طرزِ فکر کا نام ہیں۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اصل مسیحائی وہ ہے جو کسی کی نبض تھامنے سے پہلے اس کی آنکھوں میں جھانکے، اور دوا دینے سے پہلے درد کو محسوس کرے۔ ان کی موجودگی اس بات کی دلیل ہے کہ ابھی بھی کچھ لوگ ہیں جو پیسے کی دوڑ سے نکل کر انسانیت کی راہوں پر گامزن ہیں۔
ایسے لوگ نہ صرف شہر کی پہچان ہوتے ہیں بلکہ قوموں کی روح بھی۔ اگر ہم اپنے سماج میں ایسے کرداروں کو سراہنا اور نمایاں کرنا شروع کر دیں تو شاید بہت سی بیماریاں لفظوں، باتوں اور رویوں سے ہی ٹھیک ہو جائیں۔

Post Views: 12
Previous Post

لیہ۔ایس پی انویسٹی گیشن ملک محمد اصغر اولکھ کے زیر صدارت ڈسٹرکٹ سٹینڈنگ بورڈ کا اجلاس ،

Next Post

"میں” کی کہانی … انجم صحرائی

Next Post
"میں” کی کہانی … انجم صحرائی

"میں" کی کہانی ... انجم صحرائی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر  ملتان میں کھلی کچہری،چیئرپرسن وزیر اعلیٰ شکایات سیل صائمہ فاروق  نے شہریوں کی شکایات سنیں
قومی/ بین الاقوامی خبریں

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر ملتان میں کھلی کچہری،چیئرپرسن وزیر اعلیٰ شکایات سیل صائمہ فاروق نے شہریوں کی شکایات سنیں

by webmaster
جون 14, 2026
0

لاہور{ صبح پا کستان} وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پروزیراعلی شکایات سیل کی ٹیم نے ضلع ملتان...

Read moreDetails
اس بجٹ میں غریب کے لیے کچھ بھی نہیں: بیرسٹر گوہر

اس بجٹ میں غریب کے لیے کچھ بھی نہیں: بیرسٹر گوہر

جون 13, 2026
قومی اسمبلی کا اجلاس 10 جون بروز بدھ شام 5 بجے اسلام آباد میں ہوگا

قومی اسمبلی کا اجلاس 10 جون بروز بدھ شام 5 بجے اسلام آباد میں ہوگا

جون 10, 2026
کوئٹہ  ،تیزاب گردی، سول اسپتال میں خاتون ڈاکٹرپر تیزاب پھینکنے والاملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ، خاتون ڈاکٹر شدید زخمی

کوئٹہ ،تیزاب گردی، سول اسپتال میں خاتون ڈاکٹرپر تیزاب پھینکنے والاملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ، خاتون ڈاکٹر شدید زخمی

جون 7, 2026
ڈیرہ غازی خان ۔اتحاد بین المسلمین استحکام پاکستان کی ضمانت ہے۔ علماء کرام محراب و منبر سے امن، محبت، رواداری اور اخوت کا پیغام  دیں ۔مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد

ڈیرہ غازی خان ۔اتحاد بین المسلمین استحکام پاکستان کی ضمانت ہے۔ علماء کرام محراب و منبر سے امن، محبت، رواداری اور اخوت کا پیغام دیں ۔مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد

جون 4, 2026

سفید کوٹ صرف یونیفارم نہیں ہوتا، یہ ایک عہد ہوتا ہے—دکھوں کے سامنے ڈھال، بیماریوں کے خلاف مورچہ، اور بےبسوں کے لیے امید کا ایک چراغ
سر زمین لیہ جو تھل اور صحرا کا حسین امتزاج ہے کچھ ایسے چراغوں سے بھی روشن ہے جن کی روشنی جسموں سے زیادہ روحوں کو منور کرتی ہے۔ انہی چراغوں میں ایک نام فزیشن ڈاکٹر ظفر ملغانی کا ہے—ایک ایسا مسیحا جس کے مطب میں صرف دوائیں نہیں ملتیں، مسکراہٹ، گفتگو، ہمدردی، اور وہ مہک بھی ملتی ہے جو بڑے شہروں کے ایئر کنڈیشنڈ کلینکس سے کب کی رخصت ہو چکی ہے۔
ڈاکٹر صاحب ایک مکمل انسان ہیں۔ طب ان کا پیشہ ہے، لیکن ان کی فطرت، مزاج اور طرزِ زندگی خدمت، شائستگی اور تہذیب کا آئینہ ہے۔ وہ ان معدودے چند ڈاکٹروں میں سے ہیں جن کی پریکٹس ایک مقدس فریضہ معلوم ہوتی ہے۔ وہ نسلِ نو کو بھی سکھاتے ہیں کہ دوائی سے پہلے دعا، اور علاج سے پہلے دل کا حال پوچھنا لازم ہے۔
ایک شب کا ذکر ہے۔ رات دیر تک مریضوں کا تانتا بندھا رہا۔ جب آخری مریض اٹھا تو رک کر کہنے لگا:
ڈاکٹر، تمہیں ایک مفت کا مشورہ دینا ہے، سنو گے؟”
ڈاکٹر صاحب نے مسکرا کر کہا، “ضرور، ضرور!”
مریض نے کہا: “بڑے شہروں میں اب یہ رواج ہو گیا ہے کہ اگر اپوائنٹمنٹ نہ ہو تو ڈبل فیس دو، اور لائن چھوڑ کر اندر گھس جاؤ۔ وقت کی بچت، عزت کی حفاظت، سب کچھ ایک پیسے کی چابی سے ممکن ہے!”
ڈاکٹر صاحب نے ہنس کر جواب دیا:
“میرے محلے کا نائی بھی باری باری حجامت کرتا ہے۔ اگر میں نے بھی یہ ‘ملتان والا سلسلہ’ یہاں لیہ میں شروع کر دیا تو میری سماجی حیثیت تو باربر سے بھی نیچے چلی جائے گی!”
یہ بات سن کر مریض مسکرایا، ڈاکٹر مسکرایا، اور شاید دیوار پر لٹکی ہڈیوں کی تصویر بھی مسکرا دی ہو گی۔
یہ فقط ایک واقعہ نہیں، یہ ڈاکٹر صاحب کے کردار کی ایک جھلک ہے۔ وہ اپنے مریض کو صرف اس کی بیماری کی نظر سے نہیں دیکھتے، بلکہ اس کے سماجی، معاشی اور نفسیاتی وجود کا بھی احترام کرتے ہیں۔ ان کے کلینک میں کوئی خاص اور عام نہیں ہوتا، نہ کوئی بریف کیس والا زیادہ معتبر، نہ کوئی سائیکل والا کم تر۔ سب کے لیے ایک سی نشست، ایک سا وقت، اور ایک جیسا خلوص۔
ڈاکٹر ظفر ملغانی کی زندگی کا ایک ایسا پہلو جو شاید بہت سے لوگ نہیں جانتے ان کا مطالعہ بڑا گہرا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو انگلش لٹریچر اور اردو ادب سے شغف ہے ان کی گفتگو اور باتوں میں غالب کی سادگی، فیض کی نرمی اور منٹو کی تلخی بھی جھلکتی ہے، لیکن ایک عجیب توازن کے ساتھ۔ وہ بات کرتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے دوا بھی دے رہے ہوں اور دعا بھی، مشورہ بھی کر رہے ہوں اور کسی پرانی کتاب کا حوالہ بھی۔
آج جب طب کا شعبہ سرمایہ داری کے پنجے میں سسک رہا ہے، جہاں علاج سے زیادہ تجارتی پیکجز بیچے جا رہے ہیں، وہاں ڈاکٹر ظفر جیسے لوگ نایاب خزانے کی مانند ہیں۔ ان کے کلینک میں وقت تو لگتا ہے، لیکن اس انتظار کے بعد جو تسلی، توجہ اور خلوص ملتا ہے، وہ بڑے شہروں کے مہنگے اسپتالوں میں بھی میسر نہیں۔
ڈاکٹر ظفر ملغانی محض ایک معالج نہیں، وہ ایک طرزِ فکر کا نام ہیں۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اصل مسیحائی وہ ہے جو کسی کی نبض تھامنے سے پہلے اس کی آنکھوں میں جھانکے، اور دوا دینے سے پہلے درد کو محسوس کرے۔ ان کی موجودگی اس بات کی دلیل ہے کہ ابھی بھی کچھ لوگ ہیں جو پیسے کی دوڑ سے نکل کر انسانیت کی راہوں پر گامزن ہیں۔
ایسے لوگ نہ صرف شہر کی پہچان ہوتے ہیں بلکہ قوموں کی روح بھی۔ اگر ہم اپنے سماج میں ایسے کرداروں کو سراہنا اور نمایاں کرنا شروع کر دیں تو شاید بہت سی بیماریاں لفظوں، باتوں اور رویوں سے ہی ٹھیک ہو جائیں۔

No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.