• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

عارف نعیم ہاشمی ، حوصلہ مند خوددار شخصیت ۔۔ انجم صحرائی

webmaster by webmaster
مئی 25, 2026
in کالم
0
عارف نعیم ہاشمی ، حوصلہ مند خوددار شخصیت ۔۔ انجم صحرائی

"سینئر صحافی عارف ہاشمی صاحب بالاخر لاہور لوٹ گئے۔ میں ‘لوٹ گئے’ کے الفاظ اس لیے استعمال کر رہا ہوں کیونکہ ہاشمی صاحب کی اپنی ایک انا اور رعب ہے؛ اگر وہ خود نہ جانا چاہتے تو کوئی طاقت انہیں بھیج نہیں سکتی تھی۔ گزشتہ دو ہفتے ان کے لیے شدید اذیت ناک تھے، کیونکہ فالج کے ایک اچانک جھٹکے نے ان کے جسم کو خاصا متاثر کیا تھا۔ لیکن سلام ہے ان کی ہمت پر کہ انہوں نے زندگی سے ہار نہیں مانی۔ ایک دو ہفتے قبل جب میرا پریس کلب جانا ہوا، تو وہاں ہاشمی صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ اپنی اسی مخصوص نشست پر، اپنے روایتی باوقار انداز میں براجمان تھے۔ میں نے آگے بڑھ کر سلام کیا اور مصافحہ کیا۔ میں اب تک ان کی اس ناگہانی علالت سے بالکل بے خبر تھا، مصافحہ کرتے وقت مجھے محسوس ہوا جیسے حا شمی صاحب سست ہیں اور ان کی طبیعت خراب ہے ، میں نے جب اپنا یہ خدشہ صدر پریس کلب محسن عدیل چوہدری سے شیئر کیا تو انہوں نے مجھے ان کے فالج اٹیک کا بتایا تو دل خون کے آنسو رو پڑا۔ میں فوراً ان کے پاس جا بیٹھا۔ بیماری کے باوجود ان کے حوصلے آسمان چھو رہے تھے۔ وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگے، ‘علاج چل رہا ہے، ادویات باقاعدگی سے لے رہا ہوں اور مساج کے لیے ایک مشین بھی خرید لی ہے، انشا اللہ بہت جلد بالکل ٹھیک ہو جاؤں گا۔
میں نے جب ان سے پوچھا کہ ‘آج کل کہاں قیام پذیر ہیں؟’ تو انہوں نے جواب دیا، ‘محسن کے آفس میں۔’ ان کا یہ جواب سن کر میرے دل کو ایک عجیب سا سکون اور اطمینان ملا۔ سچ تو یہ ہے کہ پریشانی، بے بسی اور مشکل وقت میں کسی کا آسرا بننا ہی اصل آدمیت اور سچی انسانیت ہے۔ ہاشمی صاحب کی علالت کا خیال دل سے نہ نکلا، چنانچہ اگلے ہی روز میں خاص طور پر ان سے ملنے دوبارہ پریس کلب پہنچا۔ وہاں میری ملاقات نوجوان جرنلسٹ شہروز راناسے ہوئی، جس نے ایک اور پریشان کن خبر سناتے ہوئے بتایا کہ وہ ابھی ابھی ہاشمی صاحب کو طبیعت بگڑنے پر ڈی ایچ کیو (DHQ) ہسپتال کی ایمرجنسی میں داخل کروا کر آیا ہے۔ میں بنا وقت گنوائے ہا شمی کی عیادت کے لئے محمود کے ساتھ فوراً ہسپتال پہنچا اور ہم ہاشمی صاحب کے بیڈ کے پاس جا کھڑے ہو ئے ۔ جب میں نے ان کا حال احوال پوچھا، تو اس تکلیف میں بھی ان کے لبوں پر شکر گزاری تھی؛ کہنے لگے، ‘کل رات اچانک گر گیا تھا، لیکن شکر ہے اللہ کا کہ زیادہ چوٹ نہیں آئی۔ بس اب یہ ٹانگیں میرا وزن اٹھانے سے بالکل قاصر ہو چکی ہیں..
ہاشمی صاحب کے بیڈ پر بیٹھ کر میں نے ان کا نحیف ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا، اور انتہائی محبت و احتیاط بھرے لہجے میں پوچھا، ‘ہاشمی صاحب! میرے لیے کوئی حکم؟’ انہوں نے اپنی عقاب جیسی مگر اس وقت انتہائی زخمی اور بے بس نظروں سے میری طرف دیکھا۔ ایک گہرا سانس لے کر کہنے لگے، ‘کچھ نہیں… سب کچھ ہے میرے پاس۔ اور اگر کبھی ضرورت پڑی بھی، تو میں صرف اسی ایک ذات (اللہ) سے مانگوں گا۔’ یہ کہتے ہوئے خودداری کے اس پہاڑ کی آواز بھرا گئی اور ان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ ان کا یہ توکل دیکھ کر میری زبان گنگ ہو گئی۔ آج معلوم ہوا ہے کہ ہاشمی صاحب کے بھائی اور بھتیجے انہیں علاج کے لیے واپس لاہور لے گئے ہیں۔
ہاشمی صاحب کے ساتھ میری رفاقت کوئی سال دو سال کی نہیں، بلکہ تین سے چار دہائیوں پر محیط ہے۔ میری ان سے پہلی ملاقات مرحوم راجہ اعجاز کی نیوز ایجنسی پر ہوئی تھی۔ اس دور میں ہاشمی صاحب صرف قلم کے مزدور نہیں تھے، بلکہ انہوں نے رزقِ حلال کے لیے کڑی مشقت کا راستہ چنا تھا۔ وہ صحافت کے ساتھ ساتھ ایک ٹرک کے مالک بھی تھے اور اس ٹرک کو خود ہی چلاتے تھے۔ سارا دن محنت مزدوری کرتے اور شام کو نیوز ایجنسی پر آ کر خبریں لکھا کرتے تھے۔ ان کی زندگی کا ایک واقعہ مجھے آج بھی یاد ہے جب ہسپتال میں کسی نیوز اور تصویر پر ان کی ڈاکٹروں سے تکرار ہو گئی۔ معاملہ بڑھا تو ڈاکٹروں نے ہاشمی صاحب کے خلاف ایف آئی آر (FIR) کٹوا دی۔ معاملہ ڈسٹرکٹ پریس کلب کےاجلاس میں زیر بحث آیا ،مہر ارشد حفیظ سمرا صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب تھے اتفاق راءے سے ‘جرنلسٹ پروٹیکشن کمیٹی’ کا قیام عمل میں لایا گیا ، اتفاق رائے سے مجھے کمیٹی کا چیئرمین اور قاضی امیر عالم کو سیکریٹری جزل نامزد کیا گیا۔ ہم اس مہم کو لے کر اس وقت کے ڈپٹی کمشنر محمد شہباز نقوی جو آج کل سپیشل سیکریٹری ہیلتھ جنوبی پنجاب کے فرائض انجام د ے رہے ہیں کے پاس گے، اور ان سے معامل فہمی کے لئے گذارش کی ۔ اور یوں دونوں فریقین کے درمیان صلح ہو گئی اور ہاشمی صاحب اس آزمائش سے سرخرو ہو کر نکلے۔ہا شمی صاحب ان دنوں روزنامہ داور لیہ سے وابستہ تھے
عارف ہاشمی صاحب کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا کہ ان کی خانگی زندگی ہمیشہ شدید مسائل اور نشیب و فراز کا شکار رہی۔ ان کا اکلوتا بیٹا بھی اپنی والدہ کے ساتھ ہی رہا۔ ان گھریلو اختلافات کی گہری تفصیلات سے تو میں واقف نہیں، لیکن اتنا اندازہ مجھے ضرور ہے کہ ہاشمی صاحب ان دوریوں اور تلخیوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہتے تھے۔ یہی وہ ذہنی کرب اور اندرونی اضطراب تھا جس کی وجہ سے وہ بار بار لیّہ چھوڑ کر چلے جاتے، مگر اپنوں کی کھینچ اور مٹی کی محبت انہیں پھر واپس لے آتی۔ مجھے یاد ہے، ایک بار جب وہ واپس آئے تو ہم نے باپ اور بیٹے دونوں کو اکٹھے پریس کلب میں دیکھا بیٹے کے ساتھ ہا شمی صاحب کی خوشی دید نی تھی ۔۔ مگر لگتایہ چند روزہ خوشی بھی عارضی ثابت ہوئی ،
میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہاشمی صاحب کی دلی خواہش تھی اور اب بھی ہے کہ ماضی کی تمام تلخیاں مٹ جائیں اور اپنے پیاروں سے یہ یہ دوریاں دوبارہ محبت اور قرابت داری میں بدل جائیں۔ مگر افسوس! نہ معلوم کس کی نظر ہاشمی صاحب کے اس چھوٹے سے گلشن کو اجاڑ گئی۔ اختلافات تو ہر گھر اور ہر رشتے میں ہوتے ہیں، مگر ایسے شدید اختلافات جو جیتے جی رشتوں کو ہی کھا جائیں اور انسان کو اپنوں کے درمیان تنہا کر دیں، احساس ، احسان ،باہمی احترام بھلا دیں کہاں کا انصاف ہے اور کہاں کا انصاف کیسی انسانیت اور کون سی عقلمندی ہے ؟”
          قرآن مجید میں فرمان خداوندی ہے کہ اپنے والدین پر احسان کرو ، اور احسان کے لئے والدین کا اچھا ہو نا شرط نہیں صرف والدین ہو نا شرط ہے ۔اولاد کو اگر والدین سے گلے شکوے ہیں ، تحفظات ہیں تب بھی احسان والدین کا حق اور اولاد کا فرض بنتا ہے ، بوڑھے والدین کو سہارا دینا ان کے علاج معالجہ کی ذمہ داری اٹھانا اولاد کی اسلامی اخلاقی معاشرتی اور قانو نی ذمہ داری ہے ۔
دعا ہے کہ اللہ رب العزت صحافت کے اس درخشندہ ستارے کو صحتِ کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے، ان کی خودداری کا بھرم قائم رکھے اور انہیں دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرے۔ آمین یا رب العالمین۔”

انجم صحرائی

Post Views: 47
Tags: column by anjum sehrai
Previous Post

لیہ کا ایک اور سپوت پاک سر زمین پر قربان

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

لاہور ۔میڈیا ورکرز آرگنائزیشن پنجاب کے زیر اہتمام میڈیا ورکرز کے حقوق کے لیے احتجاجی مظاہرہ
قومی/ بین الاقوامی خبریں

لاہور ۔میڈیا ورکرز آرگنائزیشن پنجاب کے زیر اہتمام میڈیا ورکرز کے حقوق کے لیے احتجاجی مظاہرہ

by webmaster
مئی 22, 2026
0

لاہور (صبح پا کستان) میڈیا ورکرز آرگنائزیشن پنجاب کے زیر اہتمام میڈیا ورکرز کے حقوق کے لیے احتجاجی مظاہرہ کیا...

Read moreDetails
انصاف کی فراہمی ایک مقدس ذمہ داری ہے ،  عالیہ نیلم چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

انصاف کی فراہمی ایک مقدس ذمہ داری ہے ، عالیہ نیلم چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

مئی 21, 2026
”اپنی چھت، اپنا گھر“ دل کے بہت قریب ہے،عوام کو بلاتفریق اور بلاامتیاز گھر بنانے کیلئے قرض ملا: مریم نواز شریف

”اپنی چھت، اپنا گھر“ دل کے بہت قریب ہے،عوام کو بلاتفریق اور بلاامتیاز گھر بنانے کیلئے قرض ملا: مریم نواز شریف

مئی 20, 2026
انسانیت کی خدمت کو نہیں روکا جا سکتا، سعد ایدھی کی گرفتاری پر گورنر سندھ کا ردعمل

انسانیت کی خدمت کو نہیں روکا جا سکتا، سعد ایدھی کی گرفتاری پر گورنر سندھ کا ردعمل

مئی 19, 2026
الطاف حسن قریشی  کی صحافتی خدمات نا قابل فراموش ہیں، اردو صحافت میں ان کاخلاء مدتوں پورا نہیں ہو گا۔  وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز

الطاف حسن قریشی کی صحافتی خدمات نا قابل فراموش ہیں، اردو صحافت میں ان کاخلاء مدتوں پورا نہیں ہو گا۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز

مئی 17, 2026
"سینئر صحافی عارف ہاشمی صاحب بالاخر لاہور لوٹ گئے۔ میں 'لوٹ گئے' کے الفاظ اس لیے استعمال کر رہا ہوں کیونکہ ہاشمی صاحب کی اپنی ایک انا اور رعب ہے؛ اگر وہ خود نہ جانا چاہتے تو کوئی طاقت انہیں بھیج نہیں سکتی تھی۔ گزشتہ دو ہفتے ان کے لیے شدید اذیت ناک تھے، کیونکہ فالج کے ایک اچانک جھٹکے نے ان کے جسم کو خاصا متاثر کیا تھا۔ لیکن سلام ہے ان کی ہمت پر کہ انہوں نے زندگی سے ہار نہیں مانی۔ ایک دو ہفتے قبل جب میرا پریس کلب جانا ہوا، تو وہاں ہاشمی صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ اپنی اسی مخصوص نشست پر، اپنے روایتی باوقار انداز میں براجمان تھے۔ میں نے آگے بڑھ کر سلام کیا اور مصافحہ کیا۔ میں اب تک ان کی اس ناگہانی علالت سے بالکل بے خبر تھا، مصافحہ کرتے وقت مجھے محسوس ہوا جیسے حا شمی صاحب سست ہیں اور ان کی طبیعت خراب ہے ، میں نے جب اپنا یہ خدشہ صدر پریس کلب محسن عدیل چوہدری سے شیئر کیا تو انہوں نے مجھے ان کے فالج اٹیک کا بتایا تو دل خون کے آنسو رو پڑا۔ میں فوراً ان کے پاس جا بیٹھا۔ بیماری کے باوجود ان کے حوصلے آسمان چھو رہے تھے۔ وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگے، 'علاج چل رہا ہے، ادویات باقاعدگی سے لے رہا ہوں اور مساج کے لیے ایک مشین بھی خرید لی ہے، انشا اللہ بہت جلد بالکل ٹھیک ہو جاؤں گا۔ میں نے جب ان سے پوچھا کہ 'آج کل کہاں قیام پذیر ہیں؟' تو انہوں نے جواب دیا، 'محسن کے آفس میں۔' ان کا یہ جواب سن کر میرے دل کو ایک عجیب سا سکون اور اطمینان ملا۔ سچ تو یہ ہے کہ پریشانی، بے بسی اور مشکل وقت میں کسی کا آسرا بننا ہی اصل آدمیت اور سچی انسانیت ہے۔ ہاشمی صاحب کی علالت کا خیال دل سے نہ نکلا، چنانچہ اگلے ہی روز میں خاص طور پر ان سے ملنے دوبارہ پریس کلب پہنچا۔ وہاں میری ملاقات نوجوان جرنلسٹ شہروز راناسے ہوئی، جس نے ایک اور پریشان کن خبر سناتے ہوئے بتایا کہ وہ ابھی ابھی ہاشمی صاحب کو طبیعت بگڑنے پر ڈی ایچ کیو (DHQ) ہسپتال کی ایمرجنسی میں داخل کروا کر آیا ہے۔ میں بنا وقت گنوائے ہا شمی کی عیادت کے لئے محمود کے ساتھ فوراً ہسپتال پہنچا اور ہم ہاشمی صاحب کے بیڈ کے پاس جا کھڑے ہو ئے ۔ جب میں نے ان کا حال احوال پوچھا، تو اس تکلیف میں بھی ان کے لبوں پر شکر گزاری تھی؛ کہنے لگے، 'کل رات اچانک گر گیا تھا، لیکن شکر ہے اللہ کا کہ زیادہ چوٹ نہیں آئی۔ بس اب یہ ٹانگیں میرا وزن اٹھانے سے بالکل قاصر ہو چکی ہیں.. ہاشمی صاحب کے بیڈ پر بیٹھ کر میں نے ان کا نحیف ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا، اور انتہائی محبت و احتیاط بھرے لہجے میں پوچھا، 'ہاشمی صاحب! میرے لیے کوئی حکم؟' انہوں نے اپنی عقاب جیسی مگر اس وقت انتہائی زخمی اور بے بس نظروں سے میری طرف دیکھا۔ ایک گہرا سانس لے کر کہنے لگے، 'کچھ نہیں... سب کچھ ہے میرے پاس۔ اور اگر کبھی ضرورت پڑی بھی، تو میں صرف اسی ایک ذات (اللہ) سے مانگوں گا۔' یہ کہتے ہوئے خودداری کے اس پہاڑ کی آواز بھرا گئی اور ان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ ان کا یہ توکل دیکھ کر میری زبان گنگ ہو گئی۔ آج معلوم ہوا ہے کہ ہاشمی صاحب کے بھائی اور بھتیجے انہیں علاج کے لیے واپس لاہور لے گئے ہیں۔ ہاشمی صاحب کے ساتھ میری رفاقت کوئی سال دو سال کی نہیں، بلکہ تین سے چار دہائیوں پر محیط ہے۔ میری ان سے پہلی ملاقات مرحوم راجہ اعجاز کی نیوز ایجنسی پر ہوئی تھی۔ اس دور میں ہاشمی صاحب صرف قلم کے مزدور نہیں تھے، بلکہ انہوں نے رزقِ حلال کے لیے کڑی مشقت کا راستہ چنا تھا۔ وہ صحافت کے ساتھ ساتھ ایک ٹرک کے مالک بھی تھے اور اس ٹرک کو خود ہی چلاتے تھے۔ سارا دن محنت مزدوری کرتے اور شام کو نیوز ایجنسی پر آ کر خبریں لکھا کرتے تھے۔ ان کی زندگی کا ایک واقعہ مجھے آج بھی یاد ہے جب ہسپتال میں کسی نیوز اور تصویر پر ان کی ڈاکٹروں سے تکرار ہو گئی۔ معاملہ بڑھا تو ڈاکٹروں نے ہاشمی صاحب کے خلاف ایف آئی آر (FIR) کٹوا دی۔ معاملہ ڈسٹرکٹ پریس کلب کےاجلاس میں زیر بحث آیا ،مہر ارشد حفیظ سمرا صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب تھے اتفاق راءے سے 'جرنلسٹ پروٹیکشن کمیٹی' کا قیام عمل میں لایا گیا ، اتفاق رائے سے مجھے کمیٹی کا چیئرمین اور قاضی امیر عالم کو سیکریٹری جزل نامزد کیا گیا۔ ہم اس مہم کو لے کر اس وقت کے ڈپٹی کمشنر محمد شہباز نقوی جو آج کل سپیشل سیکریٹری ہیلتھ جنوبی پنجاب کے فرائض انجام د ے رہے ہیں کے پاس گے، اور ان سے معامل فہمی کے لئے گذارش کی ۔ اور یوں دونوں فریقین کے درمیان صلح ہو گئی اور ہاشمی صاحب اس آزمائش سے سرخرو ہو کر نکلے۔ہا شمی صاحب ان دنوں روزنامہ داور لیہ سے وابستہ تھے عارف ہاشمی صاحب کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا کہ ان کی خانگی زندگی ہمیشہ شدید مسائل اور نشیب و فراز کا شکار رہی۔ ان کا اکلوتا بیٹا بھی اپنی والدہ کے ساتھ ہی رہا۔ ان گھریلو اختلافات کی گہری تفصیلات سے تو میں واقف نہیں، لیکن اتنا اندازہ مجھے ضرور ہے کہ ہاشمی صاحب ان دوریوں اور تلخیوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہتے تھے۔ یہی وہ ذہنی کرب اور اندرونی اضطراب تھا جس کی وجہ سے وہ بار بار لیّہ چھوڑ کر چلے جاتے، مگر اپنوں کی کھینچ اور مٹی کی محبت انہیں پھر واپس لے آتی۔ مجھے یاد ہے، ایک بار جب وہ واپس آئے تو ہم نے باپ اور بیٹے دونوں کو اکٹھے پریس کلب میں دیکھا بیٹے کے ساتھ ہا شمی صاحب کی خوشی دید نی تھی ۔۔ مگر لگتایہ چند روزہ خوشی بھی عارضی ثابت ہوئی ، میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہاشمی صاحب کی دلی خواہش تھی اور اب بھی ہے کہ ماضی کی تمام تلخیاں مٹ جائیں اور اپنے پیاروں سے یہ یہ دوریاں دوبارہ محبت اور قرابت داری میں بدل جائیں۔ مگر افسوس! نہ معلوم کس کی نظر ہاشمی صاحب کے اس چھوٹے سے گلشن کو اجاڑ گئی۔ اختلافات تو ہر گھر اور ہر رشتے میں ہوتے ہیں، مگر ایسے شدید اختلافات جو جیتے جی رشتوں کو ہی کھا جائیں اور انسان کو اپنوں کے درمیان تنہا کر دیں، احساس ، احسان ،باہمی احترام بھلا دیں کہاں کا انصاف ہے اور کہاں کا انصاف کیسی انسانیت اور کون سی عقلمندی ہے ؟"           قرآن مجید میں فرمان خداوندی ہے کہ اپنے والدین پر احسان کرو ، اور احسان کے لئے والدین کا اچھا ہو نا شرط نہیں صرف والدین ہو نا شرط ہے ۔اولاد کو اگر والدین سے گلے شکوے ہیں ، تحفظات ہیں تب بھی احسان والدین کا حق اور اولاد کا فرض بنتا ہے ، بوڑھے والدین کو سہارا دینا ان کے علاج معالجہ کی ذمہ داری اٹھانا اولاد کی اسلامی اخلاقی معاشرتی اور قانو نی ذمہ داری ہے ۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت صحافت کے اس درخشندہ ستارے کو صحتِ کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے، ان کی خودداری کا بھرم قائم رکھے اور انہیں دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرے۔ آمین یا رب العالمین۔"

انجم صحرائی

No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.