• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

عذاب لمحے، شتاب لمحے .., تحریر: انجم صحرائی

webmaster by webmaster
جون 21, 2026
in کالم
0
عذاب لمحے، شتاب لمحے  .., تحریر: انجم صحرائی

"ہم شہزاد افق کی خصوصی دعوت پر عین وقت پر اکادمی ادبیات کے گیٹ پر پہنچ گئے تھے، مگر ایسا لگتا تھا کہ ابھی میزبان بھی نہیں آئے۔ چوکیدار نے گیٹ کھولتے ہوئے بتایا کہ تقریب کے شرکا اندر ہال میں موجود ہیں۔ ہم نے گاڑی پارک کر کے استقبالیہ سے رجوع کیا تو پتہ چلا کہ بجلی نہیں ہے، جب آئے گی تو ہی ‘ادب، سماج اور انسانیت’ کی ایوارڈ تقریب منعقد ہو سکے گی۔ ایک لکھاری ہونے کے ناطے میں اکادمی سے آشنا تو تھا ہی، لیکن اکادمی ادبیات سے میرا ایک جذباتی تعلق بھی جڑا ہوا ہے۔”
یہ ذکر ہے قریبا اس دور کا جب زندگی مجھ سے میرا کڑا ترین امتحان لے رہی تھی۔سال 2002 میں مجھے یکے بعد دیگرے دو بار ہارٹ سرجری کے تکلیف دہ عمل سے گزرنا پڑا۔ وہ دن میری زندگی کے ایسے ‘عذاب لمحے’ تھے جنہیں میں نے اپنی کتاب ‘شب و روز زندگی’ میں بہت تفصیل سے لکھا ہے۔ انھی دنوں کا یہ واقعہ، جو دو دہائیوں سے زائد وقت گزرنے کے بعد آج اسلام آباد میں اکادمی ادبیات کے دروازے میں داخل ہوتے ہی میری یادوں کے دریچے سے آکر مجھ سے لپٹ گیا، سوچا آپ سے شیئر کروں۔
ہمارے سماج کا یہ ایک تلخ سچ ہے کہ علاقائی صحافتی اور سیاسی کارکن معاشی طور پر ہمیشہ تنگدستی کا شکار رہتے ہیں۔ ان کی آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ نہیں ہوتا۔ میں بھی ایک موثر صحافتی اور سیاسی کارکن ہونے کے باوجود انتہائی مشکلات کے دور سے گزر رہا تھا۔ بوجوہ میرےاخبار صبح پا کستان کا ڈیکلریشن منسوخ ہو چکا تھا ایک کے علاوہ سبھی بچے سکول، کالجز اور یو نیورسٹیز میں زیر تعلیم تھے تعلیمی واجبات، مکان کا کرایہ ، راشن سمیت روز مرہ کے اخراجات غرض ان گنت مشکلات تھیں جن سے میں اور میری فیملی نبرد آزما تھَے لیکن اس کٹھن وقت میں میرا ایک ‘پلس پوائنٹ’ میرے منجھلے بیٹے کا پاک فوج میں بطور افسر منتخب ہونا تھا۔ بیٹے کی اس ملازمت نے ہمیں بہت حوصلہ دیا۔ ایک آرمی آفیسر کا باپ ہونے کے ناطے، سرکار کی طرف سے بہترین طبی سہولیات کے ساتھ میرے دل کا علاج ممکن ہوا، جو اللہ کا خاص فضل تھا۔
علاج تو مفت تھا، لیکن لیّہ سے راولپنڈی جیسے دوسرے شہر جا کر علاج کے لیے ‘مہاجر’ بننا کسی جوکھم سے کم نہ تھا۔ رہائش اور دیگر اخراجات ایک بڑا چیلنج تھے، مگر دوست احباب نے بہت ساتھ دیا اور یہ چیلنج بھی سر ہو گیا۔ انھی دنوں ایک مخلص دوست کے مشورے پر میں نے اپنی معاشی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے اکادمی ادبیات کے چیئرمین کے نام ایک درخواست بھیجی۔ ان دنوں محترم افتخار عارف صاحب اکادمی کے چیئرمین تھے۔
خیر، ہمارا آپریشن تو ہو گیا، لیکن اکادمی کی طرف سے اس خط کا کوئی جواب بظاہر نہ آیا۔ کامیاب علاج کے دو ماہ بعد جب ہم پنڈی سے ٹرین کے ذریعے صبح سویرے لیّہ اپنے گھر پہنچے، تو وہاں ایک نیا امتحان ہمارا منتظر تھا۔ کرائے کا مکان، جسے ہم مہینوں پہلے چھوڑ کر گئے تھے، کسی بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہا تھا۔ ہر طرف دھول مٹی کی تہیں جمی تھیں، لیکن سب سے بڑا صدمہ یہ تھا کہ کئی ماہ سے واپڈا کا بل ادا نہ ہونے کے سبب، محکمہ بجلی کا میٹر ہی اتار کر لے گیا تھا۔ ایک مریض جو ابھی ابھی دل کا بڑا آپریشن کروا کر لوٹا ہو، اس کے لیے تپتے ہوئے مکان میں نہ روشنی تھی نہ پانی۔                                                                    ہم سب بہت پریشان، اسی دھول مٹی سے اٹے صحن میں چارپائی پر بیٹھے اندھیرے اور بے بسی کے دور ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ صبح کے نو بجے ہوں گے کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ میں باہر نکلا تو دیکھا کہ سامنے ڈاکیا تھا۔ کہنے لگا: "سر! آپ کا منی آرڈر آیا ہے!”
وہ اکادمی ادبیات والوں کی طرف سے بھیجے گئے دس ہزار روپے تھے۔ آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ اس وقت میری اور میرے خاندان کی جذباتی کیفیت کیا ہوگی! جہاں ہم بالکل لاچار بیٹھے تھے، وہاں غیب سے مدد آ پہنچی۔ اس زمانے میں دس ہزار بڑی معقول رقم تھی ۔ اسی وقت واپڈا کا بل بھی ادا ہو گیا، گھر کا راشن بھی آ گیا اور اس بھوت بنگلے میں ایک بار پھر روشنی اور پانی کا انتظام ہو گیا۔ وہ عذاب لمحہ، پلک جھپکتے میں شتاب لمحے میں بدل گیا۔
آج اتنے سالوں بعد جب میں اکادمی ادبیات گیا، تو میری ملاقات اکادمی کی موجودہ چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف سے ہوئی۔ میں نے اپنی کتاب ‘شب و روز زندگی’ انہیں پیش کی اور ماضی کی ان دھندلی مگر لازوال یادوں کو ان کے ساتھ شیئر کیا۔
یہ نہ بھولنے والے عذاب لمحے اور شتاب لمحے میری شب و روز زندگی کا وہ حصہ ہیں جنہوں نے مجھے ایک نیا انسان بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج میں اور میرا پورا خاندان "ہیلپ لائن ودانجم صحرائی” کے تحت معاشرے کے کچلے ہوئے اور مجبور لوگوں کی مدد کر کے، زندگی کے انھی کٹھن لمحوں کا قرض اتارنے کی مخلصانہ کوششوں میں مصروف ہیں۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جب سب راستے بند نظر آتے ہیں، تو کوئی نہ کوئی وسیلہ بن کر ضرور آتا ہے

 

Post Views: 25
Tags: column by anjum sehrai
Previous Post

محرم الحرام کے حوالے سے ریجنل پولیس آفیسر ڈیرہ غازی خان محمد اظہر اکرم اورکمشنر اشفاق احمد چوہدری کا دورہ لیہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

عوامی ریلیف ، وزیر اعظم نے  پٹرول کی قیمت میں 74 روپے فی لٹر کمی کا اعلان  کر دیا
قومی/ بین الاقوامی خبریں

عوامی ریلیف ، وزیر اعظم نے پٹرول کی قیمت میں 74 روپے فی لٹر کمی کا اعلان کر دیا

by webmaster
جون 20, 2026
0

لاہور ۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عوام کیلئے بڑے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں 74...

Read moreDetails
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر  ملتان میں کھلی کچہری،چیئرپرسن وزیر اعلیٰ شکایات سیل صائمہ فاروق  نے شہریوں کی شکایات سنیں

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر ملتان میں کھلی کچہری،چیئرپرسن وزیر اعلیٰ شکایات سیل صائمہ فاروق نے شہریوں کی شکایات سنیں

جون 14, 2026
اس بجٹ میں غریب کے لیے کچھ بھی نہیں: بیرسٹر گوہر

اس بجٹ میں غریب کے لیے کچھ بھی نہیں: بیرسٹر گوہر

جون 13, 2026
قومی اسمبلی کا اجلاس 10 جون بروز بدھ شام 5 بجے اسلام آباد میں ہوگا

قومی اسمبلی کا اجلاس 10 جون بروز بدھ شام 5 بجے اسلام آباد میں ہوگا

جون 10, 2026
کوئٹہ  ،تیزاب گردی، سول اسپتال میں خاتون ڈاکٹرپر تیزاب پھینکنے والاملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ، خاتون ڈاکٹر شدید زخمی

کوئٹہ ،تیزاب گردی، سول اسپتال میں خاتون ڈاکٹرپر تیزاب پھینکنے والاملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ، خاتون ڈاکٹر شدید زخمی

جون 7, 2026
"ہم شہزاد افق کی خصوصی دعوت پر عین وقت پر اکادمی ادبیات کے گیٹ پر پہنچ گئے تھے، مگر ایسا لگتا تھا کہ ابھی میزبان بھی نہیں آئے۔ چوکیدار نے گیٹ کھولتے ہوئے بتایا کہ تقریب کے شرکا اندر ہال میں موجود ہیں۔ ہم نے گاڑی پارک کر کے استقبالیہ سے رجوع کیا تو پتہ چلا کہ بجلی نہیں ہے، جب آئے گی تو ہی 'ادب، سماج اور انسانیت' کی ایوارڈ تقریب منعقد ہو سکے گی۔ ایک لکھاری ہونے کے ناطے میں اکادمی سے آشنا تو تھا ہی، لیکن اکادمی ادبیات سے میرا ایک جذباتی تعلق بھی جڑا ہوا ہے۔" یہ ذکر ہے قریبا اس دور کا جب زندگی مجھ سے میرا کڑا ترین امتحان لے رہی تھی۔سال 2002 میں مجھے یکے بعد دیگرے دو بار ہارٹ سرجری کے تکلیف دہ عمل سے گزرنا پڑا۔ وہ دن میری زندگی کے ایسے 'عذاب لمحے' تھے جنہیں میں نے اپنی کتاب 'شب و روز زندگی' میں بہت تفصیل سے لکھا ہے۔ انھی دنوں کا یہ واقعہ، جو دو دہائیوں سے زائد وقت گزرنے کے بعد آج اسلام آباد میں اکادمی ادبیات کے دروازے میں داخل ہوتے ہی میری یادوں کے دریچے سے آکر مجھ سے لپٹ گیا، سوچا آپ سے شیئر کروں۔ ہمارے سماج کا یہ ایک تلخ سچ ہے کہ علاقائی صحافتی اور سیاسی کارکن معاشی طور پر ہمیشہ تنگدستی کا شکار رہتے ہیں۔ ان کی آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ نہیں ہوتا۔ میں بھی ایک موثر صحافتی اور سیاسی کارکن ہونے کے باوجود انتہائی مشکلات کے دور سے گزر رہا تھا۔ بوجوہ میرےاخبار صبح پا کستان کا ڈیکلریشن منسوخ ہو چکا تھا ایک کے علاوہ سبھی بچے سکول، کالجز اور یو نیورسٹیز میں زیر تعلیم تھے تعلیمی واجبات، مکان کا کرایہ ، راشن سمیت روز مرہ کے اخراجات غرض ان گنت مشکلات تھیں جن سے میں اور میری فیملی نبرد آزما تھَے لیکن اس کٹھن وقت میں میرا ایک 'پلس پوائنٹ' میرے منجھلے بیٹے کا پاک فوج میں بطور افسر منتخب ہونا تھا۔ بیٹے کی اس ملازمت نے ہمیں بہت حوصلہ دیا۔ ایک آرمی آفیسر کا باپ ہونے کے ناطے، سرکار کی طرف سے بہترین طبی سہولیات کے ساتھ میرے دل کا علاج ممکن ہوا، جو اللہ کا خاص فضل تھا۔ علاج تو مفت تھا، لیکن لیّہ سے راولپنڈی جیسے دوسرے شہر جا کر علاج کے لیے 'مہاجر' بننا کسی جوکھم سے کم نہ تھا۔ رہائش اور دیگر اخراجات ایک بڑا چیلنج تھے، مگر دوست احباب نے بہت ساتھ دیا اور یہ چیلنج بھی سر ہو گیا۔ انھی دنوں ایک مخلص دوست کے مشورے پر میں نے اپنی معاشی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے اکادمی ادبیات کے چیئرمین کے نام ایک درخواست بھیجی۔ ان دنوں محترم افتخار عارف صاحب اکادمی کے چیئرمین تھے۔ خیر، ہمارا آپریشن تو ہو گیا، لیکن اکادمی کی طرف سے اس خط کا کوئی جواب بظاہر نہ آیا۔ کامیاب علاج کے دو ماہ بعد جب ہم پنڈی سے ٹرین کے ذریعے صبح سویرے لیّہ اپنے گھر پہنچے، تو وہاں ایک نیا امتحان ہمارا منتظر تھا۔ کرائے کا مکان، جسے ہم مہینوں پہلے چھوڑ کر گئے تھے، کسی بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہا تھا۔ ہر طرف دھول مٹی کی تہیں جمی تھیں، لیکن سب سے بڑا صدمہ یہ تھا کہ کئی ماہ سے واپڈا کا بل ادا نہ ہونے کے سبب، محکمہ بجلی کا میٹر ہی اتار کر لے گیا تھا۔ ایک مریض جو ابھی ابھی دل کا بڑا آپریشن کروا کر لوٹا ہو، اس کے لیے تپتے ہوئے مکان میں نہ روشنی تھی نہ پانی۔                                                                    ہم سب بہت پریشان، اسی دھول مٹی سے اٹے صحن میں چارپائی پر بیٹھے اندھیرے اور بے بسی کے دور ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ صبح کے نو بجے ہوں گے کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ میں باہر نکلا تو دیکھا کہ سامنے ڈاکیا تھا۔ کہنے لگا: "سر! آپ کا منی آرڈر آیا ہے!" وہ اکادمی ادبیات والوں کی طرف سے بھیجے گئے دس ہزار روپے تھے۔ آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ اس وقت میری اور میرے خاندان کی جذباتی کیفیت کیا ہوگی! جہاں ہم بالکل لاچار بیٹھے تھے، وہاں غیب سے مدد آ پہنچی۔ اس زمانے میں دس ہزار بڑی معقول رقم تھی ۔ اسی وقت واپڈا کا بل بھی ادا ہو گیا، گھر کا راشن بھی آ گیا اور اس بھوت بنگلے میں ایک بار پھر روشنی اور پانی کا انتظام ہو گیا۔ وہ عذاب لمحہ، پلک جھپکتے میں شتاب لمحے میں بدل گیا۔ آج اتنے سالوں بعد جب میں اکادمی ادبیات گیا، تو میری ملاقات اکادمی کی موجودہ چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف سے ہوئی۔ میں نے اپنی کتاب 'شب و روز زندگی' انہیں پیش کی اور ماضی کی ان دھندلی مگر لازوال یادوں کو ان کے ساتھ شیئر کیا۔ یہ نہ بھولنے والے عذاب لمحے اور شتاب لمحے میری شب و روز زندگی کا وہ حصہ ہیں جنہوں نے مجھے ایک نیا انسان بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج میں اور میرا پورا خاندان "ہیلپ لائن ودانجم صحرائی" کے تحت معاشرے کے کچلے ہوئے اور مجبور لوگوں کی مدد کر کے، زندگی کے انھی کٹھن لمحوں کا قرض اتارنے کی مخلصانہ کوششوں میں مصروف ہیں۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جب سب راستے بند نظر آتے ہیں، تو کوئی نہ کوئی وسیلہ بن کر ضرور آتا ہے  
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.