اپنا ذاتی اخبار نکالنا سہانا خواب تو تھا مگر اس کی تعبیر حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھی۔ میرے پاس جذبہ بھی تھا، تحریر و تقریر کی صلاحیت بھی تھی، ان تھک کام کرنے کا حوصلہ بھی تھا مگر ان سب کے ساتھ پریکٹیکل میدان میں آنے کے لیے سرمایہ کی ضرورت تھی، جس سے میں تہی دامن تھا۔
نوائے تھل کے بعد میں روزنامہ وفاق لاہور سے وابستہ ہو گیا۔ روزنامہ وفاق کے تحصیل نمائندے کے بعد ڈسٹرکٹ رپورٹر کے طور پر بھی ذمہ داریاں ادا کیں۔ ضلع لیہ کی ہونے والی افتتاحی تقریب کی کوریج میں نے روزنامہ وفاق کے ڈسٹرکٹ رپورٹر کی حیثیت سے کی۔ یہ تقریب جناح ہال لیہ میں منعقد ہوئی۔ مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور ضیاء مارشل لاء حکومت کے وفاقی وزیر راجہ ظفر الحق اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے جبکہ ملتان سے مجلسِ شوریٰ کے رکن محمد یوسف رضا گیلانی بھی اس تقریب میں شریک تھے، یہ وہی یوسف رضا گیلانی ہیں جو بعد میں سپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ اور وزیر اعظم پاکستان بنے اور آج بھی چیئرمین سینیٹ ہیں۔
انہی دنوں ڈسٹرکٹ پریس کلب کے پہلے الیکشن ہوئے، میں نے وفاق کے ڈسٹرکٹ رپورٹر کی حیثیت سے ڈسٹرکٹ پریس کلب کی ممبر شپ حاصل کی اور ہونے والے الیکشن میں حصہ لیا۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس وقت میرے سمیت ڈسٹرکٹ پریس کلب کے تاسیسی ممبران کی تعداد 20 کے لگ بھگ تھی۔
روزنامہ وفاق لاہور کی نمائندگی سے میرا معاشی مسئلہ خاصی حد تک حل ہو گیا، وہ ایسے کہ مجھے ادارہ کی طرف سے عدالتی اشتہارات حاصل کرنے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی۔ عدالتی اشتہارات میں ادارہ کی طرف سے معقول کمیشن دیا جاتا تھا، سو میں نے کمیشن کے لالچ میں دیوانہ وار محنت کی۔ لیہ، کروڑ اور چوبارہ کی عدالتوں کے مجاز افسران سے ملاقاتیں کیں اور انہیں ان کے من پسند اخبارات اور رسائل کی فراہمی یقینی بنائی۔ یوں مجھے دو تین اشتہار روزانہ کی بنیاد پر ملنا شروع ہو گئے اور روزی روٹی میں قدرے آسانی ہو گئی۔
سال ڈیڑھ سال تک تو ہم نے وفاق سے وفا نبھائی لیکن گھر کے بڑھتے ہوئے اخراجات بہت زیادہ ہو چکے تھے، سو ہم نے سوچا کہ کیوں نہ ملتان شفٹ ہوا جائے۔ میں ملتان سے آشنا تھا، ابتدائی زمانے میں ملتان سے ہی ہم نے اخبار ہاکری اور پھر صحافت کا سفر شروع کیا تھا۔ سو نہ کوئی جگہ اجنبی تھی اور نہ ہی کوئی مشکل۔ سونے پر سہاگا یہ ہوا کہ انہی دنوں ملک میں بلدیاتی الیکشن ہو چکے تھے۔ بلدیاتی اداروں کو متحرک اور فعال ہوئے سال ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر چکا تھا، صحافیوں کے لیے منتخب ممبران کے انٹرویوز ایک ہاٹ ٹاپک تھا۔
سو ہم نے بھی ایک بار پھر یہی موضوع چنا مگر اس انفرادیت کے ساتھ کہ بلدیاتی اداروں کے اقلیتی منتخب ممبران سے انٹرویوز حاصل کیے جائیں اور ان کی کارکردگی اور ترجیحات کو سامنے لایا جائے۔ اپنے اس پراجیکٹ کو آگے بڑھانے کے لیے سب سے پہلے ہم نے چوک شہیدان ملتان کی مرزا جی کی بلڈنگ میں اپنے پہلے پبلشر ادارے "ادارہ تعارف ملتان” کا دفتر قائم کیا۔
ادارہ تعارف ملتان کے دفتر کے قیام کے بعد سب سے پہلے تین چار کام ہماری ترجیح تھے:
جنرل پوسٹ آفس ملتان میں پی او باکس کا حصول۔
مقامی اقلیتی سیاسی، سماجی اور مذہبی قیادت سے رابطہ۔
وفاقی وزیر برائے وزارتِ مذہبی امور پاکستان کی خدمت میں زیرِ ترتیب کتاب "پنجاب کی اقلیتی قیادت” کے بارے میں پیغام کی درخواست کا ایک خط۔ اور وفاقی اقلیتی مشیر ایم پی بھنڈرا صاحب سے تفصیلی انٹرویو کے حصول بارے رابطہ
اللہ کی مدد یوں ہوئی کہ اس زمانے میں سید غلام پنجتن رضوی صاحب ملتان کے ریجنل پوسٹ ماسٹر تھے، ان کے توسط سے ہمیں پوسٹ آفس ملتان میں پوسٹ بکس الاٹ ہو گیا۔
ملتان پوسٹ آفس میں ادارہ کا پی او باکس نمبر 493 تھا ..اگلے چند ہفتوں میں ہم نے لاہور میں بھی سب آفس قائم کر کے وہاں بھی پی او باکس نمبر حاصل کر لیا اور یوں ہمارے ملتان اور لاہور کےپوسٹ ایڈریس کنفرم ہو گئے
اقلیتی کمیونٹی سے رابطوں کے پہلے مرحلے میں ہماری ملاقاتوں کا آغاز جاوید یاد صاحب ، کشور مراد صاحب اور آج کے صدارتی ایوارڈ یافتہ نذیر قیصر صاحب سے ہوا۔ نذیر قیصرصاحب اس زمانے میں چرچ آف پاکستان ملتان ڈایوسس سے وابستہ تھے۔
باقی آئندہ …..
..انجم صحرائی







