• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
SB2425
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

مجھ پہ کیوں بند کرتے ہو پانی! تحریر: انجم صحرائی

webmaster by webmaster
جون 25, 2026
in کالم
0
مجھ پہ کیوں بند کرتے ہو پانی!  تحریر:  انجم صحرائی

بچپن میں محرم بہت آسان ہوا کرتا تھا، پرامن اور پرسکون۔ نہ سنی شیعہ کی اتنی تفریق تھی اور نہ ہی فروعی اختلافات کے اتنے زیادہ مسند نشیں تھے۔ آپس کا بھائی چارہ بہت تھا اور سچ تو یہ ہے کہ محرم کے دنوں میں سبھی غمِ حسینؑ مل کر مناتے تھے۔ ہم نے مجلسیں بھی بہت سنیں، ذوالجناح بھی بہت دیکھا، سبیلوں پر میٹھا پانی اور میٹھا دودھ بھی بہت پیا اور نیاز بھی خوب کھائی۔ عاشورہ کے دن ہم بچوں کی ایک غیر تحریری ڈیوٹی ہوا کرتی تھی کہ تعزیہ کی مجلس سے لے کر جلوس کے اختتام تک ساتھ رہنا اور پھر نیاز کھا کر گھر لوٹنا۔

صحافت میں آئے تب بھی محرم ایسے ہی گزرتا۔ یومِ عاشور کی صبح لیّہ شہر کے حساس ترین پوائنٹ ‘مسجد کرنال والی’ کے سامنے پہنچ جاتے۔ وہاں ساری انتظامیہ، جملہ اراکینِ امن کمیٹی اور صحافی حضرات بھی موجود ہوتے تھے۔ انتہائی تناؤ کی صورتِ حال ہوتی؛ انتظامیہ چاہتی کہ جلوس وقتِ مقررہ پر گزر جائے جبکہ دوسری طرف سے بہت سے جذباتی ماتم داروں کی خواہش اس کے برعکس ہوتی۔ اس موقع پر اراکینِ امن کمیٹی کی ذمہ داری بڑھ جاتی اور عثمان خان، مہر اقبال سمرا، نثار عادل , اسحاق رحمی اور دیگر حضرات زیادہ متحرک ہو جاتے۔خیریت اور امن سے مرکزی جلوس گزرنے کے بعد ضلعی افسران، امن کمیٹی کے ممبران اور جملہ صحافی مرحوم چوہدری سرور کی میزبانی سے لطف اندوز ہوتے۔ اب نہ چوہدری سرور جیسے میزبان رہے اور نہ ہم جیسے مہمان۔
اب وہ باتیں کہاں! اب تو محرم کی مجلسیں اور نوحے سننے کے لیے یوٹیوب ہی ایک ذریعہ رہ گیا ہے، کیونکہ نہ اب وہ بچپن رہا، نہ جوانی اور نہ ہی اب ایسے حالات رہے کہ باہر جا کر مجلس سن سکیں اور جلوس دیکھ سکیں۔

کل یوٹیوب پر اسکرولنگ کرتے ہوئے اچانک ایک ویڈیو پر نظر ٹھہر گئی۔ ویڈیو میں دو انتہائی خوبصورت اور معصوم بچے پورے والہانہ پن سے، اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے ماتم کرتے ہوئے ایک نوحہ پڑھ رہے تھے:
"مجھ پہ کیوں بند کرتے ہو پانی،
کیا میں زہراؑ کا جایا نہیں ہوں؟”
ان بچوں کی آواز میں موجود سوز اور چہرے پر معصومیت کا وہ تاثر تھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے آنکھیں نم ہو گئیں۔ دل تڑپ اٹھا کہ چودہ سو سال پہلے کربلا کے میدان میں بھی تو ایسے ہی معصوم بچے تھے، جو پانی کی ایک ایک بوند کو ترس گئے تھے۔
اردو مرثیہ نگاری کے امام، میر ببر علی انیس نے بھی اپنے ایک شعر
"جانتے ہیں کہ محمدؐ کا نواسا ہوں میں
پانی دیتے نہیں دو روز کا پیاسا ہوں میں”
میں کربلا کی اسی پیاس اور بے بسی کو موضوع بنایا تھا.. یہ انسانیت کی تاریخ کا وہ سب سے بڑا سوال ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ مدہم ہونے کے بجائے مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ہم کہہ سکتے کہ کربلا انسانیت کا درد مشترکہ ہے اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ معصوم بچوں اور پیاسوں پر پانی بند کرنا بدترین ظلم اور جنگی جرم تھا۔کربلا کی یہ پیاس تاریخ کے ہر اس موڑ پر زندہ ہو جاتی ہے جہاں طاقتور معصوموں کا حق چھینتا ہے۔

آج جب ہم اکیسویں صدی کے ترقی یافتہ دور میں غزہ کی پٹی پر نظر ڈالتے ہیں، تو کربلا کا منظر نامہ ایک بار پھر ہماری آنکھوں کے سامنے مجسم ہو جاتا ہے۔ مہذب دنیا کے دعویداروں کے سامنے لاکھوں معصوم بچوں، عورتوں اور ہسپتالوں کے مریضوں پر پانی، خوراک اور ادویات بند کر دی جاتی ہیں، اور دنیا خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔ یہ موجودہ دور کی وہ یزیدی سوچ ہے جو انسانیت کو گھٹنوں کے بل لانے کے لیے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرتی ہے۔ آج ہمارا ازلی دشمن بھارت بھی پانی بند کرنے کی گیدر دھمکیاں دینے کے شرمناک یزیدی رویوں پر عمل پیرا ہے

کربلا کا سچا پیغام یہی ہے کہ ہم پانی بند کرنے والے ظالموں کی سوچ کو پہچانیں، خواہ وہ ماضی میں ہوں یا آج کے دور میں، اور پیاس برداشت کر کے بھی حق کا ساتھ دینے والے حسینی کردار کو اپنے اندر زندہ کریں۔ چودہ سو سال پہلے بھی جیت پیاسوں کی ہوئی تھی، اور آج بھی تاریخ کا سلام صرف اور صرف ان معصوم پیاسوں کے لیے ہے۔

Post Views: 154
Tags: column by anjum sehrai
Previous Post

پنجاب کونسل آف دی آرٹس ڈیرہ غازی خان کے زیرِ اہتمام محفلِ سلام و منقبت

Next Post

صبح پا کستان

Next Post
صبح پا کستان

صبح پا کستان

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب
قومی/ بین الاقوامی خبریں

دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب

by webmaster
اگست 2, 2026
0

لاہور: پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق...

Read moreDetails
نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

جولائی 19, 2026
آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

جولائی 11, 2026
سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم  ?

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم ?

جولائی 8, 2026
حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے،  سلمان اکرم راجا

حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے، سلمان اکرم راجا

جولائی 3, 2026
بچپن میں محرم بہت آسان ہوا کرتا تھا، پرامن اور پرسکون۔ نہ سنی شیعہ کی اتنی تفریق تھی اور نہ ہی فروعی اختلافات کے اتنے زیادہ مسند نشیں تھے۔ آپس کا بھائی چارہ بہت تھا اور سچ تو یہ ہے کہ محرم کے دنوں میں سبھی غمِ حسینؑ مل کر مناتے تھے۔ ہم نے مجلسیں بھی بہت سنیں، ذوالجناح بھی بہت دیکھا، سبیلوں پر میٹھا پانی اور میٹھا دودھ بھی بہت پیا اور نیاز بھی خوب کھائی۔ عاشورہ کے دن ہم بچوں کی ایک غیر تحریری ڈیوٹی ہوا کرتی تھی کہ تعزیہ کی مجلس سے لے کر جلوس کے اختتام تک ساتھ رہنا اور پھر نیاز کھا کر گھر لوٹنا۔ صحافت میں آئے تب بھی محرم ایسے ہی گزرتا۔ یومِ عاشور کی صبح لیّہ شہر کے حساس ترین پوائنٹ 'مسجد کرنال والی' کے سامنے پہنچ جاتے۔ وہاں ساری انتظامیہ، جملہ اراکینِ امن کمیٹی اور صحافی حضرات بھی موجود ہوتے تھے۔ انتہائی تناؤ کی صورتِ حال ہوتی؛ انتظامیہ چاہتی کہ جلوس وقتِ مقررہ پر گزر جائے جبکہ دوسری طرف سے بہت سے جذباتی ماتم داروں کی خواہش اس کے برعکس ہوتی۔ اس موقع پر اراکینِ امن کمیٹی کی ذمہ داری بڑھ جاتی اور عثمان خان، مہر اقبال سمرا، نثار عادل , اسحاق رحمی اور دیگر حضرات زیادہ متحرک ہو جاتے۔خیریت اور امن سے مرکزی جلوس گزرنے کے بعد ضلعی افسران، امن کمیٹی کے ممبران اور جملہ صحافی مرحوم چوہدری سرور کی میزبانی سے لطف اندوز ہوتے۔ اب نہ چوہدری سرور جیسے میزبان رہے اور نہ ہم جیسے مہمان۔ اب وہ باتیں کہاں! اب تو محرم کی مجلسیں اور نوحے سننے کے لیے یوٹیوب ہی ایک ذریعہ رہ گیا ہے، کیونکہ نہ اب وہ بچپن رہا، نہ جوانی اور نہ ہی اب ایسے حالات رہے کہ باہر جا کر مجلس سن سکیں اور جلوس دیکھ سکیں۔ کل یوٹیوب پر اسکرولنگ کرتے ہوئے اچانک ایک ویڈیو پر نظر ٹھہر گئی۔ ویڈیو میں دو انتہائی خوبصورت اور معصوم بچے پورے والہانہ پن سے، اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے ماتم کرتے ہوئے ایک نوحہ پڑھ رہے تھے: "مجھ پہ کیوں بند کرتے ہو پانی، کیا میں زہراؑ کا جایا نہیں ہوں؟" ان بچوں کی آواز میں موجود سوز اور چہرے پر معصومیت کا وہ تاثر تھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے آنکھیں نم ہو گئیں۔ دل تڑپ اٹھا کہ چودہ سو سال پہلے کربلا کے میدان میں بھی تو ایسے ہی معصوم بچے تھے، جو پانی کی ایک ایک بوند کو ترس گئے تھے۔ اردو مرثیہ نگاری کے امام، میر ببر علی انیس نے بھی اپنے ایک شعر "جانتے ہیں کہ محمدؐ کا نواسا ہوں میں پانی دیتے نہیں دو روز کا پیاسا ہوں میں" میں کربلا کی اسی پیاس اور بے بسی کو موضوع بنایا تھا.. یہ انسانیت کی تاریخ کا وہ سب سے بڑا سوال ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ مدہم ہونے کے بجائے مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ہم کہہ سکتے کہ کربلا انسانیت کا درد مشترکہ ہے اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ معصوم بچوں اور پیاسوں پر پانی بند کرنا بدترین ظلم اور جنگی جرم تھا۔کربلا کی یہ پیاس تاریخ کے ہر اس موڑ پر زندہ ہو جاتی ہے جہاں طاقتور معصوموں کا حق چھینتا ہے۔ آج جب ہم اکیسویں صدی کے ترقی یافتہ دور میں غزہ کی پٹی پر نظر ڈالتے ہیں، تو کربلا کا منظر نامہ ایک بار پھر ہماری آنکھوں کے سامنے مجسم ہو جاتا ہے۔ مہذب دنیا کے دعویداروں کے سامنے لاکھوں معصوم بچوں، عورتوں اور ہسپتالوں کے مریضوں پر پانی، خوراک اور ادویات بند کر دی جاتی ہیں، اور دنیا خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔ یہ موجودہ دور کی وہ یزیدی سوچ ہے جو انسانیت کو گھٹنوں کے بل لانے کے لیے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرتی ہے۔ آج ہمارا ازلی دشمن بھارت بھی پانی بند کرنے کی گیدر دھمکیاں دینے کے شرمناک یزیدی رویوں پر عمل پیرا ہے کربلا کا سچا پیغام یہی ہے کہ ہم پانی بند کرنے والے ظالموں کی سوچ کو پہچانیں، خواہ وہ ماضی میں ہوں یا آج کے دور میں، اور پیاس برداشت کر کے بھی حق کا ساتھ دینے والے حسینی کردار کو اپنے اندر زندہ کریں۔ چودہ سو سال پہلے بھی جیت پیاسوں کی ہوئی تھی، اور آج بھی تاریخ کا سلام صرف اور صرف ان معصوم پیاسوں کے لیے ہے۔
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.