• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
ad
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2024-12-20 at 4.47.55 PM
WhatsApp Image 2024-12-20 at 11.08.33 PM
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

اردو کالم ۔۔۔ پڑھوپنجاب بڑھوپنجاب۔۔۔ تحریر ۔۔شاہداقبال شامی

webmaster by webmaster
جنوری 19, 2016
in First Page, کالم
0

  پڑھوپنجاب بڑھوپنجاب

شاہداقبال شامی

Logoدانش ورکہتے ہیں کہ کسی بھی ملک کے اگر تین طبقے اساتذہ،عدلیہ اور فوج ٹھیک ہو جائے تو پورے ملک کا نظام ٹھیک ہو جاتا ہے ،لیکن ’’وجدان ‘‘ کا کہنا ہے کہ اگرصرف اساتذہ ہی اپنا فرض احسن طریقہ سے نبھانا شروع کر دیں تو ملک کو ترقی کی راہ پرسفرکرنے سے کوئی نہیں روک سکتا،کیونکہ عدلیہ اور

فوج بھی اساتذہ ہی کی تربیت کا نتیجہ ہے جس نہج کی تربیت ہو گی نتیجہ بھی ویسا ہی آئے گا ،ہمارے ملک میں سب سے ابتر صورت حال محکمہ تعلیم کی ہے،اس پر سب سے کم سرمایا کاری کی جاتی ہے اور تجربات سب سے زیادہ کئے جاتے ہیں ،ہرسال نصاب تعلیم تبدیل ہوتا ہے عمارتوں کو خوبصورت بنانے کیلئے دن  کوششیں کی جاتی ہیں،محکمہ تعلیم کی چیکنگ کے لئے کئی ادارے کام کر رہے ہیں لیکن نتیجہ وہی ’’ڈھاک کے تین
ایک رپورٹ کے مطابق صرف صوبہ پنجاب میں 9ماہ کے دوران وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے قائم کردہ ٹیموں نے مختلف اوقات میں صوبہ بھر کے پرائمری،مڈل،ہائی اورہائیرسکینڈری سکولوں میں چھاپوں کے دوران 23ہزار139اساتذہ کو اپنی تدریسی ڈیوٹی سے غیر حاضر پایا9ماہ کے اعدادوشمار کے مطابق غفلت،لاپرواہی اور مسلسل غیر حاضری کے مرتکب740اساتذہ کو نوکری سے فارغ164انکری منٹ روک دی گئی 744اساتذہ کی تنخواہوں میں کٹوتی100کوجبری ریٹائرڈ کر دیا گیاسرکاری سکوں کے بجائے دیگر جگہوں پر ڈیوٹی دینے والے 79اساتذہ کوواپس ڈیوٹیوں پر بھجوایا گیاہے جبکہ 1621اساتذہ کو وارننگ دی گئی۔
جتنی زیادہ محنت تعلیمی اداروں کو ٹھیک کرنے کے لئے کی جاتی ہے نتیجہ اس کے الٹ ہی نکل رہاہے اب ہمیں ان اداروں کو ٹھیک کرنے کے لئے نئے سرے سے حکمت عملی ترتیب دینا ہو گی صرف دھونس دھاندلی سے کام نہیں چلے گا، اب اساتذہ کی نگرانی کے ساتھ ساتھ ان کے مسائل کا جائزہ بھی لینا ہو گا ،سکولوں کو چیک کرنے کے نظام میں تبدیلی لانا ہو گی ۔چیکنگ کرنے والوں پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے،کیونکہ سارا دارومدار ان ہی پر ہے،ان میں بھی کئی کالی بھیڑیں چھپی بیٹھی ہیں، یہ جس کو چاہتے ہیں حاضر کو غیر حاضریا لیٹ آمد اور غیر حاضر کو رخصت پر شمار کر دیتے ہیں،مانیٹرنگ کے لئے ریٹائرڈ فوجیوں کے بجائے اساتذہ یا نئے لوگوں کو تعینات کیا جائے اور ان کی بھی تربیت کا خصوصی انتظام کرنا بہت ضروری ہے۔
محکمہ تعلیم کو ٹھیک کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ان میں سے کرپٹ اساتذہ کو فورا فارغ کیا جائے ،ہر ادارے میں سربراہ ادارہ کے خاص منظورنظر ہوتے ہیں جن کو ہر قسم کی آزادی دی جاتی ہے جس کی وجہ سے ایماندار اساتذہ کا استحصال ہوتا ہے اور ماحول بھی خراب ہوتا ہے اور ساتھ ساتھ محکمہ بھی بدنام ہوتا ہے۔اساتذہ کے مسائل کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہو گا تا کہ وہ یکسوئی کے ساتھ اپنا کام کرسکیں،ان کے مسائل میں کم تنخواہ،ناقص مراعات،سہولیات کی کمی،نامناسب سروس سٹرکچر اور امتیازی سلوک کا روا رکھاجاناہے۔جب کم تنخواہ کے باعث اساتذہ کو زائد آمدن کے لئے مزدوری کرنا پڑے گی تو طلبہ کا تعلیمی حرج تو ہو ہی گا،اساتذہ سے تمام اضافی ڈیوٹیاں،ڈینگی،پولیوں،الیکشن اور مردم شماری جیسی ڈیوٹیاں بھی لی جائیں گی تو تعلیمی نظام بہتر ہونے کے بجائے زیادہ خراب ہو گا،قومی اعزازات میں اساتذہ کو ہمیشہ
نظرانداز کیا جاتا ہے،سرکاری تقریبات میں اساتذہ کو بھی مدعو کیا جائے،تمام اساتذہ کے کنوینس الاؤنس کو ایک جیسا کر دیا جائے ،میڈیکل اور ہاؤس رینٹ کو بھی برابر ہونا چاہیے،منظورنظرلوگوں کو نوازنا بند اور شرارتی اساتذہ کو فورا ملازمت سے فارغ کر دیا جائے،ایک شخص کی آفسران بالا کی ذاتی دشمنی کے لئے باقی عملہ کو تنگ کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے کئی اساتذہ ذہنی مریض بن چکے ہیں، دوراور مشکل علاقوں میں جانے والے کو کوئی سہولت فراہم نہیں کی جاتی۔علاقائی وڈیروں اور سیاسی شخصیات کا سکولوں میں عمل دخل روکا جائے اور ملازمین کو تحفظ فراہم کیا جائے،ان کو بلا وجہ تنگ نہ کیا جائے ،ایک جیسی غلطی کی سزا بھی ایک جیسی ہونی چاہیے سکیل کا خیال نہ کیا جائے سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے ،ملازمین کے مسائل کو سنا جائے اور ترجیحی بنیادوں پرسنجیدگی کے ساتھ حل کیا جائے ۔ترقی کے یکساں مواقع فراہم کئے جائیں،اور ان کو برادرانہ ماحول فراہم کیا جائے اور حوصلہ افزائی کو معمول بنایا جائے۔
اساتذہ کو بھی چاہیے کہ اپنے آفیسر کے حکم کو مانے اور کام نیک نیتی اور احسن طریقہ سے کریں،تمام طلبہ کو اپنے بچوں جیسا سمجھیں اور ادارے کو بھی اپنے گھر جیسا بنائیں ،طلبہ سے مذاق کی عادت ہرگز نہ بنائیں،اساتذہ کو چاہیے کہ طلبہ کی بہتر راہنمائی کریں، ان کی ذہنی ساخت کو دیکھتے ہوئے ان کو پہلے سے تیار کیا جائے کہ انہوں نے آگے جا کر کن مضامین کا انتخاب کرنا ہے تاکہ وہ اپنی تعلیم کو بہتر طور پرحاصل کر سکیں،لوگوں کا سرکاری تعلیمی اداروں پر اعتماد بحال کیا جائے یہ تب ہی ممکن ہے جب اساتذہ اپنے بچوں کوسرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم دلوائیں،حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اساتذہ پر لازم قراردیں کہ وہ اپنے بچوں کو بھی ان ہی اداروں میں تعلیم دلوائیں جن اداروں میں وہ خود پڑھاتے ہیں،سیکرٹری تعلیم سے لے کر ایک عام سرکاری تعلیمی ملازم پر یہ لازم ہو کہ وہ اپنے بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم دلوائیں۔تبدیلی تب ہی ممکن ہے،اعتماد کا رشتہ تب ہی مضبوط ہو گا،بے جا اشتہارات،ریلیوں اور مہنگے ہوٹلوں میں پریس کانفرنس کرنے سے تعلیمی نظام بہتر نہیں ہو سکتااس کے لیے عملی اقدامات کرنے ہو گے،ایسے اقدامات جن میں صرف ملازمین کو مشکل میں نہ ڈالا جائے اس سے حالات ٹھیک ہونے کے بجائے اور ابتر ہو جائیں گے۔

 

 

 

Previous Post

لیہ ۔ محنتی اور دیا نتدار سر کاری ملاز مین قوم کا سر مایہ ہیں ،ڈائریکٹر لو کل گو رنمنٹ ڈی جی خان سیف الرحمن

Next Post

کوٹ سلطان ۔ معروف ماہر تعلیم ملک عبدلستار منجوٹھہ کے والد ملک مشتاق احمد منجوٹھہ انتقال کر گئے

Next Post

کوٹ سلطان ۔ معروف ماہر تعلیم ملک عبدلستار منجوٹھہ کے والد ملک مشتاق احمد منجوٹھہ انتقال کر گئے

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

تحریک تحفظ آئین  کی  کال پر 8فروری کو سارا پاکستان بند  ہو گا ۔علیمہ خانم
قومی/ بین الاقوامی خبریں

تحریک تحفظ آئین کی کال پر 8فروری کو سارا پاکستان بند ہو گا ۔علیمہ خانم

by webmaster
جنوری 28, 2026
0

علیمہ خانم کا کہنا ہے کہ پاکستان بند کرنے کی شروعات 8فروری کو ہوگی، تحریک تحفظ آئین نے کال دے...

Read moreDetails
پنجاب ڈویلپمنٹ پلان جون 2026 تک مکمل کیا جاءے۔وزیر اعلی مریم نواز

پنجاب ڈویلپمنٹ پلان جون 2026 تک مکمل کیا جاءے۔وزیر اعلی مریم نواز

جنوری 26, 2026
پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری ۔ڈیرہ غازیخان سمیت متعدد اضلاع میں بارشوں کی پیشین گوئئ

پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری ۔ڈیرہ غازیخان سمیت متعدد اضلاع میں بارشوں کی پیشین گوئئ

جنوری 24, 2026
ملک میں بدقسمتی سے بجلی بہت مہنگی ہے، وزیراعظم

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کا کیس؛ پی ٹی اے کا جواب غیر تسلی بخش قرار

جنوری 21, 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کی طرف سے وزیراعظم شہباز شریف کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے وزیراعظم شہباز شریف کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت

جنوری 18, 2026

  پڑھوپنجاب بڑھوپنجاب

شاہداقبال شامی

Logoدانش ورکہتے ہیں کہ کسی بھی ملک کے اگر تین طبقے اساتذہ،عدلیہ اور فوج ٹھیک ہو جائے تو پورے ملک کا نظام ٹھیک ہو جاتا ہے ،لیکن ’’وجدان ‘‘ کا کہنا ہے کہ اگرصرف اساتذہ ہی اپنا فرض احسن طریقہ سے نبھانا شروع کر دیں تو ملک کو ترقی کی راہ پرسفرکرنے سے کوئی نہیں روک سکتا،کیونکہ عدلیہ اور
فوج بھی اساتذہ ہی کی تربیت کا نتیجہ ہے جس نہج کی تربیت ہو گی نتیجہ بھی ویسا ہی آئے گا ،ہمارے ملک میں سب سے ابتر صورت حال محکمہ تعلیم کی ہے،اس پر سب سے کم سرمایا کاری کی جاتی ہے اور تجربات سب سے زیادہ کئے جاتے ہیں ،ہرسال نصاب تعلیم تبدیل ہوتا ہے عمارتوں کو خوبصورت بنانے کیلئے دن  کوششیں کی جاتی ہیں،محکمہ تعلیم کی چیکنگ کے لئے کئی ادارے کام کر رہے ہیں لیکن نتیجہ وہی ’’ڈھاک کے تین ایک رپورٹ کے مطابق صرف صوبہ پنجاب میں 9ماہ کے دوران وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے قائم کردہ ٹیموں نے مختلف اوقات میں صوبہ بھر کے پرائمری،مڈل،ہائی اورہائیرسکینڈری سکولوں میں چھاپوں کے دوران 23ہزار139اساتذہ کو اپنی تدریسی ڈیوٹی سے غیر حاضر پایا9ماہ کے اعدادوشمار کے مطابق غفلت،لاپرواہی اور مسلسل غیر حاضری کے مرتکب740اساتذہ کو نوکری سے فارغ164انکری منٹ روک دی گئی 744اساتذہ کی تنخواہوں میں کٹوتی100کوجبری ریٹائرڈ کر دیا گیاسرکاری سکوں کے بجائے دیگر جگہوں پر ڈیوٹی دینے والے 79اساتذہ کوواپس ڈیوٹیوں پر بھجوایا گیاہے جبکہ 1621اساتذہ کو وارننگ دی گئی۔ جتنی زیادہ محنت تعلیمی اداروں کو ٹھیک کرنے کے لئے کی جاتی ہے نتیجہ اس کے الٹ ہی نکل رہاہے اب ہمیں ان اداروں کو ٹھیک کرنے کے لئے نئے سرے سے حکمت عملی ترتیب دینا ہو گی صرف دھونس دھاندلی سے کام نہیں چلے گا، اب اساتذہ کی نگرانی کے ساتھ ساتھ ان کے مسائل کا جائزہ بھی لینا ہو گا ،سکولوں کو چیک کرنے کے نظام میں تبدیلی لانا ہو گی ۔چیکنگ کرنے والوں پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے،کیونکہ سارا دارومدار ان ہی پر ہے،ان میں بھی کئی کالی بھیڑیں چھپی بیٹھی ہیں، یہ جس کو چاہتے ہیں حاضر کو غیر حاضریا لیٹ آمد اور غیر حاضر کو رخصت پر شمار کر دیتے ہیں،مانیٹرنگ کے لئے ریٹائرڈ فوجیوں کے بجائے اساتذہ یا نئے لوگوں کو تعینات کیا جائے اور ان کی بھی تربیت کا خصوصی انتظام کرنا بہت ضروری ہے۔ محکمہ تعلیم کو ٹھیک کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ان میں سے کرپٹ اساتذہ کو فورا فارغ کیا جائے ،ہر ادارے میں سربراہ ادارہ کے خاص منظورنظر ہوتے ہیں جن کو ہر قسم کی آزادی دی جاتی ہے جس کی وجہ سے ایماندار اساتذہ کا استحصال ہوتا ہے اور ماحول بھی خراب ہوتا ہے اور ساتھ ساتھ محکمہ بھی بدنام ہوتا ہے۔اساتذہ کے مسائل کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہو گا تا کہ وہ یکسوئی کے ساتھ اپنا کام کرسکیں،ان کے مسائل میں کم تنخواہ،ناقص مراعات،سہولیات کی کمی،نامناسب سروس سٹرکچر اور امتیازی سلوک کا روا رکھاجاناہے۔جب کم تنخواہ کے باعث اساتذہ کو زائد آمدن کے لئے مزدوری کرنا پڑے گی تو طلبہ کا تعلیمی حرج تو ہو ہی گا،اساتذہ سے تمام اضافی ڈیوٹیاں،ڈینگی،پولیوں،الیکشن اور مردم شماری جیسی ڈیوٹیاں بھی لی جائیں گی تو تعلیمی نظام بہتر ہونے کے بجائے زیادہ خراب ہو گا،قومی اعزازات میں اساتذہ کو ہمیشہ نظرانداز کیا جاتا ہے،سرکاری تقریبات میں اساتذہ کو بھی مدعو کیا جائے،تمام اساتذہ کے کنوینس الاؤنس کو ایک جیسا کر دیا جائے ،میڈیکل اور ہاؤس رینٹ کو بھی برابر ہونا چاہیے،منظورنظرلوگوں کو نوازنا بند اور شرارتی اساتذہ کو فورا ملازمت سے فارغ کر دیا جائے،ایک شخص کی آفسران بالا کی ذاتی دشمنی کے لئے باقی عملہ کو تنگ کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے کئی اساتذہ ذہنی مریض بن چکے ہیں، دوراور مشکل علاقوں میں جانے والے کو کوئی سہولت فراہم نہیں کی جاتی۔علاقائی وڈیروں اور سیاسی شخصیات کا سکولوں میں عمل دخل روکا جائے اور ملازمین کو تحفظ فراہم کیا جائے،ان کو بلا وجہ تنگ نہ کیا جائے ،ایک جیسی غلطی کی سزا بھی ایک جیسی ہونی چاہیے سکیل کا خیال نہ کیا جائے سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے ،ملازمین کے مسائل کو سنا جائے اور ترجیحی بنیادوں پرسنجیدگی کے ساتھ حل کیا جائے ۔ترقی کے یکساں مواقع فراہم کئے جائیں،اور ان کو برادرانہ ماحول فراہم کیا جائے اور حوصلہ افزائی کو معمول بنایا جائے۔ اساتذہ کو بھی چاہیے کہ اپنے آفیسر کے حکم کو مانے اور کام نیک نیتی اور احسن طریقہ سے کریں،تمام طلبہ کو اپنے بچوں جیسا سمجھیں اور ادارے کو بھی اپنے گھر جیسا بنائیں ،طلبہ سے مذاق کی عادت ہرگز نہ بنائیں،اساتذہ کو چاہیے کہ طلبہ کی بہتر راہنمائی کریں، ان کی ذہنی ساخت کو دیکھتے ہوئے ان کو پہلے سے تیار کیا جائے کہ انہوں نے آگے جا کر کن مضامین کا انتخاب کرنا ہے تاکہ وہ اپنی تعلیم کو بہتر طور پرحاصل کر سکیں،لوگوں کا سرکاری تعلیمی اداروں پر اعتماد بحال کیا جائے یہ تب ہی ممکن ہے جب اساتذہ اپنے بچوں کوسرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم دلوائیں،حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اساتذہ پر لازم قراردیں کہ وہ اپنے بچوں کو بھی ان ہی اداروں میں تعلیم دلوائیں جن اداروں میں وہ خود پڑھاتے ہیں،سیکرٹری تعلیم سے لے کر ایک عام سرکاری تعلیمی ملازم پر یہ لازم ہو کہ وہ اپنے بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم دلوائیں۔تبدیلی تب ہی ممکن ہے،اعتماد کا رشتہ تب ہی مضبوط ہو گا،بے جا اشتہارات،ریلیوں اور مہنگے ہوٹلوں میں پریس کانفرنس کرنے سے تعلیمی نظام بہتر نہیں ہو سکتااس کے لیے عملی اقدامات کرنے ہو گے،ایسے اقدامات جن میں صرف ملازمین کو مشکل میں نہ ڈالا جائے اس سے حالات ٹھیک ہونے کے بجائے اور ابتر ہو جائیں گے۔
     

No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.