ایک صحافتی کارکن کے لیے اس سے بڑی کوئی کوفت اور شرمندگی نہیں ہوتی کہ اس کی خبر اور اس کی تحریر وقت پر شاءع نہ ہو ، یہاں تو معاملہ خاصا مختلف تھا جن دوستوں سے میں نے وقت پر تھل سپلیمنٹ کی اشاعت کا وعدہ کیا تھا ، میں ان کے سامنے سرخرو نہ ہو سکا۔ جن مہربانوں سے میں اشتہارات میں مد میں ہزاروں وصول کءے وہ اخبار کے منتظر تھے اس تاخیر نے مجھے شدید مایوس کیا ۔ شا ءد اسی ما یوسی ، کوفت اور صدمے کا رد عمل تھا کہ میں نے اپنے آپ سے ایک عہد کیا: ”بس! بہت ہو گیا۔ اب میں نے کسی اور کے اخبار کے لیے اپنی راتوں کی نیندیں حرام نہیں کرنی۔ اگر کام کرنا ہے، تو اپنے اخبار کے لیے کرنا ہے، جہاں فیصلے میرے اپنے ہوں گے، اور وقت کی پابندی میری اپنی مرضی کی ہوگی۔”
آج جب میں پلٹ کر دیکھتا ہوں، تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ وہ شدید شرمندگی اور کوفت کا دن دراصل ایک پوشیدہ نعمت تھا۔ اگر بھکر سپلیمنٹ وقت پر چھپ جاتا، تو شاید میں چند ہزار روپے کا کمیشن لے کر وہیں رک جاتا۔ لیکن اس دن کی تپش نے میرے خوابوں کو ایک نئی جلا بخشی۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ مایوسی اور سوچ کا دن ہی دراصل ‘صبحِ پاکستان’ کا حرفِ آغاز تھا! تھل کی مٹی سے اب ایک نیا سورج طلوع ہونے کا فیصلہ ہو چکا تھا۔
وقت کبھی ایک جگہ نہیں ٹھهرتا۔ ‘نوائے تھل’ کے وہ دن اور بھکر سپلیمنٹ کے وہ معرکے اب میری زندگی کی کتاب کا ایک انمول باب بن چکے ہیں۔ یہ تمام یادیں، میرے شب و روز کی یہ بکھری کہانیاں، جب کتابی شکل میں ڈھلیں تو دنیا نے انہیں "شب و روزِ زندگی” کے نام سے پڑھا۔ قارئین نے اس پہلے حصے کو جس محبت اور پزیرائی سے نوازا، اس نے میرے قلم کو ایک نیا حوصلہ اور نئی توانائی بخشی۔
مگر ایک صحافی کا قلم کبھی ریٹائر نہیں ہوتا، اور نہ ہی اس کی یادوں کا سفر کبھی ختم ہوتا ہے۔ اب میں زندگی کے ایک نئے موڑ پر کھڑا ہوں، جہاں میں اپنی سوانح حیات "شب و روزِ زندگی” کا دوسرا حصہ قلمبند کرنے کا عزم کر چکا ہوں۔ یہ حصہ میری زندگی کے اس دور کا احاطہ کرے گا جہاں سے میری صحافت نے ایک نیا، بڑا اور زیادہ ذمہ دارانہ رخ اختیار کیا تھا۔ یہ سفر مجھے لے جائے گا سال 1997ء کے اس یادگار موڑ پر، جہاں ‘صبحِ پاکستان’ کا آفتاب طلوع ہو رہا تھا۔ ایک نئے اخبار کا آغاز، صبح پا کستان کا آغاز ۔ یہ ایک سحر انگیز تجربہ تھا جسے لفظوں میں پروئے بغیر میری کہانی ادھوری رہے گی۔
اب تک کی یہ تقریباً تین دہائیاں صبح پا کستان کے لیے کسی خاردار راستے سے کم نہ تھیں۔ علاقائی ، لسانی انتشار افتراق ، نفرت و تعصب کے مقابل پا کستان اور پا کستانیت کا پیغام لئے آزاد و با وقار صحافت کے ساتھ نظریاتی سیاست کا جنون ، سیاسی و سماجی منظرنامے، اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں پرنٹ میڈیا سے ڈیجیٹل میڈیا تک کا سفر—
یہ سب کچھ ہو گا "شب و روزِ زندگی” کے دوسرے حصے میں ۔ قلم تیار ہے، اور یادوں کا نیا البم کھلنے کو ہے!
باقی اگلی قسط میں…..








