قیامِ پاکستان سے قبل ضلع لیّہ میں اخبار کون تقسیم کرتا تھا؟ نیوز ایجنسی کس نام سے تھی اور اس کا مالک کون تھا؟ یہ ایک ایسا تشنہِ تحقیق موضوع ہے جس پر ابھی کام ہونا باقی ہے۔ شاید کسی وسیبی محقق نے اس پر قلم اٹھایا ہو، مگر معذرت کے ساتھ ایسی کوئی تحریر ابھی تک میری نظر سے نہیں گزری۔ تاریخ کے طالب علموں اور مقامی محققین کے لیے یہ ایک بہترین دعوتِ فکر ہے کہ وہ لیّہ کی اس گمشدہ تاریخ کا سراغ لگائیں۔
تقسیمِ ہند کے بعد، لیّہ میں اخبارات کی باقاعدہ ترسیل کے لیے پہلی نیوز ایجنسی رانا برادران کی زیرِ نگرانی "رشید صدیق نیوز ایجنسی” کے نام سے قائم ہوئی۔ یہ لیّہ کی صحافتی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل تھا۔ اس دور کے تمام بڑے اور مقبول اخبارات، جن میں روزنامہ امروز، کوہستان، نوائے وقت اور جنگ شامل تھے، اسی ایجنسی کے ذریعے لیّہ پہنچتے اور پڑھے جاتے تھے۔ اس دوران محترم حمید سلیمی مرحوم اور برکت اعوان جیسے نام بھی اخبار کے اس کاروبار میں قسمت آزمائی کے لیے آئے، لیکن وہ اس فیلڈ میں مستقل بنیادوں پر کامیاب نہ ہو سکے۔بعد ازاں، پریس کلب لیّہ کے سابق صدر راجہ اعجاز (مرحوم) اس میدان میں اترے۔ وہ پہلے روزنامہ ‘پاکستان’ (لاہور) کی نیوز ایجنسی لیّہ لائے اور بعد میں انہوں نے روزنامہ ‘نوائے وقت’ کا نیٹ ورک بھی سنبھال لیا۔ جب تک راجہ اعجاز صاحب بقیدِ حیات رہے، راجہ نیوز ایجنسی انتہائی متحرک اور فعال رہی۔ تاہم، ان کی وفات کے بعد یہ ایجنسی پہلے کی طرح متحرک نہ رہ سکی اور اس کا کام سست پڑ گیا۔اسی زمانے میں سابق صدر پریس کلب مرزا یعقوب صاحب خبریں کی ایجنسی لا ے مگر چند سالوں سے مرزا نیوز ایجنسی بھی زیادہ فعال نظر نہیں آتی ..
.موجودہ دور میں لیّہ میں اخبارات کی تقسیم کے حوالے سے رانا برادران کی رشید نیوز ایجنسی کے علاوہ جو دوسرا بڑا نام فہرست میں سب سے اوپر نظر آتا ہے، وہ "خالد شفیق نیوز ایجنسی” ہے۔میری خالد شفیق صاحب سے ایک تفصیلی گفتگو ہوئی، جس میں انہوں نے اپنے سفر کی داستان سنائی۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اس کاروبار کا آغاز روزنامہ ‘پاکستان’ (لاہور) سے کیا تھا۔ انہوں نے صرف 8 ہزار روپے کی سیکیورٹی رقم جمع کروا کر ایجنسی حاصل کی اور محنت کا آغاز کیا۔ آج اللہ کا فضل ہے کہ روزنامہ ‘جنگ’ کے علاوہ تقریباً تمام چھوٹے بڑے اخبارات ان کی ایجنسی کے پاس ہیں۔ اس وقت روزانہ 1400 سے 1500 کے قریب اخبارات ان کے نیٹ ورک کے ذریعے تقسیم ہوتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں خالد شفیق نے بتایا کہ آج کے دور میں ان کا یہ کاروبار ایک کروڑ روپے کے لگ بھگ کی انوسٹمنٹ (سرمایہ کاری) تک پہنچ چکا ہے۔ ان کا نیٹ ورک نہ صرف لیّہ شہر بلکہ پورے ضلع اور ضلع سے باہر مضافات تک پھیلا ہوا ہے، جہاں وہ اپنے ہاکرز کو بہترین کمیشن دیتے ہیں اور اخبارات کے لیے عدالتی اشتہارات کا کام بھی سنبھالتے ہیں۔
اس ساری گفتگو کے دوران جو بات میرے لیے سب سے زیادہ حیران کن اور سبق آموز تھی، وہ خالد شفیق صاحب کی سادگی تھی۔ میں نے ان سے پوچھا: "یار خالد! کروڑوں کا کاروبار اور یہ پرانا بنچ کیوں؟”
انہوں نے جواب دیا: "سر! میں اس بنچ کو 1997ء سے استعمال کر رہا ہوں۔ یہی بنچ میرا آفس ہے، یہی میری نیوز ایجنسی ہے اور یہی میرا سٹال ہے۔ یہ دراصل ‘مقبول بیٹری سروس’ والوں کا بنچ ہے اور میں تب سے اسی پر بیٹھتا ہوں۔”
ایک کروڑ روپے کا بزنس، وسیع نیٹ ورک اور عدالتی اشتہارات کی ڈیلنگ کے باوجود خالد شفیق صاحب آج بھی جنرل بس اسٹینڈ کے سامنے اسی لکڑی کے بنچ پر اخبارات سجائے نظر آتے ہیں۔ وہ نمود و نمائش اور بڑے دفاتر کی چمک دمک سے دور، قناعت کی ایک زندہ مثال ہیں۔ ان کی اس محنت اور حلال رزق کی برکت ہے کہ آج ان کی ایک بیٹی ڈاکٹر بن چکی ہے اور بیٹا اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہا ہے۔خالد شفیق صاحب کا یہ لکڑی کا بنچ محض بیٹھنے کی جگہ نہیں، بلکہ لیّہ کی پچھلی تین دہائیوں کی صحافتی تاریخ کا ایک خاموش گواہ ہے، جو ہمیں سکھاتا ہے کہ کامیابی کے لیے اونچی عمارتوں کی نہیں، بلکہ سچی لگن، ایمانداری اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔
میری باضابطہ صحافت اور روزگار کا آغاز بھی اخبار کی ہاکری سے ہوا، ہاکر پھیری لگا کر اور آواز دے کر گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے والے کو کہتے ہیں، ایک زمانے میں اخبار بھی آواز لگا کر بیچا جاتا تھا، مجھے یاد ہے کہ بھکر کے ہمارے ایک ہاکر دوست دن رات ریلوے اسٹیشن پر ہر آنے والی گاڑیوں کے اوقات میں آواز لگا کر روزنامہ ‘وفاق’ لاہور فروخت کیا کرتے تھے۔ مجھے بھی ابتدائی دنوں میں روزنامہ ‘وفاق’ لاہور سے وابستگی کا اعزاز حاصل رہا، اسی لیے مجھے وہ یاد ہیں اور ان کا جنون بھی۔۔ وہ روزنامہ ‘وفاق’ کی ریکارڈ سیل کیا کرتے تھے، تقریباً دو تین سو وفاق اخبار روزانہ۔۔
کہتے ہیں دنیا کی تاریخ میں سب سے پہلے اخبار کے ہاکر امریکہ اور یورپ کے غریب اور یتیم بچے ہوا کرتے تھے، یہ بچے سڑکوں کے کنارے کھڑے ہو کر چیخ چیخ کر سنسنی خیز خبریں سناتے تاکہ لوگ اخبار خریدیں۔ حیرانگی اس بات پر ہے کہ ان اخبار فروش بچہ ہاکر بچوں نے سال 1899ء میں اس وقت کے میڈیا مالکان کے خلاف تاریخی ہڑتال بھی کی۔ اسی جدوجہد کا نتیجہ تھا کہ بچوں کے حقوق کی بات بھی چلی اور بچوں کے بارے میں قوانین بھی بنے۔ اگر پاکستان میں اخبار ہاکر کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو میں بڑے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہر چھوٹے بڑے اخبار کے بانی اور مالک نے اخبار کی ہاکری کی ہے ۔ اخبار جنون کا نام ہے، پیسہ نہ بھی ہو اخبار چل جاتا ہے لیکن اگر جنون نہیں، صرف پیسہ ہے، اخبار کامیاب نہیں ہوتا۔ ہمارے ایک سینئر سنایا کرتے تھے کہ ‘وفاق’ ایک صحافی کارکن نے نکالا، کامیاب ہو گیا، ‘آفاق’ ایک سرمایہ دار گروپ نے نکالا، فلاپ ہو گیا۔۔ خیر یہ اس زمانے کی بات ہے جب اخبار کے دفاتر آباد تھے، نیوز روم جاگتے تھے اور اخباری رپورٹر متجسس، متحرک و فعال تھے، اس زمانے میں الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا نہیں تھا، اب تو پرنٹ میڈیا کا رنگ ہی بدل گیا ہے، اتنا آسان ہو گیا ہے کہ کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔۔ بس کاپی پیسٹ، کاپی پیسٹ اور بس خبریں ہی خبریں اور اخبار تیار۔
سوری، بات ہو رہی تھی اخباری ہاکر کی۔ پاکستان کی اخباری تاریخ میں بھی کئی ایسے ہاکرز کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے اپنی محنت اور جدوجہد سے اس پروفیشن کو وقار اور زندگی بخشی۔ ان اخباری ہاکرز میں راولپنڈی کے علی اکبر، بلوچستان کے نابینا ہاکر محمد عیسیٰ، راولپنڈی کے ہی عبدالقیوم عرف چچا کلو اور لاہور کے صوفی نذیر وہ اخباری ہاکر ہیں جنہوں نے تاریخ رقم کی ہے۔
مذکورہ بالا شخصیات میں علی اکبر، جن کا تعلق راولپنڈی سے ہے، گزشتہ پچاس سال سے پیرس (فرانس) میں مقیم ہیں اور وہاں اخبارات فروخت کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ انہیں جنوری 2026 میں فرانس کے صدر امینیول میکرون نے فرانس کے اعلیٰ ترین اعزاز (نیشنل آرڈر آف میرٹ) سے نوازا۔ اسی طرح بلوچستان کے نابینا صحافی محمد عیسیٰ ہیں، جو اپنے گاؤں سے مستونگ کا ڈھائی میل کا سفر پیدل طے کر کے شہر میں اخبار تقسیم کر رہے ہیں۔ انہوں نے 35 سالوں میں نہ تو کبھی ناغہ کیا اور نہ ہی اخبار غلط تقسیم کرنے کی کوئی غلطی کی۔ ہمارے لیّہ میں بھی استاد اقبال مرحوم ,چوہدری اصغر اور فرید سیال جیسے ہاکر کا نام ملتا ہے جنہوں نے کی ساری زندگی اخبار کے نام کر دی ..
مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق اسی عظیم ” اخباری ہاکر” قبیلہ سے ہے ..جو ہر صبح کا آغاز علم و آگہی کا نور تقسیم کرنے سے کرتے ہیں ..









