بچپن میں محرم بہت آسان ہوا کرتا تھا، پرامن اور پرسکون۔ نہ سنی شیعہ کی اتنی تفریق تھی اور نہ ہی فروعی اختلافات کے اتنے زیادہ مسند نشیں تھے۔ آپس کا بھائی چارہ بہت تھا اور سچ تو یہ ہے کہ محرم کے دنوں میں سبھی غمِ حسینؑ مل کر مناتے تھے۔ ہم نے مجلسیں بھی بہت سنیں، ذوالجناح بھی بہت دیکھا، سبیلوں پر میٹھا پانی اور میٹھا دودھ بھی بہت پیا اور نیاز بھی خوب کھائی۔ عاشورہ کے دن ہم بچوں کی ایک غیر تحریری ڈیوٹی ہوا کرتی تھی کہ تعزیہ کی مجلس سے لے کر جلوس کے اختتام تک ساتھ رہنا اور پھر نیاز کھا کر گھر لوٹنا۔
صحافت میں آئے تب بھی محرم ایسے ہی گزرتا۔ یومِ عاشور کی صبح لیّہ شہر کے حساس ترین پوائنٹ ‘مسجد کرنال والی’ کے سامنے پہنچ جاتے۔ وہاں ساری انتظامیہ، جملہ اراکینِ امن کمیٹی اور صحافی حضرات بھی موجود ہوتے تھے۔ انتہائی تناؤ کی صورتِ حال ہوتی؛ انتظامیہ چاہتی کہ جلوس وقتِ مقررہ پر گزر جائے جبکہ دوسری طرف سے بہت سے جذباتی ماتم داروں کی خواہش اس کے برعکس ہوتی۔ اس موقع پر اراکینِ امن کمیٹی کی ذمہ داری بڑھ جاتی اور عثمان خان، مہر اقبال سمرا، نثار عادل , اسحاق رحمی اور دیگر حضرات زیادہ متحرک ہو جاتے۔خیریت اور امن سے مرکزی جلوس گزرنے کے بعد ضلعی افسران، امن کمیٹی کے ممبران اور جملہ صحافی مرحوم چوہدری سرور کی میزبانی سے لطف اندوز ہوتے۔ اب نہ چوہدری سرور جیسے میزبان رہے اور نہ ہم جیسے مہمان۔
اب وہ باتیں کہاں! اب تو محرم کی مجلسیں اور نوحے سننے کے لیے یوٹیوب ہی ایک ذریعہ رہ گیا ہے، کیونکہ نہ اب وہ بچپن رہا، نہ جوانی اور نہ ہی اب ایسے حالات رہے کہ باہر جا کر مجلس سن سکیں اور جلوس دیکھ سکیں۔
کل یوٹیوب پر اسکرولنگ کرتے ہوئے اچانک ایک ویڈیو پر نظر ٹھہر گئی۔ ویڈیو میں دو انتہائی خوبصورت اور معصوم بچے پورے والہانہ پن سے، اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے ماتم کرتے ہوئے ایک نوحہ پڑھ رہے تھے:
"مجھ پہ کیوں بند کرتے ہو پانی،
کیا میں زہراؑ کا جایا نہیں ہوں؟”
ان بچوں کی آواز میں موجود سوز اور چہرے پر معصومیت کا وہ تاثر تھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے آنکھیں نم ہو گئیں۔ دل تڑپ اٹھا کہ چودہ سو سال پہلے کربلا کے میدان میں بھی تو ایسے ہی معصوم بچے تھے، جو پانی کی ایک ایک بوند کو ترس گئے تھے۔
اردو مرثیہ نگاری کے امام، میر ببر علی انیس نے بھی اپنے ایک شعر
"جانتے ہیں کہ محمدؐ کا نواسا ہوں میں
پانی دیتے نہیں دو روز کا پیاسا ہوں میں”
میں کربلا کی اسی پیاس اور بے بسی کو موضوع بنایا تھا.. یہ انسانیت کی تاریخ کا وہ سب سے بڑا سوال ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ مدہم ہونے کے بجائے مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ہم کہہ سکتے کہ کربلا انسانیت کا درد مشترکہ ہے اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ معصوم بچوں اور پیاسوں پر پانی بند کرنا بدترین ظلم اور جنگی جرم تھا۔کربلا کی یہ پیاس تاریخ کے ہر اس موڑ پر زندہ ہو جاتی ہے جہاں طاقتور معصوموں کا حق چھینتا ہے۔
آج جب ہم اکیسویں صدی کے ترقی یافتہ دور میں غزہ کی پٹی پر نظر ڈالتے ہیں، تو کربلا کا منظر نامہ ایک بار پھر ہماری آنکھوں کے سامنے مجسم ہو جاتا ہے۔ مہذب دنیا کے دعویداروں کے سامنے لاکھوں معصوم بچوں، عورتوں اور ہسپتالوں کے مریضوں پر پانی، خوراک اور ادویات بند کر دی جاتی ہیں، اور دنیا خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔ یہ موجودہ دور کی وہ یزیدی سوچ ہے جو انسانیت کو گھٹنوں کے بل لانے کے لیے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرتی ہے۔ آج ہمارا ازلی دشمن بھارت بھی پانی بند کرنے کی گیدر دھمکیاں دینے کے شرمناک یزیدی رویوں پر عمل پیرا ہے
کربلا کا سچا پیغام یہی ہے کہ ہم پانی بند کرنے والے ظالموں کی سوچ کو پہچانیں، خواہ وہ ماضی میں ہوں یا آج کے دور میں، اور پیاس برداشت کر کے بھی حق کا ساتھ دینے والے حسینی کردار کو اپنے اندر زندہ کریں۔ چودہ سو سال پہلے بھی جیت پیاسوں کی ہوئی تھی، اور آج بھی تاریخ کا سلام صرف اور صرف ان معصوم پیاسوں کے لیے ہے۔








