• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

کشمیر شہ رگ , پاکستان لہو لہو …. انجم صحرائی

webmaster by webmaster
جون 10, 2026
in کالم
0
کشمیر شہ رگ  , پاکستان لہو لہو    ….  انجم صحرائی

بچپن میں ہمارے گھر میں ایک بینڈ کا ریڈیو ہوا کرتا تھا۔ اس ریڈیو پر ابا رات کو بی بی سی (BBC) پر خبریں سنتے تھے۔ سوئی گھماتے ہوئے آواز آتی: ‘وطن ہمارا آزاد کشمیر’۔ یہ نغمہ کانوں کو بہت بھلا لگتا تھا۔ کشمیر سے پاکستانیوں کا بہت جذباتی تعلق ہے۔ کہتے ہیں قائدِ اعظم نے فرمایا تھا: ‘کشمیر پاکستان کی شاہ رگ ہے’۔ اور پاکستانی اس شاہ رگ کو ہندو بنیا سے بچاتے بچاتے اپنا گھر تڑوا بیٹھے۔ اگر مسئلہ کشمیر کو درمیان سے نکال دیں، تو پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع ہے کیا؟”
جس کشمیر کو ہندو بنیا سے بچاتے بچاتے پاکستان دو لخت ہو گیا، آج اسی دھرتی کے بے وفا لوگ پاکستان اور پاکستانی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہے ہیں۔
اب کچھ نام نہاد کشمیری پاکستان کی شہہ رگ کو کاٹنا چاہتے ہیں ہندوستان بھی تو یہی چاہتا ہے گزشتہ پون صدی سے ..اس شہہ رگ کو بچانے کے لئے , پاکستان کتنا لہو لہو ہوا ہے ..کچھ اندازہ ہے میر کو ..
اس بات میں کوئی دو راءے نہیں کہ اپنے حقو ق و مسائل کو اجا گر کر نے لئے عوام کو پر امن احتجاج کا آئینی حق ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب دو سال قبل کالعدم آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی جانب سے سستا آٹا ، سستی بجلی جیسے بنیادی حقوق کی بنیاد پر تحریک چلائی گئئ پاکستان کا ہر فرد ان مطالبات کے حق میں تھا ،
بظاہر آزاد کشمیر کی اس تحریک کا آغاز خالصتاً عوام کی روزمرہ معاشی ضروریات، جیسے سستے آٹے پر سبسڈی اور بجلی کے سستے ٹیرف کے مطالبات سے ہوا تھا ،حکومتِ پاکستان اور مقامی انتظامیہ نے ان مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے اربوں روپے کے فنڈز جاری کیے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا ، کہتے کہ ھکومت نے ماضی میں اس تحریک کی طرف سے دءے گءے چارٹر آف ڈیمانڈ کے ایک دو کے علاوہ سبھی مطالبات تسلیم کر لئے تھے ، آج پاکستان بھر میں سب سے سستی بجلی آزاد کشمیر کے عوام کو مہیا ہے ۔اس ریلیف کو مہیا کر نے کے لءے حکومت پا کستان اربوں کھربوں کا بجٹ حکومت آزاد کشمیر کو سالانہ فراہم کر رہی ہے ۔
اگلے ایک دو ماہ میں آزاد کشمیر میں انتخابات ہو نے جا رہے ہیں عین اس وقت جب سبھی معروف سیاسی جما عتیں اور عوام الیکشن کی تیاریوں میں مصروف ہیں یہ کمیٹی جس کی قیادت اپنے آپ کو غیر سیاسی کہتی ہے نےاب اپنے معاشی دائرہ کار سے نکل کر اسمبلی کی ۱۲ مہاجر نشستوں کو ختم کرنے جیسے بڑے سیاسی اور آئینی مطالبات کو بنیاد بناکر پر تشدد تحریک شروع کر دی ۔ آزاد کشمیر میں اگلے ماہ عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں، ہونا تو یہ چا ہیے تھا کہ تحریک کی قیادت الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کرتی ، اپنے انتخابی منشور کی بنیاد پر عوام کا اعتماد حاصل کرتی اور پارلیمنٹ میں کامیاب ہو کر اس آئینی و قانونی مسئلہ کا حل تلاش کرتی لیکن اس نے جمہوری راستہ کی بجائےسیاسی بلیک میلنگ ، وطن عزیز پا کستان اوریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کے ساتھ کارکنوں کو منظم کرنے اور پرتشدد احتجاج کی راہ کا انتخاب کیا ۔ اور اس احتجاج نے نام نہاد غیر سیاسی کمیٹی کا اصل چہرہ عوام اور دنیا کے سامنے ننگا کر دیا ۔منظمپر تشدد مظاہروں ،حساس سرکاری اداروں پر لشکر کشی ، وطن عزیز پاکستان اور پا کستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے خلاف ہرزہ رسائی ، جھوٹے الزامات اور پا کستان کو توڑنے کی باتیں ایسا لگتا ہے جیسے یہ کشمیری بھائی نہیں مودی کے تنخواہ دار ہیں ، جو گذژہ سال پا کستان کے ہاتھوں بھارت کی بدترین شکشت کا غصہ نکال رہے ہیں ۔
حکومت آزاد کشمیر نے اس تخریب کار گروپ کو کالعدم قرار دے دیا ، اچھا کیا ۔ دنیا بھر میں ایسا ہی ہوتا ہے ۔مغربی جمہوریتوں (جیسے امریکہ، برطانیہ یا کینیڈا) میں بھی جب کوئی تنظیم معاشی حقوق کے نام پر بنے اور بعد میں ریاست کے خلاف پرتشدد ہو جائے یا وفاق کو توڑنے کی باتیں کرنے لگے، تو وہاں کی حکومتیں بھی ریاست کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کے بینک اکاؤنٹس اور مالی وسائل فوری روک دیتی ہیں ۔ریاستی اداروں پر حملے کی ترغیب دینے یا ہجوم کو اکسانے والی لیڈرشپ کو "امنِ عامہ اور ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے” کے سنگین جرائم کے تحت جیل بھیج دیا جاتا ہے، جیسا کہ امریکی کیپیٹل ہل حملے کے بعد ملوث افراد کے ساتھ کیا گیا ، ہنگامہ آرائی کرنے والے گروہوں کو غیر قانونی قرار دے کر ان کے کسی بھی قسم کے اجتماع پر مکمل پابندی لگا دی جاتی ہے، جیسا کہ حالیہ دنوں میں آزاد کشمیر حکومت نے بھی جے اے اے سی پر پابندی عائد کر کے کیا ہے
مغربی دنیا میں بڑے سے بڑے سیاسی اور علاقائی تنازع کا آخری حل ہمیشہ بیلٹ باکس (ووٹ) کے ذریعے نکالا جاتا ہے۔ چونکہ آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے ان ۱۲ نشستوں کو آئینی تحفظ فراہم کیا ہے، اس لیے انہیں انتظامی طور پر یا سڑکوں پر دباؤ ڈال کر ختم کرنا ناممکن ہے ،
سیاسی اور جمہوری اصولوں کا تقاضا یہی تھا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سڑکوں پر تصادم، پہیہ جام ہڑتالوں اور اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے جولائی کے انتخابات میں بھرپور حصہ لیتی۔ اگر کمیٹی اپنے ہمدرد امیدواروں کو اسمبلی میں جتا کر بھیجتی، تو وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اسمبلی کے اندر دو تہائی اکثریت کے ساتھ ان نشستوں کے خاتمے کا آئینی بل قانونی طریقے سے پیش کر سکتے تھے اور خطے کو جانی و مالی نقصان سے بچایا جا سکتا تھا۔حقوق کی آڑ میں ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے اور اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کی اجازت کسی بھی ترقی یافتہ معاشرے میں نہیں دی جا سکتی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ قانون کے مطابق سخت ایکشن لے کر ریاستی رٹ بحال کرے تاکہ جولائی کے انتخابات پرامن طریقے سے ہو سکیں،مسائل و مطالبات کا پائیدار حل سڑکوں پر گھیراؤ جلاؤ سے نہیں بلکہ پارلیمانی دائرہ کار کے اندر رہ کر ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ہاں ایک اور مطالبہ کہ حکومت، پاکستانی پاسپورٹ پر بیرونِ ملک بیٹھ کر پاکستان اور قومی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی، بدزبانی اور گھٹیا الزام تراشی کرنے والے نام نہاد پاکستانی کشمیریوں کے پاسپورٹ فوری طور پر منسوخ اور ان وطن دشمنوں کے جائیداد واثاثہ جات بحق سرکار ضبط کرے اور ان کے خلاف قومی سلامتی کے سنگین جرائم کے تحت مقدمات درج کر کے انہیں پاکستان لایا جائے اور ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جائے۔

Post Views: 17
Tags: column by anjum sehrai
Previous Post

لیہ ۔ ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن لیّہ کے صدر حیدر کامران چوہدری کے ساتھ ہونے والی غیر قانونی پولیس گردی کی پُرزور الفاظ میں مذمت کرتے ۔۔ عام آدمی

Next Post

صبح پا کستان ، مستقل کالم ،بلا مبا لغہ ۔ کشمیر شہ رگ , پاکستان لہو لہو . تحریر ۔۔انجم صحرائی

Next Post
صبح پا کستان  ، مستقل کالم ،بلا مبا لغہ ۔ کشمیر شہ رگ  , پاکستان لہو لہو  . تحریر ۔۔انجم صحرائی

صبح پا کستان ، مستقل کالم ،بلا مبا لغہ ۔ کشمیر شہ رگ , پاکستان لہو لہو . تحریر ۔۔انجم صحرائی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

قومی اسمبلی کا اجلاس 10 جون بروز بدھ شام 5 بجے اسلام آباد میں ہوگا
قومی/ بین الاقوامی خبریں

قومی اسمبلی کا اجلاس 10 جون بروز بدھ شام 5 بجے اسلام آباد میں ہوگا

by webmaster
جون 10, 2026
0

اسلام آباد ۔صدر مملکت آصف زرداری نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس کل طلب کرلیے ۔اس حوالے سے جاری...

Read moreDetails
کوئٹہ  ،تیزاب گردی، سول اسپتال میں خاتون ڈاکٹرپر تیزاب پھینکنے والاملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ، خاتون ڈاکٹر شدید زخمی

کوئٹہ ،تیزاب گردی، سول اسپتال میں خاتون ڈاکٹرپر تیزاب پھینکنے والاملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ، خاتون ڈاکٹر شدید زخمی

جون 7, 2026
ڈیرہ غازی خان ۔اتحاد بین المسلمین استحکام پاکستان کی ضمانت ہے۔ علماء کرام محراب و منبر سے امن، محبت، رواداری اور اخوت کا پیغام  دیں ۔مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد

ڈیرہ غازی خان ۔اتحاد بین المسلمین استحکام پاکستان کی ضمانت ہے۔ علماء کرام محراب و منبر سے امن، محبت، رواداری اور اخوت کا پیغام دیں ۔مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد

جون 4, 2026
لاہور۔  پنجاب کابینہ نے الیکٹرسٹی ڈیوٹی رولز 2026 کی منظوری دے دی ، گھریلو صارفین کو  ڈیوٹی سے مکمل استثنیٰ حاصل

لاہور۔ پنجاب کابینہ نے الیکٹرسٹی ڈیوٹی رولز 2026 کی منظوری دے دی ، گھریلو صارفین کو ڈیوٹی سے مکمل استثنیٰ حاصل

جون 2, 2026
وزیراعلی کمپلینٹ سیل کی چیئرپرسن بن کر پروٹوکول حاصل کرنے کی کوشش، ملزمہ مہناز سعید گرفتار،مقدمہ درج ،ملزمہ کا تعلق پی ٹی آئی مظفرگڑھ سے بتایا جاتا ہے

وزیراعلی کمپلینٹ سیل کی چیئرپرسن بن کر پروٹوکول حاصل کرنے کی کوشش، ملزمہ مہناز سعید گرفتار،مقدمہ درج ،ملزمہ کا تعلق پی ٹی آئی مظفرگڑھ سے بتایا جاتا ہے

مئی 31, 2026
بچپن میں ہمارے گھر میں ایک بینڈ کا ریڈیو ہوا کرتا تھا۔ اس ریڈیو پر ابا رات کو بی بی سی (BBC) پر خبریں سنتے تھے۔ سوئی گھماتے ہوئے آواز آتی: 'وطن ہمارا آزاد کشمیر'۔ یہ نغمہ کانوں کو بہت بھلا لگتا تھا۔ کشمیر سے پاکستانیوں کا بہت جذباتی تعلق ہے۔ کہتے ہیں قائدِ اعظم نے فرمایا تھا: 'کشمیر پاکستان کی شاہ رگ ہے'۔ اور پاکستانی اس شاہ رگ کو ہندو بنیا سے بچاتے بچاتے اپنا گھر تڑوا بیٹھے۔ اگر مسئلہ کشمیر کو درمیان سے نکال دیں، تو پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع ہے کیا؟" جس کشمیر کو ہندو بنیا سے بچاتے بچاتے پاکستان دو لخت ہو گیا، آج اسی دھرتی کے بے وفا لوگ پاکستان اور پاکستانی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہے ہیں۔ اب کچھ نام نہاد کشمیری پاکستان کی شہہ رگ کو کاٹنا چاہتے ہیں ہندوستان بھی تو یہی چاہتا ہے گزشتہ پون صدی سے ..اس شہہ رگ کو بچانے کے لئے , پاکستان کتنا لہو لہو ہوا ہے ..کچھ اندازہ ہے میر کو .. اس بات میں کوئی دو راءے نہیں کہ اپنے حقو ق و مسائل کو اجا گر کر نے لئے عوام کو پر امن احتجاج کا آئینی حق ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب دو سال قبل کالعدم آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی جانب سے سستا آٹا ، سستی بجلی جیسے بنیادی حقوق کی بنیاد پر تحریک چلائی گئئ پاکستان کا ہر فرد ان مطالبات کے حق میں تھا ، بظاہر آزاد کشمیر کی اس تحریک کا آغاز خالصتاً عوام کی روزمرہ معاشی ضروریات، جیسے سستے آٹے پر سبسڈی اور بجلی کے سستے ٹیرف کے مطالبات سے ہوا تھا ،حکومتِ پاکستان اور مقامی انتظامیہ نے ان مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے اربوں روپے کے فنڈز جاری کیے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا ، کہتے کہ ھکومت نے ماضی میں اس تحریک کی طرف سے دءے گءے چارٹر آف ڈیمانڈ کے ایک دو کے علاوہ سبھی مطالبات تسلیم کر لئے تھے ، آج پاکستان بھر میں سب سے سستی بجلی آزاد کشمیر کے عوام کو مہیا ہے ۔اس ریلیف کو مہیا کر نے کے لءے حکومت پا کستان اربوں کھربوں کا بجٹ حکومت آزاد کشمیر کو سالانہ فراہم کر رہی ہے ۔ اگلے ایک دو ماہ میں آزاد کشمیر میں انتخابات ہو نے جا رہے ہیں عین اس وقت جب سبھی معروف سیاسی جما عتیں اور عوام الیکشن کی تیاریوں میں مصروف ہیں یہ کمیٹی جس کی قیادت اپنے آپ کو غیر سیاسی کہتی ہے نےاب اپنے معاشی دائرہ کار سے نکل کر اسمبلی کی ۱۲ مہاجر نشستوں کو ختم کرنے جیسے بڑے سیاسی اور آئینی مطالبات کو بنیاد بناکر پر تشدد تحریک شروع کر دی ۔ آزاد کشمیر میں اگلے ماہ عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں، ہونا تو یہ چا ہیے تھا کہ تحریک کی قیادت الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کرتی ، اپنے انتخابی منشور کی بنیاد پر عوام کا اعتماد حاصل کرتی اور پارلیمنٹ میں کامیاب ہو کر اس آئینی و قانونی مسئلہ کا حل تلاش کرتی لیکن اس نے جمہوری راستہ کی بجائےسیاسی بلیک میلنگ ، وطن عزیز پا کستان اوریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کے ساتھ کارکنوں کو منظم کرنے اور پرتشدد احتجاج کی راہ کا انتخاب کیا ۔ اور اس احتجاج نے نام نہاد غیر سیاسی کمیٹی کا اصل چہرہ عوام اور دنیا کے سامنے ننگا کر دیا ۔منظمپر تشدد مظاہروں ،حساس سرکاری اداروں پر لشکر کشی ، وطن عزیز پاکستان اور پا کستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے خلاف ہرزہ رسائی ، جھوٹے الزامات اور پا کستان کو توڑنے کی باتیں ایسا لگتا ہے جیسے یہ کشمیری بھائی نہیں مودی کے تنخواہ دار ہیں ، جو گذژہ سال پا کستان کے ہاتھوں بھارت کی بدترین شکشت کا غصہ نکال رہے ہیں ۔ حکومت آزاد کشمیر نے اس تخریب کار گروپ کو کالعدم قرار دے دیا ، اچھا کیا ۔ دنیا بھر میں ایسا ہی ہوتا ہے ۔مغربی جمہوریتوں (جیسے امریکہ، برطانیہ یا کینیڈا) میں بھی جب کوئی تنظیم معاشی حقوق کے نام پر بنے اور بعد میں ریاست کے خلاف پرتشدد ہو جائے یا وفاق کو توڑنے کی باتیں کرنے لگے، تو وہاں کی حکومتیں بھی ریاست کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کے بینک اکاؤنٹس اور مالی وسائل فوری روک دیتی ہیں ۔ریاستی اداروں پر حملے کی ترغیب دینے یا ہجوم کو اکسانے والی لیڈرشپ کو "امنِ عامہ اور ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے" کے سنگین جرائم کے تحت جیل بھیج دیا جاتا ہے، جیسا کہ امریکی کیپیٹل ہل حملے کے بعد ملوث افراد کے ساتھ کیا گیا ، ہنگامہ آرائی کرنے والے گروہوں کو غیر قانونی قرار دے کر ان کے کسی بھی قسم کے اجتماع پر مکمل پابندی لگا دی جاتی ہے، جیسا کہ حالیہ دنوں میں آزاد کشمیر حکومت نے بھی جے اے اے سی پر پابندی عائد کر کے کیا ہے مغربی دنیا میں بڑے سے بڑے سیاسی اور علاقائی تنازع کا آخری حل ہمیشہ بیلٹ باکس (ووٹ) کے ذریعے نکالا جاتا ہے۔ چونکہ آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے ان ۱۲ نشستوں کو آئینی تحفظ فراہم کیا ہے، اس لیے انہیں انتظامی طور پر یا سڑکوں پر دباؤ ڈال کر ختم کرنا ناممکن ہے ، سیاسی اور جمہوری اصولوں کا تقاضا یہی تھا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سڑکوں پر تصادم، پہیہ جام ہڑتالوں اور اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے جولائی کے انتخابات میں بھرپور حصہ لیتی۔ اگر کمیٹی اپنے ہمدرد امیدواروں کو اسمبلی میں جتا کر بھیجتی، تو وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اسمبلی کے اندر دو تہائی اکثریت کے ساتھ ان نشستوں کے خاتمے کا آئینی بل قانونی طریقے سے پیش کر سکتے تھے اور خطے کو جانی و مالی نقصان سے بچایا جا سکتا تھا۔حقوق کی آڑ میں ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے اور اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کی اجازت کسی بھی ترقی یافتہ معاشرے میں نہیں دی جا سکتی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ قانون کے مطابق سخت ایکشن لے کر ریاستی رٹ بحال کرے تاکہ جولائی کے انتخابات پرامن طریقے سے ہو سکیں،مسائل و مطالبات کا پائیدار حل سڑکوں پر گھیراؤ جلاؤ سے نہیں بلکہ پارلیمانی دائرہ کار کے اندر رہ کر ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہاں ایک اور مطالبہ کہ حکومت، پاکستانی پاسپورٹ پر بیرونِ ملک بیٹھ کر پاکستان اور قومی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی، بدزبانی اور گھٹیا الزام تراشی کرنے والے نام نہاد پاکستانی کشمیریوں کے پاسپورٹ فوری طور پر منسوخ اور ان وطن دشمنوں کے جائیداد واثاثہ جات بحق سرکار ضبط کرے اور ان کے خلاف قومی سلامتی کے سنگین جرائم کے تحت مقدمات درج کر کے انہیں پاکستان لایا جائے اور ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جائے۔
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.