گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران لیّہ شہر میں سٹریٹ کرائم اور منظم ڈکیتی کی ہولناک وارداتوں کے سبب ہرامن پسندشہری خوف و دہشت اور احساس عدم تحفظ کا شکار ہے
۔ ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ڈاکٹر زاہد حمید چغتائی کا گاڑی اور اے ٹی ایم سمیت اغوا،اور ڈکیتی کی واردات اور پھر اگلے ہی دن ڈسٹرکٹ کورٹ کے بالکل سامنے چلتی سڑک پر شہریوں سے 10 لاکھ روپے کی دن دیہاڑے لوٹ مار نے پورے ضلع کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ وارداتوں کے بعد پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے امید ہے مجرم جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے ..
ایک اور اہم بات کہ کچہری اور ہسپتال روڈ پر ہونے والے ان سنگین واقعات کا سب سے تشویشناک پہلو مجرموں کے سہولت کاروں اور مخبروں کا منظم نیٹ ورک ہے۔ بینکوں، کچہری اور تجارتی مراکز کے باہر شہریوں کی ریکی کرنے والے یہ چھپے ہوئے عناصر دراصل جرائم کی اصل جڑ ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (DPO) ان مجرموں , سہولت کاروں کے پورے نیٹ ورک کے خلاف گرینڈ آپریشن شروع کرنے کا حکم جاری کریں ۔
لیّہ کی تمام سیاسی جماعتیں، تاجر برادری اور سماجی تنظیمیں اپنے اختلافات پسِ پشت ڈال کر ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہوں اور عوام کی آواز بن کر اپنا کردار ادا کریں

انجم صحرائی
ایڈیٹر انچیف صبح پاکستان لیّہ






