• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

پنجاب حکومت سست روی کا شکار ہے، چیف جسٹس

webmaster by webmaster
دسمبر 14, 2018
in First Page, قومی/ بین الاقوامی خبریں
0
پنجاب حکومت سست روی کا شکار ہے، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ پنجاب حکومت سست روی کا شکار ہے اور ہم ایک کام کہتے ہیں وہ بھی پنجاب حکومت سے نہیں ہوتا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ اسپتال کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس کے استفسار پر ڈاکٹر سعید اختر نے عدالت کو بتایا کہ میں نے پی کے ایل آئی سے کوئی تنخواہ نہیں لی، ہم نے 21 کڈنی ٹرانسپلانٹ کئے ہیں اور کینسر کے علاج بھی کئے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ گردوں کے آپریشن تو دوسری جگہوں پر بھی ہو رہے ہیں، بنیادی طور پر یہ لیور کا ٹرانسپلانٹ تھا، آپریشن تھیٹر فعال نہیں ہے، 34 ارب روپے میں 5 اسپتال بن جاتے ہیں، یہاں 22 ارب روپے لگا دیئے لیکن لیور ٹرنسپلانٹ کا ایک آپریشن نہیں ہوا۔ ایک بچے کا آپریشن نہیں ہوا جبکہ ڈونر بھی موجود تھا۔ کام ایک نہیں ہوا اور اربوں روپے تنخواہوں کی مد میں چلے گئے۔ 22 ارب روپے کا جوابدہ کون ہے؟

جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ ہمیں یہ سمجھائیں کہ پی کے ایل آئی کے لئے ٹرسٹ کی ضرورت کیا ہے، ٹرسٹ تو ایک خاص تعلق کی وجہ سے سابق وزیر اعلی نے بنایا تھا،کیا ٹرسٹ نے کبھی اپنا مالی حصہ ڈالا ہے؟، جس پر ممبر بورڈ نے عدالت کو بتایا کہ ٹرسٹ نے 165 ملین فنڈز کا حصہ ڈالا ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہم نے گزشتہ سماعت پرپوچھا تھا ٹرسٹ کا کیا کرنا ہے،22 ارب روپے خرچ کر دیئے ساری رقم ایک ٹرسٹ کو دے دی، دو مرتبہ ایڈوکیٹ جنرل نے کہا یہ قانون تبدیل کر رہے ہیں، پہلا سوال یہ ہے کہ ٹرسٹ کو رہنا چاہیے یا نہیں۔ ایڈیشنل سیکرٹری نے عدالت کو بتایا کہ کابینہ کو مکمل پروپوزل بنا کر بھیجی گئی ہے۔

چیف جسٹس نے پنجاب حکومت پراظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پنجاب حکومت سست روی کا شکار ہے، ہم ایک کام کہتے ہیں وہ بھی پنجاب حکومت سے نہیں ہوتا،پنجاب میں ہیلتھ کیئر کے سارے کام رکے ہوئے ہیں، ابھی تک ہیلتھ کیئر بورڈ نہیں بنا اور بات کرو تو سرخیاں لگ جاتی ہیں۔ سپریم کورٹ نے پی کے ایل آئی کی انتظامی کمیٹی میں سرجن جنرل آف پاکستان کو بھی شامل کرنے کا حکم دے دیا۔

Post Views: 10
Tags: National News
Previous Post

ملتان ۔بہاؤ الدین ذکریا یونیورسٹی کے پروفیسر اغوا ، پولیس نے پروفیسر کو بازیاب کروا کر پانچ ملزموں کو گرفتار کر لیا

Next Post

لیہ ۔ لیہ اور چک نمبر 270ٹی ڈی اے میں کرسمس بازار لگائے جائیں گے ۔ڈپٹی کمشنر بابربشیر

Next Post

لیہ ۔ لیہ اور چک نمبر 270ٹی ڈی اے میں کرسمس بازار لگائے جائیں گے ۔ڈپٹی کمشنر بابربشیر

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر  ملتان میں کھلی کچہری،چیئرپرسن وزیر اعلیٰ شکایات سیل صائمہ فاروق  نے شہریوں کی شکایات سنیں
قومی/ بین الاقوامی خبریں

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر ملتان میں کھلی کچہری،چیئرپرسن وزیر اعلیٰ شکایات سیل صائمہ فاروق نے شہریوں کی شکایات سنیں

by webmaster
جون 14, 2026
0

لاہور{ صبح پا کستان} وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پروزیراعلی شکایات سیل کی ٹیم نے ضلع ملتان...

Read moreDetails
اس بجٹ میں غریب کے لیے کچھ بھی نہیں: بیرسٹر گوہر

اس بجٹ میں غریب کے لیے کچھ بھی نہیں: بیرسٹر گوہر

جون 13, 2026
قومی اسمبلی کا اجلاس 10 جون بروز بدھ شام 5 بجے اسلام آباد میں ہوگا

قومی اسمبلی کا اجلاس 10 جون بروز بدھ شام 5 بجے اسلام آباد میں ہوگا

جون 10, 2026
کوئٹہ  ،تیزاب گردی، سول اسپتال میں خاتون ڈاکٹرپر تیزاب پھینکنے والاملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ، خاتون ڈاکٹر شدید زخمی

کوئٹہ ،تیزاب گردی، سول اسپتال میں خاتون ڈاکٹرپر تیزاب پھینکنے والاملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ، خاتون ڈاکٹر شدید زخمی

جون 7, 2026
ڈیرہ غازی خان ۔اتحاد بین المسلمین استحکام پاکستان کی ضمانت ہے۔ علماء کرام محراب و منبر سے امن، محبت، رواداری اور اخوت کا پیغام  دیں ۔مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد

ڈیرہ غازی خان ۔اتحاد بین المسلمین استحکام پاکستان کی ضمانت ہے۔ علماء کرام محراب و منبر سے امن، محبت، رواداری اور اخوت کا پیغام دیں ۔مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد

جون 4, 2026
اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ پنجاب حکومت سست روی کا شکار ہے اور ہم ایک کام کہتے ہیں وہ بھی پنجاب حکومت سے نہیں ہوتا۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ اسپتال کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس کے استفسار پر ڈاکٹر سعید اختر نے عدالت کو بتایا کہ میں نے پی کے ایل آئی سے کوئی تنخواہ نہیں لی، ہم نے 21 کڈنی ٹرانسپلانٹ کئے ہیں اور کینسر کے علاج بھی کئے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ گردوں کے آپریشن تو دوسری جگہوں پر بھی ہو رہے ہیں، بنیادی طور پر یہ لیور کا ٹرانسپلانٹ تھا، آپریشن تھیٹر فعال نہیں ہے، 34 ارب روپے میں 5 اسپتال بن جاتے ہیں، یہاں 22 ارب روپے لگا دیئے لیکن لیور ٹرنسپلانٹ کا ایک آپریشن نہیں ہوا۔ ایک بچے کا آپریشن نہیں ہوا جبکہ ڈونر بھی موجود تھا۔ کام ایک نہیں ہوا اور اربوں روپے تنخواہوں کی مد میں چلے گئے۔ 22 ارب روپے کا جوابدہ کون ہے؟ جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ ہمیں یہ سمجھائیں کہ پی کے ایل آئی کے لئے ٹرسٹ کی ضرورت کیا ہے، ٹرسٹ تو ایک خاص تعلق کی وجہ سے سابق وزیر اعلی نے بنایا تھا،کیا ٹرسٹ نے کبھی اپنا مالی حصہ ڈالا ہے؟، جس پر ممبر بورڈ نے عدالت کو بتایا کہ ٹرسٹ نے 165 ملین فنڈز کا حصہ ڈالا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہم نے گزشتہ سماعت پرپوچھا تھا ٹرسٹ کا کیا کرنا ہے،22 ارب روپے خرچ کر دیئے ساری رقم ایک ٹرسٹ کو دے دی، دو مرتبہ ایڈوکیٹ جنرل نے کہا یہ قانون تبدیل کر رہے ہیں، پہلا سوال یہ ہے کہ ٹرسٹ کو رہنا چاہیے یا نہیں۔ ایڈیشنل سیکرٹری نے عدالت کو بتایا کہ کابینہ کو مکمل پروپوزل بنا کر بھیجی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے پنجاب حکومت پراظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پنجاب حکومت سست روی کا شکار ہے، ہم ایک کام کہتے ہیں وہ بھی پنجاب حکومت سے نہیں ہوتا،پنجاب میں ہیلتھ کیئر کے سارے کام رکے ہوئے ہیں، ابھی تک ہیلتھ کیئر بورڈ نہیں بنا اور بات کرو تو سرخیاں لگ جاتی ہیں۔ سپریم کورٹ نے پی کے ایل آئی کی انتظامی کمیٹی میں سرجن جنرل آف پاکستان کو بھی شامل کرنے کا حکم دے دیا۔
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.