• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
SB2425
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

ستھرا پنجاب اور عیدِ قربان کا ‘مسئلہِ فیثاغورث’……. انجم صحرائی

webmaster by webmaster
مئی 30, 2026
in کالم
0
کوٹ سلطان کے ملک کریم بخش کھوکھر , لیّہ یونیورسٹی اور بہادر ای لائبریری .. تحریر: انجم صحرائی

ستھرا پنجاب اور عیدِ قربان کا 'مسئلہِ فیثاغورث' انجم صحرائی

بکرا عید پر سب اچھا ہوتا تھا سوائے آلائشیں اٹھانے کے۔ قربانی کرنے سے لے کر قربانی کا گوشت تقسیم کرنے کے مراحل احسن طریقے سے انجام دینے کے باوجود آلائشوں کا کیا کروں؟ کوڑے والا آیا ہی نہیں اٹھانے۔ کئی بار بلدیہ والوں کو کال کی مگر سنتے ہی نہیں۔ پہلے تو بلدیہ کا فون بجتا رہتا ہے کوئی اٹنڈ ہی نہیں کرتا، اگر کوئی اٹھا بھی لے تو ادھوری بات سن کر ‘اچھا’ کہہ کر کال کاٹ دیتے۔ الائشیں دو دو تین تین روز دروازے کے سامنے پڑی رہتیں، بسا اوقات دیر ہونے کے سبب سڑاند سے سانس لینا محال ہو جاتا لیکن یہ ‘مسئلہِ فیثاغورث’ حل نہ ہوتا۔ بکرا عید کے تین دنوں میں پہلا قصائی اور دوسرا الائشیں اٹھانے والا وی وی آئی پی ہوتے ہیں۔

ماضی کا یہ نقشہ صرف میرے گھر کا نہیں، بلکہ پنجاب کے ہر گلی کوچوں کا ایک مستقل عذاب تھا۔ عید کی خوشیاں اور برکتیں ایک طرف، مگر جیسے ہی قربانی کا عمل مکمل ہوتا، شہریوں کا اصل امتحان شروع ہو جاتا۔ تعفن، مکھیاں اور بیماریاں عید کے تحفے میں ملتیں۔ بلدیہ کے عملے کی منت سماجت کرنا اور انہیں ڈھونڈنا قصائی تلاش کرنے سے زیادہ مشکل کام بن چکا تھا۔ اسی سنگین صورتحال کو بدلنے کے لیے حکومت نے "ستھرا پنجاب” مہم کا آغاز کیا۔
مجھے یاد ہے جب مجھے پہلی بار سعودی عرب جانے کا اتفاق ہوا، وہاں میں نے شہروں میں صفائی کا ایک بہترین اور مربوط طریقہ کار دیکھا، جہاں صفائی ستھرائی کے ذمہ دار شب و روز متحرک رہتے تھے۔ آج خوشی کی بات یہ ہے کہ پنجاب میں بھی ایسا ہی منظر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ‘ستھرا پنجاب’ کے متحرک فیلڈ ورکر ہر وقت اپنی ڈیوٹی دیتے نظر آتے ہیں۔ آپ رات کے کسی بھی وقت نکل کر دیکھیں، ‘ستھرا پنجاب’ کی گاڑیاں، رکشے اور فیلڈ ورکرز اپنے کام میں مگن نظر آئیں گے۔ چوبیس گھنٹے کا یہ متحرک نظام ہمارے شہروں کا نقشہ بدل رہا ہے۔
اگر مقامی سطح پر بات کی جائے تو ضلع لیّہ میں ‘ستھرا پنجاب’ ٹیم کو ہر وقت متحرک اور مستعد رکھنے میں ڈپٹی کمشنر محمد آصف ڈوگر اور ان کی ٹیم کی دن رات کی سخت مانیٹرنگ کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انتظامیہ کے اس سخت اور باقاعدہ معائنے کی بدولت ہی فیلڈ ورکرز گراؤنڈ پر اتنے فعال نظر آتے ہیں، جو کہ ضلعی مینجمنٹ کی بہترین کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
حکومت کی طرف سے اس پروگرام کا سب سے اہم، شاندار اور قابلِ ستائش پہلو یہ ہے کہ اس کے توسط سے جہاں پنجاب اب ستھرا نظر آتا ہے، وہاں ہماری سوسائٹی کا وہ پسماندہ طبقہ جو سارا دن یا تو کچرا چنتا، نشہ کرتا، آوارہ گردی یا سٹریٹ کرائم میں ملوث نظر آتا تھا، اسے باعزت روزگار ملا ہے。 اس انتہائی کمزور کمیونٹی کو مستقل روزگار ملنے کے سبب ان کی سماجی اور معاشی زندگی میں واضح بہتری آئی ہے اور وہ معاشرے کا ایک کارآمد حصہ بن رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا خاموش سماجی انقلاب ہے جس کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی۔
لیکن اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ روزمرہ کی مستعدی عیدِ قربان کے کڑے امتحان میں بھی برقرار رہے گی؟ نظام کو سدھارنے کے لیے جہاں حکومت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے، وہاں بطور شہری ہمارا کردار بھی اہم ہے۔ صفائی نصف ایمان ہے،
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے سیاسی اختلافات اپنی جگہ ہو سکتے ہیں، لیکن ‘ستھرا پنجاب’ جیسے کامیاب پروگرام کا آغاز ان کا ایک قابلِ فخر کارنامہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے نہ صرف پنجاب بلکہ قومی اور بین الاقوامی فورمز پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے اور اس شاندار انتظام پر خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے
عوام کو ایک بہترین، صاف ستھرا اور صحت مند ماحول دینے پر شکریہ ‘ستھرا پنجاب’!

 

انجم صحرائی

Post Views: 141
Tags: column by anjum sehrai
Previous Post

جناب میاں محمد نواز شریف سابق وزیر اعظم پاکستان کے نام، خصوصی درخواست بابت لیہ تونسہ پل

Next Post

شکریہ ستھرا پنجاب ، صبح پا کستان سپیشل ایڈیشن

Next Post
شکریہ ستھرا پنجاب  ، صبح پا کستان  سپیشل ایڈیشن

شکریہ ستھرا پنجاب ، صبح پا کستان سپیشل ایڈیشن

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

آئین کے  آرٹیکل 245 کے تحت راولپنڈی میں 6 ماہ کےلیے فوج تعینات
قومی/ بین الاقوامی خبریں

آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت راولپنڈی میں 6 ماہ کےلیے فوج تعینات

by webmaster
اگست 22, 2026
0

وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے فوج تعینات کرنے کی منظوری دیدی۔ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق راولپنڈی میں...

Read moreDetails
دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب

دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب

اگست 2, 2026
نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

جولائی 19, 2026
آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

جولائی 11, 2026
سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم  ?

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم ?

جولائی 8, 2026
بکرا عید پر سب اچھا ہوتا تھا سوائے آلائشیں اٹھانے کے۔ قربانی کرنے سے لے کر قربانی کا گوشت تقسیم کرنے کے مراحل احسن طریقے سے انجام دینے کے باوجود آلائشوں کا کیا کروں؟ کوڑے والا آیا ہی نہیں اٹھانے۔ کئی بار بلدیہ والوں کو کال کی مگر سنتے ہی نہیں۔ پہلے تو بلدیہ کا فون بجتا رہتا ہے کوئی اٹنڈ ہی نہیں کرتا، اگر کوئی اٹھا بھی لے تو ادھوری بات سن کر 'اچھا' کہہ کر کال کاٹ دیتے۔ الائشیں دو دو تین تین روز دروازے کے سامنے پڑی رہتیں، بسا اوقات دیر ہونے کے سبب سڑاند سے سانس لینا محال ہو جاتا لیکن یہ 'مسئلہِ فیثاغورث' حل نہ ہوتا۔ بکرا عید کے تین دنوں میں پہلا قصائی اور دوسرا الائشیں اٹھانے والا وی وی آئی پی ہوتے ہیں۔ ماضی کا یہ نقشہ صرف میرے گھر کا نہیں، بلکہ پنجاب کے ہر گلی کوچوں کا ایک مستقل عذاب تھا۔ عید کی خوشیاں اور برکتیں ایک طرف، مگر جیسے ہی قربانی کا عمل مکمل ہوتا، شہریوں کا اصل امتحان شروع ہو جاتا۔ تعفن، مکھیاں اور بیماریاں عید کے تحفے میں ملتیں۔ بلدیہ کے عملے کی منت سماجت کرنا اور انہیں ڈھونڈنا قصائی تلاش کرنے سے زیادہ مشکل کام بن چکا تھا۔ اسی سنگین صورتحال کو بدلنے کے لیے حکومت نے "ستھرا پنجاب" مہم کا آغاز کیا۔ مجھے یاد ہے جب مجھے پہلی بار سعودی عرب جانے کا اتفاق ہوا، وہاں میں نے شہروں میں صفائی کا ایک بہترین اور مربوط طریقہ کار دیکھا، جہاں صفائی ستھرائی کے ذمہ دار شب و روز متحرک رہتے تھے۔ آج خوشی کی بات یہ ہے کہ پنجاب میں بھی ایسا ہی منظر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ 'ستھرا پنجاب' کے متحرک فیلڈ ورکر ہر وقت اپنی ڈیوٹی دیتے نظر آتے ہیں۔ آپ رات کے کسی بھی وقت نکل کر دیکھیں، 'ستھرا پنجاب' کی گاڑیاں، رکشے اور فیلڈ ورکرز اپنے کام میں مگن نظر آئیں گے۔ چوبیس گھنٹے کا یہ متحرک نظام ہمارے شہروں کا نقشہ بدل رہا ہے۔ اگر مقامی سطح پر بات کی جائے تو ضلع لیّہ میں 'ستھرا پنجاب' ٹیم کو ہر وقت متحرک اور مستعد رکھنے میں ڈپٹی کمشنر محمد آصف ڈوگر اور ان کی ٹیم کی دن رات کی سخت مانیٹرنگ کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انتظامیہ کے اس سخت اور باقاعدہ معائنے کی بدولت ہی فیلڈ ورکرز گراؤنڈ پر اتنے فعال نظر آتے ہیں، جو کہ ضلعی مینجمنٹ کی بہترین کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ حکومت کی طرف سے اس پروگرام کا سب سے اہم، شاندار اور قابلِ ستائش پہلو یہ ہے کہ اس کے توسط سے جہاں پنجاب اب ستھرا نظر آتا ہے، وہاں ہماری سوسائٹی کا وہ پسماندہ طبقہ جو سارا دن یا تو کچرا چنتا، نشہ کرتا، آوارہ گردی یا سٹریٹ کرائم میں ملوث نظر آتا تھا، اسے باعزت روزگار ملا ہے。 اس انتہائی کمزور کمیونٹی کو مستقل روزگار ملنے کے سبب ان کی سماجی اور معاشی زندگی میں واضح بہتری آئی ہے اور وہ معاشرے کا ایک کارآمد حصہ بن رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا خاموش سماجی انقلاب ہے جس کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ لیکن اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ روزمرہ کی مستعدی عیدِ قربان کے کڑے امتحان میں بھی برقرار رہے گی؟ نظام کو سدھارنے کے لیے جہاں حکومت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے، وہاں بطور شہری ہمارا کردار بھی اہم ہے۔ صفائی نصف ایمان ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے سیاسی اختلافات اپنی جگہ ہو سکتے ہیں، لیکن 'ستھرا پنجاب' جیسے کامیاب پروگرام کا آغاز ان کا ایک قابلِ فخر کارنامہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے نہ صرف پنجاب بلکہ قومی اور بین الاقوامی فورمز پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے اور اس شاندار انتظام پر خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے عوام کو ایک بہترین، صاف ستھرا اور صحت مند ماحول دینے پر شکریہ 'ستھرا پنجاب'!  

انجم صحرائی

No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.