• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
SB2425
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

پاناما لیکس فیصلہ ، وزیراعظم نااہل نہیں ہوئے ،مزید تحقیقات کے لئےجے آئی ٹی بنا ءے جانے کاحکم ،تحقیقاتی رپورٹ ساٹھ روز میں عدالت میں پیش کی جاءے ، سپریم کورٹ

webmaster by webmaster
اپریل 20, 2017
in First Page
0
پاناما لیکس فیصلہ ، وزیراعظم نااہل نہیں ہوئے ،مزید تحقیقات کے لئےجے آئی ٹی بنا ءے جانے کاحکم ،تحقیقاتی رپورٹ ساٹھ روز میں عدالت میں پیش کی جاءے ، سپریم کورٹ

اسلام آباد (مانیٹرننگ ڈیسک ) سپریم کورٹ میں آج سناءے جانے والے پاناما کیس فیصلہ میں مزید تحقیقات کے لئے جے آئی ٹیم دینے کا حکم جاری کیا گیا ہتے ،نیب، ایس سی اسی پی اور ملٹری انٹیلی جنس کا نمائندہ ٹیم کا حصہ ہو گا، جے آئی ٹی وزیراعظم کی بے نامی جائیدادوں کی تحقیقات کرے گی۔ پاناما کیس کا فیصلہ 540 صفحات پر مشتمل ہے،پاناما کیس کا فیصلہ تین دو سے ہوا ہے، دوججز نے فیصلہ میں اختلافی نوٹ تحریر کئے ۔
سپریم کورٹ کے فیصلہ میں سات دن میں جے آئی ٹی تشکیل دنے کا حکم دیا گیا ہے یہ جے آءی ٹی ٹیم ساٹھ روز میں اتحقیقات مکمل کر کے اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کر ے گی ۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کی 4 ماہ 3 دن میں 36 بار سماعت ہوئی جبکہ مقدمہ 96 گھنٹے سنا گیا،
3 مارچ 2016 کو پانامہ کا ہنگامہ شروع ہوا۔ اپوزیشن سیخ پا ہوئی اور وزیر اعظم سے استعفیٰ مانگ لیا، نواز شریف نے مطالبہ رد کر دیا اور عدالتی کمیشن بنانے کا اعلان کر دیا تاہم سپریم کورٹ نے معذرت کر لی،تحقیقاتی کمیشن کے ضوابط کی تشکیل کیلئے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کی طویل نشستیں بھی ہوئیں لیکن بے سود رہیں،پھر تحریک انصاف سڑکوں پر آئی،دو نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کی کال دی گئی تو پکڑ دھکڑ شروع ہو گئی،اسی دوران، یکم نومبر کو سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے کمیشن بنانے پر اتفاق کیا۔

3 نومبر 2016 کو باقاعدہ سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کمیشن کا کسی جماعت کے ضوابط پر متفق ہونا ضروری نہیں، وزیر اعظم کیخلاف الزامات کو دیکھنا ترجیح ہے، شواہد دیکھ کر کمیشن بنانے یا نہ بنانے کا فیصلہ ہو گا،15 نومبر کو سماعت میں نیا موڑ آیا،وزیر اعظم کے بچوں کے وکیل نے شریف خاندان کی قطر میں سرمایہ کاری سے متعلق قطری شہزادے کا خط عدالت میں پیش کر دیا،وزیر اعظم کے خاندان کی جانب سے قطری خط آیا تو پی ٹی آئی سینکڑوں دستاویزات لے آئی،18 نومبر کو عمران خان کے وکیل حامد خان کیس سے الگ ہوئے،30 نومبر کو پہلی بار نعیم بخاری نے پی ٹی آئی کی جانب سے دلائل دیئے،5 دسمبر کو حسین نواز کے وکیل نے لندن فلیٹس کی رجسٹریاں جمع کرائیں جس کے چار روز بعد چیف جسٹس ریٹائر ہوئے تو بینچ ٹوٹ گیا۔

31دسمبر 2016 کو نئے چیف جسٹس نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں نیا بینچ بنایا،پھر نیا سال آیا لیکن پرانا کیس چلتا رہا،3 جنوری کو وزیر اعظم، مریم نواز، حسن نواز اور حسین نواز نے وکیل بدل لئے،4 جنوری 2017 سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت شروع ہوئی،26 جنوری کو حسین نواز نے ایک اور قطری خط اور جدہ فیکٹری کا ریکارڈ پیش کر دیا،یکم فروری کو جسٹس شیخ عظمت سعید کو دل کی تکلیف ہوئی تو سماعت ملتوی ہو گئی۔ 9 فروری کو فاضل جج کی صحتیابی کے بعد پانچ رکنی بینچ دوبارہ مکمل ہوا،یوں 15 فروری سے سماعت کا سلسلہ پھر چل پڑا۔

دوران سماعت حدیبیہ پیپر ملز مقدمے کا ذکر بھی آیا،21 فروری کو نیب کے سربراہ نے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر نہ کرنے کا بیان دیا، جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز افضل، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل پانچ رکنی بینچ نے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کے بعد پانامہ کیس کا فیصلہ 23 فروری کو محفوظ کیا تھا۔
پانامہ کیس کے فیصلہ کے بعد تحریک انصاف کے چیءرمین عمران خان نے وزیر اعظم سے استعفی کا مطا لبہ کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف اخلاقی جواز کھو بیٹھے ہیں ، ان کے وزیر اعظم ہو تے ہوءے جے آءی ٹیم کیسے شفاف تحقیقات کر سکتی ہے ۔
دوسری طرف میڈ یا ذراءع کے مطابق وزیر اعظم آج سات بجے شام قوم سے خطاب کریں گے ۔۔

Post Views: 25
Tags: National News
Previous Post

ڈیرہ غازیخان۔چوتھی چک بال چیمپئن شپ میں ڈیرہ غازیخان کے فیاض حسین نے مین آف دی میچ کا اعزاز حاصل کیا

Next Post

راجن پور ۔مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں 50فیصد اور ہاؤس رینٹ میں 45فیصد اضافہ کیا جائے ، مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا ۔ صدر ایپکا محمد اسلم چانڈیہ

Next Post
راجن پور ۔مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں 50فیصد اور ہاؤس رینٹ میں 45فیصد اضافہ کیا جائے ، مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا ۔ صدر ایپکا محمد اسلم چانڈیہ

راجن پور ۔مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں 50فیصد اور ہاؤس رینٹ میں 45فیصد اضافہ کیا جائے ، مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا ۔ صدر ایپکا محمد اسلم چانڈیہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب
قومی/ بین الاقوامی خبریں

دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب

by webmaster
اگست 2, 2026
0

لاہور: پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق...

Read moreDetails
نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

جولائی 19, 2026
آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

جولائی 11, 2026
سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم  ?

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم ?

جولائی 8, 2026
حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے،  سلمان اکرم راجا

حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے، سلمان اکرم راجا

جولائی 3, 2026

اسلام آباد (مانیٹرننگ ڈیسک ) سپریم کورٹ میں آج سناءے جانے والے پاناما کیس فیصلہ میں مزید تحقیقات کے لئے جے آئی ٹیم دینے کا حکم جاری کیا گیا ہتے ،نیب، ایس سی اسی پی اور ملٹری انٹیلی جنس کا نمائندہ ٹیم کا حصہ ہو گا، جے آئی ٹی وزیراعظم کی بے نامی جائیدادوں کی تحقیقات کرے گی۔ پاناما کیس کا فیصلہ 540 صفحات پر مشتمل ہے،پاناما کیس کا فیصلہ تین دو سے ہوا ہے، دوججز نے فیصلہ میں اختلافی نوٹ تحریر کئے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ میں سات دن میں جے آئی ٹی تشکیل دنے کا حکم دیا گیا ہے یہ جے آءی ٹی ٹیم ساٹھ روز میں اتحقیقات مکمل کر کے اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کر ے گی ۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کی 4 ماہ 3 دن میں 36 بار سماعت ہوئی جبکہ مقدمہ 96 گھنٹے سنا گیا، 3 مارچ 2016 کو پانامہ کا ہنگامہ شروع ہوا۔ اپوزیشن سیخ پا ہوئی اور وزیر اعظم سے استعفیٰ مانگ لیا، نواز شریف نے مطالبہ رد کر دیا اور عدالتی کمیشن بنانے کا اعلان کر دیا تاہم سپریم کورٹ نے معذرت کر لی،تحقیقاتی کمیشن کے ضوابط کی تشکیل کیلئے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کی طویل نشستیں بھی ہوئیں لیکن بے سود رہیں،پھر تحریک انصاف سڑکوں پر آئی،دو نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کی کال دی گئی تو پکڑ دھکڑ شروع ہو گئی،اسی دوران، یکم نومبر کو سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے کمیشن بنانے پر اتفاق کیا۔

3 نومبر 2016 کو باقاعدہ سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کمیشن کا کسی جماعت کے ضوابط پر متفق ہونا ضروری نہیں، وزیر اعظم کیخلاف الزامات کو دیکھنا ترجیح ہے، شواہد دیکھ کر کمیشن بنانے یا نہ بنانے کا فیصلہ ہو گا،15 نومبر کو سماعت میں نیا موڑ آیا،وزیر اعظم کے بچوں کے وکیل نے شریف خاندان کی قطر میں سرمایہ کاری سے متعلق قطری شہزادے کا خط عدالت میں پیش کر دیا،وزیر اعظم کے خاندان کی جانب سے قطری خط آیا تو پی ٹی آئی سینکڑوں دستاویزات لے آئی،18 نومبر کو عمران خان کے وکیل حامد خان کیس سے الگ ہوئے،30 نومبر کو پہلی بار نعیم بخاری نے پی ٹی آئی کی جانب سے دلائل دیئے،5 دسمبر کو حسین نواز کے وکیل نے لندن فلیٹس کی رجسٹریاں جمع کرائیں جس کے چار روز بعد چیف جسٹس ریٹائر ہوئے تو بینچ ٹوٹ گیا۔

31دسمبر 2016 کو نئے چیف جسٹس نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں نیا بینچ بنایا،پھر نیا سال آیا لیکن پرانا کیس چلتا رہا،3 جنوری کو وزیر اعظم، مریم نواز، حسن نواز اور حسین نواز نے وکیل بدل لئے،4 جنوری 2017 سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت شروع ہوئی،26 جنوری کو حسین نواز نے ایک اور قطری خط اور جدہ فیکٹری کا ریکارڈ پیش کر دیا،یکم فروری کو جسٹس شیخ عظمت سعید کو دل کی تکلیف ہوئی تو سماعت ملتوی ہو گئی۔ 9 فروری کو فاضل جج کی صحتیابی کے بعد پانچ رکنی بینچ دوبارہ مکمل ہوا،یوں 15 فروری سے سماعت کا سلسلہ پھر چل پڑا۔

دوران سماعت حدیبیہ پیپر ملز مقدمے کا ذکر بھی آیا،21 فروری کو نیب کے سربراہ نے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر نہ کرنے کا بیان دیا، جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز افضل، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل پانچ رکنی بینچ نے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کے بعد پانامہ کیس کا فیصلہ 23 فروری کو محفوظ کیا تھا۔ پانامہ کیس کے فیصلہ کے بعد تحریک انصاف کے چیءرمین عمران خان نے وزیر اعظم سے استعفی کا مطا لبہ کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف اخلاقی جواز کھو بیٹھے ہیں ، ان کے وزیر اعظم ہو تے ہوءے جے آءی ٹیم کیسے شفاف تحقیقات کر سکتی ہے ۔ دوسری طرف میڈ یا ذراءع کے مطابق وزیر اعظم آج سات بجے شام قوم سے خطاب کریں گے ۔۔

No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.