بچپن میں ہمارے گھر میں ایک بینڈ کا ریڈیو ہوا کرتا تھا۔ اس ریڈیو پر ابا رات کو بی بی سی (BBC) پر خبریں سنتے تھے۔ سوئی گھماتے ہوئے آواز آتی: ‘وطن ہمارا آزاد کشمیر’۔ یہ نغمہ کانوں کو بہت بھلا لگتا تھا۔ کشمیر سے پاکستانیوں کا بہت جذباتی تعلق ہے۔ کہتے ہیں قائدِ اعظم نے فرمایا تھا: ‘کشمیر پاکستان کی شاہ رگ ہے’۔ اور پاکستانی اس شاہ رگ کو ہندو بنیا سے بچاتے بچاتے اپنا گھر تڑوا بیٹھے۔ اگر مسئلہ کشمیر کو درمیان سے نکال دیں، تو پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع ہے کیا؟”
جس کشمیر کو ہندو بنیا سے بچاتے بچاتے پاکستان دو لخت ہو گیا، آج اسی دھرتی کے بے وفا لوگ پاکستان اور پاکستانی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہے ہیں۔
اب کچھ نام نہاد کشمیری پاکستان کی شہہ رگ کو کاٹنا چاہتے ہیں ہندوستان بھی تو یہی چاہتا ہے گزشتہ پون صدی سے ..اس شہہ رگ کو بچانے کے لئے , پاکستان کتنا لہو لہو ہوا ہے ..کچھ اندازہ ہے میر کو ..
اس بات میں کوئی دو راءے نہیں کہ اپنے حقو ق و مسائل کو اجا گر کر نے لئے عوام کو پر امن احتجاج کا آئینی حق ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب دو سال قبل کالعدم آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی جانب سے سستا آٹا ، سستی بجلی جیسے بنیادی حقوق کی بنیاد پر تحریک چلائی گئئ پاکستان کا ہر فرد ان مطالبات کے حق میں تھا ،
بظاہر آزاد کشمیر کی اس تحریک کا آغاز خالصتاً عوام کی روزمرہ معاشی ضروریات، جیسے سستے آٹے پر سبسڈی اور بجلی کے سستے ٹیرف کے مطالبات سے ہوا تھا ،حکومتِ پاکستان اور مقامی انتظامیہ نے ان مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے اربوں روپے کے فنڈز جاری کیے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا ، کہتے کہ ھکومت نے ماضی میں اس تحریک کی طرف سے دءے گءے چارٹر آف ڈیمانڈ کے ایک دو کے علاوہ سبھی مطالبات تسلیم کر لئے تھے ، آج پاکستان بھر میں سب سے سستی بجلی آزاد کشمیر کے عوام کو مہیا ہے ۔اس ریلیف کو مہیا کر نے کے لءے حکومت پا کستان اربوں کھربوں کا بجٹ حکومت آزاد کشمیر کو سالانہ فراہم کر رہی ہے ۔
اگلے ایک دو ماہ میں آزاد کشمیر میں انتخابات ہو نے جا رہے ہیں عین اس وقت جب سبھی معروف سیاسی جما عتیں اور عوام الیکشن کی تیاریوں میں مصروف ہیں یہ کمیٹی جس کی قیادت اپنے آپ کو غیر سیاسی کہتی ہے نےاب اپنے معاشی دائرہ کار سے نکل کر اسمبلی کی ۱۲ مہاجر نشستوں کو ختم کرنے جیسے بڑے سیاسی اور آئینی مطالبات کو بنیاد بناکر پر تشدد تحریک شروع کر دی ۔ آزاد کشمیر میں اگلے ماہ عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں، ہونا تو یہ چا ہیے تھا کہ تحریک کی قیادت الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کرتی ، اپنے انتخابی منشور کی بنیاد پر عوام کا اعتماد حاصل کرتی اور پارلیمنٹ میں کامیاب ہو کر اس آئینی و قانونی مسئلہ کا حل تلاش کرتی لیکن اس نے جمہوری راستہ کی بجائےسیاسی بلیک میلنگ ، وطن عزیز پا کستان اوریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کے ساتھ کارکنوں کو منظم کرنے اور پرتشدد احتجاج کی راہ کا انتخاب کیا ۔ اور اس احتجاج نے نام نہاد غیر سیاسی کمیٹی کا اصل چہرہ عوام اور دنیا کے سامنے ننگا کر دیا ۔منظمپر تشدد مظاہروں ،حساس سرکاری اداروں پر لشکر کشی ، وطن عزیز پاکستان اور پا کستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے خلاف ہرزہ رسائی ، جھوٹے الزامات اور پا کستان کو توڑنے کی باتیں ایسا لگتا ہے جیسے یہ کشمیری بھائی نہیں مودی کے تنخواہ دار ہیں ، جو گذژہ سال پا کستان کے ہاتھوں بھارت کی بدترین شکشت کا غصہ نکال رہے ہیں ۔
حکومت آزاد کشمیر نے اس تخریب کار گروپ کو کالعدم قرار دے دیا ، اچھا کیا ۔ دنیا بھر میں ایسا ہی ہوتا ہے ۔مغربی جمہوریتوں (جیسے امریکہ، برطانیہ یا کینیڈا) میں بھی جب کوئی تنظیم معاشی حقوق کے نام پر بنے اور بعد میں ریاست کے خلاف پرتشدد ہو جائے یا وفاق کو توڑنے کی باتیں کرنے لگے، تو وہاں کی حکومتیں بھی ریاست کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کے بینک اکاؤنٹس اور مالی وسائل فوری روک دیتی ہیں ۔ریاستی اداروں پر حملے کی ترغیب دینے یا ہجوم کو اکسانے والی لیڈرشپ کو "امنِ عامہ اور ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے” کے سنگین جرائم کے تحت جیل بھیج دیا جاتا ہے، جیسا کہ امریکی کیپیٹل ہل حملے کے بعد ملوث افراد کے ساتھ کیا گیا ، ہنگامہ آرائی کرنے والے گروہوں کو غیر قانونی قرار دے کر ان کے کسی بھی قسم کے اجتماع پر مکمل پابندی لگا دی جاتی ہے، جیسا کہ حالیہ دنوں میں آزاد کشمیر حکومت نے بھی جے اے اے سی پر پابندی عائد کر کے کیا ہے
مغربی دنیا میں بڑے سے بڑے سیاسی اور علاقائی تنازع کا آخری حل ہمیشہ بیلٹ باکس (ووٹ) کے ذریعے نکالا جاتا ہے۔ چونکہ آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے ان ۱۲ نشستوں کو آئینی تحفظ فراہم کیا ہے، اس لیے انہیں انتظامی طور پر یا سڑکوں پر دباؤ ڈال کر ختم کرنا ناممکن ہے ،
سیاسی اور جمہوری اصولوں کا تقاضا یہی تھا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سڑکوں پر تصادم، پہیہ جام ہڑتالوں اور اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے جولائی کے انتخابات میں بھرپور حصہ لیتی۔ اگر کمیٹی اپنے ہمدرد امیدواروں کو اسمبلی میں جتا کر بھیجتی، تو وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اسمبلی کے اندر دو تہائی اکثریت کے ساتھ ان نشستوں کے خاتمے کا آئینی بل قانونی طریقے سے پیش کر سکتے تھے اور خطے کو جانی و مالی نقصان سے بچایا جا سکتا تھا۔حقوق کی آڑ میں ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے اور اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کی اجازت کسی بھی ترقی یافتہ معاشرے میں نہیں دی جا سکتی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ قانون کے مطابق سخت ایکشن لے کر ریاستی رٹ بحال کرے تاکہ جولائی کے انتخابات پرامن طریقے سے ہو سکیں،مسائل و مطالبات کا پائیدار حل سڑکوں پر گھیراؤ جلاؤ سے نہیں بلکہ پارلیمانی دائرہ کار کے اندر رہ کر ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ہاں ایک اور مطالبہ کہ حکومت، پاکستانی پاسپورٹ پر بیرونِ ملک بیٹھ کر پاکستان اور قومی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی، بدزبانی اور گھٹیا الزام تراشی کرنے والے نام نہاد پاکستانی کشمیریوں کے پاسپورٹ فوری طور پر منسوخ اور ان وطن دشمنوں کے جائیداد واثاثہ جات بحق سرکار ضبط کرے اور ان کے خلاف قومی سلامتی کے سنگین جرائم کے تحت مقدمات درج کر کے انہیں پاکستان لایا جائے اور ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جائے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس 10 جون بروز بدھ شام 5 بجے اسلام آباد میں ہوگا
اسلام آباد ۔صدر مملکت آصف زرداری نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس کل طلب کرلیے ۔اس حوالے سے جاری...
Read moreDetails







