• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
SB2425
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

کرونا اور انسان کا رونا۔۔۔۔!! .. مظہر اقبال کھوکھر

webmaster by webmaster
مارچ 18, 2020
in کالم
0
کرونا اور انسان کا رونا۔۔۔۔!! .. مظہر اقبال کھوکھر

ایک خوف ہے جو ہر سو چھایا ہوا ہے ایک وائرس ایک جراثومے کا خوف ، بیماری کا خوف ، موت کا خوف ، پچھلے چند ماہ سے پوری دنیا ایک جانے انجانے خوف میں مبتلا ہے کرونا وائرس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ معمولی سا وائرس کتنا طاقتور ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے پوری دنیا ایک دوسرے سے خوف زدہ ہے ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے ۔ سائنس اور ٹیکنالوجی  کے میدان میں بہت آگے نکل جانے والا انسان ایک دم بہت پیچھے چلا گیا ہے ۔

چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والا کرونا وائرس ایران ، اٹلی سے ہوتا ہوا امریکہ سمیت دنیا کے 160 ممالک میں پہنچ چکا ہے جس کے نتیجے میں اب تک 7 ہزار سے زائد افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں جبکہ دو لاکھ کے قریب  افراد اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے  ذیلی ادارے  ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کرونا وائرس کو عالمی وباء قرار دے دیا ہے  عالمی سطح پر اس وائرس سے نمٹنے کے لیے فنڈز بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔ پوری دنیا کے اربوں لوگ کرونا کے خوف میں مبتلا ہوچکے ہیں چین کے بعد اٹلی سمیت جن ممالک میں کرونا نے مہلک شکل اختیار کر لی ہے وہاں ایک ہو کا عالم ہے کئی ممالک میں لاک ڈاون اور کرفیو لگا دیا گیا ہے اور جن ممالک میں نہیں ہے یا ابھی کم ہے وہاں بھی تیزی کے ساتھ احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں خوف ہے کہ مسلسل بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک ایک دوسرے سے رابطے منقطع کر رہے ہیں ، ائیرپورٹ بند کیے جاچکے ہیں یا بند کیے جا رہے ہیں ، کھیل کے میدان ویران ہو چکے ہیں ، اسٹیڈیم ، ریستوران، پارکس ، تفریح گاہیں ، سنیما گھر ، اسکولز، مذہبی مقامات،  عبادت گاہیں الغرض جہاں جہاں رش کا امکان ہو سکتا ہے وہ تمام مقامات بند کر دیے گئے ہیں ۔ شہروں کے شہر اور ملکوں کے ملک بے بسی کا منظر پیش کر رہے ہیں ۔

کرونا وائرس انسان کا اپنا بنایا ہوا کوئی مہلک ہتھیار ہے یا انسان کے اعمال کے نتیجے میں آنے والی کوئی قدرتی آفت مگر اس کی طاقت نے انسان کی کمزوری اور  بے بسی کو ادھیڑ کر رکھ دیا ہے ۔ آج انسان ایسی طاقت ڈھونڈ رہا ایسا سہارا تلاش کر رہا ہے جہاں اسے پناہ مل سکے جہاں اس کا یہ خوف ختم ہو سکے جہاں اسے کچھ لمحوں کے لیے سکون مل سکے ۔

یہ وہی انسان ہے جو خود بہت آگے نکل گیا ہے مگر انسانیت بہت پیچھے رہ گئی ہے،   اسے اپنی طاقت کا نشہ ہے مگر کمزوری کا احساس نہیں ، وہ دنیا کے پیچھے بھاگ رہا ہے اور آخرت اس کے پیچھے سر پٹ دوڑ رہی ہے ، وہ خدا سے مقابلہ کر رہا ہے اور خدائی سے نکل بھی نہیں پاتا ، جس انسان کا بس چلتا ہے وہ کسی کا بس نہیں چلنے دیتا وہ آگے بڑھنے کے لیے کسی کو دھکا دیتا ہے کسی کو کندھا مارتا ہے کسی کو بچھاڑ دیتا ہے کسی کو لتاڑ دیتا ہے۔ اس انسان کی طاقت اگر اپنے محلے تک ہو تو پورا محلہ اس کی بد اخلاقی ، بد کرداری اور  بد تہزیبی سے تنگ ہوتا ہے وہ غریب اور بے بس لوگوں کو حقیر اور بے توقیر سمجھتا ہے وہ طاقت کے نشے میں لوگوں کی عزتیں پامال کردیتا ہے۔ اس کی طاقت اگر شہر تک پھیلی ہو تو کوئی بھی اس کے شر سے محفوظ نہیں ہوتا۔ وہ شرافت کا لبادہ اوڑھ کر شریف لوگوں کی زندگی اجیرن کر دیتا ہے وہ پارسائی کا روپ دھار کر گنہگار لوگوں کا جینا حرام کر دیتا ہے ، وہ ناجائز قبضے کر کے غریبوں کی زمینیں  چھینتا ہے اور اپنی دو گز زمین بھول جاتا ہے ، وہ اپنا اثر و رسوخ ، دھن دولت اور طاقت بڑھانے کے لیے ہر اس طاقتور کا سہارا لیتا ہے جہاں اس کا مفاد ہو اور اس طاقت کو بھول جاتا ہے جو سب طاقتوں سے بڑھ کر ہے ۔ اس انسان کی طاقت کا دائرہ اگر پورے ملک تک پھیلا ہو تو پھر مخالفین کے لیے زمین تنگ کر دیتا ہے جینا دوبھر کر دیتا ہے سچ کو سولی پر لٹکا دیتا ہے حق کو عقوبت خانوں میں قید کر دیتا ہے  وہ نا خدا بن بیٹھتا ہے ۔ اگر یہ طاقت ایک طاقتور ملک کی صورت میں ہو تو پوری دنیا کا امن تہہ و بالا ہو جاتا ہے ، خون کی ندیاں بہا دی جاتی ہیں آگ اور بارود کی بارش برسا دی جاتی ہے لاشوں کے پشتے لگا دیے جاتے ہیں ۔ مہلک ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر مہلک  ہتھیاروں سے نہتے لوگوں کے خون سے ہولی کھیلی جاتی ہے ، دہشت گردی ختم کرنے کے نام پر پوری دنیا کو دہشت گردی کی آگ میں دھکیل دیا جاتا ہے امن کی بحالی کے نام پر پوری دنیا کو بد امنی سے دوچار کر دیا جاتا ہے۔

طاقت انسان کو اندھا کر دیتی ہے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب کر لیتی ہے غور و فکر کے دروازے بند کر دیتی ہے وہ بھول جاتا ہے کہ کوئی اور طاقت بھی ہے ۔ قدرت کی لاٹھی بے آواز ہے مگر سب آوازوں پر بھاری ہے جب یہ لاٹھی چلتی ہے تو پھر کسی کی نہیں چلتی ۔ کرونا وائرس قدرت کا انتقام ہے یا انسان کی وحشت کی آخری حد، یہ وائرس انسان کے اعمال کا نتیجہ ہے یہ کسی گھناؤنے عمل کا شاخسانہ مگر۔۔۔۔قیامت صغریٰ کا منظر ہے وہ انسان جو ہر موقع پر اپنی نمود و نمائش کا عادی ہے جو اپنی دولت کے زریعے سب کو متاثر کرنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیتا جو ہمیشہ اپنی طاقت کا اظہار کرتا نظر آتا ہے وہ ۔۔۔۔۔آج چھپ رہا ہے ، ہجوم سے بھاگ رہا ہے ، رش سے نکل رہا ہے ، دنیا داری سے دور ہو جانا چاہتا ہے  وہ خود کو چھپا لینا چاہتا ہے خود کو بچا لینا چاہتا ہے وہ ڈر رہا ہے کانپ رہا ہے سوچ رہا ہے۔  کرونا نے لامحدود ہو جانے والے انسان کو محدود کر دیا ہے

مگر ابھی کچھ نہیں بگڑا کچھ بھی نہیں بگڑ سکتا اگر انسان اپنے گریبان میں جھانکے ضمیر کے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھے اپنے سراپے پر غور کرے  اور پھر اپنے کردار کو سامنے رکھے تو یہ بات واضح ہو جاۓ گی کہ  اس بے سکونی ، اضطراب اور خوف کی سب سے بڑی وجہ ہمارا کردار ہے ۔ موت تو آخر آنی ہے اور جو وقت مقرر ہے کوئی اسے ٹال نہیں  سکتا یقینا” اس آزمائش سے ہمیں بہتر تدبر اور حکمت عملی سے نکلنا ہو گا مگر زندگی کا حقیقی لطف ، قلبی راحت اور ذہنی آسودگی صرف اسی صورت مل سکتی ہے جب ہم مالک لم یزل سے ٹوٹا ہوا رشتہ بحال کریں گے اور اپنی مختصر زندگی کو  اس کی مخلوق کے لیے وقف کر کے اس کا قرب حاصل کریں گے بیشک اس کا قرب مل جاۓ تو پھر کوئی کرب باقی نہیں رہتا#

مظہر اقبال کھوکھر
03007785530
[email protected]

Post Views: 26
Tags: colimn by mazhar khokhar
Previous Post

کرونا وائرس کا تیزی سے پھیلنا خطرناک، ہم نے بحیثیت قوم یہ جنگ لڑنی ہے، قوم کی تکلیف سے فائدہ اٹھانے والوں کیخلاف سختی سے نمٹیں گے: وزیراعظم

Next Post

ڈیرہ غازی خان۔سابق وزیر خزانہ و صدر پنجاب پیپلز پارٹی شہید بھٹو ڈاکٹر مبشر حسن کی وفات پر تعزیتی اجلاس

Next Post
ڈیرہ غازی خان۔سابق وزیر خزانہ و صدر پنجاب پیپلز پارٹی شہید بھٹو ڈاکٹر مبشر حسن کی وفات پر تعزیتی اجلاس

ڈیرہ غازی خان۔سابق وزیر خزانہ و صدر پنجاب پیپلز پارٹی شہید بھٹو ڈاکٹر مبشر حسن کی وفات پر تعزیتی اجلاس

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف
قومی/ بین الاقوامی خبریں

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

by webmaster
جولائی 19, 2026
0

لاہور {صبح پا کستان }وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نیلسن منڈیلا کے عالمی دن پراپنے پیغام میں کہاہے کہ...

Read moreDetails
آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

جولائی 11, 2026
سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم  ?

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم ?

جولائی 8, 2026
حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے،  سلمان اکرم راجا

حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے، سلمان اکرم راجا

جولائی 3, 2026
مریم نواز کا سڑکوں کی تعمیرو مرمت مالی سال کے آخر تک مکمل کرنے کا حکم

"شاباش ٹیم پنجاب”، "الحمدللہ امسال بھی محرم الحرام پرامن، باوقار اورمنظم رہا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

جون 27, 2026
ایک خوف ہے جو ہر سو چھایا ہوا ہے ایک وائرس ایک جراثومے کا خوف ، بیماری کا خوف ، موت کا خوف ، پچھلے چند ماہ سے پوری دنیا ایک جانے انجانے خوف میں مبتلا ہے کرونا وائرس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ معمولی سا وائرس کتنا طاقتور ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے پوری دنیا ایک دوسرے سے خوف زدہ ہے ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے ۔ سائنس اور ٹیکنالوجی  کے میدان میں بہت آگے نکل جانے والا انسان ایک دم بہت پیچھے چلا گیا ہے ۔ چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والا کرونا وائرس ایران ، اٹلی سے ہوتا ہوا امریکہ سمیت دنیا کے 160 ممالک میں پہنچ چکا ہے جس کے نتیجے میں اب تک 7 ہزار سے زائد افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں جبکہ دو لاکھ کے قریب  افراد اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے  ذیلی ادارے  ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کرونا وائرس کو عالمی وباء قرار دے دیا ہے  عالمی سطح پر اس وائرس سے نمٹنے کے لیے فنڈز بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔ پوری دنیا کے اربوں لوگ کرونا کے خوف میں مبتلا ہوچکے ہیں چین کے بعد اٹلی سمیت جن ممالک میں کرونا نے مہلک شکل اختیار کر لی ہے وہاں ایک ہو کا عالم ہے کئی ممالک میں لاک ڈاون اور کرفیو لگا دیا گیا ہے اور جن ممالک میں نہیں ہے یا ابھی کم ہے وہاں بھی تیزی کے ساتھ احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں خوف ہے کہ مسلسل بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک ایک دوسرے سے رابطے منقطع کر رہے ہیں ، ائیرپورٹ بند کیے جاچکے ہیں یا بند کیے جا رہے ہیں ، کھیل کے میدان ویران ہو چکے ہیں ، اسٹیڈیم ، ریستوران، پارکس ، تفریح گاہیں ، سنیما گھر ، اسکولز، مذہبی مقامات،  عبادت گاہیں الغرض جہاں جہاں رش کا امکان ہو سکتا ہے وہ تمام مقامات بند کر دیے گئے ہیں ۔ شہروں کے شہر اور ملکوں کے ملک بے بسی کا منظر پیش کر رہے ہیں ۔ کرونا وائرس انسان کا اپنا بنایا ہوا کوئی مہلک ہتھیار ہے یا انسان کے اعمال کے نتیجے میں آنے والی کوئی قدرتی آفت مگر اس کی طاقت نے انسان کی کمزوری اور  بے بسی کو ادھیڑ کر رکھ دیا ہے ۔ آج انسان ایسی طاقت ڈھونڈ رہا ایسا سہارا تلاش کر رہا ہے جہاں اسے پناہ مل سکے جہاں اس کا یہ خوف ختم ہو سکے جہاں اسے کچھ لمحوں کے لیے سکون مل سکے ۔ یہ وہی انسان ہے جو خود بہت آگے نکل گیا ہے مگر انسانیت بہت پیچھے رہ گئی ہے،   اسے اپنی طاقت کا نشہ ہے مگر کمزوری کا احساس نہیں ، وہ دنیا کے پیچھے بھاگ رہا ہے اور آخرت اس کے پیچھے سر پٹ دوڑ رہی ہے ، وہ خدا سے مقابلہ کر رہا ہے اور خدائی سے نکل بھی نہیں پاتا ، جس انسان کا بس چلتا ہے وہ کسی کا بس نہیں چلنے دیتا وہ آگے بڑھنے کے لیے کسی کو دھکا دیتا ہے کسی کو کندھا مارتا ہے کسی کو بچھاڑ دیتا ہے کسی کو لتاڑ دیتا ہے۔ اس انسان کی طاقت اگر اپنے محلے تک ہو تو پورا محلہ اس کی بد اخلاقی ، بد کرداری اور  بد تہزیبی سے تنگ ہوتا ہے وہ غریب اور بے بس لوگوں کو حقیر اور بے توقیر سمجھتا ہے وہ طاقت کے نشے میں لوگوں کی عزتیں پامال کردیتا ہے۔ اس کی طاقت اگر شہر تک پھیلی ہو تو کوئی بھی اس کے شر سے محفوظ نہیں ہوتا۔ وہ شرافت کا لبادہ اوڑھ کر شریف لوگوں کی زندگی اجیرن کر دیتا ہے وہ پارسائی کا روپ دھار کر گنہگار لوگوں کا جینا حرام کر دیتا ہے ، وہ ناجائز قبضے کر کے غریبوں کی زمینیں  چھینتا ہے اور اپنی دو گز زمین بھول جاتا ہے ، وہ اپنا اثر و رسوخ ، دھن دولت اور طاقت بڑھانے کے لیے ہر اس طاقتور کا سہارا لیتا ہے جہاں اس کا مفاد ہو اور اس طاقت کو بھول جاتا ہے جو سب طاقتوں سے بڑھ کر ہے ۔ اس انسان کی طاقت کا دائرہ اگر پورے ملک تک پھیلا ہو تو پھر مخالفین کے لیے زمین تنگ کر دیتا ہے جینا دوبھر کر دیتا ہے سچ کو سولی پر لٹکا دیتا ہے حق کو عقوبت خانوں میں قید کر دیتا ہے  وہ نا خدا بن بیٹھتا ہے ۔ اگر یہ طاقت ایک طاقتور ملک کی صورت میں ہو تو پوری دنیا کا امن تہہ و بالا ہو جاتا ہے ، خون کی ندیاں بہا دی جاتی ہیں آگ اور بارود کی بارش برسا دی جاتی ہے لاشوں کے پشتے لگا دیے جاتے ہیں ۔ مہلک ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر مہلک  ہتھیاروں سے نہتے لوگوں کے خون سے ہولی کھیلی جاتی ہے ، دہشت گردی ختم کرنے کے نام پر پوری دنیا کو دہشت گردی کی آگ میں دھکیل دیا جاتا ہے امن کی بحالی کے نام پر پوری دنیا کو بد امنی سے دوچار کر دیا جاتا ہے۔ طاقت انسان کو اندھا کر دیتی ہے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب کر لیتی ہے غور و فکر کے دروازے بند کر دیتی ہے وہ بھول جاتا ہے کہ کوئی اور طاقت بھی ہے ۔ قدرت کی لاٹھی بے آواز ہے مگر سب آوازوں پر بھاری ہے جب یہ لاٹھی چلتی ہے تو پھر کسی کی نہیں چلتی ۔ کرونا وائرس قدرت کا انتقام ہے یا انسان کی وحشت کی آخری حد، یہ وائرس انسان کے اعمال کا نتیجہ ہے یہ کسی گھناؤنے عمل کا شاخسانہ مگر۔۔۔۔قیامت صغریٰ کا منظر ہے وہ انسان جو ہر موقع پر اپنی نمود و نمائش کا عادی ہے جو اپنی دولت کے زریعے سب کو متاثر کرنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیتا جو ہمیشہ اپنی طاقت کا اظہار کرتا نظر آتا ہے وہ ۔۔۔۔۔آج چھپ رہا ہے ، ہجوم سے بھاگ رہا ہے ، رش سے نکل رہا ہے ، دنیا داری سے دور ہو جانا چاہتا ہے  وہ خود کو چھپا لینا چاہتا ہے خود کو بچا لینا چاہتا ہے وہ ڈر رہا ہے کانپ رہا ہے سوچ رہا ہے۔  کرونا نے لامحدود ہو جانے والے انسان کو محدود کر دیا ہے مگر ابھی کچھ نہیں بگڑا کچھ بھی نہیں بگڑ سکتا اگر انسان اپنے گریبان میں جھانکے ضمیر کے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھے اپنے سراپے پر غور کرے  اور پھر اپنے کردار کو سامنے رکھے تو یہ بات واضح ہو جاۓ گی کہ  اس بے سکونی ، اضطراب اور خوف کی سب سے بڑی وجہ ہمارا کردار ہے ۔ موت تو آخر آنی ہے اور جو وقت مقرر ہے کوئی اسے ٹال نہیں  سکتا یقینا" اس آزمائش سے ہمیں بہتر تدبر اور حکمت عملی سے نکلنا ہو گا مگر زندگی کا حقیقی لطف ، قلبی راحت اور ذہنی آسودگی صرف اسی صورت مل سکتی ہے جب ہم مالک لم یزل سے ٹوٹا ہوا رشتہ بحال کریں گے اور اپنی مختصر زندگی کو  اس کی مخلوق کے لیے وقف کر کے اس کا قرب حاصل کریں گے بیشک اس کا قرب مل جاۓ تو پھر کوئی کرب باقی نہیں رہتا#

مظہر اقبال کھوکھر 03007785530 [email protected]
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.