• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
ad
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2024-12-20 at 4.47.55 PM
WhatsApp Image 2024-12-20 at 11.08.33 PM
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

قندیل بلوچ قتل کیس، والدین نے ملزم بیٹوں کو معاف کردیا، عدالت میں حلف نامہ جمع

webmaster by webmaster
اگست 22, 2019
in جنوبی پنجاب
0
قندیل بلوچ قتل کیس، والدین نے ملزم بیٹوں کو معاف کردیا، عدالت میں حلف نامہ جمع

ملتان۔ ماڈل گرل قندیل بلوچ قتل کیس میں مقتولہ کے والدین نے اپنے دونوں ملزم بیٹوں کو معاف کرتے ہوئے ان کی بریت کی درخواست دائر کردی۔

قندیل بلوچ قتل کیس کے مدعی عظیم بلوچ نے اپنی بیٹی کے قتل میں ملوث اپنے حقیقی بیٹوں وسیم اور اسلم شاہین کو معاف کردیا۔ عظیم بلوچ نے عدالت میں معافی کا بیان حلفی جمع کرایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قندیل بلوچ کے قتل کیس میں غیرت کی کہانی بنائی گئی ہے جو حقائق کے خلاف ہے۔

قندیل بلوچ کے والد کا بیان حلفی میں کہنا ہے کہ قندیل قتل کا مقدمہ 16 جولائی 2016 کو درج ہوا جبکہ غیرت کے قانون میں ترمیم 22 اکتوبر 2016 کو ہوئی۔ غیرت کے قانون 311 میں ترمیم بعد میں ہوئی ہے لہٰذا اس کیس پر نئے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا اس لیے ضابطہ فوجداری کے زیر دفعہ 345 کے تحت ملزمان کو بری کیا جائے۔

خیال رہے کہ 15 جولائی 2016 کو قندیل بلوچ کو سوتے ہوئے گلا گھونٹ کر قتل کردیا گیا تھا۔ پولیس نے مقتولہ کے بھائی وسیم کو گرفتار کیا تو اس نے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ قندیل خاندان کیلئے بدنامی کا باعث بن رہی تھی اس لیے اس کو قتل کیا ہے تاہم بعد میں ملزم اپنے اس بیان سے مکر گیا تھا۔

قندیل بلوچ کے قتل کے بعد پاکستانی اور عالمی میڈیا میں غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کا معاملہ زیر بحث آیا جس کے رد عمل میں پارلیمنٹ نے غیرت کے نام پر قتل کے قانون میں ترمیم منظور کی تھی۔ ترمیم شدہ قانون کے مطابق مقتول کے لواحقین کی جانب سے معاف کیے جانے کے باوجود قتل کرنے والے کو عمر قید یا 25 برس قید کی سزا ہوگی۔

Source: ڈیلی پاکستان آن لائن
Tags: multan news
Previous Post

لیہ ۔ ڈسٹرکٹ امن کمیٹی کا اجلاس ،محرم الحرام میں فول پروف سیکورٹی انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت

Next Post

وزیراعظم کا مودی کو عالمی سطح پر شدید ردعمل دینے کا فیصلہ

Next Post
وزیراعظم کا مودی کو عالمی سطح پر شدید ردعمل دینے کا فیصلہ

وزیراعظم کا مودی کو عالمی سطح پر شدید ردعمل دینے کا فیصلہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

تحریک تحفظ آئین  کی  کال پر 8فروری کو سارا پاکستان بند  ہو گا ۔علیمہ خانم
قومی/ بین الاقوامی خبریں

تحریک تحفظ آئین کی کال پر 8فروری کو سارا پاکستان بند ہو گا ۔علیمہ خانم

by webmaster
جنوری 28, 2026
0

علیمہ خانم کا کہنا ہے کہ پاکستان بند کرنے کی شروعات 8فروری کو ہوگی، تحریک تحفظ آئین نے کال دے...

Read moreDetails
پنجاب ڈویلپمنٹ پلان جون 2026 تک مکمل کیا جاءے۔وزیر اعلی مریم نواز

پنجاب ڈویلپمنٹ پلان جون 2026 تک مکمل کیا جاءے۔وزیر اعلی مریم نواز

جنوری 26, 2026
پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری ۔ڈیرہ غازیخان سمیت متعدد اضلاع میں بارشوں کی پیشین گوئئ

پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری ۔ڈیرہ غازیخان سمیت متعدد اضلاع میں بارشوں کی پیشین گوئئ

جنوری 24, 2026
ملک میں بدقسمتی سے بجلی بہت مہنگی ہے، وزیراعظم

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کا کیس؛ پی ٹی اے کا جواب غیر تسلی بخش قرار

جنوری 21, 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کی طرف سے وزیراعظم شہباز شریف کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے وزیراعظم شہباز شریف کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت

جنوری 18, 2026
ملتان۔ ماڈل گرل قندیل بلوچ قتل کیس میں مقتولہ کے والدین نے اپنے دونوں ملزم بیٹوں کو معاف کرتے ہوئے ان کی بریت کی درخواست دائر کردی۔ قندیل بلوچ قتل کیس کے مدعی عظیم بلوچ نے اپنی بیٹی کے قتل میں ملوث اپنے حقیقی بیٹوں وسیم اور اسلم شاہین کو معاف کردیا۔ عظیم بلوچ نے عدالت میں معافی کا بیان حلفی جمع کرایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قندیل بلوچ کے قتل کیس میں غیرت کی کہانی بنائی گئی ہے جو حقائق کے خلاف ہے۔ قندیل بلوچ کے والد کا بیان حلفی میں کہنا ہے کہ قندیل قتل کا مقدمہ 16 جولائی 2016 کو درج ہوا جبکہ غیرت کے قانون میں ترمیم 22 اکتوبر 2016 کو ہوئی۔ غیرت کے قانون 311 میں ترمیم بعد میں ہوئی ہے لہٰذا اس کیس پر نئے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا اس لیے ضابطہ فوجداری کے زیر دفعہ 345 کے تحت ملزمان کو بری کیا جائے۔ خیال رہے کہ 15 جولائی 2016 کو قندیل بلوچ کو سوتے ہوئے گلا گھونٹ کر قتل کردیا گیا تھا۔ پولیس نے مقتولہ کے بھائی وسیم کو گرفتار کیا تو اس نے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ قندیل خاندان کیلئے بدنامی کا باعث بن رہی تھی اس لیے اس کو قتل کیا ہے تاہم بعد میں ملزم اپنے اس بیان سے مکر گیا تھا۔ قندیل بلوچ کے قتل کے بعد پاکستانی اور عالمی میڈیا میں غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کا معاملہ زیر بحث آیا جس کے رد عمل میں پارلیمنٹ نے غیرت کے نام پر قتل کے قانون میں ترمیم منظور کی تھی۔ ترمیم شدہ قانون کے مطابق مقتول کے لواحقین کی جانب سے معاف کیے جانے کے باوجود قتل کرنے والے کو عمر قید یا 25 برس قید کی سزا ہوگی۔
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.