میں بہت کم ستائشی کالم لکھتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ میں ایک مزاحمتی قلم کار ہوں، البتہ یہ میرا اپنا ماننا ہے، اصل فیصلہ تو قارئین کا ہوتا ہے؛ وہی صحیح فیصلہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ لیکن یہ بات بھی نہیں کہ میں کسی کی تعریف و توصیف کرنے میں کنجوس ہوں۔ میں نے ہمیشہ اپنے وسیب کے باصلاحیت نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کو ترجیح دی ہے، وہ اس لیے کہ میں سمجھتا ہوں کہ صحافت اور اپنے شعبے میں جس سماجی طبقے کی نمائندگی کرنے کا میں دعویدار ہوں، اس طبقے کی باصلاحیت شخصیات کی حوصلہ افزائی کروں، اور اپنی عمر کی بزرگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اگر کسی کو ضرورت ہو تو رہنمائی بھی کروں۔
یہ تو تھی تمہید، اب چلتے ہیں آج کے کالم کی طرف…..
کوئی کچھ کہے یہ ماننا پڑے گا کہ لیّہ سے مخصوص نشست پر پنجاب اسمبلی میں پہنچنے والی ایک عام سی کارکن لیّہ اور لیّہ کے مسائل کو جس مؤثر انداز میں پیش کر رہی ہیں وہ قابلِ تحسین ہے۔اپ ان کی ترجیحات اور اب کے نقطہ نظر سے اختلاف کر سکتے ہیں اپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنی قیادت بارے بہت زیادہ خوش فہمی کا شکار ہیں , اپنی قیادت کی خوشنودی ضرور حاصل کریں لیکن عوامی مسائل و مطالبات کو ترجیح دیں ..
سیاستدان وہی کامیاب ہوتا ہے جو اپنے ٹارگٹ پر فوکس رکھتے ہوئے میدان میں ایک تسلسل کے ساتھ اپنی انٹری کو یقینی بنائے رکھے۔ اگر وہ ایوان کے فلور پر تقریر کرتی نظر آتی ہیں، لیّہ کی ترقی کے بارے میں بات کرتے دکھائی دیتی ہیں تو یہ ان کی کامیابی ہے۔ اگر اپنی جماعت میں احترام لے رہی ہیں اور اپنے مخالفین کی ڈسکشن میں ہیں، تو میں سمجھتا ہوں وہ کامیاب ہیں۔ وہ مبارکباد کی مستحق ہیں کہ وہ حکمران جماعت اور لیّہ کے عوام کے درمیان رابطہ کار ہیں اور اپنا فریضہ بڑی خوبصورتی سے ادا کر رہی ہیں۔
خدا خیر کرے، ہم نے مسلم لیگ کی خاتون ایم پی اے سمیعہ عطاشاہانی کے حق میں چند حروف لکھ دیے، دیکھتے ہیں ہمارا کیا حشر ہوتا ہے۔ اس خوف کے پس منظر میں بھی ایک کہانی ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ۔۔۔ یادش بخیر چند ماہ قبل مؤثر سیکیورٹی کے حوالے سے لیّہ تونسہ پل کے بارے میں مسلم لیگ کی ایم پی اے محترمہ شہانی کے خدشات کی تائید کرنے کے "جرم” میں سوشل میڈیا پر جو کچھ میں نے سہا، وہ کبھی نہ بھولنے والا تجربہ ہے۔ حالانکہ سوشل میڈیا کے مختلف گروپس میں مجھ سے کہیں زیادہ لوگوں نے کمنٹس کیے تھے، لیکن یار لوگوں نے دراصل لسانی بنیادوں پر صوبے کے قیام کی فکری و نظریاتی مخالفت کا حساب چکتا کرنا تھا، سو انہوں نے کیا۔ ہمارے خلاف ایک ویڈیو وائرل کی گئی، جس میں حقائق کو مسخ کر کے مجھے سرائیکی وسیب اور سرائیکی عوام کا دشمن بنا کر پیش کیا گیا۔ اس متعصبانہ رویے کی وجہ سے میں شدید ذہنی اذیت سے گزرا۔ مجھے ‘ہندوستانی’ لکھ کے وطن عزیز پاکستان اور پاکستانیت سے میری جنوں کی حد تک شعو ری فکری نظریاتی والہانہ جذباتی کا مذاق اڑایا گیا ، ان باکس میں گالیاں اور دھمکیاں دی گئیں، مگر ہم نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔ ہم جانتے تھے کہ انتشار اور تفریق پھیلانے والے چاہتے ہی یہی ہیں کہ آگے سے جوابی وار ہو، تاکہ مہاجر، پنجابی، آباد کار اور غیر آباد کار کی بحث چھڑ جائے اور ان کی لسانی نفرت کی دکان چمک سکے۔ لیکن ہم نے ضبط، حوصلے اور بردباری سے اس نحوست کا مقابلہ کیا اور یوں نفرت، تعصب اور انتشار کو منہ کی کھانی پڑی۔
سچ تو یہ ہے کہ گزری زندگی کا ہر سال، ہر مہینہ، ہر دن اور ہر لمحہ گواہ ہے، ہم نے نہ صحافت میں اور نہ ہی سیاست میں کبھی لسانیت کی بات کی ہے۔ مہاجر، پنجابی، سرائیکی کبھی ہمارا موضوع نہیں رہا .اب بندہ کیا کرے؟ ہمارے ہاں کے سماجی رویے بہت سیلفش (خودغرض) ہو چکے ہیں۔ اگر کوئی بات کرنی ہو یا کچھ بولنا ہو، تو پہلے باس کے تیور اور موڈ کو بھانپنا پڑتا ہے، ورنہ خیر نہیں!
سمیعہ عطا شاہانی کے خلاف اسی وڈیرہ پرستانہ سوچ کا اظہار کیا جاتا ہے کہ محترمہ کوئی بھی بات کریں یا عوام کے کسی مسئلے کو اجاگر کریں، انہیں فوری طور پر تنقید کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔ ان کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ ایک عام سیاسی کارکن ہیں اور ان کا تعلق کسی روایتی سیاسی خاندان سے نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں خیرات میں صوبائی اسمبلی کی نشست ملی ہے؛ یہ کتنی بے تکی بات ہے! انتخابی قواعد و ضوابط کے مطابق یہ نشستیں تو ہر سیاسی جماعت کے لیے مخصوص ہوتی ہیں۔
یہ سیٹ مسلم لیگ (ن) کے کوٹے کی تھی، جس پر پارٹی قیادت نے انہیں نامزد کیا۔ قصور یہ نہیں کہ وہ ایوان تک کیوں جا پہنچیں، بلکہ قصور یہ ہے کہ وہ ایوان میں اتنی متحرک کیوں ہیں اور لیّہ کے عوامی مسائل پر اتنا زیادہ کیوں بولتی ہیں؟ اگر وہ خاموشی سے وظیفہ خوار بنی رہتیں، تو کسی کو کوئی اعتراض نہ ہوتا۔ سبھی جانتے ہیں کہ مجھے مسلم لیگ اور اس کی قیادت سے کوئی لینا دینا نہیں، مگر میں گراس روٹ لیول کا ایک عام سیاسی کارکن ہوں اور بہت قریب سے جانتا ہوں کہ میدانِ سیاست میں سیاسی اشرافیہ کے مقابلے میں ایک عام سیاسی کارکن کا سفر کتنا تلخ اور کتنا صبر آزما ہوتا ہے۔
غضب خدا کا! آج اکیسویں صدی میں، جب مصنوعی ذہانت کا دیو انسانی عقل و فہم کی دھجیاں بکھیر رہا ہے اور کون کیا ہے، کچھ بھی ڈھکا چھپا نہیں رہا، تب بھی صورتحال یہ ہے کہ سرائیکی وسیب کا نوجوان اب بھی سرداروں، وڈیروں اور پیروں کی ڈفلی بجا رہا ہے۔ بظاہر انقلابی نظر آنے والے حقوق کے نام پر لسانی تعصب کا چورن بیچ رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ہم نے ہمیشہ پاکستان اور پاکستانیت کا علم بلند کیا۔ ہم نے بلا تفریق وسیب اور وسیب کے عوام کے مسائل کو اجاگر کیا۔ "ہمارا یہ دعویٰ کوئی لاف زنی نہیں؛ ہمارے پاس ایک ایک لمحے کا حساب موجود ہے۔ کتنے احتجاج کیے، کتنے پیدل مارچ کیے، تپتی سڑک پر، تپتی دوپہر میں کتنے ننگے پاؤں چلے، کتنے بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے، کتنی بار نشیب کے دریا برد خاندانوں سے دامے، درمے، سخنے اظہارِ یکجہتی کیا، کتنی بار جیل یاترا کی، کتنے الیکشن لڑے، کتنے جیتے اور کتنے ہارے۔ ہم نظریاتی سیاست میں مصلحت و منافقت کے قائل نہیں۔ اس نصف صدی کے سفر میں کوئی دکھا دے کہ ہم نے کبھی ایک بار بھی کسی چوہدری، وڈیرے، ملک، سردار یا پیر کے ڈیروں اور حجروں پر حاضری دی ہو۔ ہمارا ان سبھی سے احترام اور نیاز مندی کا رشتہ تھا، اب بھی ہے، مگر روایتی سیاسی اشرافیہ اور وراثتی سیاسی خاندانوں سے نظریاتی اختلاف تھا، ہے اور رہے گا۔”









