• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
SB2425
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

ریٹائرمنٹ ۔۔۔ تحریر ۔ عفت بھٹی

webmaster by webmaster
جنوری 22, 2017
in کالم
0
ریٹائرمنٹ  ۔۔۔  تحریر ۔ عفت بھٹی

ریٹائرمنٹ

عفت بھٹی

آج آفس کی طرف سے ان کی فیئر ویل پارٹی تھی ۔سب نے انہیں گرم جوشی سے الوداع کیا ۔ واپس آتے وقت ان کی نظر میں اپنی پچیس سالہ نوکری کے زمانے کی مصروفیت گھوم گئی۔ ازراہ محبت شکیل صاحب نے اپنے ڈرائیور سے انہیں گھر ڈراپ کرنے کا کہا اب وہ سیٹ کی پشت سے سر ٹکائے خودکو ہلکا پھلکا محسوس کر رہے تھے۔ بے اختیار لمبی سانس لی اور ہونٹوں پہ مسکراہٹ بکھر گئی۔کام کام اور کام کرتے ہوئے بالوں میں وقت کی برف اترنے لگی اور وہی برف ان کی خوش طبعی پہ بھی ایسی پڑی کہ ماتھے کی لکیروں میں مستقل مستقر بنا لیا۔روزی روٹی پوری کرنے کے چکر میں گھن چکر بن گئے۔بچوں کے تعلیمی اخراجات اورگھریلو خرچے پورا کرنے کے لیے پارٹ ٹائم سے اوور ٹائم تک اپنی ذات کو بھلا دیا ۔اب دونوں بیٹے تعلیم مکمل کر چکے تھے۔دونوں بیٹیو ں اور ایک بیٹے کی شادی ہو چکی تھی۔اور چھوٹے کا نکاح۔۔ اگلے ماہ اس کی شادی تھی۔ ۔اب بینائی دھندلانے اور ہڈیاں دکھنے لگی تھیں۔یاد آیا گھر ایک اور ہستی بھی ہے جس کی خاموش نظریں نظر اندازی پہ شکوہ کناں ہوتی تھیں۔۔مسکراہٹ گہری ہو گئی۔ بے۔اختیار جیب سے موبائل نکالا اور بیگم کے نمبر پہ ایک ٹیکسٹ ٹائپ کیا۔

آئی لو یو اب میرا سارا وقت تمہارے لیے ہے۔ ۔ ایک سرگوشی ابھری سنیے مجھے سردی میں آئس کریم کھانا اور لانگ ڈرائیو بہت پسند ہے۔سرگوشی کے ساتھ ہی ایک مانوس خوشبو دار سر ان کے کندھے سے آلگا۔انہوں نے لمبی سانس کھینچی اور خوشبو نےمشام جاں تک احاطہ کر دیا۔وہ گویا اُڑ کر گھر جانا چاہتے تھے۔۔دس منٹ کے۔بعد وہ گھر کے سامنے کھڑے تھے۔بیگم نے دروازہ کھولا تو نبیل ہمدانی نے مسکراتے ہوئے انہیں کندھوں سے تھام لیا۔بیگم آج سے ہم پھر تمہارے ہوئے جیسے تیس برس قبل ہوئے تھے۔بیگم نے مسکراتے ہوئے سر جھکا دیا ۔نبیل ہمدانی نے قہقہہ لگایا۔آپ بھی پہلی دفعہ کی طرح شرمائیں ہیں۔۔
حسب عادت صبح پانچ بحے آنکھ کھل گئی نماز ادا کر کے وہ پھر بستر میں جا گھسے۔اور دیر تک نیند کا مزہ لینے کا سوچا ۔آج آفس نہیں جانا یہ خیال ہی بہت خوش کن تھا۔ابھی خیال کو عملی جامہ بھی نہیں پہنا پائے تھے کہ ان کی بہو نے آواز دی پاپا ذرا بچوں کو سکول چھوڑ آئیں۔رافع کہاں ہے۔؟ انہوں نے مندی مندی آنکھیں کھولتے ہوئے پوچھا۔وہ بچوں کی وجہ سے جلدی نکلتے تھے اب آپ فارغ ہیں تو آپ چھوڑ آیا کریں۔بادل نخواستہ بستر چھوڑتے ہوئے انہیں اُٹھنا پڑا۔
سب منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے ریٹائرمنٹ اور فراغت ایک طعنہ بن گئی اب ان کی ڈیوٹی بچوں کو لانا ۔چھوڑنا۔سبزی ۔سوداسلف بل اور دیگر کام تھی سارا دن وہ اسی میں لگے رہتے۔آنا کانی کے نتیجے میں ۔ارے آپ تو فارغ ہی ہوتے سارا دن سننا پڑتا۔سپنوں کے تاج محل ڈھیر ہو گئے۔گریجویٹی سے بیٹے کی شادی کی اب بچی کھچی رقم سے بیگم کے ساتھ سیر کا پلان بنایا۔ بیٹوں اور بہووں نے سنا تو خوب ٹھٹھا مخول کیا لو اب امی پاپا کو اس عمر میں ہنی مون سوجھ رہا۔۔وہ سب سن کر سر جھکائے دل گرفتہ کمرے میں چلے آئے۔آنکھ بھر آئی تھی۔زمانے کا چلن تو ہوتا ہی ظالم ہے مگر اپنی اولاد کی بات برداشت نہیں ہو رہی تھی۔ابھی سوچ میں گم تھے کہ بیگم چلی آئیں۔ہمدانی صا حب ہم بوڑھے ہو گئے ہیں۔اب ہماری مرضی خوشی کوئی معانی نہیں رکھتی۔انہوں نے ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔۔مگر بیگم ساری عمر ہم نے ان بچوں پہ لگا دی ۔اپنی خوشی ۔آرام چین سب تہج دیا اب تو آرام کا وقت تھا پھل پانے کا۔ان کی آواز بھرا گئی۔۔۔واسع کو کاروبار کے لیے رقم چاہیے میں نے کہا ہم تمہاری شادی پہ لگا چکے تو کہنے لگا پاپا کے پاس گھومنے پھرنے کو پیسہ ہے میرے لیے نہیں۔دے دیں اسے ۔بیگم کی آواز میں اولاد کی بے اعتنائی کا دکھ بول رہا تھا۔
مم مگر بیگم وہ تو میں نے صرف تمہارے اور اپنے۔۔۔باقی لفظ منھ میں رہ گئے۔واسع سامنے کھڑا تھا۔پاپا مجھے میرا حصہ دے دیں میں وہ بیچ کر کاروبار کروں گا ۔نمرہ کے پاپا کے ساتھ ۔ہم وہیں شفٹ ہو جائیں گئے۔ بڑے بھیا بھی مان گئے ہیں گھر فروخت کرنے پہ۔۔واسع کے انداز میں قطیعت تھی۔نبیل ہمدانی کا افسردہ دل یہ سن کر زور سے کانپا۔۔بیٹا بہت محنت سے بنایا ہے یہ گھر میں نے تم سب کو اعلی تعلیم دلوائی۔اب تم خود محنت کرو۔انہوں نے التجائیہ انداز میں کہا۔۔میں اپنا حق مانگ رہا ہوں پاپا۔اور سب والدین کرتے ایسا اس میں احسان کیسا۔واسع نے بدتمیزی سے کہا۔اور باہر نکل گیا۔ہمدانی کے سینے میں درد کی لہر اٹھی اور وہ دل تھام کر بستر پہ ڈھے گئے۔
تین دن بعد ہوش آیا مگر ہارٹ اور فالج کے اٹیک نے ان کو مفلوج کر دیا ۔ان کا ہاتھ تھامے آنسو بہاتی بیگم ان کے بیڈ کی پٹی سے لگی ہوئی تھیں۔انہوں نے ان کو تسلی دینی چاہی مگر زبان سے بے ربط آوازوں کے سوا کچھ نہ نکلا۔۔آنکھوں کے گوشوں سے بے بسی کے چند قطرے نکل کر تکیے میں جذب ہو گئے۔

Post Views: 37
Tags: column by iffat bhatti
Previous Post

شہر جاناں کے عذاب … منور بلوچ

Next Post

شب گزیدہ دیا بھی جلتا ہے ۔۔ انجم صحرائی

Next Post
شب گزیدہ دیا بھی جلتا ہے  ۔۔  انجم صحرائی

شب گزیدہ دیا بھی جلتا ہے ۔۔ انجم صحرائی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف
قومی/ بین الاقوامی خبریں

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

by webmaster
جولائی 19, 2026
0

لاہور {صبح پا کستان }وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نیلسن منڈیلا کے عالمی دن پراپنے پیغام میں کہاہے کہ...

Read moreDetails
آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

جولائی 11, 2026
سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم  ?

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم ?

جولائی 8, 2026
حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے،  سلمان اکرم راجا

حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے، سلمان اکرم راجا

جولائی 3, 2026
مریم نواز کا سڑکوں کی تعمیرو مرمت مالی سال کے آخر تک مکمل کرنے کا حکم

"شاباش ٹیم پنجاب”، "الحمدللہ امسال بھی محرم الحرام پرامن، باوقار اورمنظم رہا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

جون 27, 2026

ریٹائرمنٹ

عفت بھٹی

آج آفس کی طرف سے ان کی فیئر ویل پارٹی تھی ۔سب نے انہیں گرم جوشی سے الوداع کیا ۔ واپس آتے وقت ان کی نظر میں اپنی پچیس سالہ نوکری کے زمانے کی مصروفیت گھوم گئی۔ ازراہ محبت شکیل صاحب نے اپنے ڈرائیور سے انہیں گھر ڈراپ کرنے کا کہا اب وہ سیٹ کی پشت سے سر ٹکائے خودکو ہلکا پھلکا محسوس کر رہے تھے۔ بے اختیار لمبی سانس لی اور ہونٹوں پہ مسکراہٹ بکھر گئی۔کام کام اور کام کرتے ہوئے بالوں میں وقت کی برف اترنے لگی اور وہی برف ان کی خوش طبعی پہ بھی ایسی پڑی کہ ماتھے کی لکیروں میں مستقل مستقر بنا لیا۔روزی روٹی پوری کرنے کے چکر میں گھن چکر بن گئے۔بچوں کے تعلیمی اخراجات اورگھریلو خرچے پورا کرنے کے لیے پارٹ ٹائم سے اوور ٹائم تک اپنی ذات کو بھلا دیا ۔اب دونوں بیٹے تعلیم مکمل کر چکے تھے۔دونوں بیٹیو ں اور ایک بیٹے کی شادی ہو چکی تھی۔اور چھوٹے کا نکاح۔۔ اگلے ماہ اس کی شادی تھی۔ ۔اب بینائی دھندلانے اور ہڈیاں دکھنے لگی تھیں۔یاد آیا گھر ایک اور ہستی بھی ہے جس کی خاموش نظریں نظر اندازی پہ شکوہ کناں ہوتی تھیں۔۔مسکراہٹ گہری ہو گئی۔ بے۔اختیار جیب سے موبائل نکالا اور بیگم کے نمبر پہ ایک ٹیکسٹ ٹائپ کیا۔

آئی لو یو اب میرا سارا وقت تمہارے لیے ہے۔ ۔ ایک سرگوشی ابھری سنیے مجھے سردی میں آئس کریم کھانا اور لانگ ڈرائیو بہت پسند ہے۔سرگوشی کے ساتھ ہی ایک مانوس خوشبو دار سر ان کے کندھے سے آلگا۔انہوں نے لمبی سانس کھینچی اور خوشبو نےمشام جاں تک احاطہ کر دیا۔وہ گویا اُڑ کر گھر جانا چاہتے تھے۔۔دس منٹ کے۔بعد وہ گھر کے سامنے کھڑے تھے۔بیگم نے دروازہ کھولا تو نبیل ہمدانی نے مسکراتے ہوئے انہیں کندھوں سے تھام لیا۔بیگم آج سے ہم پھر تمہارے ہوئے جیسے تیس برس قبل ہوئے تھے۔بیگم نے مسکراتے ہوئے سر جھکا دیا ۔نبیل ہمدانی نے قہقہہ لگایا۔آپ بھی پہلی دفعہ کی طرح شرمائیں ہیں۔۔ حسب عادت صبح پانچ بحے آنکھ کھل گئی نماز ادا کر کے وہ پھر بستر میں جا گھسے۔اور دیر تک نیند کا مزہ لینے کا سوچا ۔آج آفس نہیں جانا یہ خیال ہی بہت خوش کن تھا۔ابھی خیال کو عملی جامہ بھی نہیں پہنا پائے تھے کہ ان کی بہو نے آواز دی پاپا ذرا بچوں کو سکول چھوڑ آئیں۔رافع کہاں ہے۔؟ انہوں نے مندی مندی آنکھیں کھولتے ہوئے پوچھا۔وہ بچوں کی وجہ سے جلدی نکلتے تھے اب آپ فارغ ہیں تو آپ چھوڑ آیا کریں۔بادل نخواستہ بستر چھوڑتے ہوئے انہیں اُٹھنا پڑا۔ سب منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے ریٹائرمنٹ اور فراغت ایک طعنہ بن گئی اب ان کی ڈیوٹی بچوں کو لانا ۔چھوڑنا۔سبزی ۔سوداسلف بل اور دیگر کام تھی سارا دن وہ اسی میں لگے رہتے۔آنا کانی کے نتیجے میں ۔ارے آپ تو فارغ ہی ہوتے سارا دن سننا پڑتا۔سپنوں کے تاج محل ڈھیر ہو گئے۔گریجویٹی سے بیٹے کی شادی کی اب بچی کھچی رقم سے بیگم کے ساتھ سیر کا پلان بنایا۔ بیٹوں اور بہووں نے سنا تو خوب ٹھٹھا مخول کیا لو اب امی پاپا کو اس عمر میں ہنی مون سوجھ رہا۔۔وہ سب سن کر سر جھکائے دل گرفتہ کمرے میں چلے آئے۔آنکھ بھر آئی تھی۔زمانے کا چلن تو ہوتا ہی ظالم ہے مگر اپنی اولاد کی بات برداشت نہیں ہو رہی تھی۔ابھی سوچ میں گم تھے کہ بیگم چلی آئیں۔ہمدانی صا حب ہم بوڑھے ہو گئے ہیں۔اب ہماری مرضی خوشی کوئی معانی نہیں رکھتی۔انہوں نے ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔۔مگر بیگم ساری عمر ہم نے ان بچوں پہ لگا دی ۔اپنی خوشی ۔آرام چین سب تہج دیا اب تو آرام کا وقت تھا پھل پانے کا۔ان کی آواز بھرا گئی۔۔۔واسع کو کاروبار کے لیے رقم چاہیے میں نے کہا ہم تمہاری شادی پہ لگا چکے تو کہنے لگا پاپا کے پاس گھومنے پھرنے کو پیسہ ہے میرے لیے نہیں۔دے دیں اسے ۔بیگم کی آواز میں اولاد کی بے اعتنائی کا دکھ بول رہا تھا۔ مم مگر بیگم وہ تو میں نے صرف تمہارے اور اپنے۔۔۔باقی لفظ منھ میں رہ گئے۔واسع سامنے کھڑا تھا۔پاپا مجھے میرا حصہ دے دیں میں وہ بیچ کر کاروبار کروں گا ۔نمرہ کے پاپا کے ساتھ ۔ہم وہیں شفٹ ہو جائیں گئے۔ بڑے بھیا بھی مان گئے ہیں گھر فروخت کرنے پہ۔۔واسع کے انداز میں قطیعت تھی۔نبیل ہمدانی کا افسردہ دل یہ سن کر زور سے کانپا۔۔بیٹا بہت محنت سے بنایا ہے یہ گھر میں نے تم سب کو اعلی تعلیم دلوائی۔اب تم خود محنت کرو۔انہوں نے التجائیہ انداز میں کہا۔۔میں اپنا حق مانگ رہا ہوں پاپا۔اور سب والدین کرتے ایسا اس میں احسان کیسا۔واسع نے بدتمیزی سے کہا۔اور باہر نکل گیا۔ہمدانی کے سینے میں درد کی لہر اٹھی اور وہ دل تھام کر بستر پہ ڈھے گئے۔ تین دن بعد ہوش آیا مگر ہارٹ اور فالج کے اٹیک نے ان کو مفلوج کر دیا ۔ان کا ہاتھ تھامے آنسو بہاتی بیگم ان کے بیڈ کی پٹی سے لگی ہوئی تھیں۔انہوں نے ان کو تسلی دینی چاہی مگر زبان سے بے ربط آوازوں کے سوا کچھ نہ نکلا۔۔آنکھوں کے گوشوں سے بے بسی کے چند قطرے نکل کر تکیے میں جذب ہو گئے۔

No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.