• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
ad
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2024-12-20 at 4.47.55 PM
WhatsApp Image 2024-12-20 at 11.08.33 PM
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

حکومت میں ملک چلانے کی نہ صلاحیت ہے اور نہ ہی قابلیت، چیف جسٹس

webmaster by webmaster
ستمبر 1, 2020
in First Page, قومی/ بین الاقوامی خبریں
0
حکومت میں ملک چلانے کی نہ صلاحیت ہے اور نہ ہی قابلیت، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ حکومت میں ملک چلانے کی نہ صلاحیت ہے اور نہ ہی قابلیت۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فاضل بینچ نے کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے متعلق کیس پر کی۔ دوران سماعت سپریم کورٹ نے کے الیکٹرک اور پاور ڈویژن پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

’رپورٹ کے الیکٹرک سے پیسے لے کر بنائی‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پاور ڈویژن کی رپورٹ کے الیکٹرک سے پیسے لے کر بنائی گئی، جس پاور ڈویژن والے افسر نے رپورٹ جمع کرائی اس کو پھانسی دے دینی چاہیے۔ کیوں نہ ایسی رپورٹ پر جوائنٹ سیکرٹری کو نوکری سے فارغ کر دیں، ہم نے موجودہ صورتحال پر رپورٹ مانگی تھی انہوں نے مستقبل کا لکھ دیا، مسقبل کو چھوڑ دیں، اب کیا کررہے ہیں اس کا بتایا جائے، پاور ڈویژن والوں کو کراچی لے جائیں دیکھیں لوگ کیسے ان کو پتھر مارتے ہیں، کراچی جاکر ان لوگوں کا دماغ ٹھیک ہو جائے گا۔

’کے الیکٹرک والے اسٹے آرڈر لے کر 5 سال تک بیٹھے رہتے ہیں‘

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے کہا تھا کہ نیپرا اور دیگر ادارے کراچی میں لوڈ شیڈنگ کے مسئلے کا حل نکال کر آئیں، کراچی میں بارشوں کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہو چکی ہے۔ کے الیکٹرک والے اسٹے آرڈر لے کر پانچ سال تک بیٹھے رہتے ہیں۔

’کراچی کے کرتا دھرتا منہ سے نوالہ بھی چھین لیتے ہیں‘

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ خواہ مخواہ کہا جاتا ہے کراچی ملکی معیشت کا 70 فیصد دیتا ہے، کراچی کے پاس دینے کے لیے اب کچھ نہیں۔ کراچی میں اربوں روپے جاری ہوتے ہیں لیکن خرچ کچھ نہیں ہوا، 4 سال میئر رہنے والے نے ایک نالی تک نہیں بنائی۔ لوکل گورنمنٹ والوں کو جتنے بھی پیسے ملے وہ تنخواہوں پر خرچ کئے گئے ہیں۔ آج بھی آدھا کراچی پانی اور اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے، کراچی میں کے ایم سی اور کنٹونمنٹ بورڈ ہے لیکن ان کے ملازم نظر نہیں آرہے، شہر کی دیکھ بھال کا ذمہ حکومت کا ہے لیکن ہمیں علم ہے کہ کراچی کے کرتے دھرتے کچھ نہیں کریں گے۔ وہ تومنہ سے نوالہ بھی چھین لیتے ہیں۔ پہلے ہی اربوں روپے بیرون ملک جاچکے ہیں، کراچی میں مال بنانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، کراچی والوں کے بیرون ملک اکاونٹ فعال ہوچکے ہیں۔

حکومت کے الیکٹرک کی منشی بنی ہوئی ہے

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ کے الیکٹرک عوام کو بجلی اور حکومت کو پیسے نہیں دیتی، 2015 سے کے الیکٹرک نے ایک روپیہ حکومت کو نہیں دیا، حکومت میں ملک چلانے کی نہ صلاحیت ہے اور نہ ہی قابلیت، حکومت کو بے بس کیا جارہا ہے کیونکہ اس کے پاس اہلیت نہیں، حکومت کے الیکٹرک کی کلرک اور منشی بنی ہوئی ہے، کے الیکٹرک نے 2015 سے رقم جمع نہیں کرائی آپ لوگ ان کے ترلے کررہے ہیں۔ وفاقی حکومت کی اگر کے الیکٹرک پر رٹ نہیں تو پورے ملک پر نہیں، وفاقی حکومت بالکل بے بس ہے، وفاقی حکومت کیا کررہی ہے؟ اس کی آخر رٹ کہاں ہے، وفاقی حکومت ایسے پاکستان چلائے گی۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمے کے دوران ریمارکس دیئے کہ کراچی میں حکومت بے بس نظر آرہی ہے، کراچی کے شہری اس وقت کے الیکٹرک کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں، کے الیکٹرک والے کراچی شہر کے ساتھ بہت برا کررہے ہیں۔ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ کے الیکٹرک کے پاس پیداواری صلاحیت نہیں تو پھر بجلی پیداوار کا خصوصی اختیار ختم ہو جاتا ہے، پاور ڈویژن کا جواب واپس لیتا ہوں نیا جواب جمع کرائیں گے۔

’کمیشن کا کیا فائدہ جس نے کام کرنا تھا وہ کر گیا‘

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ پاور سیکٹر کے پاس کام کرنے کا دم نہیں، ملک میں پیٹرول کا بڑا اسکینڈل آیا ،ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر آگئی، دس روز تک ملک مکمل بند رہا، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ پیٹرول کے معاملے پر کمیشن بنایا ہے، جواب میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کمیشن کا کیا فائدہ جس نے کام کرنا تھا وہ کر گیا۔

’عوام کے فائدے کے لیے حکومت کے پاس کچھ نہیں‘

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ اس وقت عوام کے فائدے کے لیے حکومت کے پاس کچھ نہیں ہے، اداروں کی آپس میں کوئی ہم آہنگی نہیں، تمام حکومتی ادارے کے الیکٹرک کی معاونت کے لئے ہیں، اس بار بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے، پاور ڈویژن کی رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنائیں گے۔

’کے الیکٹرک کے خلاف حکم امتناع خارج‘

سپریم کورٹ نے نیپرا قانون کے سیکشن 26 پر عملدرآمد کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا کہ قانون کے تحت نیپرا کو عوامی سماعت کرکے فیصلے کا اختیار ہے، نیپرا قانون کے مطابق کے الیکٹرک کے کراچی میں بجلی سپلائی کے خصوصی اختیار کا فیصلہ کرے،10 دن میں نیپرا ٹربیونل کے ممبران تعینات کئے جائیں اور سیکشن 26 کے اختیار کے استعمال پر کوئی عدالت حکم امتناع نہیں دے سکے گی۔ سپریم کورٹ نے کے الیکٹرک کے خلاف نیپرا اقدامات پر جاری شدہ حکم امتناع بھی خارج کر دیے۔

Source: ایکسپریس نیوز
Tags: National News
Previous Post

چیف منسٹر بزدار لیّہ نشیب میں سندھ دریا کے متاثرہ خاندانوں بارے بھی میگا پراجیکٹ کا اعلان کریں. نعمان حسن

Next Post

لیہ۔ آئل ٹینکر حادثہ، پولیس کا کوئیک رسپانس،کسی قسم کا جانی و مالی نقصان نہیں ہوا

Next Post
لیہ۔ آئل ٹینکر حادثہ، پولیس کا کوئیک رسپانس،کسی قسم کا جانی و مالی نقصان نہیں ہوا

لیہ۔ آئل ٹینکر حادثہ، پولیس کا کوئیک رسپانس،کسی قسم کا جانی و مالی نقصان نہیں ہوا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

راولپنڈی اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ
صبح پاکستان

راولپنڈی اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ

by webmaster
اپریل 20, 2026
0

راولپنڈی اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور غیر معمولی...

Read moreDetails
وزیرِ اعظم  کی مدینہ منورہ میں مسجد النبوی میں حاضری ،ملک و قوم کی ترقی سمیت دنیا بھر میں امن و امان کے لیے دعائیں

وزیرِ اعظم کی مدینہ منورہ میں مسجد النبوی میں حاضری ،ملک و قوم کی ترقی سمیت دنیا بھر میں امن و امان کے لیے دعائیں

اپریل 16, 2026
ڈیرہ غازی خا  ن   ۔ سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی کھوسہ ایک زیرک سیاستدان اور مدبر رہنما تھے جن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ،چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی

ڈیرہ غازی خا ن ۔ سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی کھوسہ ایک زیرک سیاستدان اور مدبر رہنما تھے جن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ،چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی

اپریل 11, 2026
ا ہور ۔سوشل میڈیا پر ہراسمنٹ اور بلیک میلنگ کے خاتمے کیلئے پنجاب سائبرکرائم یونٹ کے قیام کی منظوری

ا ہور ۔سوشل میڈیا پر ہراسمنٹ اور بلیک میلنگ کے خاتمے کیلئے پنجاب سائبرکرائم یونٹ کے قیام کی منظوری

اپریل 10, 2026
پاکستان کی امن کو ششیں کا میاب ۔ امریکہ ایران مذاکرات اسلام آباد میں آج ہوں گے

پاکستان کی امن کو ششیں کا میاب ۔ امریکہ ایران مذاکرات اسلام آباد میں آج ہوں گے

اپریل 10, 2026
اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ حکومت میں ملک چلانے کی نہ صلاحیت ہے اور نہ ہی قابلیت۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فاضل بینچ نے کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے متعلق کیس پر کی۔ دوران سماعت سپریم کورٹ نے کے الیکٹرک اور پاور ڈویژن پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ ’رپورٹ کے الیکٹرک سے پیسے لے کر بنائی‘ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پاور ڈویژن کی رپورٹ کے الیکٹرک سے پیسے لے کر بنائی گئی، جس پاور ڈویژن والے افسر نے رپورٹ جمع کرائی اس کو پھانسی دے دینی چاہیے۔ کیوں نہ ایسی رپورٹ پر جوائنٹ سیکرٹری کو نوکری سے فارغ کر دیں، ہم نے موجودہ صورتحال پر رپورٹ مانگی تھی انہوں نے مستقبل کا لکھ دیا، مسقبل کو چھوڑ دیں، اب کیا کررہے ہیں اس کا بتایا جائے، پاور ڈویژن والوں کو کراچی لے جائیں دیکھیں لوگ کیسے ان کو پتھر مارتے ہیں، کراچی جاکر ان لوگوں کا دماغ ٹھیک ہو جائے گا۔ ’کے الیکٹرک والے اسٹے آرڈر لے کر 5 سال تک بیٹھے رہتے ہیں‘ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے کہا تھا کہ نیپرا اور دیگر ادارے کراچی میں لوڈ شیڈنگ کے مسئلے کا حل نکال کر آئیں، کراچی میں بارشوں کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہو چکی ہے۔ کے الیکٹرک والے اسٹے آرڈر لے کر پانچ سال تک بیٹھے رہتے ہیں۔ ’کراچی کے کرتا دھرتا منہ سے نوالہ بھی چھین لیتے ہیں‘ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ خواہ مخواہ کہا جاتا ہے کراچی ملکی معیشت کا 70 فیصد دیتا ہے، کراچی کے پاس دینے کے لیے اب کچھ نہیں۔ کراچی میں اربوں روپے جاری ہوتے ہیں لیکن خرچ کچھ نہیں ہوا، 4 سال میئر رہنے والے نے ایک نالی تک نہیں بنائی۔ لوکل گورنمنٹ والوں کو جتنے بھی پیسے ملے وہ تنخواہوں پر خرچ کئے گئے ہیں۔ آج بھی آدھا کراچی پانی اور اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے، کراچی میں کے ایم سی اور کنٹونمنٹ بورڈ ہے لیکن ان کے ملازم نظر نہیں آرہے، شہر کی دیکھ بھال کا ذمہ حکومت کا ہے لیکن ہمیں علم ہے کہ کراچی کے کرتے دھرتے کچھ نہیں کریں گے۔ وہ تومنہ سے نوالہ بھی چھین لیتے ہیں۔ پہلے ہی اربوں روپے بیرون ملک جاچکے ہیں، کراچی میں مال بنانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، کراچی والوں کے بیرون ملک اکاونٹ فعال ہوچکے ہیں۔ حکومت کے الیکٹرک کی منشی بنی ہوئی ہے جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ کے الیکٹرک عوام کو بجلی اور حکومت کو پیسے نہیں دیتی، 2015 سے کے الیکٹرک نے ایک روپیہ حکومت کو نہیں دیا، حکومت میں ملک چلانے کی نہ صلاحیت ہے اور نہ ہی قابلیت، حکومت کو بے بس کیا جارہا ہے کیونکہ اس کے پاس اہلیت نہیں، حکومت کے الیکٹرک کی کلرک اور منشی بنی ہوئی ہے، کے الیکٹرک نے 2015 سے رقم جمع نہیں کرائی آپ لوگ ان کے ترلے کررہے ہیں۔ وفاقی حکومت کی اگر کے الیکٹرک پر رٹ نہیں تو پورے ملک پر نہیں، وفاقی حکومت بالکل بے بس ہے، وفاقی حکومت کیا کررہی ہے؟ اس کی آخر رٹ کہاں ہے، وفاقی حکومت ایسے پاکستان چلائے گی۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمے کے دوران ریمارکس دیئے کہ کراچی میں حکومت بے بس نظر آرہی ہے، کراچی کے شہری اس وقت کے الیکٹرک کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں، کے الیکٹرک والے کراچی شہر کے ساتھ بہت برا کررہے ہیں۔ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ کے الیکٹرک کے پاس پیداواری صلاحیت نہیں تو پھر بجلی پیداوار کا خصوصی اختیار ختم ہو جاتا ہے، پاور ڈویژن کا جواب واپس لیتا ہوں نیا جواب جمع کرائیں گے۔ ’کمیشن کا کیا فائدہ جس نے کام کرنا تھا وہ کر گیا‘ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ پاور سیکٹر کے پاس کام کرنے کا دم نہیں، ملک میں پیٹرول کا بڑا اسکینڈل آیا ،ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر آگئی، دس روز تک ملک مکمل بند رہا، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ پیٹرول کے معاملے پر کمیشن بنایا ہے، جواب میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کمیشن کا کیا فائدہ جس نے کام کرنا تھا وہ کر گیا۔ ’عوام کے فائدے کے لیے حکومت کے پاس کچھ نہیں‘ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ اس وقت عوام کے فائدے کے لیے حکومت کے پاس کچھ نہیں ہے، اداروں کی آپس میں کوئی ہم آہنگی نہیں، تمام حکومتی ادارے کے الیکٹرک کی معاونت کے لئے ہیں، اس بار بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے، پاور ڈویژن کی رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنائیں گے۔ ’کے الیکٹرک کے خلاف حکم امتناع خارج‘ سپریم کورٹ نے نیپرا قانون کے سیکشن 26 پر عملدرآمد کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا کہ قانون کے تحت نیپرا کو عوامی سماعت کرکے فیصلے کا اختیار ہے، نیپرا قانون کے مطابق کے الیکٹرک کے کراچی میں بجلی سپلائی کے خصوصی اختیار کا فیصلہ کرے،10 دن میں نیپرا ٹربیونل کے ممبران تعینات کئے جائیں اور سیکشن 26 کے اختیار کے استعمال پر کوئی عدالت حکم امتناع نہیں دے سکے گی۔ سپریم کورٹ نے کے الیکٹرک کے خلاف نیپرا اقدامات پر جاری شدہ حکم امتناع بھی خارج کر دیے۔
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.