• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
ad
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2024-12-20 at 4.47.55 PM
WhatsApp Image 2024-12-20 at 11.08.33 PM
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

آئی جی سندھ واقعہ؛ رینجرز اور آئی ایس آئی کے ذمہ دار افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا

webmaster by webmaster
نومبر 11, 2020
in First Page, قومی/ بین الاقوامی خبریں
0
کشمیرتکمیل پاکستان کا نا مکمل ایجنڈا ہے ، کشمیریوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔ یوم شہداء کی تقریب سے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا خطاب

راولپنڈی: آئی ایس پی آر کے مطابق آئی جی سندھ کے تحفظات سے متعلق فوج کی کورٹ آف انکوائری مکمل کرلی گئی ہے جس کے تحت رینجرز اور آئی ایس آئی کے ذمہ دار افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق مزار قائد بے حرمتی کے پس منظر میں رونما ہونے والے واقعہ پر آئی جی سندھ کے تحفظات کے حوالے سے فوج کی کورٹ آف انکوائری مکمل کرلی گئی ہے، واقعہ کی انکوائری آرمی چیف کے حکم پر کی گئی اور رپورٹ کے پس منظر میں رینجرز اور سیکٹر ہیڈکوارٹر آئی ایس آئی کراچی کے آفیسرز کو ذمہ داریوں سے ہٹادیا گیا ہے۔

کورٹ آف انکوائری کی تحقیقات کے مطابق 18 اور 19 اکتوبر کی درمیانی شب پاکستان رینجرز سندھ اور سیکٹر ہیڈ کوارٹرز آئی ایس آئی کراچی کے آفیسرز مزار قائد کی بے حرمتی کے نتیجے میں شدید عوامی رد عمل سے پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے میں مصروف تھے، پاکستان رینجرز اور سیکٹر ہیڈ کوارٹرز آئی ایس آئی کراچی کے آفیسرز پر مزارِ قائد کی بے حرمتی پر قانون کے مطابق بروقت کارروائی کے لیے عوام کا شدید دباؤ تھا۔
رپورٹ کے مطابق ان آفیسرز نے شدید عوامی ردِ عمل اور تیزی سے بدلتی ہوئی کشیدہ صورتحال کے مد نظر سندھ پولیس کے طرز عمل کو اپنی دانست میں ناکافی اور سست روی کا شکار پایا، اس کشیدہ مگر پُر اشتعال صورتحال پر قابو پانے کیلئے ان آفیسرز نے اپنی حیثیت میں جس قدر جذباتی رد عمل کا مظاہرہ کیا، ذمہ دار اور تجربہ کار آفیسرز کے طور پر انہیں ایسی ناپسندیدہ صورتحال سے گریزکرنا چاہیے تھا، جس سے ریاست کے 2 اداروں میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔

کورٹ آف انکوائری کی سفارشات کی روشنی میں متعلقہ آفیسرز کو اپنی موجودہ ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا ہے جب کہ ضابطہ کی خلاف ورزی پر ان آفیسرز کے خلاف کارروائی جی ایچ کیو میں عمل میں لائی جائے گی۔

کیس کا پس منظر؛

کیپٹن(ر) صفدر گرفتاری کا واقعہ؛

گزشتہ مہینے رہنما مسلم لیگ (ن) مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن(ر) صفدر حکومت مخالف اتحاد پی ڈی ایم کے جلسے میں شرکت کے لیے کراچی پہنچے تھے، جلسے سے قبل لیگی قیادت مزار قائد پر حاضری کے لیے پہنچی جہاں کیپٹن (ر) محمد صفدر نے نعرے بازی شروع کردی تھی اور مزار قائد کے احاطے میں ”ووٹ کو عزت دو“ کے نعرے لگائے۔

واقعہ کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے رہنما وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے آئی جی سندھ اور چیف سیکریٹری سندھ کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر صبح تک مقدمہ درج نہیں ہوا تو کابینہ اجلاس میں او ایس ڈی بنانے کا معاملہ اٹھاؤں گا۔

واقعہ کے اگلے روز کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو صبح کراچی میں نجی ہوٹل کے کمرے سے گرفتار کرلیا گیا۔ مریم نواز نے اپنی ٹوئٹ سے بتایا تھا کہ کراچی میں پولیس نے ہوٹل میں ہمارے کمرے کا دروازہ توڑ کر کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کیا۔ انہوں نے ہوٹل کے کمرے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ جب پولیس اہلکار زبردستی اندر گھسے تو وہ کمرے میں موجود تھیں اور سو رہی تھیں۔

آئی جی سندھ اور اعلیٰ افسران کا چھٹیوں پر جانے کا فیصلہ؛

ذرائع کے مطابق رہنما مسلم لیگ (ن) کیپٹن (ر)صفدر کی گرفتاری کے لیے آئی جی سندھ پر دباؤ ڈالا گیا تھا جس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر آئی جی سمیت سندھ پولیس کے دیگر اعلیٰ افسران نے چھٹیوں پر جانے کا فیصلہ کیا، اس سلسلے میں سب سے پہلے ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ عمران یعقوب منہاس کی درخواست سامنے آئی۔ انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس معاملے پر دل برداشتہ ہو کر 2 ماہ کی چھٹیوں کے لیے درخواست دے دی ہے۔ سندھ پولیس کے تمام افسران کل کے واقعے کے بعد صدمے میں ہیں، ایسے ماحول میں کام نہیں کرسکتا۔

علاوہ ازیں چھٹی کی درخواست دینے والے افسران میں ڈی آئی جی ویسٹ کراچی عاصم خان، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عمر شاہد، ڈی آئی جی ساؤتھ جاوید اکبر ریاض، ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر ثاقب اسماعیل میمن، ڈی آئی جی حیدرآباد نعیم احمد شیخ، ڈی آئی جی اسپیشل برانچ قمر الزماں، ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب اور ایس ایس پی انٹیلی جنس توقیر نعیم اور دیگر کے نام بھی شامل تھے۔

آرمی چیف کا نوٹس؛

آئی جی سندھ مشتاق مہر سمیت سندھ پولیس کے دیگر اعلیٰ افسران کے چھٹیوں پر جانے کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد آرمی چیف نے کراچی میں پیش آنے والے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کور کمانڈر کراچی کو معاملے کی فوری تحقیقات کرنے اور حقائق تک پہنچ کر جلد از جلد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے کراچی واقعے کا نوٹس لینے کے بعد آئی جی سندھ اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران نے تحقیقات ہونے تک چھٹی پر جانے کا فیصلہ مؤخر کردیا تھا۔

Source: ایکسپریس نیوز
Tags: National News
Previous Post

حکومت کا جہاز ڈوب رہا ہے، اب کوئی سوار نہیں ہوگا بلکہ چھلانگ لگائے گا، مریم نواز

Next Post

اقتدار کے لیے بے چین اپوزیشن نوشتہ دیوار پڑھ لے:وزیراعلیٰ پنجاب

Next Post
وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی لائن آف کنٹرول پربھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ کی شدید مذمت

اقتدار کے لیے بے چین اپوزیشن نوشتہ دیوار پڑھ لے:وزیراعلیٰ پنجاب

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

راولپنڈی اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ
صبح پاکستان

راولپنڈی اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ

by webmaster
اپریل 20, 2026
0

راولپنڈی اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور غیر معمولی...

Read moreDetails
وزیرِ اعظم  کی مدینہ منورہ میں مسجد النبوی میں حاضری ،ملک و قوم کی ترقی سمیت دنیا بھر میں امن و امان کے لیے دعائیں

وزیرِ اعظم کی مدینہ منورہ میں مسجد النبوی میں حاضری ،ملک و قوم کی ترقی سمیت دنیا بھر میں امن و امان کے لیے دعائیں

اپریل 16, 2026
ڈیرہ غازی خا  ن   ۔ سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی کھوسہ ایک زیرک سیاستدان اور مدبر رہنما تھے جن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ،چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی

ڈیرہ غازی خا ن ۔ سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی کھوسہ ایک زیرک سیاستدان اور مدبر رہنما تھے جن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ،چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی

اپریل 11, 2026
ا ہور ۔سوشل میڈیا پر ہراسمنٹ اور بلیک میلنگ کے خاتمے کیلئے پنجاب سائبرکرائم یونٹ کے قیام کی منظوری

ا ہور ۔سوشل میڈیا پر ہراسمنٹ اور بلیک میلنگ کے خاتمے کیلئے پنجاب سائبرکرائم یونٹ کے قیام کی منظوری

اپریل 10, 2026
پاکستان کی امن کو ششیں کا میاب ۔ امریکہ ایران مذاکرات اسلام آباد میں آج ہوں گے

پاکستان کی امن کو ششیں کا میاب ۔ امریکہ ایران مذاکرات اسلام آباد میں آج ہوں گے

اپریل 10, 2026
راولپنڈی: آئی ایس پی آر کے مطابق آئی جی سندھ کے تحفظات سے متعلق فوج کی کورٹ آف انکوائری مکمل کرلی گئی ہے جس کے تحت رینجرز اور آئی ایس آئی کے ذمہ دار افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق مزار قائد بے حرمتی کے پس منظر میں رونما ہونے والے واقعہ پر آئی جی سندھ کے تحفظات کے حوالے سے فوج کی کورٹ آف انکوائری مکمل کرلی گئی ہے، واقعہ کی انکوائری آرمی چیف کے حکم پر کی گئی اور رپورٹ کے پس منظر میں رینجرز اور سیکٹر ہیڈکوارٹر آئی ایس آئی کراچی کے آفیسرز کو ذمہ داریوں سے ہٹادیا گیا ہے۔ کورٹ آف انکوائری کی تحقیقات کے مطابق 18 اور 19 اکتوبر کی درمیانی شب پاکستان رینجرز سندھ اور سیکٹر ہیڈ کوارٹرز آئی ایس آئی کراچی کے آفیسرز مزار قائد کی بے حرمتی کے نتیجے میں شدید عوامی رد عمل سے پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے میں مصروف تھے، پاکستان رینجرز اور سیکٹر ہیڈ کوارٹرز آئی ایس آئی کراچی کے آفیسرز پر مزارِ قائد کی بے حرمتی پر قانون کے مطابق بروقت کارروائی کے لیے عوام کا شدید دباؤ تھا۔ رپورٹ کے مطابق ان آفیسرز نے شدید عوامی ردِ عمل اور تیزی سے بدلتی ہوئی کشیدہ صورتحال کے مد نظر سندھ پولیس کے طرز عمل کو اپنی دانست میں ناکافی اور سست روی کا شکار پایا، اس کشیدہ مگر پُر اشتعال صورتحال پر قابو پانے کیلئے ان آفیسرز نے اپنی حیثیت میں جس قدر جذباتی رد عمل کا مظاہرہ کیا، ذمہ دار اور تجربہ کار آفیسرز کے طور پر انہیں ایسی ناپسندیدہ صورتحال سے گریزکرنا چاہیے تھا، جس سے ریاست کے 2 اداروں میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ کورٹ آف انکوائری کی سفارشات کی روشنی میں متعلقہ آفیسرز کو اپنی موجودہ ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا ہے جب کہ ضابطہ کی خلاف ورزی پر ان آفیسرز کے خلاف کارروائی جی ایچ کیو میں عمل میں لائی جائے گی۔ کیس کا پس منظر؛ کیپٹن(ر) صفدر گرفتاری کا واقعہ؛ گزشتہ مہینے رہنما مسلم لیگ (ن) مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن(ر) صفدر حکومت مخالف اتحاد پی ڈی ایم کے جلسے میں شرکت کے لیے کراچی پہنچے تھے، جلسے سے قبل لیگی قیادت مزار قائد پر حاضری کے لیے پہنچی جہاں کیپٹن (ر) محمد صفدر نے نعرے بازی شروع کردی تھی اور مزار قائد کے احاطے میں ”ووٹ کو عزت دو“ کے نعرے لگائے۔ واقعہ کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے رہنما وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے آئی جی سندھ اور چیف سیکریٹری سندھ کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر صبح تک مقدمہ درج نہیں ہوا تو کابینہ اجلاس میں او ایس ڈی بنانے کا معاملہ اٹھاؤں گا۔ واقعہ کے اگلے روز کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو صبح کراچی میں نجی ہوٹل کے کمرے سے گرفتار کرلیا گیا۔ مریم نواز نے اپنی ٹوئٹ سے بتایا تھا کہ کراچی میں پولیس نے ہوٹل میں ہمارے کمرے کا دروازہ توڑ کر کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کیا۔ انہوں نے ہوٹل کے کمرے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ جب پولیس اہلکار زبردستی اندر گھسے تو وہ کمرے میں موجود تھیں اور سو رہی تھیں۔ آئی جی سندھ اور اعلیٰ افسران کا چھٹیوں پر جانے کا فیصلہ؛ ذرائع کے مطابق رہنما مسلم لیگ (ن) کیپٹن (ر)صفدر کی گرفتاری کے لیے آئی جی سندھ پر دباؤ ڈالا گیا تھا جس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر آئی جی سمیت سندھ پولیس کے دیگر اعلیٰ افسران نے چھٹیوں پر جانے کا فیصلہ کیا، اس سلسلے میں سب سے پہلے ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ عمران یعقوب منہاس کی درخواست سامنے آئی۔ انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس معاملے پر دل برداشتہ ہو کر 2 ماہ کی چھٹیوں کے لیے درخواست دے دی ہے۔ سندھ پولیس کے تمام افسران کل کے واقعے کے بعد صدمے میں ہیں، ایسے ماحول میں کام نہیں کرسکتا۔ علاوہ ازیں چھٹی کی درخواست دینے والے افسران میں ڈی آئی جی ویسٹ کراچی عاصم خان، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عمر شاہد، ڈی آئی جی ساؤتھ جاوید اکبر ریاض، ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر ثاقب اسماعیل میمن، ڈی آئی جی حیدرآباد نعیم احمد شیخ، ڈی آئی جی اسپیشل برانچ قمر الزماں، ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب اور ایس ایس پی انٹیلی جنس توقیر نعیم اور دیگر کے نام بھی شامل تھے۔ آرمی چیف کا نوٹس؛ آئی جی سندھ مشتاق مہر سمیت سندھ پولیس کے دیگر اعلیٰ افسران کے چھٹیوں پر جانے کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد آرمی چیف نے کراچی میں پیش آنے والے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کور کمانڈر کراچی کو معاملے کی فوری تحقیقات کرنے اور حقائق تک پہنچ کر جلد از جلد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے کراچی واقعے کا نوٹس لینے کے بعد آئی جی سندھ اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران نے تحقیقات ہونے تک چھٹی پر جانے کا فیصلہ مؤخر کردیا تھا۔
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.