• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

ہنی ٹریپ کچے سے گلی محلوں تک پھیلتا ناسور اور سماجی رویے , .. تحریر ..انجم صحرائی

webmaster by webmaster
جون 4, 2026
in کالم
0
ہنی ٹریپ کچے سے گلی محلوں تک پھیلتا ناسور اور سماجی رویے , .. تحریر ..انجم صحرائی

ماضی قریب کی بات ہے کہ جب بھی ‘ہنی ٹریپ’ کا لفظ کانوں میں پڑتا، تو ذہن فوراً سندھ اور پنجاب کے ‘کچے کے علاقوں’ اور وہاں کے ڈاکوؤں کی طرف جاتا تھا۔ اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کی ان وارداتوں میں کچے کے ڈاکو ہی مرکزی کردار کے طور پر پیش کیے جاتے تھے، جو عورت کی آواز یا جھوٹے رشتوں کا جھانسا دے کر لوگوں کو کچے کے جنگلات میں بلا کر یرغمال بنا لیتے تھے۔ لیکن آج حالات بالکل بدل چکے ہیں۔ اب یہ جرم کچے کے ویرانوں سے نکل کر ہر شہر، ہر بستی اور ہر محلے تک پھیل چکا ہے۔ شہری علاقوں میں ہنی ٹریپ کے اتنے کثرت سے واقعات ہو رہے ہیں کہ کچے کے ڈاکوؤں کی پرانی کہانیاں اب بہت پیچھے رہ گئی ہیں۔
اگرچہ یہ بات قابل اطمینان ہے کہ پنجاب میں پولیس، سی ٹی ڈی (CTD) اور انٹی سائبر کرائم کے ادارے ہنی ٹریپ، بلیک میلنگ، اغوا اور بھتہ خوری کے ان واقعات کے خلاف خاصے متحرک نظر آتے ہیں، لیکن ہماری عدالتوں اور قانون کا عمل اتنا طویل اور پیچیدہ ہے کہ ملزمان اکثر بچ نکلنے میں کامیاب  ہو جاتے ہیں ۔ جب تک کیس کسی منطقی انجام تک پہنچتا ہے، تب تک مظلوم نڈھال ہو چکا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں یہ عام تاثر بن چکا ہے کہ "دولت جیت گئی اور انصاف ہار گیا”۔ عام آدمی کی یہ مایوس کن سوچ بدلنا انتہائی ضروری ہے، اور یہ تب ہی ممکن ہے جب انصاف نہ صرف ہو، بلکہ وقت پر ہوتا ہوا نظر بھی آئے۔ اصل مسئلہ حکومتی عزم کا نہیں بلکہ قوانین کی سست روی کا ہے۔ جب تک حکومت مجرموں کو فوری اور عبرت ناک سزا دینے کے لیے ‘فاسٹ ٹریک عدالتیں’ قائم نہیں کرتی، تب تک پولیس سمیت دیگر اداروں کی یہ متحرک کارروائیاں بھی ادھوری ہی رہیں گی۔
یہ واقعات جتنے سنگین اور دل دہلا دینے والے ہیں، عوامی اور صحافتی حلقوں میں ان کا ردِعمل بھی اتنا ہی شدید ہوتاہےا۔ تاہم، ملک کے دیگر حصوں کی طرح ضلع لیہ کی صحافتی کمیونٹی اس وقت شدید تقسیم اور دھڑے بندی کا شکار نظر آتی ہے۔ جب لیہ میں ہنی ٹریپ کا کوئی بڑا سکینڈل یا گینگ بے نقاب ہوتا ہے، تو میڈیا کے مختلف دھڑے سچائی کو سامنے لانے کی کوشش میں اختلاف رائے میں اس قدر آگے نکل جاتے ہیں کہ ہنی ٹریپ کی اصل لرزہ خیز خبر اور مظلوم کی داد رسی پیچھے رہ جاتی ہے، اور صحافتی باہمی اختلافات زبان خلق بن جاتے ہیں
یہ بھی کڑوا سچ ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک مخصوص مکتبِ فکر میں یہ خیال بھی عام ہے کہ ہنی ٹریپ کے ان شرمناک واقعات کے پیچھے ٹک ٹاکرز، کچھ صحافیوں اور سفید پوش (White Collar) افراد کا ایک منظم گروہ کام کر رہا ہے۔ جو ایسے واقعات کوآرگنائز کرتا ہے ۔اس صحافتی اور سماجی ہیجان کے سبب "اینیمل پورن کیس” اور "احد ود ای کامرس” جیسےلیہ کےدو بڑے اسکینڈلز کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہےکہ متاثرہ فریق کو ڈیجیٹل دنیا میں کسی مخصوص نیٹ ورک کے ذریعے دانستہ طور پر ایسے جال میں الجھایا گیا جہاں ان کی ساکھ اور سرمائے دونوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔
صحافتی کمیونٹی اس تاثر کو زائل کرنے کی طرف دھیان دے .صحافی کا کام مصدقہ خبر عوام تک پنچانا ہے کسی فریق کے حق اور کسی فریق کے خلاف وکیل صفائی بن کے را ے عامہ بنانا نہیں ..جرم , مجرم اورصحیح ,غلط کا فیصلہ عوام اور اداروں پر چھوڑ دیں ..

کچے کے ڈاکوؤں سے لے کر لیہ کے گلی محلوں اور بڑے ڈیجیٹل اسکینڈلز تک، ہنی ٹریپنگ کا یہ پھیلاؤ معاشرے کے لیے ایک تازیانہ ہے۔ لیکن اس کے باوجود، ہونے والے ان شرمناک واقعات کے بعد اگر قانون کی آنکھیں، ضمیر کا خوف یا معاشرتی دباؤ کسی کا گھیرا تنگ کر رہا ہو، تو ضرور سوچنا چاہیے ۔وہ اس لیے کہ ایک کڑوی حقیقت یہ بھی ہے کہ بندہِ بشر ہونے کے ناطے کوئی بھی اپنی پاک دامنی کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ عصمت اور معصومیت صرف اللہ کریم کی طرف سے بھیجے گئے انبیاءِ کرام کا خاصہ ہے، جبکہ عام انسان اپنی جبلت میں کمزور اور خطاکار ہے۔ خطاؤں کے باوجود سیدھی راہ کی تلاش کا یہ سفر ہی دراصل وہ کٹھن مرحلہ ہے جس پر جزا و سزا کا الٰہی وعدہ قائم ہے، اور اسی جزا و سزا کے درمیان ‘درِ توبہ’ ایک ایسی پناہ گاہ ہے جو کبھی بند نہیں ہوتی۔ اللہ رحیم سچے دل سے در کھٹکھٹانے والے کسی بھی تائب کو مایوس نہیں کرتا اور نہ ہی کوئی وہاں سے نامراد لوٹتا ہے۔ لیکن یہاں یہ باریک نکتہ سمجھنا حد درجہ لازم ہے کہ سزا و جزا کا دنیاوی نظام توبہ سے مشروط نہیں۔ توبہ کا معاملہ خالصتاً بندے اور اس کے خالق کے درمیان کا پوشیدہ رشتہ ہے جس کی قبولیت اور حتمی حساب کتاب کا انحصار روزِ محشر پر ہے۔ اس کے برعکس، دنیا میں امن و امان قائم رکھنے اور دھرتی پر نافذ نظامِ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ہر جرم کی سزا مجرم کو ملنی چاہیے، کیونکہ توبہ آخرت کا نجات دہندہ ضرور ہے مگر وہ دنیاوی قوانین اور مکافاتِ عمل کے تقاضوں کو ساقط نہیں کرتی .
اب آخری اور اہم بات کہ حکومت اور اداروں کی کارروائیاں اپنی جگہ، لیکن اس دلدل سے بچنے کی سب سے پہلی اور بڑی ذمہ داری خود عوام پر عائد ہوتی ہے۔ اب ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ڈیجیٹل دنیا میں نظر آنے والا ہر چہرہ اور سنائی دینے والی ہر آواز سچی اور ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی ۔

 

Post Views: 35
Tags: colmun by anjum sehrai
Previous Post

لاہور۔ پنجاب کابینہ نے الیکٹرسٹی ڈیوٹی رولز 2026 کی منظوری دے دی ، گھریلو صارفین کو ڈیوٹی سے مکمل استثنیٰ حاصل

Next Post

صبح پا کستا ن ،انجم صحرائی کا مستقل کالم ۔۔بلا مبا لغہ

Next Post
صبح پا کستا ن ،انجم صحرائی کا مستقل کالم ۔۔بلا مبا لغہ

صبح پا کستا ن ،انجم صحرائی کا مستقل کالم ۔۔بلا مبا لغہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

لاہور۔  پنجاب کابینہ نے الیکٹرسٹی ڈیوٹی رولز 2026 کی منظوری دے دی ، گھریلو صارفین کو  ڈیوٹی سے مکمل استثنیٰ حاصل
قومی/ بین الاقوامی خبریں

لاہور۔ پنجاب کابینہ نے الیکٹرسٹی ڈیوٹی رولز 2026 کی منظوری دے دی ، گھریلو صارفین کو ڈیوٹی سے مکمل استثنیٰ حاصل

by webmaster
جون 2, 2026
0

لاہور ۔ پنجاب کابینہ نے الیکٹرسٹی ڈیوٹی رولز 2026 کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت نجی بجلی پیدا...

Read moreDetails
وزیراعلی کمپلینٹ سیل کی چیئرپرسن بن کر پروٹوکول حاصل کرنے کی کوشش، ملزمہ مہناز سعید گرفتار،مقدمہ درج ،ملزمہ کا تعلق پی ٹی آئی مظفرگڑھ سے بتایا جاتا ہے

وزیراعلی کمپلینٹ سیل کی چیئرپرسن بن کر پروٹوکول حاصل کرنے کی کوشش، ملزمہ مہناز سعید گرفتار،مقدمہ درج ،ملزمہ کا تعلق پی ٹی آئی مظفرگڑھ سے بتایا جاتا ہے

مئی 31, 2026
لاہورہائیکورٹ نے وزیراعظم کے مشیروں کیخلاف درخواست سماعت کیلئے منظور کرلی

شوہر حق مہر کے ساتھ معاہدے میں درج چیزیں بھی دینے کا پابند ہے ، جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی

مئی 30, 2026
لاہور ۔میڈیا ورکرز آرگنائزیشن پنجاب کے زیر اہتمام میڈیا ورکرز کے حقوق کے لیے احتجاجی مظاہرہ

لاہور ۔میڈیا ورکرز آرگنائزیشن پنجاب کے زیر اہتمام میڈیا ورکرز کے حقوق کے لیے احتجاجی مظاہرہ

مئی 22, 2026
انصاف کی فراہمی ایک مقدس ذمہ داری ہے ،  عالیہ نیلم چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

انصاف کی فراہمی ایک مقدس ذمہ داری ہے ، عالیہ نیلم چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

مئی 21, 2026
ماضی قریب کی بات ہے کہ جب بھی 'ہنی ٹریپ' کا لفظ کانوں میں پڑتا، تو ذہن فوراً سندھ اور پنجاب کے 'کچے کے علاقوں' اور وہاں کے ڈاکوؤں کی طرف جاتا تھا۔ اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کی ان وارداتوں میں کچے کے ڈاکو ہی مرکزی کردار کے طور پر پیش کیے جاتے تھے، جو عورت کی آواز یا جھوٹے رشتوں کا جھانسا دے کر لوگوں کو کچے کے جنگلات میں بلا کر یرغمال بنا لیتے تھے۔ لیکن آج حالات بالکل بدل چکے ہیں۔ اب یہ جرم کچے کے ویرانوں سے نکل کر ہر شہر، ہر بستی اور ہر محلے تک پھیل چکا ہے۔ شہری علاقوں میں ہنی ٹریپ کے اتنے کثرت سے واقعات ہو رہے ہیں کہ کچے کے ڈاکوؤں کی پرانی کہانیاں اب بہت پیچھے رہ گئی ہیں۔ اگرچہ یہ بات قابل اطمینان ہے کہ پنجاب میں پولیس، سی ٹی ڈی (CTD) اور انٹی سائبر کرائم کے ادارے ہنی ٹریپ، بلیک میلنگ، اغوا اور بھتہ خوری کے ان واقعات کے خلاف خاصے متحرک نظر آتے ہیں، لیکن ہماری عدالتوں اور قانون کا عمل اتنا طویل اور پیچیدہ ہے کہ ملزمان اکثر بچ نکلنے میں کامیاب  ہو جاتے ہیں ۔ جب تک کیس کسی منطقی انجام تک پہنچتا ہے، تب تک مظلوم نڈھال ہو چکا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں یہ عام تاثر بن چکا ہے کہ "دولت جیت گئی اور انصاف ہار گیا"۔ عام آدمی کی یہ مایوس کن سوچ بدلنا انتہائی ضروری ہے، اور یہ تب ہی ممکن ہے جب انصاف نہ صرف ہو، بلکہ وقت پر ہوتا ہوا نظر بھی آئے۔ اصل مسئلہ حکومتی عزم کا نہیں بلکہ قوانین کی سست روی کا ہے۔ جب تک حکومت مجرموں کو فوری اور عبرت ناک سزا دینے کے لیے 'فاسٹ ٹریک عدالتیں' قائم نہیں کرتی، تب تک پولیس سمیت دیگر اداروں کی یہ متحرک کارروائیاں بھی ادھوری ہی رہیں گی۔ یہ واقعات جتنے سنگین اور دل دہلا دینے والے ہیں، عوامی اور صحافتی حلقوں میں ان کا ردِعمل بھی اتنا ہی شدید ہوتاہےا۔ تاہم، ملک کے دیگر حصوں کی طرح ضلع لیہ کی صحافتی کمیونٹی اس وقت شدید تقسیم اور دھڑے بندی کا شکار نظر آتی ہے۔ جب لیہ میں ہنی ٹریپ کا کوئی بڑا سکینڈل یا گینگ بے نقاب ہوتا ہے، تو میڈیا کے مختلف دھڑے سچائی کو سامنے لانے کی کوشش میں اختلاف رائے میں اس قدر آگے نکل جاتے ہیں کہ ہنی ٹریپ کی اصل لرزہ خیز خبر اور مظلوم کی داد رسی پیچھے رہ جاتی ہے، اور صحافتی باہمی اختلافات زبان خلق بن جاتے ہیں یہ بھی کڑوا سچ ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک مخصوص مکتبِ فکر میں یہ خیال بھی عام ہے کہ ہنی ٹریپ کے ان شرمناک واقعات کے پیچھے ٹک ٹاکرز، کچھ صحافیوں اور سفید پوش (White Collar) افراد کا ایک منظم گروہ کام کر رہا ہے۔ جو ایسے واقعات کوآرگنائز کرتا ہے ۔اس صحافتی اور سماجی ہیجان کے سبب "اینیمل پورن کیس" اور "احد ود ای کامرس" جیسےلیہ کےدو بڑے اسکینڈلز کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہےکہ متاثرہ فریق کو ڈیجیٹل دنیا میں کسی مخصوص نیٹ ورک کے ذریعے دانستہ طور پر ایسے جال میں الجھایا گیا جہاں ان کی ساکھ اور سرمائے دونوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔ صحافتی کمیونٹی اس تاثر کو زائل کرنے کی طرف دھیان دے .صحافی کا کام مصدقہ خبر عوام تک پنچانا ہے کسی فریق کے حق اور کسی فریق کے خلاف وکیل صفائی بن کے را ے عامہ بنانا نہیں ..جرم , مجرم اورصحیح ,غلط کا فیصلہ عوام اور اداروں پر چھوڑ دیں .. کچے کے ڈاکوؤں سے لے کر لیہ کے گلی محلوں اور بڑے ڈیجیٹل اسکینڈلز تک، ہنی ٹریپنگ کا یہ پھیلاؤ معاشرے کے لیے ایک تازیانہ ہے۔ لیکن اس کے باوجود، ہونے والے ان شرمناک واقعات کے بعد اگر قانون کی آنکھیں، ضمیر کا خوف یا معاشرتی دباؤ کسی کا گھیرا تنگ کر رہا ہو، تو ضرور سوچنا چاہیے ۔وہ اس لیے کہ ایک کڑوی حقیقت یہ بھی ہے کہ بندہِ بشر ہونے کے ناطے کوئی بھی اپنی پاک دامنی کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ عصمت اور معصومیت صرف اللہ کریم کی طرف سے بھیجے گئے انبیاءِ کرام کا خاصہ ہے، جبکہ عام انسان اپنی جبلت میں کمزور اور خطاکار ہے۔ خطاؤں کے باوجود سیدھی راہ کی تلاش کا یہ سفر ہی دراصل وہ کٹھن مرحلہ ہے جس پر جزا و سزا کا الٰہی وعدہ قائم ہے، اور اسی جزا و سزا کے درمیان 'درِ توبہ' ایک ایسی پناہ گاہ ہے جو کبھی بند نہیں ہوتی۔ اللہ رحیم سچے دل سے در کھٹکھٹانے والے کسی بھی تائب کو مایوس نہیں کرتا اور نہ ہی کوئی وہاں سے نامراد لوٹتا ہے۔ لیکن یہاں یہ باریک نکتہ سمجھنا حد درجہ لازم ہے کہ سزا و جزا کا دنیاوی نظام توبہ سے مشروط نہیں۔ توبہ کا معاملہ خالصتاً بندے اور اس کے خالق کے درمیان کا پوشیدہ رشتہ ہے جس کی قبولیت اور حتمی حساب کتاب کا انحصار روزِ محشر پر ہے۔ اس کے برعکس، دنیا میں امن و امان قائم رکھنے اور دھرتی پر نافذ نظامِ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ہر جرم کی سزا مجرم کو ملنی چاہیے، کیونکہ توبہ آخرت کا نجات دہندہ ضرور ہے مگر وہ دنیاوی قوانین اور مکافاتِ عمل کے تقاضوں کو ساقط نہیں کرتی . اب آخری اور اہم بات کہ حکومت اور اداروں کی کارروائیاں اپنی جگہ، لیکن اس دلدل سے بچنے کی سب سے پہلی اور بڑی ذمہ داری خود عوام پر عائد ہوتی ہے۔ اب ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ڈیجیٹل دنیا میں نظر آنے والا ہر چہرہ اور سنائی دینے والی ہر آواز سچی اور ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی ۔  
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.