ماضی قریب کی بات ہے کہ جب بھی ‘ہنی ٹریپ’ کا لفظ کانوں میں پڑتا، تو ذہن فوراً سندھ اور پنجاب کے ‘کچے کے علاقوں’ اور وہاں کے ڈاکوؤں کی طرف جاتا تھا۔ اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کی ان وارداتوں میں کچے کے ڈاکو ہی مرکزی کردار کے طور پر پیش کیے جاتے تھے، جو عورت کی آواز یا جھوٹے رشتوں کا جھانسا دے کر لوگوں کو کچے کے جنگلات میں بلا کر یرغمال بنا لیتے تھے۔ لیکن آج حالات بالکل بدل چکے ہیں۔ اب یہ جرم کچے کے ویرانوں سے نکل کر ہر شہر، ہر بستی اور ہر محلے تک پھیل چکا ہے۔ شہری علاقوں میں ہنی ٹریپ کے اتنے کثرت سے واقعات ہو رہے ہیں کہ کچے کے ڈاکوؤں کی پرانی کہانیاں اب بہت پیچھے رہ گئی ہیں۔
اگرچہ یہ بات قابل اطمینان ہے کہ پنجاب میں پولیس، سی ٹی ڈی (CTD) اور انٹی سائبر کرائم کے ادارے ہنی ٹریپ، بلیک میلنگ، اغوا اور بھتہ خوری کے ان واقعات کے خلاف خاصے متحرک نظر آتے ہیں، لیکن ہماری عدالتوں اور قانون کا عمل اتنا طویل اور پیچیدہ ہے کہ ملزمان اکثر بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ جب تک کیس کسی منطقی انجام تک پہنچتا ہے، تب تک مظلوم نڈھال ہو چکا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں یہ عام تاثر بن چکا ہے کہ "دولت جیت گئی اور انصاف ہار گیا”۔ عام آدمی کی یہ مایوس کن سوچ بدلنا انتہائی ضروری ہے، اور یہ تب ہی ممکن ہے جب انصاف نہ صرف ہو، بلکہ وقت پر ہوتا ہوا نظر بھی آئے۔ اصل مسئلہ حکومتی عزم کا نہیں بلکہ قوانین کی سست روی کا ہے۔ جب تک حکومت مجرموں کو فوری اور عبرت ناک سزا دینے کے لیے ‘فاسٹ ٹریک عدالتیں’ قائم نہیں کرتی، تب تک پولیس سمیت دیگر اداروں کی یہ متحرک کارروائیاں بھی ادھوری ہی رہیں گی۔
یہ واقعات جتنے سنگین اور دل دہلا دینے والے ہیں، عوامی اور صحافتی حلقوں میں ان کا ردِعمل بھی اتنا ہی شدید ہوتاہےا۔ تاہم، ملک کے دیگر حصوں کی طرح ضلع لیہ کی صحافتی کمیونٹی اس وقت شدید تقسیم اور دھڑے بندی کا شکار نظر آتی ہے۔ جب لیہ میں ہنی ٹریپ کا کوئی بڑا سکینڈل یا گینگ بے نقاب ہوتا ہے، تو میڈیا کے مختلف دھڑے سچائی کو سامنے لانے کی کوشش میں اختلاف رائے میں اس قدر آگے نکل جاتے ہیں کہ ہنی ٹریپ کی اصل لرزہ خیز خبر اور مظلوم کی داد رسی پیچھے رہ جاتی ہے، اور صحافتی باہمی اختلافات زبان خلق بن جاتے ہیں
یہ بھی کڑوا سچ ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک مخصوص مکتبِ فکر میں یہ خیال بھی عام ہے کہ ہنی ٹریپ کے ان شرمناک واقعات کے پیچھے ٹک ٹاکرز، کچھ صحافیوں اور سفید پوش (White Collar) افراد کا ایک منظم گروہ کام کر رہا ہے۔ جو ایسے واقعات کوآرگنائز کرتا ہے ۔اس صحافتی اور سماجی ہیجان کے سبب "اینیمل پورن کیس” اور "احد ود ای کامرس” جیسےلیہ کےدو بڑے اسکینڈلز کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہےکہ متاثرہ فریق کو ڈیجیٹل دنیا میں کسی مخصوص نیٹ ورک کے ذریعے دانستہ طور پر ایسے جال میں الجھایا گیا جہاں ان کی ساکھ اور سرمائے دونوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔
صحافتی کمیونٹی اس تاثر کو زائل کرنے کی طرف دھیان دے .صحافی کا کام مصدقہ خبر عوام تک پنچانا ہے کسی فریق کے حق اور کسی فریق کے خلاف وکیل صفائی بن کے را ے عامہ بنانا نہیں ..جرم , مجرم اورصحیح ,غلط کا فیصلہ عوام اور اداروں پر چھوڑ دیں ..
کچے کے ڈاکوؤں سے لے کر لیہ کے گلی محلوں اور بڑے ڈیجیٹل اسکینڈلز تک، ہنی ٹریپنگ کا یہ پھیلاؤ معاشرے کے لیے ایک تازیانہ ہے۔ لیکن اس کے باوجود، ہونے والے ان شرمناک واقعات کے بعد اگر قانون کی آنکھیں، ضمیر کا خوف یا معاشرتی دباؤ کسی کا گھیرا تنگ کر رہا ہو، تو ضرور سوچنا چاہیے ۔وہ اس لیے کہ ایک کڑوی حقیقت یہ بھی ہے کہ بندہِ بشر ہونے کے ناطے کوئی بھی اپنی پاک دامنی کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ عصمت اور معصومیت صرف اللہ کریم کی طرف سے بھیجے گئے انبیاءِ کرام کا خاصہ ہے، جبکہ عام انسان اپنی جبلت میں کمزور اور خطاکار ہے۔ خطاؤں کے باوجود سیدھی راہ کی تلاش کا یہ سفر ہی دراصل وہ کٹھن مرحلہ ہے جس پر جزا و سزا کا الٰہی وعدہ قائم ہے، اور اسی جزا و سزا کے درمیان ‘درِ توبہ’ ایک ایسی پناہ گاہ ہے جو کبھی بند نہیں ہوتی۔ اللہ رحیم سچے دل سے در کھٹکھٹانے والے کسی بھی تائب کو مایوس نہیں کرتا اور نہ ہی کوئی وہاں سے نامراد لوٹتا ہے۔ لیکن یہاں یہ باریک نکتہ سمجھنا حد درجہ لازم ہے کہ سزا و جزا کا دنیاوی نظام توبہ سے مشروط نہیں۔ توبہ کا معاملہ خالصتاً بندے اور اس کے خالق کے درمیان کا پوشیدہ رشتہ ہے جس کی قبولیت اور حتمی حساب کتاب کا انحصار روزِ محشر پر ہے۔ اس کے برعکس، دنیا میں امن و امان قائم رکھنے اور دھرتی پر نافذ نظامِ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ہر جرم کی سزا مجرم کو ملنی چاہیے، کیونکہ توبہ آخرت کا نجات دہندہ ضرور ہے مگر وہ دنیاوی قوانین اور مکافاتِ عمل کے تقاضوں کو ساقط نہیں کرتی .
اب آخری اور اہم بات کہ حکومت اور اداروں کی کارروائیاں اپنی جگہ، لیکن اس دلدل سے بچنے کی سب سے پہلی اور بڑی ذمہ داری خود عوام پر عائد ہوتی ہے۔ اب ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ڈیجیٹل دنیا میں نظر آنے والا ہر چہرہ اور سنائی دینے والی ہر آواز سچی اور ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی ۔








