• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
ad
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2024-12-20 at 4.47.55 PM
WhatsApp Image 2024-12-20 at 11.08.33 PM
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

کم عمری کی شادی پرپابندی کابل سینیٹ سے بھی منظور

webmaster by webmaster
اپریل 30, 2019
in First Page, قومی/ بین الاقوامی خبریں
0
کم عمری کی شادی پرپابندی کابل سینیٹ سے بھی منظور

سینیٹ نے کم عمری کی شادی پرپابندی کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا جس کے تحت 18 سال سے کم عمربچوں کی شادی کرنے والے کو 2 لاکھ روپے جرمانہ اور3 سال قید کی سزا ہو گی۔

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کی جانب سے پیش کیے گئے اس بل کے مطابق 18 سال سے کم عمر لڑکی یا لڑکے کی شادی کرانے والے والدین کو 2 لاکھ روپے جرمانہ اور3 سال تک قابل توسیع قید کی سزا دی جائے گی۔

نکاح یا دیگرایسی رسومات ادا کرنے والے کو 3 سال قید بامشقت اور2 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا، عدالت اطلاع ملنے پر ایسی شادی روکنے کیلیے حکم امتناع جاری کرسکتی ہے،عدالتی حکم نامے کی خلاف ورزی کرنے والے کوایک سال تک سزا اورایک لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔

اس موقع پر سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پاکستان کے قوانین میں بچے کی بلوغت کی عمر 18 سال ہے، یہ بل کم عمری کی شادی کی ممانعت نہیں کرتا، اسے قابل تعزیر بناتا ہے۔

سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ آج سے 14 سو پہلے یہ قوانین بنے تھے، اب حالات مختلف ہو چکے ہیں، اُس وقت شاید بلوغت کا ایسا مسئلہ نہیں تھا،ایسے موقع پراجتہاد کا سہارا لینا چاہیے۔

دوسری جانب مولانا عبدالغفورحیدری نے کہا کہ یہ بل قرآن و حدیث اورشریعت کے منافی ہے، شریعت میں نکاح کی عمر صرف بلوغت ہے۔

وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا کہ بہتر ہے اس بل کو اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس بھیج دیا جائے۔

سینٹر رضا ربانی نے کہا کہ انہوں نے بطور چیئرمین سینیٹ ایک ایسا ہی بل اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا تھا، آج تک انہی کے پاس ہے۔

اس کے بعد سینیٹ نے بل کو کثرت رائے سے منظورکرلیا۔ جماعت اسلامی اورجمعیت علماءy اسلام (ف) کے سینیٹرز نے چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے سامنے احتجاج کیا اورپھرایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔

Tags: National News
Previous Post

ڈیرہ غازیخان ۔ غازی یونیورسٹی میں اردو کانفرنس بعنوان علمی اور تہذیبی مراکز سے دور تخلیق ہونے والے ادب کا جائزکا انعقاد

Next Post

پنجاب اسمبلی میں نئے بلدیاتی نظام کا مسودہ قانون کثرت رائے سے منظور

Next Post
پنجاب اسمبلی میں نئے بلدیاتی نظام کا مسودہ قانون کثرت رائے سے منظور

پنجاب اسمبلی میں نئے بلدیاتی نظام کا مسودہ قانون کثرت رائے سے منظور

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

تحریک تحفظ آئین  کی  کال پر 8فروری کو سارا پاکستان بند  ہو گا ۔علیمہ خانم
قومی/ بین الاقوامی خبریں

تحریک تحفظ آئین کی کال پر 8فروری کو سارا پاکستان بند ہو گا ۔علیمہ خانم

by webmaster
جنوری 28, 2026
0

علیمہ خانم کا کہنا ہے کہ پاکستان بند کرنے کی شروعات 8فروری کو ہوگی، تحریک تحفظ آئین نے کال دے...

Read moreDetails
پنجاب ڈویلپمنٹ پلان جون 2026 تک مکمل کیا جاءے۔وزیر اعلی مریم نواز

پنجاب ڈویلپمنٹ پلان جون 2026 تک مکمل کیا جاءے۔وزیر اعلی مریم نواز

جنوری 26, 2026
پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری ۔ڈیرہ غازیخان سمیت متعدد اضلاع میں بارشوں کی پیشین گوئئ

پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری ۔ڈیرہ غازیخان سمیت متعدد اضلاع میں بارشوں کی پیشین گوئئ

جنوری 24, 2026
ملک میں بدقسمتی سے بجلی بہت مہنگی ہے، وزیراعظم

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کا کیس؛ پی ٹی اے کا جواب غیر تسلی بخش قرار

جنوری 21, 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کی طرف سے وزیراعظم شہباز شریف کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے وزیراعظم شہباز شریف کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت

جنوری 18, 2026
سینیٹ نے کم عمری کی شادی پرپابندی کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا جس کے تحت 18 سال سے کم عمربچوں کی شادی کرنے والے کو 2 لاکھ روپے جرمانہ اور3 سال قید کی سزا ہو گی۔ پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کی جانب سے پیش کیے گئے اس بل کے مطابق 18 سال سے کم عمر لڑکی یا لڑکے کی شادی کرانے والے والدین کو 2 لاکھ روپے جرمانہ اور3 سال تک قابل توسیع قید کی سزا دی جائے گی۔ نکاح یا دیگرایسی رسومات ادا کرنے والے کو 3 سال قید بامشقت اور2 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا، عدالت اطلاع ملنے پر ایسی شادی روکنے کیلیے حکم امتناع جاری کرسکتی ہے،عدالتی حکم نامے کی خلاف ورزی کرنے والے کوایک سال تک سزا اورایک لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔ اس موقع پر سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پاکستان کے قوانین میں بچے کی بلوغت کی عمر 18 سال ہے، یہ بل کم عمری کی شادی کی ممانعت نہیں کرتا، اسے قابل تعزیر بناتا ہے۔ سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ آج سے 14 سو پہلے یہ قوانین بنے تھے، اب حالات مختلف ہو چکے ہیں، اُس وقت شاید بلوغت کا ایسا مسئلہ نہیں تھا،ایسے موقع پراجتہاد کا سہارا لینا چاہیے۔ دوسری جانب مولانا عبدالغفورحیدری نے کہا کہ یہ بل قرآن و حدیث اورشریعت کے منافی ہے، شریعت میں نکاح کی عمر صرف بلوغت ہے۔ وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا کہ بہتر ہے اس بل کو اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس بھیج دیا جائے۔ سینٹر رضا ربانی نے کہا کہ انہوں نے بطور چیئرمین سینیٹ ایک ایسا ہی بل اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا تھا، آج تک انہی کے پاس ہے۔ اس کے بعد سینیٹ نے بل کو کثرت رائے سے منظورکرلیا۔ جماعت اسلامی اورجمعیت علماءy اسلام (ف) کے سینیٹرز نے چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے سامنے احتجاج کیا اورپھرایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.