• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
SB2425
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

جنریشن “ Z “ایک نئی دنیا، نئے خواب اور نئے چیلنجز .. تحریر ۔۔۔ ارشاد راۓ

webmaster by webmaster
جولائی 3, 2026
in کالم
0
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ، سوالات ، حقائق اور چیلنجز  تحریر ۔۔۔ ارشاد راۓ

ہر دور کی ایک اپنی شناخت ہوتی ہے اور ہر نسل اپنے زمانے کے حالات کے مطابق سوچتی، جیتی اور مستقبل کی سمت کا تعین کرتی ہے۔ اکیسویں صدی کی سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والی نسل جنریشن زی ہے۔ عالمی اداروں، سماجی محققین اور تعلیمی ماہرین کے مطابق جنریشن زی سے مراد وہ نوجوان ہیں جو تقریباً 1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہوئے۔ یہ وہ پہلی نسل ہے جس نے آنکھ کھولتے ہی انٹرنیٹ، اسمارٹ فون، سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ پایا۔ اسی لیے انہیں “ڈیجیٹل نیٹو” یعنی ڈیجیٹل ماحول میں پیدا ہونے والی نسل بھی کہا جاتا ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں میں دنیا جس تیزی سے بدلی ہے، شاید انسانی تاریخ میں اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ ایک وقت تھا جب معلومات حاصل کرنے کے لیے لائبریریوں کے چکر لگانے پڑتے تھے، مگر آج ایک موبائل فون چند سیکنڈ میں دنیا بھر کا علم انسان کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔ یہی وہ ماحول ہے جس میں جنریشن زی نے پرورش پائی ہے۔ اس نسل کے لیے فاصلے سمٹ چکے ہیں، دنیا ایک عالمی گاؤں بن چکی ہے اور معلومات تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گئی ہے۔
اقوامِ متحدہ، عالمی بینک، اور اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی مختلف رپورٹس اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ آنے والے برسوں میں دنیا کی افرادی قوت کا بڑا حصہ اسی نسل پر مشتمل ہوگا۔ یہی نوجوان مستقبل کی معیشت، تعلیم، سائنس، طب، صحافت، کاروبار اور سیاست کی باگ ڈور سنبھالیں گے۔ اس لیے ان کی سوچ اور طرزِ زندگی کو سمجھنا محض ایک سماجی ضرورت نہیں بلکہ قومی اور عالمی ترقی کا اہم تقاضا ہے۔
جنریشن زی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ نئی چیزیں سیکھنے میں غیر معمولی دلچسپی رکھتی ہے۔ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، پروگرامنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، فری لانسنگ، ای کامرس اور آن لائن تعلیم جیسے شعبوں میں اس نسل نے کم عمری میں وہ کامیابیاں حاصل کی ہیں جن کا چند دہائیاں پہلے تصور بھی مشکل تھا۔ پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک کے ہزاروں نوجوان آج اپنے گھروں سے دنیا بھر کی کمپنیوں کے لیے کام کر رہے ہیں اور قیمتی زرمبادلہ اپنے ملک لا رہے ہیں۔ یہ اس نسل کی صلاحیتوں کا روشن پہلو ہے۔
یہ نسل صرف ملازمت کی تلاش میں نہیں رہتی بلکہ اپنے لیے نئے مواقع پیدا کرنے پر بھی یقین رکھتی ہے۔ بہت سے نوجوان یوٹیوب، آن لائن کاروبار، موبائل ایپلی کیشنز، ڈیجیٹل مواد کی تخلیق اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی شناخت بنا رہے ہیں۔ وہ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ کامیابی کے راستے اب صرف روایتی دفاتر تک محدود نہیں رہے۔
لیکن ہر انقلاب کی طرح اس تبدیلی کے بھی کچھ منفی پہلو ہیں۔ سوشل میڈیا نے جہاں اظہارِ رائے کے بے شمار مواقع پیدا کیے ہیں، وہیں اس کا حد سے زیادہ استعمال نوجوانوں کی ذہنی صحت کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ، بے چینی، نیند کی کمی اور تنہائی جیسے مسائل پر متعدد بار توجہ دلائی ہے۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ مسلسل اسکرین کے سامنے وقت گزارنا اور اپنی زندگی کا دوسروں سے موازنہ کرنا نوجوانوں کے اعتماد اور ذہنی سکون کو متاثر کرتا ہے۔
اسی طرح غلط معلومات اور جھوٹی خبروں کا تیزی سے پھیلنا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر خبر درست نہیں ہوتی، لیکن بہت سے لوگ بغیر تحقیق کے اسے آگے بڑھا دیتے ہیں۔ اس رویے سے نہ صرف افراد بلکہ معاشرے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے ڈیجیٹل دور میں تعلیم کے ساتھ ساتھ تنقیدی سوچ اور خبر کی تصدیق کی صلاحیت بھی ناگزیر ہو چکی ہے۔
ایک اور حقیقت یہ بھی ہے کہ ٹیکنالوجی نے جہاں انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا ہے، وہیں بعض اوقات انہیں اپنے ہی گھروں میں ایک دوسرے سے دور بھی کر دیا ہے۔ ایک ہی کمرے میں بیٹھے افراد موبائل فون میں مصروف رہتے ہیں لیکن آپس میں بات کرنے کا وقت نہیں نکالتے۔ خاندان، دوستوں اور معاشرتی تعلقات کی مضبوطی کسی بھی صحت مند معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے، اس لیے ٹیکنالوجی کو انسانی رشتوں کا متبادل نہیں بلکہ معاون بنانا چاہیے۔
پاکستان جیسے نوجوان آبادی والے ملک کے لیے جنریشن زی ایک بہت بڑا سرمایہ ہے۔ اگر حکومت، تعلیمی ادارے، والدین اور نجی شعبہ اس نسل کو معیاری تعلیم، جدید مہارتیں، تحقیق کے مواقع اور مثبت رہنمائی فراہم کریں تو یہی نوجوان ملک کی معاشی ترقی، سائنسی تحقیق اور عالمی سطح پر بہتر شناخت کا سبب بن سکتے ہیں۔ لیکن اگر ان کی توانائیاں بے مقصد تفریح، غلط معلومات اور غیر ذمہ دارانہ ڈیجیٹل استعمال میں ضائع ہوتی رہیں تو یہ ایک قیمتی انسانی سرمایہ ضائع ہونے کے مترادف ہوگا۔
تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی تقدیر ان کے نوجوان لکھتے ہیں۔ آج کی جنریشن زی بھی اسی ذمہ داری کی امین ہے۔ اس کے ہاتھ میں وہ ٹیکنالوجی ہے جو انسانیت کی خدمت بھی کر سکتی ہے اور نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔ فیصلہ نوجوانوں نے خود کرنا ہے کہ وہ موبائل فون کو صرف تفریح کا ذریعہ بناتے ہیں یا علم، تحقیق، اختراع اور ترقی کا وسیلہ۔
وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اس نسل پر تنقید کرنے کے بجائے اس کی رہنمائی کریں، اس کی صلاحیتوں پر اعتماد کریں اور اسے وہ ماحول فراہم کریں جہاں علم، کردار، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی ایک ساتھ پروان چڑھ سکیں۔ یہی راستہ پاکستان سمیت پوری دنیا کے روشن مستقبل کی ضمانت column by بن سکتا ہے۔

Post Views: 41
Tags: column by irshad raay
Previous Post

کریڈٹ: میرا ہے، نہیں میرا ہے، میرا بھی تو ہے! تحریر: انجم صحرائی

Next Post

حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے، سلمان اکرم راجا

Next Post
حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے،  سلمان اکرم راجا

حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے، سلمان اکرم راجا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے،  سلمان اکرم راجا
قومی/ بین الاقوامی خبریں

حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے، سلمان اکرم راجا

by webmaster
جولائی 3, 2026
0

لاہور . پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماء سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ حکومت کا معیشت کا رخ...

Read moreDetails
مریم نواز کا سڑکوں کی تعمیرو مرمت مالی سال کے آخر تک مکمل کرنے کا حکم

"شاباش ٹیم پنجاب”، "الحمدللہ امسال بھی محرم الحرام پرامن، باوقار اورمنظم رہا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

جون 27, 2026
نوجوان  سب سے پہلے پاکستان کو اہمیت دیں:وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا پرواز کارڈ کے کامیاب امیدواروں سے خطاب

نوجوان سب سے پہلے پاکستان کو اہمیت دیں:وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا پرواز کارڈ کے کامیاب امیدواروں سے خطاب

جون 25, 2026
یکم جولائی  سے جائیداد کی خرید و فروخت اور انتقالات  فرد کی بجا ئےگرین سرٹیفیکیٹ کی بنیاد پر ہو گی

یکم جولائی سے جائیداد کی خرید و فروخت اور انتقالات فرد کی بجا ئےگرین سرٹیفیکیٹ کی بنیاد پر ہو گی

جون 23, 2026
وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کا  مسلم لیگ (ن) کے رہنماء ملک غلام حیدرتھندکے انتقال پر اظہارافسوس

وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کا مسلم لیگ (ن) کے رہنماء ملک غلام حیدرتھندکے انتقال پر اظہارافسوس

جون 22, 2026
ہر دور کی ایک اپنی شناخت ہوتی ہے اور ہر نسل اپنے زمانے کے حالات کے مطابق سوچتی، جیتی اور مستقبل کی سمت کا تعین کرتی ہے۔ اکیسویں صدی کی سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والی نسل جنریشن زی ہے۔ عالمی اداروں، سماجی محققین اور تعلیمی ماہرین کے مطابق جنریشن زی سے مراد وہ نوجوان ہیں جو تقریباً 1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہوئے۔ یہ وہ پہلی نسل ہے جس نے آنکھ کھولتے ہی انٹرنیٹ، اسمارٹ فون، سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ پایا۔ اسی لیے انہیں “ڈیجیٹل نیٹو” یعنی ڈیجیٹل ماحول میں پیدا ہونے والی نسل بھی کہا جاتا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں دنیا جس تیزی سے بدلی ہے، شاید انسانی تاریخ میں اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ ایک وقت تھا جب معلومات حاصل کرنے کے لیے لائبریریوں کے چکر لگانے پڑتے تھے، مگر آج ایک موبائل فون چند سیکنڈ میں دنیا بھر کا علم انسان کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔ یہی وہ ماحول ہے جس میں جنریشن زی نے پرورش پائی ہے۔ اس نسل کے لیے فاصلے سمٹ چکے ہیں، دنیا ایک عالمی گاؤں بن چکی ہے اور معلومات تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گئی ہے۔ اقوامِ متحدہ، عالمی بینک، اور اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی مختلف رپورٹس اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ آنے والے برسوں میں دنیا کی افرادی قوت کا بڑا حصہ اسی نسل پر مشتمل ہوگا۔ یہی نوجوان مستقبل کی معیشت، تعلیم، سائنس، طب، صحافت، کاروبار اور سیاست کی باگ ڈور سنبھالیں گے۔ اس لیے ان کی سوچ اور طرزِ زندگی کو سمجھنا محض ایک سماجی ضرورت نہیں بلکہ قومی اور عالمی ترقی کا اہم تقاضا ہے۔ جنریشن زی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ نئی چیزیں سیکھنے میں غیر معمولی دلچسپی رکھتی ہے۔ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، پروگرامنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، فری لانسنگ، ای کامرس اور آن لائن تعلیم جیسے شعبوں میں اس نسل نے کم عمری میں وہ کامیابیاں حاصل کی ہیں جن کا چند دہائیاں پہلے تصور بھی مشکل تھا۔ پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک کے ہزاروں نوجوان آج اپنے گھروں سے دنیا بھر کی کمپنیوں کے لیے کام کر رہے ہیں اور قیمتی زرمبادلہ اپنے ملک لا رہے ہیں۔ یہ اس نسل کی صلاحیتوں کا روشن پہلو ہے۔ یہ نسل صرف ملازمت کی تلاش میں نہیں رہتی بلکہ اپنے لیے نئے مواقع پیدا کرنے پر بھی یقین رکھتی ہے۔ بہت سے نوجوان یوٹیوب، آن لائن کاروبار، موبائل ایپلی کیشنز، ڈیجیٹل مواد کی تخلیق اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی شناخت بنا رہے ہیں۔ وہ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ کامیابی کے راستے اب صرف روایتی دفاتر تک محدود نہیں رہے۔ لیکن ہر انقلاب کی طرح اس تبدیلی کے بھی کچھ منفی پہلو ہیں۔ سوشل میڈیا نے جہاں اظہارِ رائے کے بے شمار مواقع پیدا کیے ہیں، وہیں اس کا حد سے زیادہ استعمال نوجوانوں کی ذہنی صحت کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ، بے چینی، نیند کی کمی اور تنہائی جیسے مسائل پر متعدد بار توجہ دلائی ہے۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ مسلسل اسکرین کے سامنے وقت گزارنا اور اپنی زندگی کا دوسروں سے موازنہ کرنا نوجوانوں کے اعتماد اور ذہنی سکون کو متاثر کرتا ہے۔ اسی طرح غلط معلومات اور جھوٹی خبروں کا تیزی سے پھیلنا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر خبر درست نہیں ہوتی، لیکن بہت سے لوگ بغیر تحقیق کے اسے آگے بڑھا دیتے ہیں۔ اس رویے سے نہ صرف افراد بلکہ معاشرے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے ڈیجیٹل دور میں تعلیم کے ساتھ ساتھ تنقیدی سوچ اور خبر کی تصدیق کی صلاحیت بھی ناگزیر ہو چکی ہے۔ ایک اور حقیقت یہ بھی ہے کہ ٹیکنالوجی نے جہاں انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا ہے، وہیں بعض اوقات انہیں اپنے ہی گھروں میں ایک دوسرے سے دور بھی کر دیا ہے۔ ایک ہی کمرے میں بیٹھے افراد موبائل فون میں مصروف رہتے ہیں لیکن آپس میں بات کرنے کا وقت نہیں نکالتے۔ خاندان، دوستوں اور معاشرتی تعلقات کی مضبوطی کسی بھی صحت مند معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے، اس لیے ٹیکنالوجی کو انسانی رشتوں کا متبادل نہیں بلکہ معاون بنانا چاہیے۔ پاکستان جیسے نوجوان آبادی والے ملک کے لیے جنریشن زی ایک بہت بڑا سرمایہ ہے۔ اگر حکومت، تعلیمی ادارے، والدین اور نجی شعبہ اس نسل کو معیاری تعلیم، جدید مہارتیں، تحقیق کے مواقع اور مثبت رہنمائی فراہم کریں تو یہی نوجوان ملک کی معاشی ترقی، سائنسی تحقیق اور عالمی سطح پر بہتر شناخت کا سبب بن سکتے ہیں۔ لیکن اگر ان کی توانائیاں بے مقصد تفریح، غلط معلومات اور غیر ذمہ دارانہ ڈیجیٹل استعمال میں ضائع ہوتی رہیں تو یہ ایک قیمتی انسانی سرمایہ ضائع ہونے کے مترادف ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی تقدیر ان کے نوجوان لکھتے ہیں۔ آج کی جنریشن زی بھی اسی ذمہ داری کی امین ہے۔ اس کے ہاتھ میں وہ ٹیکنالوجی ہے جو انسانیت کی خدمت بھی کر سکتی ہے اور نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔ فیصلہ نوجوانوں نے خود کرنا ہے کہ وہ موبائل فون کو صرف تفریح کا ذریعہ بناتے ہیں یا علم، تحقیق، اختراع اور ترقی کا وسیلہ۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اس نسل پر تنقید کرنے کے بجائے اس کی رہنمائی کریں، اس کی صلاحیتوں پر اعتماد کریں اور اسے وہ ماحول فراہم کریں جہاں علم، کردار، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی ایک ساتھ پروان چڑھ سکیں۔ یہی راستہ پاکستان سمیت پوری دنیا کے روشن مستقبل کی ضمانت column by بن سکتا ہے۔
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.