• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
SB2425
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

صحافی کے قتل کو 9 سال گزر گئے، پولیس اب تک لاعلم

webmaster by webmaster
نومبر 22, 2016
in کالم
0
صحافی کے قتل کو 9 سال گزر گئے، پولیس اب تک لاعلم

صحافی کے قتل کو 9 سال گزر گئے، پولیس اب تک لاعلم

ppf-logo-with-slogan-90پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر میر پور خاص کے لیے اردو روزنامہ جنگ کے رپورٹر اور بیورو چیف زبیر احمد مجاہد کے قتل کو نو سال گزر چکے ہیں اور پولیس کی جانب سے ان کا مقدمہ اب تک کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ درحقیقت، میں معاملہ آج بھی کرائم برانچ حیدرآباد میں پھنسا ہوا ہے۔

زبیر مجاہد کے خاندان نے کئی دروازے کھٹکھٹائے اور انصاف طلب کیا لیکن یہ سب بے سود و بے کار گیا۔ زبیر مجاہد کی بیوہ رشیدہ زبیرنے جنوری 2008ء میں اس وقت کے گورنر سندھ؛ جون 2008ء میں وزیر اعلیٰ سندھ؛ عدالت عظمیٰ پاکستان کے چیف جسٹس اور سابق وزیر داخلہ سندھ کو کئی خط (بذریعہ ڈاک) بھیجے جن میں انصاف کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن کسی کا کوئی جواب نہیں ملا۔

تقریباً 30 سالوں سے صحافت سے وابستہ زبیر مجاہدکو ممکنہ طور پر جبری مشقت اور نجی عقوبت خانوں جیسے مسائل پر اپنی رپورٹنگ اور خبروں کی وجہ سے 23 نومبر 2007ء کو قتل کیا گیا تھا، جو مقامی جاگیردار پولیس کی پشت پناہی سے چلاتے تھے۔ میر پور خاص میں اسٹیشن ہاؤس آفسر، اسسٹینٹ سپرنٹینڈنٹ پولیس اور ان کے ڈرائیور کی جانب سے نور محمد اور ننگر کیریو پر نامی دو بھائیوں پر تشدد کے حوالے سے 6 جون 2007ء کوجنگ میں چھپنے والی خبر کے ردعمل میں ان کو موت کی دھمکیاں ملی تھیں۔

مقتول صحافی کے بیٹے سلمان مجاہد کے مطابق ان کے والد کو ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) عبد اللہ شیخ کی جانب سے موت کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ انہوں نے ایک مرتبہ زبیر مجاہد کو گرفتار بھی کیا تھا، انہیں مختلف طریقوں سے پریشان کیا، سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں اور مجاہد کے دوستوں کو بھی دھمکایا۔

زبیر مجاہد نے اپنی اہلیہ کو بتا دیا تھا کہ اگر ان کے ساتھ یا اہل خانہ میں سے کسی کے ساتھ کوئی واقعہ پیش آیا تو مقدمہ ڈی پی او کے خلاف درج کروایا جائے۔

اپنے ہفتہ وار کالم "جرم و سزا” میں زبیر مجاہد با اثر جاگیرداروں کی ناانصافی کے واقعات اور پولیس کے مظالم پر روشنی ڈالتے تھے۔ اپنے اہل خانہ سمیت اغوا کیے گئے جبری مزدور منو بھیل کے مشہور کیس کی رپورٹنگ کرنے پر اسٹیشن ہاؤس افسر درجے کے چار پولیس اہلکار گرفتار ہوئے تھے۔

زبیر مجاہد کے قتل کے بعد اردو روزنامہ جسارت میں ظہیر احمد کے شائع ہونے والے کالم کے مطابق "منو بھیل جیسے معاملات کی خبروں کے بعد ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) پولیس کی گرفتاری کی خبریں موضوع بن گئی تھیں اور زبیر مجاہد ان خبروں کی وجہ سے مقبول ہوگئے تھے۔ مجاہد نے اپنی خبروں میں پولیس نظام کی خامیوں کی طرف اشارہ کیا۔ اپنے قتل سے سات دن قبل 14 نومبر 2007ء کو جنگ میں شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں میرپور خاص میں نئے ڈی آئی جی کی تقرری پر بات کی اور بتایا کہ اس سال سات ڈی آئی جیز کی تقرری اور تبادلے ہو چکے ہیں۔

مقدمہ مقتول صحافی کے بھائی چودھری افتخار آرائیں کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔ مقتول صحافی کی جانب سے حکومت کو لکھے گئے خطوط کے مطابق سب ڈویژنل پولیس افسر (ایس پی او) عطا محمد نظامانی کی قیادت میں ایک چھ رکنی ٹیم قتل کی تحقیقات کر رہی تھی لیکن کوئی سیر حاصل نتائج نظر نہیں آئے۔

اس معاملے کی پیروی کرنے والے مجاہد کے قریبی عزیز خالد پرویز کے مطابق مجاہد کو بہت قریب سے ہدف بنایا گیا۔ ان کی شرٹ میں گولی کا سوراخ نہیں لیکن ان کے بنیان میں موجود تھے؛ جس سے لگتا ہے کہ پستول ان کے پیٹ پر رکھ کر گولی چلائی گئی تھی۔

مجاہد اپنے صحافی دوست واحد پہلوانی کے ساتھ موٹر سائیکل پر گھر جا رہے تھے، جنہوں نے گولی لگتے وقت مجاہد کے ساتھ اپنی موجودگی کی تصدیق کی تھی۔ پہلوانی کا کہنا تھا کہ "میں گھر جاتے ہوئے مجاہد کے ساتھ تھا جب غلط سمت سے آنے والی ایک موٹر سائيکل ہمارے پاس سے گزری، اسی دوران دھماکے کی ایک آواز سنائی دی لیکن میں سمجھا کہ ہماری موٹر سائیکل کا ٹائر پھٹ گیا ہے۔ لیکن اسی وقت مجاہد اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے کیونکہ خون نہیں نکل رہا تھا اس لیے میں سمجھا کہ مجاہد کو دل کا دورہ پڑا ہے، میں انہیں جاوید آرائیں کی گاڑی میں سول ہسپتال میر پور خاص لے گیا، جہاں مجھے پتہ چلا کہ مجاہد کو گولی ماری گئی تھی اور وہاں ان کا انتقال ہوگیا۔

Post Views: 31
Tags: column Press Release
Previous Post

Nawaz Sharif becomes first premier to appoint fifth military chief

Next Post

فیڈرل گورنمنٹ ایجوکیشن انسٹیٹیوشنز کی سالانہ تقریب تقسیم انعامات

Next Post

فیڈرل گورنمنٹ ایجوکیشن انسٹیٹیوشنز کی سالانہ تقریب تقسیم انعامات

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف
قومی/ بین الاقوامی خبریں

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

by webmaster
جولائی 19, 2026
0

لاہور {صبح پا کستان }وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نیلسن منڈیلا کے عالمی دن پراپنے پیغام میں کہاہے کہ...

Read moreDetails
آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

جولائی 11, 2026
سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم  ?

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم ?

جولائی 8, 2026
حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے،  سلمان اکرم راجا

حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے، سلمان اکرم راجا

جولائی 3, 2026
مریم نواز کا سڑکوں کی تعمیرو مرمت مالی سال کے آخر تک مکمل کرنے کا حکم

"شاباش ٹیم پنجاب”، "الحمدللہ امسال بھی محرم الحرام پرامن، باوقار اورمنظم رہا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

جون 27, 2026

صحافی کے قتل کو 9 سال گزر گئے، پولیس اب تک لاعلم

ppf-logo-with-slogan-90پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر میر پور خاص کے لیے اردو روزنامہ جنگ کے رپورٹر اور بیورو چیف زبیر احمد مجاہد کے قتل کو نو سال گزر چکے ہیں اور پولیس کی جانب سے ان کا مقدمہ اب تک کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ درحقیقت، میں معاملہ آج بھی کرائم برانچ حیدرآباد میں پھنسا ہوا ہے۔

زبیر مجاہد کے خاندان نے کئی دروازے کھٹکھٹائے اور انصاف طلب کیا لیکن یہ سب بے سود و بے کار گیا۔ زبیر مجاہد کی بیوہ رشیدہ زبیرنے جنوری 2008ء میں اس وقت کے گورنر سندھ؛ جون 2008ء میں وزیر اعلیٰ سندھ؛ عدالت عظمیٰ پاکستان کے چیف جسٹس اور سابق وزیر داخلہ سندھ کو کئی خط (بذریعہ ڈاک) بھیجے جن میں انصاف کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن کسی کا کوئی جواب نہیں ملا۔

تقریباً 30 سالوں سے صحافت سے وابستہ زبیر مجاہدکو ممکنہ طور پر جبری مشقت اور نجی عقوبت خانوں جیسے مسائل پر اپنی رپورٹنگ اور خبروں کی وجہ سے 23 نومبر 2007ء کو قتل کیا گیا تھا، جو مقامی جاگیردار پولیس کی پشت پناہی سے چلاتے تھے۔ میر پور خاص میں اسٹیشن ہاؤس آفسر، اسسٹینٹ سپرنٹینڈنٹ پولیس اور ان کے ڈرائیور کی جانب سے نور محمد اور ننگر کیریو پر نامی دو بھائیوں پر تشدد کے حوالے سے 6 جون 2007ء کوجنگ میں چھپنے والی خبر کے ردعمل میں ان کو موت کی دھمکیاں ملی تھیں۔

مقتول صحافی کے بیٹے سلمان مجاہد کے مطابق ان کے والد کو ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) عبد اللہ شیخ کی جانب سے موت کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ انہوں نے ایک مرتبہ زبیر مجاہد کو گرفتار بھی کیا تھا، انہیں مختلف طریقوں سے پریشان کیا، سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں اور مجاہد کے دوستوں کو بھی دھمکایا۔

زبیر مجاہد نے اپنی اہلیہ کو بتا دیا تھا کہ اگر ان کے ساتھ یا اہل خانہ میں سے کسی کے ساتھ کوئی واقعہ پیش آیا تو مقدمہ ڈی پی او کے خلاف درج کروایا جائے۔

اپنے ہفتہ وار کالم "جرم و سزا" میں زبیر مجاہد با اثر جاگیرداروں کی ناانصافی کے واقعات اور پولیس کے مظالم پر روشنی ڈالتے تھے۔ اپنے اہل خانہ سمیت اغوا کیے گئے جبری مزدور منو بھیل کے مشہور کیس کی رپورٹنگ کرنے پر اسٹیشن ہاؤس افسر درجے کے چار پولیس اہلکار گرفتار ہوئے تھے۔

زبیر مجاہد کے قتل کے بعد اردو روزنامہ جسارت میں ظہیر احمد کے شائع ہونے والے کالم کے مطابق "منو بھیل جیسے معاملات کی خبروں کے بعد ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) پولیس کی گرفتاری کی خبریں موضوع بن گئی تھیں اور زبیر مجاہد ان خبروں کی وجہ سے مقبول ہوگئے تھے۔ مجاہد نے اپنی خبروں میں پولیس نظام کی خامیوں کی طرف اشارہ کیا۔ اپنے قتل سے سات دن قبل 14 نومبر 2007ء کو جنگ میں شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں میرپور خاص میں نئے ڈی آئی جی کی تقرری پر بات کی اور بتایا کہ اس سال سات ڈی آئی جیز کی تقرری اور تبادلے ہو چکے ہیں۔

مقدمہ مقتول صحافی کے بھائی چودھری افتخار آرائیں کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔ مقتول صحافی کی جانب سے حکومت کو لکھے گئے خطوط کے مطابق سب ڈویژنل پولیس افسر (ایس پی او) عطا محمد نظامانی کی قیادت میں ایک چھ رکنی ٹیم قتل کی تحقیقات کر رہی تھی لیکن کوئی سیر حاصل نتائج نظر نہیں آئے۔

اس معاملے کی پیروی کرنے والے مجاہد کے قریبی عزیز خالد پرویز کے مطابق مجاہد کو بہت قریب سے ہدف بنایا گیا۔ ان کی شرٹ میں گولی کا سوراخ نہیں لیکن ان کے بنیان میں موجود تھے؛ جس سے لگتا ہے کہ پستول ان کے پیٹ پر رکھ کر گولی چلائی گئی تھی۔

مجاہد اپنے صحافی دوست واحد پہلوانی کے ساتھ موٹر سائیکل پر گھر جا رہے تھے، جنہوں نے گولی لگتے وقت مجاہد کے ساتھ اپنی موجودگی کی تصدیق کی تھی۔ پہلوانی کا کہنا تھا کہ "میں گھر جاتے ہوئے مجاہد کے ساتھ تھا جب غلط سمت سے آنے والی ایک موٹر سائيکل ہمارے پاس سے گزری، اسی دوران دھماکے کی ایک آواز سنائی دی لیکن میں سمجھا کہ ہماری موٹر سائیکل کا ٹائر پھٹ گیا ہے۔ لیکن اسی وقت مجاہد اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے کیونکہ خون نہیں نکل رہا تھا اس لیے میں سمجھا کہ مجاہد کو دل کا دورہ پڑا ہے، میں انہیں جاوید آرائیں کی گاڑی میں سول ہسپتال میر پور خاص لے گیا، جہاں مجھے پتہ چلا کہ مجاہد کو گولی ماری گئی تھی اور وہاں ان کا انتقال ہوگیا۔

No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.