• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
SB2425
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

بچوں پر تشدد روکنے کا بل پارلیمنٹ نہ بھیجنے پر وزارت قانون سے جواب طلب

webmaster by webmaster
مارچ 5, 2020
in First Page, قومی/ بین الاقوامی خبریں
0
قومی اسمبلی کااجلاس،آرمی ایکٹ 2020کثرت رائے سے منظور، اپوزیشن جماعتوں کی غیر مشروط حمایت

اسلام آباد ہائی کورٹ نے بچوں پر تشدد روکنے کا بل قومی اسمبلی میں پیش نہ کرنے پر وزارت قانون سے 12 مارچ تک جواب طلب کرلیا۔

بچوں پر تشدد اور جسمانی سزا پر پابندی کے لیے گلوکار شہزاد رائے کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کی۔ گلوکار شہزاد رائے اپنے وکیل شہاب الدین اوستو کے ہمراہ اور وزیربرائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیری مزاری بھی عدالت میں موجود تھیں۔

شہزاد رائے نے عدالت کے سامنے کہا بچوں کو جسمانی سزا کی گارڈین (سرپرست) کیسے اجازت دے سکتا ہے، عدالت تعزیرات پاکستان کی دفعہ 89 کو کالعدم قرار دے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ بچوں کو جسمانی سزا دینے کا مائنڈ سیٹ تبدیل ہونا چاہیے، یہی مائنڈ سیٹ بچوں کے خلاف دیگر جرائم کی بھی بنیاد بنتا ہے، اگر آج میڈیا نہ ہوتا تو کبھی بھی ہمیں ایسے واقعات کا پتہ نہ چلتا، سیاسی قیادت اور پارلیمنٹ نے معاشرے کی سوچ تبدیل کرنی ہے، سرعام پھانسی دینے سے معاشرہ ٹھیک نہیں ہوگا، انسانی رویے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے پوچھا کہ بچوں پر تشدد روکنے کی قانون سازی کا کیا بنا؟۔ شہزاد رائے کے وکیل نے کہا خیبر پختونخوا اور سندھ میں بچوں پر تشدد روکنے کے لیے قانون سازی ہوئی ہے۔

نمائندہ وزارت تعلیمات نے بتایا کہ عدالت کی ہدایات کے مطابق 10 فروری سے اسلام آباد میں بچوں پر جسمانی سزا پر مکمل پابندی لگا دی، طریقہ کار بنانے کے لیے مزید وقت دیا جائے۔

ڈاکٹر شیری مزاری نے کہا وفاقی کابینہ سے بھی ایک بل منظور ہو گیا تھا، پھر وزارت قانون نے کہا کہ یہ وزارت داخلہ کا اختیار ہے اور وزارت داخلہ نے کہا کہ یہ معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل کو جانا چاہیے، اسلامی نظریاتی کونسل نے بچوں کو سزا پر پابندی کی مخالفت کی ہے

چیف جسٹس نے کہا سمجھ نہیں آرہی کہ وزارت داخلہ نے اچھی قانون سازی کو اسلامی نظریاتی کونسل کو کیوں بھیجا ؟، اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے وفاقی کابینہ کے لیے لازم نہیں، جب بل کی کابینہ نے منظوری دے دی تھی پھر وزارت داخلہ کو تو بھیجنے کی ضرورت نہیں تھی جس پر شیریں مزاری نے کہا وزارت قانون اس حوالے سے جواب دے سکتی ہے۔

عدالت نے سیکریٹری وزارت قانون و انصاف کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ عدالت نے کہا کہ وزارت قانون بتائے کہ بل قومی اسمبلی میں کیوں پیش نہیں کیا گیا۔ کیس کی مزید سماعت 12 مارچ تک ملتوی کردی گئی۔ اگلی تاریخ پر عدالت بچوں پر تشدد روکنے کی درخواست فیصلہ کردے گی۔

یاد رہے کہ عدالت نے اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں بچوں پر تشدد اور سزا پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے جب کہ گزشتہ سماعت پر وزارت تعلیمات اور چیف کمشنر اسلام آباد سے اس حوالے سے تحریری جواب طلب کیا تھا۔

Post Views: 24
Source: ایکسپریس نیوز
Previous Post

آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس ،رانا ثنااللہ کی عبوری ضمانت منظور

Next Post

لیہ۔وطن عزیز کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرنے والے سپاہی مظہر یسین کی 32 ویں برسی پر دعائیہ تقریب

Next Post
لیہ۔وطن عزیز کی خاطر  جان کا نذرانہ پیش کرنے والے  سپاہی مظہر یسین کی 32 ویں برسی پر دعائیہ تقریب

لیہ۔وطن عزیز کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرنے والے سپاہی مظہر یسین کی 32 ویں برسی پر دعائیہ تقریب

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب
قومی/ بین الاقوامی خبریں

دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب

by webmaster
اگست 2, 2026
0

لاہور: پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق...

Read moreDetails
نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

جولائی 19, 2026
آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

جولائی 11, 2026
سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم  ?

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم ?

جولائی 8, 2026
حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے،  سلمان اکرم راجا

حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے، سلمان اکرم راجا

جولائی 3, 2026
اسلام آباد ہائی کورٹ نے بچوں پر تشدد روکنے کا بل قومی اسمبلی میں پیش نہ کرنے پر وزارت قانون سے 12 مارچ تک جواب طلب کرلیا۔ بچوں پر تشدد اور جسمانی سزا پر پابندی کے لیے گلوکار شہزاد رائے کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کی۔ گلوکار شہزاد رائے اپنے وکیل شہاب الدین اوستو کے ہمراہ اور وزیربرائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیری مزاری بھی عدالت میں موجود تھیں۔ شہزاد رائے نے عدالت کے سامنے کہا بچوں کو جسمانی سزا کی گارڈین (سرپرست) کیسے اجازت دے سکتا ہے، عدالت تعزیرات پاکستان کی دفعہ 89 کو کالعدم قرار دے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ بچوں کو جسمانی سزا دینے کا مائنڈ سیٹ تبدیل ہونا چاہیے، یہی مائنڈ سیٹ بچوں کے خلاف دیگر جرائم کی بھی بنیاد بنتا ہے، اگر آج میڈیا نہ ہوتا تو کبھی بھی ہمیں ایسے واقعات کا پتہ نہ چلتا، سیاسی قیادت اور پارلیمنٹ نے معاشرے کی سوچ تبدیل کرنی ہے، سرعام پھانسی دینے سے معاشرہ ٹھیک نہیں ہوگا، انسانی رویے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے پوچھا کہ بچوں پر تشدد روکنے کی قانون سازی کا کیا بنا؟۔ شہزاد رائے کے وکیل نے کہا خیبر پختونخوا اور سندھ میں بچوں پر تشدد روکنے کے لیے قانون سازی ہوئی ہے۔ نمائندہ وزارت تعلیمات نے بتایا کہ عدالت کی ہدایات کے مطابق 10 فروری سے اسلام آباد میں بچوں پر جسمانی سزا پر مکمل پابندی لگا دی، طریقہ کار بنانے کے لیے مزید وقت دیا جائے۔ ڈاکٹر شیری مزاری نے کہا وفاقی کابینہ سے بھی ایک بل منظور ہو گیا تھا، پھر وزارت قانون نے کہا کہ یہ وزارت داخلہ کا اختیار ہے اور وزارت داخلہ نے کہا کہ یہ معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل کو جانا چاہیے، اسلامی نظریاتی کونسل نے بچوں کو سزا پر پابندی کی مخالفت کی ہے چیف جسٹس نے کہا سمجھ نہیں آرہی کہ وزارت داخلہ نے اچھی قانون سازی کو اسلامی نظریاتی کونسل کو کیوں بھیجا ؟، اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے وفاقی کابینہ کے لیے لازم نہیں، جب بل کی کابینہ نے منظوری دے دی تھی پھر وزارت داخلہ کو تو بھیجنے کی ضرورت نہیں تھی جس پر شیریں مزاری نے کہا وزارت قانون اس حوالے سے جواب دے سکتی ہے۔ عدالت نے سیکریٹری وزارت قانون و انصاف کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ عدالت نے کہا کہ وزارت قانون بتائے کہ بل قومی اسمبلی میں کیوں پیش نہیں کیا گیا۔ کیس کی مزید سماعت 12 مارچ تک ملتوی کردی گئی۔ اگلی تاریخ پر عدالت بچوں پر تشدد روکنے کی درخواست فیصلہ کردے گی۔ یاد رہے کہ عدالت نے اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں بچوں پر تشدد اور سزا پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے جب کہ گزشتہ سماعت پر وزارت تعلیمات اور چیف کمشنر اسلام آباد سے اس حوالے سے تحریری جواب طلب کیا تھا۔
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.