• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
SB2425
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

قصرِابیض میں ٹرمپ کی آمد ۔۔۔ تحریر ۔ محمد عمار احمد

webmaster by webmaster
نومبر 13, 2016
in کالم
0
قصرِابیض میں ٹرمپ کی آمد ۔۔۔ تحریر ۔ محمد عمار احمد

قصرِابیض میں ٹرمپ کی آمد

img_4611

محمد عمار احمد

کئی ماہ سے جاری مباحثوں ،تجزیوں اورانتخابی مہم کے بعد9نومبر2016کوامریکی عوام نے اپنے صدرکاانتخاب کرلیا۔ری پبلکن پارٹی کے downloadامیدوارڈونلڈٹرمپ کے ہاتھوں میں امریکی عوام نے باالخصوص اپنی اورباالعموم پوری دنیاکی

تقدیرتھمادی۔دنیابھرمیں اس وقت اہم موضوع ٹرمپ کی بطورامریکی صدرکامیابی ہے۔عالمی میڈیااورخودامریکی ذرائع ٹرمپ کے متشددرویوں،متنازعہ شخصیت ہونے اورسیاسی ناتجربہ کاری کے سبب قریباََ پُریقین تھے کہ وہ صدارتی انتخاب ہارجائیں گے۔ہیلری کلنٹن نرم خو،سنجیدہ ،بطور وزیرِخارجہ خدمات سرانجام دینے کے سبب تجربہ کاراوربہترامیدوار تھیں۔مگرکیاکیجئے کہ جمہوریت میں ایسی شکست کسی کوبھی ہوسکتی ہے چاہے اس کی پشت پرباراک اوباماہی کیوں نہ ہو۔
یورپ،اسلامی دنیااورسنجیدہ طبقات ٹرمپ کی جیت پرپریشان ہیں جبکہ بھارت جیسی ریاستیں خوش ہیں کہ ٹرمپ کے ساتھ معاملات بہترسمت میں چلیں گے۔اسلامی دنیاکی پریشانی بجاہے کہ انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے خلیجی ریاستوں سے تعلقات پرکچھ معاملات میں نظرِثانی کی باتیں کیں جبکہ مسلمانوں کے خلاف نفرت بھرے اندازمیں تقاریرکیں۔یورپ اوردیگرسنجیدہ طبقات بھی سوچ میں پڑگئے ہیں کہ اگرٹرمپ نے مسندِ صدارت سنبھالنے کے بعداپنے متشددرویوں میں تبدیلی نہ لائی تودنیاکے حالات کس رخ پرجائیں گے۔دوسری طرف بھارت کی خوشی بھی سمجھ آتی ہے کہ اس خطہ میں ٹرمپ کوپاکستان یابھارت میں سے کسی ایک کاانتخاب کرناپڑاتووہ یقینابھارت کوہی مناسب سمجھے گا۔پاکستان کو نظراندازکرنابھی آسان نہیں مگراس صورت میں بھید بھارت سے تعلقات کی اہمیت پاکستان سے زیادہ ہوگی۔روس نے بھی خوشی کااظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ اب امریکہ سے بامعنی بات چیت ہوگی۔افغان طالبان نے مطالبہ کیاہے کہ ٹرمپ امریکی فوج کی افغانستان سے واپسی کااعلان کریں ۔
نومنتخب صدرنے کامیابی کے بعد تقریرمیں اپنے عمومی مزاج سے ہٹ کربِلاتفریق مذہب،رنگ اورنسل کے امریکہ کی خدمت کرنے کاعزم کیاجوکہ خوش آئندہے۔یہ کہناقبل ازوقت ہوگاکہ مزاج میں یہ تبدیلی وقتی ہے یاپھرپالیسی بناتے وقت بھی اسی مزاج سے کام کریں گے۔ڈونلڈٹرمپ نے جس اندازمیں انتخابی مہم چلائی وہ خاصاخطرناک اورنفرت انگیزتھایہی وجہ ہے کہ ان کی کامیابی پردنیابھرمیں تشویش کی لہردوڑگئی ہے ۔مقتدر حلقوں کے ساتھ ساتھ عوامی حلقوں کاموضوعِ گفتگوبھی یہی ہے کہ نجانے اب کیاہوگا۔؟امریکہ سے مسلمانوں کوبے دخل کرنے،مسلمانوں کوویزوں کااجراروکنے نیزنسلی تعصب پرمبنی بیانات ٹرمپ کی انتخابی مہم کاحصہ تھے۔ٹرمپ کی کامیابی پرکئی لوگوں کودکھایاگیاجودھاڑیں مارمارکررورہے تھے۔تجارتی محاذبھی خاصاسردرہاجس سے عالمی معیشت پرمنفی اثرات مرتب ہوئے۔اس قدر لوگ امریکہ سے ہجرت کرنے کے خواہش مندہیں کہ مائگریشن ویب سائٹ کریش کرگئی۔
نومنتخب صدرکوامریکی عوام اوردنیابھرکے سنجیدہ طبقات کے خدشات وتحفظات کومدِنظررکھ کرحکمتِ عملی مرتب کرناہوگی۔اگرایسانہ ہواتودنیامیں پہلے سے موجودفساد،ظلم اور نفرتیں مزیدبڑھیں گی جس کی لپیٹ میں خودامریکہ بھی آئے گا۔دنیاکے موجودہ خراب حالات کی ذمہ داری بھی امریکہ پرہے۔امریکہ ہی نے نائن الیون کے بعد صلیبی جنگ کی ابتدا کی اورافغانستان وعراق میں ظلم وبربریت کابازارگرم کیا۔امریکہ اوراس کے اتحادیوں کی غلط پالیسیوں کے سبب دنیاکوآج داعش جیسی تنظیموں کاسامنا کرناپڑرہاہے جبکہ لیبیا،شام اوریمن میں آگ وخون کاکھیل جاری ہے۔یورپ اورامریکہ بھی وقتاََ فوقتاََ اس آگ کاایندھن بنتے رہتے ہیں۔اگرٹرمپ نے موجودہ پالیسیوں کوہی جاری رکھایامتشددپالیسی اختیارکی تواس کانقصان جہاں دوسرے مذاہب اورخطوں کوہوگاوہیں امریکہ ویورپ بھی اسی آگ میں جھلسیں گے۔دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لئے تمام ممالک سے بہترتعلقات لازمی ہیں ۔
صدارتی انتخاب کے روزقصرِابیض کے سامنے ہیلری کلنٹن اورڈونلڈٹرمپ کے حامیوں کے درمیان ہاتھاپائی بھی ہوئی جویقینامہذب دنیاکی طرف سے ’’جمہوریت کے حسن ‘ ‘کااظہارتھا۔ٹرمپ بھی اپنی جیت کے واضح امکانات سے پہلے بیانات دیتے رہے کہ حالات دیکھ کرالیکشن کے نتائج تسلیم کرنے یا نہ کرنے کافیصلہ کروں گا۔دنیاکورواداری،برداشت اورجمہوریت کاسبق دینے والے اس طرح کے واقعات کی کیاتاویل پیش کریں گے۔؟یہاں امریکہ ویورپ کی تہذیب،عورتوں کی برابری کی مثالیں دینے والوں کوسوچناچاہئے کہ امریکی معاشرے کی اکثریت نے ایک عورت کومستردکرکے عورتوں کے خلاف غلط زبان استعمال کرنے ،گالیاں دینے والے اورنفرت پھیلانے والے مَردکواپناصدرکیوں بنایا۔؟پاکستانی عوام کومتشددمزاج کہنے والوں سے ایک سوال ہے کہ کیاپاکستان کی ’’تشددپسندعوام‘‘ صدر،وزیرِ اعظم توالگ کسی ایسے شخص کو صوبائی وقومی اسمبلی کی رکنیت کے لئے بھی ووٹ دے گی جو یہ نعرہ لے کر سیاست میں آئے کہ میں فلاں مذہب،فلاں فرقہ کے لوگوں کواپنے ملک سے نکال دوں گا۔؟

Post Views: 33
Tags: column by ammar
Previous Post

کروڑ لعل عیسن ۔ محکمہ جنگلات اور ٹمبر مافیاکا گٹھ جوڑ ، فرضی، جعلی این او سی کی آ ڑ میں دن کو نشاندہی رات کو جنگلات کی تباہی

Next Post

تحریک تبدیلی ، تحریر ۔ کامران تھند

Next Post
تحریک تبدیلی  ، تحریر ۔ کامران تھند

تحریک تبدیلی ، تحریر ۔ کامران تھند

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب
قومی/ بین الاقوامی خبریں

دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب

by webmaster
اگست 2, 2026
0

لاہور: پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق...

Read moreDetails
نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

جولائی 19, 2026
آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

جولائی 11, 2026
سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم  ?

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم ?

جولائی 8, 2026
حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے،  سلمان اکرم راجا

حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے، سلمان اکرم راجا

جولائی 3, 2026

قصرِابیض میں ٹرمپ کی آمد

img_4611

محمد عمار احمد

کئی ماہ سے جاری مباحثوں ،تجزیوں اورانتخابی مہم کے بعد9نومبر2016کوامریکی عوام نے اپنے صدرکاانتخاب کرلیا۔ری پبلکن پارٹی کے downloadامیدوارڈونلڈٹرمپ کے ہاتھوں میں امریکی عوام نے باالخصوص اپنی اورباالعموم پوری دنیاکی

تقدیرتھمادی۔دنیابھرمیں اس وقت اہم موضوع ٹرمپ کی بطورامریکی صدرکامیابی ہے۔عالمی میڈیااورخودامریکی ذرائع ٹرمپ کے متشددرویوں،متنازعہ شخصیت ہونے اورسیاسی ناتجربہ کاری کے سبب قریباََ پُریقین تھے کہ وہ صدارتی انتخاب ہارجائیں گے۔ہیلری کلنٹن نرم خو،سنجیدہ ،بطور وزیرِخارجہ خدمات سرانجام دینے کے سبب تجربہ کاراوربہترامیدوار تھیں۔مگرکیاکیجئے کہ جمہوریت میں ایسی شکست کسی کوبھی ہوسکتی ہے چاہے اس کی پشت پرباراک اوباماہی کیوں نہ ہو۔ یورپ،اسلامی دنیااورسنجیدہ طبقات ٹرمپ کی جیت پرپریشان ہیں جبکہ بھارت جیسی ریاستیں خوش ہیں کہ ٹرمپ کے ساتھ معاملات بہترسمت میں چلیں گے۔اسلامی دنیاکی پریشانی بجاہے کہ انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے خلیجی ریاستوں سے تعلقات پرکچھ معاملات میں نظرِثانی کی باتیں کیں جبکہ مسلمانوں کے خلاف نفرت بھرے اندازمیں تقاریرکیں۔یورپ اوردیگرسنجیدہ طبقات بھی سوچ میں پڑگئے ہیں کہ اگرٹرمپ نے مسندِ صدارت سنبھالنے کے بعداپنے متشددرویوں میں تبدیلی نہ لائی تودنیاکے حالات کس رخ پرجائیں گے۔دوسری طرف بھارت کی خوشی بھی سمجھ آتی ہے کہ اس خطہ میں ٹرمپ کوپاکستان یابھارت میں سے کسی ایک کاانتخاب کرناپڑاتووہ یقینابھارت کوہی مناسب سمجھے گا۔پاکستان کو نظراندازکرنابھی آسان نہیں مگراس صورت میں بھید بھارت سے تعلقات کی اہمیت پاکستان سے زیادہ ہوگی۔روس نے بھی خوشی کااظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ اب امریکہ سے بامعنی بات چیت ہوگی۔افغان طالبان نے مطالبہ کیاہے کہ ٹرمپ امریکی فوج کی افغانستان سے واپسی کااعلان کریں ۔ نومنتخب صدرنے کامیابی کے بعد تقریرمیں اپنے عمومی مزاج سے ہٹ کربِلاتفریق مذہب،رنگ اورنسل کے امریکہ کی خدمت کرنے کاعزم کیاجوکہ خوش آئندہے۔یہ کہناقبل ازوقت ہوگاکہ مزاج میں یہ تبدیلی وقتی ہے یاپھرپالیسی بناتے وقت بھی اسی مزاج سے کام کریں گے۔ڈونلڈٹرمپ نے جس اندازمیں انتخابی مہم چلائی وہ خاصاخطرناک اورنفرت انگیزتھایہی وجہ ہے کہ ان کی کامیابی پردنیابھرمیں تشویش کی لہردوڑگئی ہے ۔مقتدر حلقوں کے ساتھ ساتھ عوامی حلقوں کاموضوعِ گفتگوبھی یہی ہے کہ نجانے اب کیاہوگا۔؟امریکہ سے مسلمانوں کوبے دخل کرنے،مسلمانوں کوویزوں کااجراروکنے نیزنسلی تعصب پرمبنی بیانات ٹرمپ کی انتخابی مہم کاحصہ تھے۔ٹرمپ کی کامیابی پرکئی لوگوں کودکھایاگیاجودھاڑیں مارمارکررورہے تھے۔تجارتی محاذبھی خاصاسردرہاجس سے عالمی معیشت پرمنفی اثرات مرتب ہوئے۔اس قدر لوگ امریکہ سے ہجرت کرنے کے خواہش مندہیں کہ مائگریشن ویب سائٹ کریش کرگئی۔ نومنتخب صدرکوامریکی عوام اوردنیابھرکے سنجیدہ طبقات کے خدشات وتحفظات کومدِنظررکھ کرحکمتِ عملی مرتب کرناہوگی۔اگرایسانہ ہواتودنیامیں پہلے سے موجودفساد،ظلم اور نفرتیں مزیدبڑھیں گی جس کی لپیٹ میں خودامریکہ بھی آئے گا۔دنیاکے موجودہ خراب حالات کی ذمہ داری بھی امریکہ پرہے۔امریکہ ہی نے نائن الیون کے بعد صلیبی جنگ کی ابتدا کی اورافغانستان وعراق میں ظلم وبربریت کابازارگرم کیا۔امریکہ اوراس کے اتحادیوں کی غلط پالیسیوں کے سبب دنیاکوآج داعش جیسی تنظیموں کاسامنا کرناپڑرہاہے جبکہ لیبیا،شام اوریمن میں آگ وخون کاکھیل جاری ہے۔یورپ اورامریکہ بھی وقتاََ فوقتاََ اس آگ کاایندھن بنتے رہتے ہیں۔اگرٹرمپ نے موجودہ پالیسیوں کوہی جاری رکھایامتشددپالیسی اختیارکی تواس کانقصان جہاں دوسرے مذاہب اورخطوں کوہوگاوہیں امریکہ ویورپ بھی اسی آگ میں جھلسیں گے۔دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لئے تمام ممالک سے بہترتعلقات لازمی ہیں ۔ صدارتی انتخاب کے روزقصرِابیض کے سامنے ہیلری کلنٹن اورڈونلڈٹرمپ کے حامیوں کے درمیان ہاتھاپائی بھی ہوئی جویقینامہذب دنیاکی طرف سے ’’جمہوریت کے حسن ‘ ‘کااظہارتھا۔ٹرمپ بھی اپنی جیت کے واضح امکانات سے پہلے بیانات دیتے رہے کہ حالات دیکھ کرالیکشن کے نتائج تسلیم کرنے یا نہ کرنے کافیصلہ کروں گا۔دنیاکورواداری،برداشت اورجمہوریت کاسبق دینے والے اس طرح کے واقعات کی کیاتاویل پیش کریں گے۔؟یہاں امریکہ ویورپ کی تہذیب،عورتوں کی برابری کی مثالیں دینے والوں کوسوچناچاہئے کہ امریکی معاشرے کی اکثریت نے ایک عورت کومستردکرکے عورتوں کے خلاف غلط زبان استعمال کرنے ،گالیاں دینے والے اورنفرت پھیلانے والے مَردکواپناصدرکیوں بنایا۔؟پاکستانی عوام کومتشددمزاج کہنے والوں سے ایک سوال ہے کہ کیاپاکستان کی ’’تشددپسندعوام‘‘ صدر،وزیرِ اعظم توالگ کسی ایسے شخص کو صوبائی وقومی اسمبلی کی رکنیت کے لئے بھی ووٹ دے گی جو یہ نعرہ لے کر سیاست میں آئے کہ میں فلاں مذہب،فلاں فرقہ کے لوگوں کواپنے ملک سے نکال دوں گا۔؟

No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.