"ہم شہزاد افق کی خصوصی دعوت پر عین وقت پر اکادمی ادبیات کے گیٹ پر پہنچ گئے تھے، مگر ایسا لگتا تھا کہ ابھی میزبان بھی نہیں آئے۔ چوکیدار نے گیٹ کھولتے ہوئے بتایا کہ تقریب کے شرکا اندر ہال میں موجود ہیں۔ ہم نے گاڑی پارک کر کے استقبالیہ سے رجوع کیا تو پتہ چلا کہ بجلی نہیں ہے، جب آئے گی تو ہی ‘ادب، سماج اور انسانیت’ کی ایوارڈ تقریب منعقد ہو سکے گی۔ ایک لکھاری ہونے کے ناطے میں اکادمی سے آشنا تو تھا ہی، لیکن اکادمی ادبیات سے میرا ایک جذباتی تعلق بھی جڑا ہوا ہے۔”
یہ ذکر ہے قریبا اس دور کا جب زندگی مجھ سے میرا کڑا ترین امتحان لے رہی تھی۔سال 2002 میں مجھے یکے بعد دیگرے دو بار ہارٹ سرجری کے تکلیف دہ عمل سے گزرنا پڑا۔ وہ دن میری زندگی کے ایسے ‘عذاب لمحے’ تھے جنہیں میں نے اپنی کتاب ‘شب و روز زندگی’ میں بہت تفصیل سے لکھا ہے۔ انھی دنوں کا یہ واقعہ، جو دو دہائیوں سے زائد وقت گزرنے کے بعد آج اسلام آباد میں اکادمی ادبیات کے دروازے میں داخل ہوتے ہی میری یادوں کے دریچے سے آکر مجھ سے لپٹ گیا، سوچا آپ سے شیئر کروں۔
ہمارے سماج کا یہ ایک تلخ سچ ہے کہ علاقائی صحافتی اور سیاسی کارکن معاشی طور پر ہمیشہ تنگدستی کا شکار رہتے ہیں۔ ان کی آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ نہیں ہوتا۔ میں بھی ایک موثر صحافتی اور سیاسی کارکن ہونے کے باوجود انتہائی مشکلات کے دور سے گزر رہا تھا۔ بوجوہ میرےاخبار صبح پا کستان کا ڈیکلریشن منسوخ ہو چکا تھا ایک کے علاوہ سبھی بچے سکول، کالجز اور یو نیورسٹیز میں زیر تعلیم تھے تعلیمی واجبات، مکان کا کرایہ ، راشن سمیت روز مرہ کے اخراجات غرض ان گنت مشکلات تھیں جن سے میں اور میری فیملی نبرد آزما تھَے لیکن اس کٹھن وقت میں میرا ایک ‘پلس پوائنٹ’ میرے منجھلے بیٹے کا پاک فوج میں بطور افسر منتخب ہونا تھا۔ بیٹے کی اس ملازمت نے ہمیں بہت حوصلہ دیا۔ ایک آرمی آفیسر کا باپ ہونے کے ناطے، سرکار کی طرف سے بہترین طبی سہولیات کے ساتھ میرے دل کا علاج ممکن ہوا، جو اللہ کا خاص فضل تھا۔
علاج تو مفت تھا، لیکن لیّہ سے راولپنڈی جیسے دوسرے شہر جا کر علاج کے لیے ‘مہاجر’ بننا کسی جوکھم سے کم نہ تھا۔ رہائش اور دیگر اخراجات ایک بڑا چیلنج تھے، مگر دوست احباب نے بہت ساتھ دیا اور یہ چیلنج بھی سر ہو گیا۔ انھی دنوں ایک مخلص دوست کے مشورے پر میں نے اپنی معاشی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے اکادمی ادبیات کے چیئرمین کے نام ایک درخواست بھیجی۔ ان دنوں محترم افتخار عارف صاحب اکادمی کے چیئرمین تھے۔
خیر، ہمارا آپریشن تو ہو گیا، لیکن اکادمی کی طرف سے اس خط کا کوئی جواب بظاہر نہ آیا۔ کامیاب علاج کے دو ماہ بعد جب ہم پنڈی سے ٹرین کے ذریعے صبح سویرے لیّہ اپنے گھر پہنچے، تو وہاں ایک نیا امتحان ہمارا منتظر تھا۔ کرائے کا مکان، جسے ہم مہینوں پہلے چھوڑ کر گئے تھے، کسی بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہا تھا۔ ہر طرف دھول مٹی کی تہیں جمی تھیں، لیکن سب سے بڑا صدمہ یہ تھا کہ کئی ماہ سے واپڈا کا بل ادا نہ ہونے کے سبب، محکمہ بجلی کا میٹر ہی اتار کر لے گیا تھا۔ ایک مریض جو ابھی ابھی دل کا بڑا آپریشن کروا کر لوٹا ہو، اس کے لیے تپتے ہوئے مکان میں نہ روشنی تھی نہ پانی۔ ہم سب بہت پریشان، اسی دھول مٹی سے اٹے صحن میں چارپائی پر بیٹھے اندھیرے اور بے بسی کے دور ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ صبح کے نو بجے ہوں گے کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ میں باہر نکلا تو دیکھا کہ سامنے ڈاکیا تھا۔ کہنے لگا: "سر! آپ کا منی آرڈر آیا ہے!”
وہ اکادمی ادبیات والوں کی طرف سے بھیجے گئے دس ہزار روپے تھے۔ آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ اس وقت میری اور میرے خاندان کی جذباتی کیفیت کیا ہوگی! جہاں ہم بالکل لاچار بیٹھے تھے، وہاں غیب سے مدد آ پہنچی۔ اس زمانے میں دس ہزار بڑی معقول رقم تھی ۔ اسی وقت واپڈا کا بل بھی ادا ہو گیا، گھر کا راشن بھی آ گیا اور اس بھوت بنگلے میں ایک بار پھر روشنی اور پانی کا انتظام ہو گیا۔ وہ عذاب لمحہ، پلک جھپکتے میں شتاب لمحے میں بدل گیا۔
آج اتنے سالوں بعد جب میں اکادمی ادبیات گیا، تو میری ملاقات اکادمی کی موجودہ چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف سے ہوئی۔ میں نے اپنی کتاب ‘شب و روز زندگی’ انہیں پیش کی اور ماضی کی ان دھندلی مگر لازوال یادوں کو ان کے ساتھ شیئر کیا۔
یہ نہ بھولنے والے عذاب لمحے اور شتاب لمحے میری شب و روز زندگی کا وہ حصہ ہیں جنہوں نے مجھے ایک نیا انسان بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج میں اور میرا پورا خاندان "ہیلپ لائن ودانجم صحرائی” کے تحت معاشرے کے کچلے ہوئے اور مجبور لوگوں کی مدد کر کے، زندگی کے انھی کٹھن لمحوں کا قرض اتارنے کی مخلصانہ کوششوں میں مصروف ہیں۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جب سب راستے بند نظر آتے ہیں، تو کوئی نہ کوئی وسیلہ بن کر ضرور آتا ہے






