• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
SB2425
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

کالا دھن سفید کرنے اور ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لئے نئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کااعلان

webmaster by webmaster
اپریل 6, 2018
in قومی/ بین الاقوامی خبریں
0
کالا دھن سفید کرنے اور ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لئے نئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کااعلان

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک )وزیراعظم نے کالا دھن سفید کرنے اور ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لئے نئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کااعلان کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں ٹیکس نیٹ ورک کو بڑھانے لیے ڈرافٹ تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،شہریوں کا شناختی کارڈ نمبر ہی ان کا انکم ٹیکس نمبر ہو گا جبکہ صرف 2فیصد جرمانہ اد ا کرکے بیرون ممالک سے رقوم لائی جاسکتی ہیں،مثال کے طور پر 100ڈالرزلانے پر 2ڈالر ادا کرنے ہوں گے ,انہوں نے مزید کہا کہ جن لوگوں کے اثاثے بیرون ملک ہیں وہ دو فیصد جرمانہ ادا کر کے ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور ڈالر اکاؤنٹ پر 5 فیصد ٹیکس ادا کر کے اسے رکھا جا سکتا ہے۔ایمنسٹی اسکیم کو صدارتی حکم نامے کے ذریعے متعارف کرایا جا رہا ہے اور آج سے لیکر 30 جون تک اس سکیم سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، سکیم ختم ہونےکے بعد نوٹسز بھی جاری کئے جائیں گے ۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا اسلام آباد میں وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب اور مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہناتھا کہ ٹیکس گزاروں کی محدود تعداد معاشی مسائل پیدا کر رہی ہے اور ٹیکس ادا نہ کرنے سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے تاہم اس پیکج سے انکم ٹیکس کے دائرہ کار میں اضافہ ہوگا،ٹیکس ادا کرنا پوری دنیا میں شہریوں کا سب سے بڑا ذمہ ہوتا ہے، جن افراد کی تنخواہ زیادہ ہوتی ہے وہ ٹیکس زیادہ اور جن کی کم ہو ان سے کم ٹیکس لیا جا تا ہے لیکن بدقسمتی سے 12 فیصدسے کم لوگوں نے انکم ٹیکس ریٹرن فائل کیے جبکہ انکم ٹیکس ادا نہ کرنا قومی جرم ہے۔انہوں نے کہا کہ مجبوراً ٹیکس ریفارمز کی ضرورت تھی,انکم ٹیکس ریٹ کو بھی آسان بنانے کی ضرورت تھی,ڈائریکٹ ٹیکسٹیشن نہ ہو تو اِن ڈائریکٹ کرنی پڑتی ہے,ملک بھر میں صرف 7 لاکھ لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں،ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لئے حکومت نے انکم ٹیکس کی شرح کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہےتاہم ٹیکس کی شرح کو مرحلہ وار کم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ 12 لاکھ سالانہ آمدن والے شہری انکم ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے،12 سے 24 لاکھ روپے سالانہ آمدن والوں پر 5 فیصد ٹیکس عائد ہوگا، 24 سے 48 لاکھ سالانہ آمدن پر 10 فیصد ٹیکس ہوگا جبکہ 48 لاکھ سے زائد سالانہ آمدن پر 15 فیصد ٹیکس ہوگا،ٹیکس ایمنسٹی کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے،جن لوگوں کے اثاثے بیرون ملک ہیں وہ 2 فیصد جرمانہ ادا کر کے ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ،لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لئےانکم ٹیکس کے حوالے سے پیکج جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ یہ ایمنسٹی سکیم کسی ایک پاکستانی کے لیے نہیں بلکہ ہر وہ شخص جو پاکستانی شناختی کارڈ رکھتا ہے وہ اس سکیم سے فائدہ اٹھا سکتا ہے،سکیم کا مقصد لوگوں کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لانا ہے، تاہم سیاسی لوگ اور ان کے زیر کفالت افراد فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے اور نہ ہی وہ ایمنسٹی سکیم کا حصہ ہیں،ایمنسٹی سکیم کو صدارتی حکم نامے کے ذریعے متعارف کرایا جا رہا ہے اور آج سے لیکر 30 جون تک اس سکیم سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس وصولیوں کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال ہوگا،ملک میں 12 کروڑ افراد قومی شناختی کارڈ ہولڈرز ہیں،اب ہر شہری کے شناختی کارڈ کا نمبر ہی اس کا آئندہ ٹیکس نمبر ہوگا،جو لوگ ٹیکس ادا نہیں کرتے ان کے خلاف کارروائی کرسکتے ہیں ،جوبھی ایمنسٹی سکیم حاصل کرے گا وہ ٹیکس دہندہ ہوگا ، تواتر سے بیرون ملک سفر کرنے والے افراد ٹیکس ادا نہیں کرتے حالانکہ ہر شہری کو اپنی استطاعت کے مطابق ٹیکس لازمی ادا کرنا چاہئے،جو لوگ ٹیکس ادا نہیں کریں گے ان کے خلاف ڈیٹا بیس استعمال کیا جائے گا اور ٹیکس نادہندہان کے خلاف کارروائی بھی ہو گی۔

وزیراعظم کا کہناتھا کہ ٹیکس ادا کرنے سے ملک آگے بڑھتا ہے،ایمنسٹی سکیم کامقصدریونیوحاصل کرنانہیں، جو لوگ ٹیکس ادا نہیں کرتے اور جن کے بیرون ملک اثاثے موجود ہیں وہ 2 فیصد جرمانہ اد کر کے ٹیکس ایمنسٹی حاصل کر سکتے ہیں،ملک کے اندر جنہوں نے اثاثے ظاہر نہیں کئے وہ 3فیصد پینلٹی دے کر ٹیکس نیٹ میں شامل ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک مخصوص مدت میں5 لاکھ کی پراپرٹی حکومت10لاکھ میں خریدسکتی ہے،سب پاکستانی ہیں اور یہ سکیم پانامہ والوں کیلئے بھی ہے لیکن اگر آپ جائیداد کی درست قیمت نہیں بتا رہے تو حکومت پاکستان کا نقصا ن کررہے ہیں جبکہ آف شور کمپنیاں بھی اثاثہ ہی ہیں۔

دھرنوں سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہناتھا کہ دھرنے نے پاکستان کو کئی سال پیچھے دھکیل دیا ،سڑکوں پر جو عدالتیں لگیں انہو ں نے ملک کو غیر مستحکم کیااگر ایسا نہ ہوتا تو آج ملک بہت آگے جاچکا ہوتاجبکہ ملک میں انتشار سے ملکی معیشت پر برا اثر پڑتا ہے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں کسی کی بھی بات سننے والا آدمی نہیں ہوں ، نوازشریف آج بھی میرے وزیرواعظم ہیں جبکہ اس بات سے بہت سے لوگوں کو تکلیف ہے ، میں جب سے وزیراعظم بنا ہوں مجھے نوازشریف نے کوئی بھی ہدایت نہیں دی ہے۔انہوں نے لوڈشیڈنگ سے متعلق کہا کہ تکنیکی خرابی کی وجہ ہمیشہ لوڈشیڈنگ ہوتی اور لوڈشیڈنگ وہاں کی جاتی ہے جہاں بجلی چوری ہوتی ہے۔

Post Views: 24
Tags: National News
Previous Post

لیہ ۔صحافی ذیشان بٹ کے بہیمانہ قتل پر ڈسٹرکٹ پریس کلب کا مذمتی اجلاس ،قاتلو ں کو فوری طور پر گرفتار کرنے کا مطا لبہ

Next Post

چوک اعظم ۔گورنمنٹ بوائز ڈگری میں سالانہ تقریبِ تقسیمِ انعامات ،ایم پی اے قیصر عباس خان مگسی ،ائریکٹرکالجز ڈاکٹر پروفیسر الطاف حسین بھٹی ،ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز لیہ ڈاکٹر پروفیسر خادم حسین ملک ،اور پرنسپل پروفیسر شکیل اختر قریشی نے خطاب کیا

Next Post

چوک اعظم ۔گورنمنٹ بوائز ڈگری میں سالانہ تقریبِ تقسیمِ انعامات ،ایم پی اے قیصر عباس خان مگسی ،ائریکٹرکالجز ڈاکٹر پروفیسر الطاف حسین بھٹی ،ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز لیہ ڈاکٹر پروفیسر خادم حسین ملک ،اور پرنسپل پروفیسر شکیل اختر قریشی نے خطاب کیا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب
قومی/ بین الاقوامی خبریں

دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب

by webmaster
اگست 2, 2026
0

لاہور: پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق...

Read moreDetails
نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

جولائی 19, 2026
آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

جولائی 11, 2026
سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم  ?

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم ?

جولائی 8, 2026
حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے،  سلمان اکرم راجا

حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے، سلمان اکرم راجا

جولائی 3, 2026
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک )وزیراعظم نے کالا دھن سفید کرنے اور ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لئے نئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کااعلان کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں ٹیکس نیٹ ورک کو بڑھانے لیے ڈرافٹ تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،شہریوں کا شناختی کارڈ نمبر ہی ان کا انکم ٹیکس نمبر ہو گا جبکہ صرف 2فیصد جرمانہ اد ا کرکے بیرون ممالک سے رقوم لائی جاسکتی ہیں،مثال کے طور پر 100ڈالرزلانے پر 2ڈالر ادا کرنے ہوں گے ,انہوں نے مزید کہا کہ جن لوگوں کے اثاثے بیرون ملک ہیں وہ دو فیصد جرمانہ ادا کر کے ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور ڈالر اکاؤنٹ پر 5 فیصد ٹیکس ادا کر کے اسے رکھا جا سکتا ہے۔ایمنسٹی اسکیم کو صدارتی حکم نامے کے ذریعے متعارف کرایا جا رہا ہے اور آج سے لیکر 30 جون تک اس سکیم سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، سکیم ختم ہونےکے بعد نوٹسز بھی جاری کئے جائیں گے ۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا اسلام آباد میں وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب اور مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہناتھا کہ ٹیکس گزاروں کی محدود تعداد معاشی مسائل پیدا کر رہی ہے اور ٹیکس ادا نہ کرنے سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے تاہم اس پیکج سے انکم ٹیکس کے دائرہ کار میں اضافہ ہوگا،ٹیکس ادا کرنا پوری دنیا میں شہریوں کا سب سے بڑا ذمہ ہوتا ہے، جن افراد کی تنخواہ زیادہ ہوتی ہے وہ ٹیکس زیادہ اور جن کی کم ہو ان سے کم ٹیکس لیا جا تا ہے لیکن بدقسمتی سے 12 فیصدسے کم لوگوں نے انکم ٹیکس ریٹرن فائل کیے جبکہ انکم ٹیکس ادا نہ کرنا قومی جرم ہے۔انہوں نے کہا کہ مجبوراً ٹیکس ریفارمز کی ضرورت تھی,انکم ٹیکس ریٹ کو بھی آسان بنانے کی ضرورت تھی,ڈائریکٹ ٹیکسٹیشن نہ ہو تو اِن ڈائریکٹ کرنی پڑتی ہے,ملک بھر میں صرف 7 لاکھ لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں،ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لئے حکومت نے انکم ٹیکس کی شرح کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہےتاہم ٹیکس کی شرح کو مرحلہ وار کم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ 12 لاکھ سالانہ آمدن والے شہری انکم ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے،12 سے 24 لاکھ روپے سالانہ آمدن والوں پر 5 فیصد ٹیکس عائد ہوگا، 24 سے 48 لاکھ سالانہ آمدن پر 10 فیصد ٹیکس ہوگا جبکہ 48 لاکھ سے زائد سالانہ آمدن پر 15 فیصد ٹیکس ہوگا،ٹیکس ایمنسٹی کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے،جن لوگوں کے اثاثے بیرون ملک ہیں وہ 2 فیصد جرمانہ ادا کر کے ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ،لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لئےانکم ٹیکس کے حوالے سے پیکج جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ یہ ایمنسٹی سکیم کسی ایک پاکستانی کے لیے نہیں بلکہ ہر وہ شخص جو پاکستانی شناختی کارڈ رکھتا ہے وہ اس سکیم سے فائدہ اٹھا سکتا ہے،سکیم کا مقصد لوگوں کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لانا ہے، تاہم سیاسی لوگ اور ان کے زیر کفالت افراد فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے اور نہ ہی وہ ایمنسٹی سکیم کا حصہ ہیں،ایمنسٹی سکیم کو صدارتی حکم نامے کے ذریعے متعارف کرایا جا رہا ہے اور آج سے لیکر 30 جون تک اس سکیم سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس وصولیوں کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال ہوگا،ملک میں 12 کروڑ افراد قومی شناختی کارڈ ہولڈرز ہیں،اب ہر شہری کے شناختی کارڈ کا نمبر ہی اس کا آئندہ ٹیکس نمبر ہوگا،جو لوگ ٹیکس ادا نہیں کرتے ان کے خلاف کارروائی کرسکتے ہیں ،جوبھی ایمنسٹی سکیم حاصل کرے گا وہ ٹیکس دہندہ ہوگا ، تواتر سے بیرون ملک سفر کرنے والے افراد ٹیکس ادا نہیں کرتے حالانکہ ہر شہری کو اپنی استطاعت کے مطابق ٹیکس لازمی ادا کرنا چاہئے،جو لوگ ٹیکس ادا نہیں کریں گے ان کے خلاف ڈیٹا بیس استعمال کیا جائے گا اور ٹیکس نادہندہان کے خلاف کارروائی بھی ہو گی۔ وزیراعظم کا کہناتھا کہ ٹیکس ادا کرنے سے ملک آگے بڑھتا ہے،ایمنسٹی سکیم کامقصدریونیوحاصل کرنانہیں، جو لوگ ٹیکس ادا نہیں کرتے اور جن کے بیرون ملک اثاثے موجود ہیں وہ 2 فیصد جرمانہ اد کر کے ٹیکس ایمنسٹی حاصل کر سکتے ہیں،ملک کے اندر جنہوں نے اثاثے ظاہر نہیں کئے وہ 3فیصد پینلٹی دے کر ٹیکس نیٹ میں شامل ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک مخصوص مدت میں5 لاکھ کی پراپرٹی حکومت10لاکھ میں خریدسکتی ہے،سب پاکستانی ہیں اور یہ سکیم پانامہ والوں کیلئے بھی ہے لیکن اگر آپ جائیداد کی درست قیمت نہیں بتا رہے تو حکومت پاکستان کا نقصا ن کررہے ہیں جبکہ آف شور کمپنیاں بھی اثاثہ ہی ہیں۔ دھرنوں سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہناتھا کہ دھرنے نے پاکستان کو کئی سال پیچھے دھکیل دیا ،سڑکوں پر جو عدالتیں لگیں انہو ں نے ملک کو غیر مستحکم کیااگر ایسا نہ ہوتا تو آج ملک بہت آگے جاچکا ہوتاجبکہ ملک میں انتشار سے ملکی معیشت پر برا اثر پڑتا ہے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں کسی کی بھی بات سننے والا آدمی نہیں ہوں ، نوازشریف آج بھی میرے وزیرواعظم ہیں جبکہ اس بات سے بہت سے لوگوں کو تکلیف ہے ، میں جب سے وزیراعظم بنا ہوں مجھے نوازشریف نے کوئی بھی ہدایت نہیں دی ہے۔انہوں نے لوڈشیڈنگ سے متعلق کہا کہ تکنیکی خرابی کی وجہ ہمیشہ لوڈشیڈنگ ہوتی اور لوڈشیڈنگ وہاں کی جاتی ہے جہاں بجلی چوری ہوتی ہے۔
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.