• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
ad
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2024-12-20 at 4.47.55 PM
WhatsApp Image 2024-12-20 at 11.08.33 PM
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

خیبرپختونخوا اسمبلی میں فاٹا کے انضمام کا بل منظور

webmaster by webmaster
مئی 27, 2018
in قومی/ بین الاقوامی خبریں
0
خیبرپختونخوا اسمبلی میں فاٹا کے انضمام کا بل منظور

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) خیبرپختونخوا اسمبلی نے فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا۔

اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت خیبرپختونخوا اسمبلی کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی آئینی ترمیم منظور کر لی گئی۔ صوبائی وزیر قانون امتیاز شاہد قریشی نے فاٹا اصلاحاتی بل ایوان میں پیش کیا جب کہ اس موقع پر وزیر اعلیٰ پرویز خٹک بھی موجود تھے۔

بل کے حق میں 85 اور مخالفت میں 6 ووٹ ڈالے گئے۔ ارکان اسمبلی بل کی منظوری کے حق میں کھڑے ہوگئے اور صرف جے یو آئی کے ارکان بیٹھے رہے جنہوں نے مخالفت میں ووٹ دیا۔

اسمبلی میں مالاکنڈ کے ایم پی ایز نے پاٹا کی حیثیت ختم کرنے کا مسئلہ اٹھا دیا۔ رکن اسمبلی عنایت اللہ نے کہا کہ ہم سے پاٹا کی حیثیت ختم کرنے کے حوالے سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔

اسمبلی میں پاٹا کو 10 سال تک ٹیکسوں سے استثنیٰ دینےکی قرارداد منظور کرلی گئی۔ تحریک انصاف کے رکن ڈاکٹر حیدر علی نے قرارداد پیش کی جس میں مالاکنڈ میں نافذ شرعی نظام عدل کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ فاٹا کی طرح پاٹا کو بھی 100 ارب روپے سالانہ پیکج دیا جائے۔

قرارداد میں کہا گیا کہ فاٹا کے انضمام کی مکمل حمایت کرتے ہیں، تاہم حکومت نے پاٹا کو صوبے میں ضم کرنے پر عوام سے مشاورت نہیں کی، حکومت پاٹا عوام کو خصوصی مراعات دیتے ہوئے مالاکنڈ کو ٹیکسوں میں دس سال کے لیے چھوٹ دی جائے، ایک کھرب پیکج کا اعلان کیا جائے اور بجلی میں سبسڈی دی جائے۔

اے این پی کے سردار بابک نے کہا کہ مالاکنڈ کی حیثیت کو نہ چھیڑا جائے، خصوصی پیکج کا اعلان کیا جائے تو مالاکنڈ کے عوام فاٹا اصلاحات کی منظوری میں سب سے آگے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ نگراں وزیر اعلیٰ کا جو نام آیا ہے تو بڑے بڑے قصے آ رہے ہیں، سیاست میں اب پیسہ آ گیا ہے، چاہئیے تھا کہ اپوزیشن لیڈر تمام اپوزیشن جماعتوں سے مشورہ کرتے، ہمیں تو یہ خبر ملی ہے کہ وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر نے پیسے لئے ہیں۔ نگراں وزیر اعلیٰ سے پیسے لینے کی بات پر ایوان میں شدید شور شرابا ہوا۔

وزیر اعلی پرویز خٹک نے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ نگراں وزیراعلی سے پیسے لینے کا الزام سن کر بہت افسوس ہوا، سینیٹ کا معاملہ آیا تو سب سامنے آجائے کیونکہ ثبوت ہیں، کوئی چیز چھپی نہیں میں جانتا ہوں کون کون ہے، بل میں پاٹا کی کوئی بات نہیں تھی اور اچانک یہ سامنے آیا، پاٹا کے معاملہ پر وفاقی حکومت سے رابطہ کیا ہے۔

اپوزیشن لیڈر مولانا لطف الرحمان نے کہا کہ میں نے تمام پارلیمانی جماعتوں سے رابطہ کیا اور نام مانگے تھے، افسوس ہوا سردار بابک نے سنی سنائی باتوں پر الزام لگایا، فاٹا میں 15سے 16 سال سے آپریشن چل رہا ہے، قبائل مشکل ادوار سے گزرے ہیں، فاٹا انضمام کی قانون سازی کے لیے باہر سے دباؤ ڈالا جارہا ہے، قبائلی عوام پر فیصلہ زبردستی لاگو نہ کیا جائے۔

پی ٹی آئی کے صوبائی وزیر شاہ فرمان نے کہا کہ ایوان میں وہ بات کی جاتی ہے جو حقیقت پر مبنی ہو، کسی کے کہنے پر آپ کیسے الزامات لگا سکتے ہیں۔ شاہ فرمان نے بھی مجوزہ بل میں پاٹا کو شامل کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بل قبائل کیلئے تھا تاکہ فاٹا کے ارکان فاٹا کیلئے قانون سازی کر سکیں، لیکن پاٹا کو ساتھ شامل کرنا گہری سازش اور بل کو روکنے کی کوشش ہے۔

خیبرپختونخوا اسمبلی کا آج آئینی مدت پوری ہونے پر اختتامی اجلاس ہے۔ دوسری جانب فاٹا اصلاحاتی بل کے خلاف جے یوآئی کی جانب سے اسمبلی کے سامنے شدید احتجاج بھی کیا گیا جس کے دوران پولیس سے جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

فاٹا بل
فاٹا اصلاحات بل کے تحت آئین کی شق 246 میں ترمیم کرتے ہوئے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کو خیبر پختونخوا جبکہ صوبوں کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (پاٹا) کو متعلقہ صوبوں یعنی خیبر پختونخوا اور بلوچستان کا حصہ بنانے کی منظوری دی گئی ہے۔ آئینی ترمیم کے ذریعے 100 برس سے زیادہ عرصے تک قبائلی علاقہ جات میں نافذ رہنے والے قانون فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) کو بالاخر ایک صدی بعد ختم کر دیا گیا ہے۔
national

Tags: National News
Previous Post

لیہ .۔ خانہ بدوش لڑکیاں نہر کنارے کپڑے دھوتے ھوئےڈوب گئیں

Next Post

ڈیرہ غازی خان ۔ڈویژن کے ہر ضلع سے پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹوکے امیدوار حصہ لیں گے ۔ ڈویژنل کوآرڈینیٹر لیاقت علی قریشی

Next Post
ڈیرہ غازی خان ۔ڈویژن کے ہر ضلع سے پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹوکے امیدوار حصہ لیں گے ۔ ڈویژنل کوآرڈینیٹر لیاقت علی قریشی

ڈیرہ غازی خان ۔ڈویژن کے ہر ضلع سے پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹوکے امیدوار حصہ لیں گے ۔ ڈویژنل کوآرڈینیٹر لیاقت علی قریشی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

تحریک تحفظ آئین  کی  کال پر 8فروری کو سارا پاکستان بند  ہو گا ۔علیمہ خانم
قومی/ بین الاقوامی خبریں

تحریک تحفظ آئین کی کال پر 8فروری کو سارا پاکستان بند ہو گا ۔علیمہ خانم

by webmaster
جنوری 28, 2026
0

علیمہ خانم کا کہنا ہے کہ پاکستان بند کرنے کی شروعات 8فروری کو ہوگی، تحریک تحفظ آئین نے کال دے...

Read moreDetails
پنجاب ڈویلپمنٹ پلان جون 2026 تک مکمل کیا جاءے۔وزیر اعلی مریم نواز

پنجاب ڈویلپمنٹ پلان جون 2026 تک مکمل کیا جاءے۔وزیر اعلی مریم نواز

جنوری 26, 2026
پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری ۔ڈیرہ غازیخان سمیت متعدد اضلاع میں بارشوں کی پیشین گوئئ

پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری ۔ڈیرہ غازیخان سمیت متعدد اضلاع میں بارشوں کی پیشین گوئئ

جنوری 24, 2026
ملک میں بدقسمتی سے بجلی بہت مہنگی ہے، وزیراعظم

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کا کیس؛ پی ٹی اے کا جواب غیر تسلی بخش قرار

جنوری 21, 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کی طرف سے وزیراعظم شہباز شریف کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے وزیراعظم شہباز شریف کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت

جنوری 18, 2026
پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) خیبرپختونخوا اسمبلی نے فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا۔ اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت خیبرپختونخوا اسمبلی کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی آئینی ترمیم منظور کر لی گئی۔ صوبائی وزیر قانون امتیاز شاہد قریشی نے فاٹا اصلاحاتی بل ایوان میں پیش کیا جب کہ اس موقع پر وزیر اعلیٰ پرویز خٹک بھی موجود تھے۔ بل کے حق میں 85 اور مخالفت میں 6 ووٹ ڈالے گئے۔ ارکان اسمبلی بل کی منظوری کے حق میں کھڑے ہوگئے اور صرف جے یو آئی کے ارکان بیٹھے رہے جنہوں نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ اسمبلی میں مالاکنڈ کے ایم پی ایز نے پاٹا کی حیثیت ختم کرنے کا مسئلہ اٹھا دیا۔ رکن اسمبلی عنایت اللہ نے کہا کہ ہم سے پاٹا کی حیثیت ختم کرنے کے حوالے سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ اسمبلی میں پاٹا کو 10 سال تک ٹیکسوں سے استثنیٰ دینےکی قرارداد منظور کرلی گئی۔ تحریک انصاف کے رکن ڈاکٹر حیدر علی نے قرارداد پیش کی جس میں مالاکنڈ میں نافذ شرعی نظام عدل کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ فاٹا کی طرح پاٹا کو بھی 100 ارب روپے سالانہ پیکج دیا جائے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ فاٹا کے انضمام کی مکمل حمایت کرتے ہیں، تاہم حکومت نے پاٹا کو صوبے میں ضم کرنے پر عوام سے مشاورت نہیں کی، حکومت پاٹا عوام کو خصوصی مراعات دیتے ہوئے مالاکنڈ کو ٹیکسوں میں دس سال کے لیے چھوٹ دی جائے، ایک کھرب پیکج کا اعلان کیا جائے اور بجلی میں سبسڈی دی جائے۔ اے این پی کے سردار بابک نے کہا کہ مالاکنڈ کی حیثیت کو نہ چھیڑا جائے، خصوصی پیکج کا اعلان کیا جائے تو مالاکنڈ کے عوام فاٹا اصلاحات کی منظوری میں سب سے آگے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ نگراں وزیر اعلیٰ کا جو نام آیا ہے تو بڑے بڑے قصے آ رہے ہیں، سیاست میں اب پیسہ آ گیا ہے، چاہئیے تھا کہ اپوزیشن لیڈر تمام اپوزیشن جماعتوں سے مشورہ کرتے، ہمیں تو یہ خبر ملی ہے کہ وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر نے پیسے لئے ہیں۔ نگراں وزیر اعلیٰ سے پیسے لینے کی بات پر ایوان میں شدید شور شرابا ہوا۔ وزیر اعلی پرویز خٹک نے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ نگراں وزیراعلی سے پیسے لینے کا الزام سن کر بہت افسوس ہوا، سینیٹ کا معاملہ آیا تو سب سامنے آجائے کیونکہ ثبوت ہیں، کوئی چیز چھپی نہیں میں جانتا ہوں کون کون ہے، بل میں پاٹا کی کوئی بات نہیں تھی اور اچانک یہ سامنے آیا، پاٹا کے معاملہ پر وفاقی حکومت سے رابطہ کیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر مولانا لطف الرحمان نے کہا کہ میں نے تمام پارلیمانی جماعتوں سے رابطہ کیا اور نام مانگے تھے، افسوس ہوا سردار بابک نے سنی سنائی باتوں پر الزام لگایا، فاٹا میں 15سے 16 سال سے آپریشن چل رہا ہے، قبائل مشکل ادوار سے گزرے ہیں، فاٹا انضمام کی قانون سازی کے لیے باہر سے دباؤ ڈالا جارہا ہے، قبائلی عوام پر فیصلہ زبردستی لاگو نہ کیا جائے۔ پی ٹی آئی کے صوبائی وزیر شاہ فرمان نے کہا کہ ایوان میں وہ بات کی جاتی ہے جو حقیقت پر مبنی ہو، کسی کے کہنے پر آپ کیسے الزامات لگا سکتے ہیں۔ شاہ فرمان نے بھی مجوزہ بل میں پاٹا کو شامل کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بل قبائل کیلئے تھا تاکہ فاٹا کے ارکان فاٹا کیلئے قانون سازی کر سکیں، لیکن پاٹا کو ساتھ شامل کرنا گہری سازش اور بل کو روکنے کی کوشش ہے۔ خیبرپختونخوا اسمبلی کا آج آئینی مدت پوری ہونے پر اختتامی اجلاس ہے۔ دوسری جانب فاٹا اصلاحاتی بل کے خلاف جے یوآئی کی جانب سے اسمبلی کے سامنے شدید احتجاج بھی کیا گیا جس کے دوران پولیس سے جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ فاٹا بل فاٹا اصلاحات بل کے تحت آئین کی شق 246 میں ترمیم کرتے ہوئے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کو خیبر پختونخوا جبکہ صوبوں کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (پاٹا) کو متعلقہ صوبوں یعنی خیبر پختونخوا اور بلوچستان کا حصہ بنانے کی منظوری دی گئی ہے۔ آئینی ترمیم کے ذریعے 100 برس سے زیادہ عرصے تک قبائلی علاقہ جات میں نافذ رہنے والے قانون فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) کو بالاخر ایک صدی بعد ختم کر دیا گیا ہے۔ national
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.